Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 22,23)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

کاش بشر میں آپ پر مسلط نہ کی گئی ہوتی میں نے شاید آپ کی زندگی میں زبردستی اکر آپ سے آپ کی خوشیاں چھین لی ۔۔۔۔

جس کے آپ جائز حقدار تھے ۔۔

مگر اسراہ آب جو بھی ہے ۔۔۔

۔ وہ میرا شوہر ہے اور میں اس کو مجھ سے تمہیں ہرگز بھی چھیننے نہیں دوں گی ۔۔۔

وہ صرف میرے ہیں اور ہمیشہ میرے ہی رہیں گے ۔۔۔۔۔۔

وہ خود غرضی کی انتہاؤں کو چھو رہی تھی ۔۔

۔۔

مجھے جلدازجلد تمہارے بارے میں کچھ سوچنا ہو گا میں تمھیں بشر کی آنکھوں کے سامنے سے جلد از جلد دور کردوں گی ۔۔

۔

وہ اپنی عمر کے حساب سے ہی سوچ کے تانے بانے بن رہی تھی ۔۔

یہ عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے جب اکثر لڑکیاں جذباتیت سے کام لے کر اپنا خود ہی کا ذاتی نقصان کر بیٹھتی ہیں۔ ۔

اور میں اب تمہاری وجہ سے اپنے بشر سے بالکل بھی ناراض نہیں رہوں گی۔۔۔

اس طرح تو وہ مجھ سے خفا ہو جائیں گے اور اریج کے قریب تر ہوتے چلے جائیں گے ۔۔۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر عورت شوہر کے پیار کا جواب بار بار نفرت سے دے تو پھر آدمی ایک حد تک ہی برداشت کرتا ہے۔۔۔

پھر وہ اپنی خوشی کہیں اور تلاشنے میں لگ جاتا ہے اسی لیے عورت کو مرد کی ناراضگی زیادہ دیر برقرار نہیں رکھنی چاہیے ۔۔۔

ابھی تک نہیں آئے کمرے میں بیٹھے ہونگے اسی چڑیل کے ساتھ گپیں ہانک رہے ہوں گے ۔۔

وہ اوٹ پٹانگ باتیں سوچتی نہ جانے کب نیند کی وادی میں اتر چکی تھی ۔۔۔۔

رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا جب اس کی آنکھ خود پہ ہلکا سا دباؤ محسوس کرکے کھلی ۔۔

بشر کو خود پہ جھکا دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ سمجھ نہ پائی صورتحال کو۔۔۔

مگر جیسے ہی تھوڑا دماغ جاگا تو وہ بشر کو اتنا قریب دیکھ کر کنفیوز سی ہو گئی۔۔

وہ بولڈ ضرور تھی مگر بشر کی جسارتوں کے آگے اس کی ساری بولڈ نیس ہوا ہوجاتی تھی ۔

ابھی بھی یہی ہوا تھا وہ بشر کی خود پہ جمیں نظریں دیکھ کر یکدم بوکھلا سی گئی تھی ۔۔۔

مجھے سونے دیں پلیز میرے سر میں درد ہے ۔۔

اوہ اچھا ویسے یہ درد کس وجہ سے ہے جو کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا ؟؟؟

بشر اس کے ماتھے سے گلابی لبوں تک شہادت کی انگلی کی مدد پیشانی سےلکیر کھینچتا لبوں پر انگلی ٹھراتے ہوئے بولا ۔۔

وہ بس کچھ بھی تو نہیں ایسے ہی ۔۔

وہ اس کی بڑھتی ہوئی جسارتوں پر جو بھی بن پڑا سکا اس لمحے بول گئی ۔۔

کیا ایسے ہی؟؟؟؟؟

بشر کو اس کا کنفیوز ہونا مزید شرارتیں کرنے پر اکسا رہا تھا ۔۔۔

مجھے پلیز تنگ نہ کریں مجھے سونا ہے ۔۔

نہیں تو میں ابھی اور اسی وقت ماما کو جا کر سب بتا دوں گی ۔۔

وہ روہانسی ہو کر بولی ۔۔

اوہ اچھا ویسے کیا بتاؤ گی ماما کو وہ اس کے گلے میں ڈلے ہوئے پینڈنٹ کی چین کو اپنی انگلی میں لپیٹتے ہوئے گویا ہوا ۔۔

انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہا ہو ہمت ہو تو بچ جاؤ ۔۔

میں ماما کو بتاؤں گی کہ آپ مجھے رات میں تنگ کرتے ہیں اور سونے بھی نہیں دیتے ۔۔

وہ جلد بازی میں بول تو گئی مگر بولنے کے بعد پچھتائی اور زبان دانتوں تلے دبا گئی اپنی ۔۔

بشر کا ایک جاندار کہکا نکلا ۔۔

بیٹا ماماںخمجھے کہیں گی کوئی بات نہیں بیٹا اور تنگ کرو بس ہمیں جلدی سے چنو منو دے کر دادادادی بنا دو پھر چاہے تم دونوں ایک دوسرے سےکُشتیاں لڑو یا سر پھاڑو جو دل چائے کرو بس ہمیں دادادادی بنا دو ۔۔۔

وہ شرارتی انداز اپناتے ہوئے بولا ۔۔

حجاب بشر کی بات سن کر حیا سے اپنی پلکوں کی جھالر یں گر آگئی ۔۔

بشر کی بات پر اس کے چہرے پر قوس و فضا کے حسین رنگ بکھر سے گئے تھے ۔۔

وہ اس کے چہرے پر رقصاں انوکھی سی حیا اور معصومیت کے ملے جھلے رنگوں کو دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا تھا ۔۔

بشر مجھے ۔۔۔۔

شش۔ ۔ششششششش۔ ۔۔۔بس اب میں کہوں گا اور تم سنو گی ۔۔

بس ان لمحوں کو خود میں سمیٹ لو اور مجھے تم اپنےوجود کی خوشبو لکوخود میں اتارلینے دو مجھے اپنے اندر بسادینے دو ۔۔

و ہ اس کے گال پر اپنے دہکتے ہوئے لب رکھ کر بولا ۔۔

حجاب نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔ ۔۔

💕
💕
💕

تیسری دفعہ کال پے اسراہ نیں آخر کار ہمدان کی کال ریسیو کر ہی لی ۔۔

یار کب سے کر رہا ہوں فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟؟؟؟

وہ بھنا کربولا ۔۔

بزی تھی اس لیے۔ ۔ ۔۔

وہ منہ پھلا کر کہنے لگی ۔۔

کیا ہوا اس طرح کیوں بات کر رہی ہوں ۔۔؟!!

وہ اس کے اکھڑے اکھڑے لہجے پہ چوٹ کرتے ہوئے بولا ۔۔

جیسے آپ بزی تھے آج ۔۔

ویسے ہی میں بھی ہوں ۔۔۔

اؤ اب سمجھا۔۔۔۔

تو محترمہ میرے نا آنے پر خفا ہیں ۔۔۔۔

خوش فہمی ہے آپ کی وہ بر بڑھائی ۔۔

جناب خوش فہمی نہیں ہے یہ میری آپ کے لہجے میں بولتا یقین اس بات کا مکمل طور پر گواہ ہے کہ آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہے۔۔

اف یہ بندہ پھر شروع ہو گیا ۔۔

ارے ابھی تو میں شروع ہی نہیں ہوا ؟؟؟؟

تم ابھی سے گھبرا گئیں ؟؟!!۔۔

وہ ذومعنی لہجے میں سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔

اس پر آج ضرورت سے زیادہ شوخی سوار تھی ۔۔

کوئی بات کرنی ہے تو بولیں نہیں تو میں فون بند کر رہی ہوں۔۔۔

مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں ۔۔

ارے میری معصوم سی بیوی یار ناراض نہ ہو بزی تھا اس لئے نہیں آسکا ۔۔۔۔

کل آو نگا نا شام کو پھر میں تم اور تنہائی ۔۔۔

اور اگر کہوں گی تو کل ہی رخصت کروا کے لے جاؤں گا ۔۔۔

یار ویسے میں تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں تم میری سیج سجائے بیٹھواور میرا انتظار کرو ۔۔

اس کی آواز میں جذبات بول رہے تھے ۔۔

وہ اس کی باتوں پے کان کی لوہ تک سرخ ہو چکی تھی ۔۔

میں فون بند کر رہی ہوں ۔۔

اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا گویا اپنی دھڑکن حمدان کو سنا دینا چاہتا ہو۔۔

یار یہ شرما نہ بند کروں میں سامنے تھوڑی ہوں کوئی جو تم اس طرح کانپ رہی ہوں ۔۔

۔

اسراء حیران سی اسکو سن رہی تھی۔۔

وہ اس کی بالکل صحیح کیفیات بیان کر رہا تھا ۔ ۔۔

اس نے نظر گھما کر آس پاس کا جائزہ لیا کہ کہیں وہ تو نہیں کمرے میں موجود ۔۔

مگر پھر اطمینان کر لینے کے بعد دوبارہ فون پر متوجہ ہوئی ۔۔

جی نہیں میں تو نہیں شرما رہی ۔۔

وہ بڑے مزے سے بولی ۔۔

اچھا کیا واقعی ایسا ہے ۔۔؟؟؟؟

چلو پھر دروازہ کھولو میں باہر کھڑا ہوں ۔

۔

اسراء اسکی اگلی بات سن کر بے ہوش ہونے کو تھی ۔۔۔

💕
💕
💕

وہ کچن میں کھڑی کافی پھینٹ رہی تھی جب اس کو کچن میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا وہ یکدم ایڑھی کے بل الٹی گھومی۔ ۔

اپنے سامنے موجود سمیر کو دیکھ کر کافی کا مگ اس کے ہاتھ سے چھوٹتےچھوٹتے بچا تھا ۔۔

سمیر کی بھی حالت اسراء سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔۔۔

وہ ننھی آرزو کو گود میں لئے حیران پریشان سا کچن کے بیچ و بیچ کھڑا تھا ۔۔

سمیر اور عریج کے سکتےکو آرزو کے زور زور سے رونے نے توڑا ۔۔

اریج سمیر کے بولنے سے پہلے بول پڑی ۔۔

سمیر چاچو آپ یہاں کیسے؟؟!!

وہ گھبراہٹ میں اتنا ہی کہہ پائی ۔۔

ننھی سی گلگو تھنی کو دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ اس اس کو اپنی بانہوں میں بھر کر خود میں سمیٹ کے خوب چومے ۔۔

بچے اس کی کمزوری تھے وہ اگر باہر بھی کوئی بچہ چھوٹا سا دیکھتیں تو زور زور سے اس کو گالوں پہ چٹکی بھرتی جس سے بچہ گھبرا کر گلا پھاڑ کے رونے لگتا ۔۔

آرزو زاروقطار رو رہی تھی اریج سے اس کا رونا مزید برداشت نہیں ہوا اور اسنےبے ساختہ آگے بڑھ کر اس ننھے وجود کو اپنی بازوُوں میں بھر لیا ۔۔

سمیر نے بھی چپ چاپ اس کو تھما دیا پورے راستے وہ نہ جانے کیوں روتی ہوئی آئی تھی وہ شدید تھکن کا شکار تھا ۔۔

مگر سامنے کھڑی اریج نیں اس کو برے طریقے سے پریشان کر چھوڑا تھا ۔۔

وہ پانی پی کر خود کو ریلیکس کرنے کے بعد واپس پلٹا آرزو کو سلاتی اریج پے ایک نظر ڈالی اور سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔

البتہ آرزو اریج کی محبت بھری پناہوں میں آکر تھوڑی ہی دیر میں نیند کی وادی میں اتر چکی تھی ۔۔

لگتا ہے اب امتحان کا وقت نزدیک آچکا ہے ۔۔

کہیں مجھے سمیرچاچو زبردستی واپس چھوڑ تو نہیں آئیں گے ؟؟؟؟۔۔

اس سوچ کے آتے ہی اریج کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا ۔۔

خوف کے سائے واضح طور پر اس کے چہرے پر منڈلاتے نظر آ رہے تھے ۔۔

وہ دونوں بالکل آمنے سامنے بیٹھے تھے ایک دوسرے کے اور بیچ میں ٹیبل پر وہ ننھی پری ہر قسم کی پریشانیوں سے دور گہری نیند میں پریوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی ۔۔

بیٹا یہ سب کیا ہے اور تم مجھے ٹھیک سے بتاؤ تم یہاں اکیلی اس وقت آخر کیا کر رہی ہو ۔۔؟؟؟

سوال تو کئ ا ریج کے دماغ میں بھی دستک دے راہی تھے کہ۔ ۔۔

سمیر چاچو بغیر اپنی وائف کے صرف اپنی بیٹی کو ساتھ لیے یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟

اس کو دال میں کچھ کالا سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

۔

مگر وہ فی الحال اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ کچھ بھی سوال کر سکتی اس لئے خاموشی رہی ۔۔۔

اریج میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہومتو یہاں رات کے اس پہر کیا کر رہی ہو آخر ؟؟؟

اب کی دفعہ سمیر کا لہجہ کافی سختی لیے ہوئے تھا ۔۔

وہ ڈر سی گئی اور خوف سے کچھ ہی سیکنڈ میں اپنے اوپر گزری تمام داستان حرف بہ حرف اس کے گوش گزار تی گئی ۔۔

سمیر خاموشی سے سنتا رہا اور پھر کچھ ہی لمحوں بعد جب وہ سب کچھ کہہ چکی تھی تب وہ تحمل سے عریج کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔

تم آج کی رات یہاں رہ سکتی ہو مگر تمھیں کل صبح ہی فوری میں حسن بھائی کے حوالے کر آؤں گا۔۔۔

سمیر کے لہجے میں قطیعت تھی ۔۔

اس کو وحشت سی ہونے لگی تھی ۔۔

پلیزچاچو مجھے واپس نہ چھوڑیں وہ لوگ مجھے ختم کردینگےزوارکسی نہ کسی طرح مجھے ۔۔۔۔

اس سے آگے اسے بولا نہ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر زاروقطار رو دیں ۔۔

سمیرا سکے اس طرح رونے سے گھبرا کر اس کے پاس آیا اور تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔

دیکھو اریج اگر فرح میرے ساتھ ہوتی تو الگ بات تھی مگر وہ شاید کبھی میرے ساتھ یہاں ہوتی ہی نہیں۔۔۔

وہ نفرت سے بولا فرح کے نام پر اس کے منہ میں کڑواہٹ سیکھ گئی تھی ۔۔

مگر تمہارا یہاں میرے ساتھ تنہا رہنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے ۔۔

مگر چاچو ۔۔

اگر مگر کچھ بھی نہیں تم بچی نہیں ہو خیر سے بڑی ہو چکی ہو اور ہرچیز کو بخوبی سمجھتی ہوں ۔۔

اس لئے پلیز مزید کوئی آرگیو مت کرنا ۔۔۔

وہ کہہ کر آرزو کو اٹھا کے واپس پلٹ ہی رہا تھا جب عریج کی آواز نے اس کے پاؤں کو جکڑ لیا۔۔

“آپ مجھ سے نکاح کرلیں” ۔۔۔

اریج کو اپنی خود کی آواز کسی گہری کھائی میں سے آتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔

💕
💕
💕

فرح نے زبردستی سمیر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور وہاں کے قانون کے مطابق وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا وہاں عورتوں کے پاس مرد سے زیادہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔۔

فرح نے اپنی بچی کی بھی پرواہ نہیں کی اور کاغذات بنوا کر بچی کی پوری کسٹڈی سمیر کے حوالے کردی ۔۔۔

اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سمیر نیں آخری کوشش کے طور پر یہ کہا تھا کہ ۔۔

اگر تم بچی سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیتی ہوں آفیشیلی طریقے سے تو میں بھی اس رشتے کو ختم کرنے کے لئے تیار ہوں ۔۔

اس کو لگا تھا کہ شاید فرح اپنی بچی کی خاطر کمپرومائز کر لے مگر وہ یہ آخری بازی بھی ہار گیا ۔۔۔۔

دوسری طرف بھی فرح تھی جس کو کاشف نے سبز باغ دکھائے ہوئے تھے ۔۔۔

وہ اس کی پیش کی ہوئی تجویز پرفوری راضی ہو گئی۔۔

اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کو اتنی آسانی سے رہائی مل رہی ہے اس قیدبھرے تعلق سے ۔۔

_________

“پلیز آپ مجھ سے نکاح کرلیں”۔۔۔

“مم۔ ۔۔مجھے آپ اپنالیں مجھے اپنا نام دیں۔” ۔۔

وہ بے بسی سے رودی۔۔

“تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟؟؟

وہ آرزوکو ڈائننگ ٹیبل پر لٹا کے واپس اریج کے پاس آیا سمیر کو اریج کی دماغی حالت شبہ ہوا ۔۔

اس کو اپنی سماعتوں پر دھوکا سا محسوس ہوا ۔۔

وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھنے لگا کہ۔ ۔۔

“جانتی بھی ہو کیا کہا ہے ابھی؟؟؟”

۔۔

“ہاں بہت اچھی طرح سے”۔

وہ کچن کے بیچ و بیچ کھڑی تھی ۔۔

“اس کے بہ وجود بھی کہ میری شادی ہو چکی ہے؟؟”۔ ۔

“ہاں ہاں اس کے بہ وجود بھی”۔۔

وہ اب ہزیانی انداز میں بولی۔۔

آہستہ بولو۔ ۔

وہ آرزوکو کلبلاتا دیکھ کر اس کو ٹوٹے ہوئے کہنے لگا ۔۔

“تم جانتی بھی ہو میرے اور تمہارے درمیان کیا رشتہ بنتا ہے ؟؟؟؟”

“میں اس رشتے کو نہیں مانتی ۔۔”

تو پھر میں بھی وہ نہیں کرسکرتا جو تم چاہتی ہو ۔

“ٹھیک ہے آپ نہیں کرسکتے تو جو میں کرنے جارہی اسکو کرنے سے آپ بھی مجھے نہیں روک سکتے۔ “

یہ کہتے ہی اسنے سامنے کٹلری سے چھری اٹھا کر اپنے ہاتھ کی نبض پر رکھ دی۔ ۔

مجھے اپنا لیں بس مجھے اپنا نام دے دیں ۔۔

وہ اپنے آپ میں نہیں تھی ۔۔

سمیر تیزی سے اس کی طرف بڑھا کہ کہیں وہ پاگل لڑکی اپنا کوئی نقصان ہی نہ کر بیٹھے ۔۔

اریج میری بات سنو گڑیا ۔۔۔

نہیں ہوں میں آپ کی گڑیا ۔۔

اس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر الٹے قدموں پیچھے ہوتی چیخ کر بولی تھی ۔۔

نہیں میں مزید ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتی بہت دربدر ہو چکی ہو اب زوار کے ہاتھوں ہرگز بھی نہیں بکونگی۔۔

وہ اپنے حواسوں میں نہیں رہی تھی ۔

کیا بیوقوفی کی باتیں کر رہی ہو ۔۔

وہ چیخا ۔۔

تو پھر عقلمندی کی باتیں آپ کرلیں اور مجھےاپنے نکاح میں لے لیں۔ ۔۔

وہ بھی اسی کے انداز میں داڑھی ۔

ٹھیک ہے آپ یہ نکاح کچھ عرصے کے لئے کرلیں ایز آ کونٹیک میرج کے طور پر جیسے ہی زوار سے میری جان چھوٹے گی اور حالات بہتری کی طرف ہوجائیں گے تو میں آپ سے خود علحیدگی لے لوں گی ۔۔

اریج شادی کوئی گڈے گڑیا کا کھیل نہیں ہے کہ جب دل میں آئی ختم کردی جب چاہا خوشی خوشی اس بندھن میں بندھ گئے ۔۔۔

وہ اس کا دھیان اپنی طرف دیکھ کر بہت آہستہ سے چھری اس کے ہاتھ لے چکا تھا ۔۔

عریج بھی شاید اب تھک چکی تھی خود کو بچاتے بچاتے وہ وہیں زمین پر ہی بیٹھتی چلی گئی اور گھٹنوں میں اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

“ٹھیک ہے کل ہمارا نکاح ہے “۔۔

یہ کہہ کر وہ رکا نہیں کہ چل سے باہر نکلتا چلا گیا ۔۔۔

اسکو صحیح معنوں میں اپنا آپ بے بسی کی انتہاکو چھوتا ہوا محسوس ہوا زندگی میں آج اس کو جتنی ذلت محسوس ہو تھی اس سے پہلے کبھی اس نے خود کو اتنا بے بس نہیں پایا تھا ۔

وقت نیں اس کی انا کو کرچی کرچی کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔

ٹوٹ کے بکھرنا کسے کہتے ہیں اس کو آج صحیح معنوں میں پتہ چلا تھا ۔۔۔

Episode 23

وہ لوگ شام میں سمیر کے گھر پر تھے ۔۔

حجاب کی تو خوشی کا یہ لٹکانا نہیں تھا جب اس کو پتہ چلا تھا کہ اریج کا نکاح اس کے بھائی سمیر سے ہو رہا ہے ۔۔

بشر نے ہمدان کو بھی اعتماد میں لے لیا تھا اور تمام صورتحال بتاکر گواہ بنانے کے لئے راضی کر لیا تھا ۔۔،

وہ کسی بھی باہر کے بندے کو اس نکاح میں بالکل بھی انوالونہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

ہمدان نے بہت خاموشی سے اس کی بات سنی اور حامی بھر لی ۔۔

اس نے ویسے بھی آج ہر صورت میں اسراء سے ملنا تھا ۔۔

وہ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے قرار سا تھا ۔۔۔

رات میں بھی اس نے اس کے ساتھ مذاق میں کہا تھا کہ وہ باہر کھڑا ہے۔۔

اسراء کی گھبراہٹ کو انجوائے کرنے کے لئے مگر ۔۔۔۔

مگر اس پراسرا کا ہجر کاٹنا بہت مشکل ہو رہا تھا ۔۔

💕
💕
💕

نکاح کے وقت ماما بابا اور باقی سب بھی سمیر کے گھر موجود تھے حمدان بھی وقت سے بہت پہلے آ گیا تھا ۔۔

اسراء نے جو انتظامات حمدان کے لیے کیے تھے کھانے کے وہ پیک کروا کر وہیں لے آئی تھی ۔

اس کو اپنی طبیعت آج گری گری سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔

سر بری طرح سے چکرا رہا تھا ۔۔۔

صبح سے مگر حمد ان کے آنے کی خوشی میں اپنا آپ بھولآئے اپنی طبیعت کو نظرانداز کئے طرح طرح کے کھانے بنانے میں پورا دن مصروف رہی۔۔۔

نکاح سے پہلے حجاب عریج کے پاس آئی وہ حجاب کے کمرے میں ہی ٹھہری ہوئی تھی ۔۔

مجھے بہت خوشی ہے کہ تم میری بھابھی بن رہی ہو ۔۔

اور ابھی سمیر بھائی نے مجھے اپنی ڈئیورس کے بارے میں بھی بتایا ہے۔۔

کیا مطلب میں کچھ سمجھ نہیں ۔۔

وہ اچھا نبی سے بولی ۔۔

وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ سمیر کسی کام سے کچھ عرصہ کے لئے پاکستان آیا ہے مگر حجاب کے منہ سے ڈائیو رس کا لفظ سن کر اس کو حیرت کا جھٹکا سا لگا ۔۔۔

پھر حجاب نے اس کو سمیر کی بتائی ہوئی پوری بات حرف با حرف گوش گزار کردی ۔۔۔

آریج کو معصوم آرزو کو دیکھ کر بہت افسوس ہوا اس میں اس معصوم کا کیا قصور تھا آخر ۔۔

وہ اس کے پاس ہی تھی رات سے بہت پرسکون تھی جیسے ایک بچی۔۔۔۔ ماں کی ممتا سے ترسی ہوئی ہو ۔اور پھر اس کو اچانک ماں کا محبت بھرا لمس میثر ہوجائے ۔۔۔

سمیر نے حجاب کو گلے لگا کر اپنے تمام سابقہ رویے کی معافی مانگی وہ بہت شرمندہ تھا حجاب کو جیسے ایک نئی زندگی مل گئی تھی وہ دوبارہ سے جی اٹھی بھائی کی محبت کو دیکھ کر وہ اپنا میکہ دوبارہ سے آباد ہوتا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

بھائی بھابھی بھتیجی خوشی اس کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔

وقت نے اس کو آہستہ آہستہ اس کے تمام رشتے لوٹا دیے تھے ۔۔

وقت اگر ضرب لگاتا ہے تو مرہم بھی ضرور رکھتا ہے ۔۔۔وقت اسی کو کہتے ہیں ۔۔۔

چلو میں تمہاری لئےیہ ڈریس اور جیولری لائی ہوں۔۔۔

بہار بیوٹیشن بھی ویٹ کر رہی ہے تم جلدی سے چینج کرکے اس کو پہن لو تاکہ میں بیوٹیشن کو اندر بلاوں ۔۔۔

مگر حجاب ۔۔۔۔

وہ اس کو سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہتی تھی ۔۔۔

مگر حجاب ٹھیک ہے کوئی بات بھی سننے کو تیار نہ تھی ۔۔۔

ہاتھوں کو سرسوں جمانے کو تیار تھی۔ ۔

وہ اس کے چہرے پہ پھوٹی خوشی کے رنگوں کو دیکھ کر خاموشی سے ناچار سی ہو کر ڈریسنگ روم کی طرف حجاب کا لایا ہوا ڈریس اور جیولری اٹھا کر چل دی ۔۔۔

بعض اوقات ہمیں دوسروں کی خوشی کے لئے بہت کچھ سہنا پڑتا ہے ۔۔۔

اریج کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر چکا تھا زندگی کی کوئی بھی رمق اس کو اپنے اندر ہوتی ہوئی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔۔

حجاب اپنا دوپٹہ سنبھال تی ہوئی باہر آئی جب کوریڈور میں جاتے ہوئے ٹھٹہ کے رک گئی ۔۔۔

سامنے حال کمرے کا منظر دیکھ کر اس کو اپنی آنکھوں میں مرچیں بھرتی محسوس ہوئیں۔۔

ڈائننگ ٹیبل پر اسرا پلیٹیں رکھ رہی تھی جب اس کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا وہ گرنے کو تھی جب وہاں سے گزرتے بشرنے اس کو ٹیبل کے پاس رکھی چئیر گھسیٹ کر سہارا دے کر بٹھایا ۔۔۔

اسرا کیا ہوا ہے ٹھیک تو ہو وہ اس کو پانی پلاتے ہوئے بولا ۔۔

طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری۔۔۔

یہ تم اتنی سرد کیوں بڑھ رہی ہو کیا ہوا ہے ؟؟؟؟

ہاں۔۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں بس چکرآ گئے تھے شاید بھوک سے ۔۔

یار یہ تو ہوگا ہی تم نے صبح ناشتہ بھی صحیح سے نہیں کیا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا ہوگا ۔۔۔۔

وہ خاموش رہی کیونکہ واقعی صبح سے وہ بھوکی تھی حمدان کے لئے طرح طرح کے دشزبناتے بناتے وہ اپنا آپ بھول بیٹھی تھی ۔

اچھا چلو میں تمہارے لئےکھانے کو کچھ لاتا ہوں پہلے ذرا سمیت کی بات سن لو

بشر سمیر کے بلانے پر جا چکا تھا۔۔۔

حجاب شک کی آگ میں بری طرح جھلس رہی تھی ۔۔

💕
💕
💕

قاضی صاحب کے ساتھ ہمدان بشر اور بابا بھی کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔

اریج کے پاس حجاب اور ماما پہلے سے موجود تھیں اسراء البتہ ابھی آئی تھی تمام انتظامات سے فارغ ہوکر۔ ۔

اور پھر چند ہی لمحوں میں وہ اریج حیدر سے اریج سمیر بن چکی تھی دل تھا کہ بے سکون سا ہو کر بند ہونے کو تیارتھا۔۔۔۔

دھڑکن بھی شاید تھک چکی تھی ۔۔۔

وہ رونے کو پر تول رہی تھی جب ماما نے بہت پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا بیٹا اللہ تعالی سب کے جوڑے آسمان پہ بناتا ہے اور تمہاری شادی اسی طرح ہونی تھی اور اتنے پیارے بندھن میں بندھنے کے بعد یہ اداسی اور رونا بہت بری بات ہے ۔۔

اللہ تعالی ناراض ہو گا اس نے تمہیں دیکھو کتنی بڑی مشکلوں سے نکال کر ایک مضبوط سہارا عطا کر دیا ہے ۔۔

وہ اس کو بہت ساری چیزیں پیار سے سمجھاتی رہیں حجاب سمیر کے پاس جا چکی تھی کمرے میں بس وہ دونوں ہی تھی ماما بھی اس کو ماتھے پر بوسہ دے کر باہر چلی گئیں ۔۔۔

سب لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے جب کچن سے ایک زور دار چھناکےکی آواز آئی ۔۔۔

سمیر تیزی سے اٹھااور کچن کی طرف بھاگا ۔۔۔

کچن میں آسرا بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو چکی تھی اور ہاتھ میں تھامے گلاس بھی فرش پہ ٹوٹ بکھر چکے تھے ۔۔

حمدان سمیر کے چلانے پر کسی کے بھی اٹھنے سے پہلے کچن کی طرف بھاگا ۔۔

مگر اس وقت سب بوکھلاہٹ کا شکار تھے کسی نے محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔۔

بشر پرسوچ نظروں سے ہمدان کو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔

“ہمدان بیٹا لگتا ہے آج تیرا راز فاش ہوجائے گا “۔۔۔

مگر اس طرح ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

__________

حمدان نے فرش پر گری ہوئی اپنی متاۓ جان کو بازوں کی مضبوط گرفت میں بھر کر کسی کی بھی پروا کیے بغیر ۔۔

سیدھا لاؤنج میں اٹھا کر لایااور صوفے پر لٹا کر اس کو ہوش میں لانے کی انتھک کوشش کرنے لگا۔

۔۔

اسرا اٹھو آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے ۔۔؟؟؟

وہ اس کے گال کو بار بار سہلا رہا تھا ۔۔

جب کہ سمیر میں فوری ڈاکٹر کو کال کرکے بلوا لیا تھا۔۔

ماما بوکھلائیں تو تھی مگر ان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہمدان اس طرح سے آسرا کو لے کر بیہیو کیوں کر رہا ہے ۔۔؟!؟

پانی لائیں پلیز ۔۔

وہ دو زانو بیٹھ کر اسرا کے ہاتھ پاوں سہلاتے ہوئے سامنے پریشان سی کھڑی اریج سے گویا ہوا ۔۔۔

جب کہ بابا نے بہت عجیب سی نظروں سے ہمدان کو دیکھا ۔۔

ان کی نظروں میں کئی سوال تھے جو باقاعدہ طور پر ماما کو نظر آ رہے تھے ۔۔۔

وہ ان سے نظریں چرا گئیں۔ ۔

وہ خود پریشان تھیں حمدان کے اس عجیب و غریب سے رویے پر ۔۔

سمیر ڈاکٹر کو لے کر ہال کمرے میں سیدھا آیا ۔۔۔

اسراء کو ہمدان کی کوششوں سے اب ہلکا ہلکا ہو ش آچکا تھا ۔۔

ڈاکٹر جمیل نے اس کو دیکھنے کے بعد پرسکرپشن لکھ کے پرچہ سمیر کی طرف بڑھایا ۔۔

تھینکیو میں دیکھ لیتا ہوں ۔۔

جو سمیر کے لینے سے پہلے ہی ہمدان نے اچک لیا اور ڈاکٹر سے بولا ۔۔

صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی تھی ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب سب خیریت ہے نا یہ اس طرح کیوں بیہوش ہوئی ہے اچانک سے ؟؟؟

ماما کے لہجے میں بہت سارے اندیشے بول رہے تھے جو بابا سمیت بشر نے بھی محسوس کر لیے ۔۔۔

جی جی سب خیریت ہے اس کنڈیشن میں یہ سب ہونا معمولی سی باتیں ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔۔

ڈاکٹر کی بات پر سوائے ہمدان کے باقی سب کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔

ماما اور باباحق دک کھڑے تھے ۔۔

ماما اچانک ملنے والی اس جان لیوا خبر کو سن کے ساتھ پڑھی کرسی پر ڈھ سی گئیں۔ ۔۔

جب کہ بابا غصے سے مٹھیاں بھیجتے ہوئے خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔

ڈاکٹر صاحب کس کنڈیشن میں ؟؟؟

ماما کو اپنی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوءی ۔۔

ان کا دل اندر سے ڈوب سا رہا تھا انہوں نے ایک پرشکوہ نظر روتی ہوئی آسرا پر ڈالیں ۔۔۔

کاش وہ جو سمجھ رہی ہیں وہ صرف ان کی خام خیالی ہو وہ ان کا وہم ٹھہرے ۔۔۔

وہ اس امید کو لے کر ایک دفعہ پھر ڈاکٹر سے سوال کر گئی تھیں ۔۔۔

او شاید آپ کو علم نہیں ہے شی از” ایکسپیکٹنگ”۔

میں کچھ ٹیسٹ لکھ کر دے رہا ہوں یہ کروا لیے گا اور ان کی خوراک کا خاص خیال رکھیں ان کو بالکل بھی ویکنس نہ ہونے پائے اور ہاں ان کو کسی بھی قسم کا اسٹریس اور ڈپریشن سے دور رکھے گا ۔۔

یہ پریگنینسی کے حساب سے کافی میں ہیں ۔۔۔

اسراء ڈاکٹر کی بات سن کر پتھرا سی گئی اس کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

سمیر اس سب صورتحال کی باریکی کو محسوس کرکے خاموشی سے ڈاکٹر کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔

اور پھر تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر کو چھوڑ کر واپس آیا اور اریج سے کہا ۔۔

اریج آرزو بہت رو رہی ہے شاید وہ پریشان ہو رہی ہے کہیں درد تو نہیں ہے ذرا دیکھ لینا پلیز۔ ۔۔

سمیر نے جان کر اس کو بھی منظر سے ہٹ آیا ۔۔۔

وہ خود بھی وہاں سے جانا چاہ رہی تھی وہ اپنے آپ کو اس وقت اس صورتحال پر ا ن فٹ محسوس کر رہی تھی مگر سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کس طرح اس وقت وہ ادھر سے جائے ۔۔۔

سمیر نے گویا اس کی مشکل آسان کردی تھی ۔۔۔

اب کمرے میں پانچ نفوس موجود تھے کمرے میں ماتم کا سا سماں بن چکا تھا ۔۔

ماما صوفے پر اپنا سرتھام کر بیٹھی تھیں ان کے پاس بولنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔۔

کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا حجاب کو لگا جیسے وہ کسی ٹرانس میں سے نکلی ہو ۔

حمدان اسراء کی صفائی دینے کے لئے لب کھول ہی رہا تھا جب حجاب نے کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر بشر کا گریبان پکڑ کر ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بولی ۔۔

بشر حیران پریشان سا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے حجاب کو ایسا کیا ہوا جو وہ اس طرح سے اس کا گریبان پکڑے چیخ چلا رہی تھی ۔۔۔

ہمدان اور ماما کا بھی یہی حال تھا ۔۔

کیوں کیا تم نے ایسا کیوں دیا تم نے مجھے دھوکا بتائو کیا کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ۔۔۔

حجاب اپنے حواسوں میں نہیں تھی جو اس کے منہ میں آ رہا تھا وہ بس بول رہی تھی ۔۔۔

وہ چیخ رہی تھی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔

حجاب بس کرو کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔

بشر ہمدان اور اسراء کے سامنے شرمندہ سا ہو کر حجاب کو جھنجوڑ تے ہوئے بولا ۔۔۔

اسرا خاموش تماشائی بنے اپنی موت کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔

تم نےمجھے کہیں کا نہیں چھوڑا میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ تم میرے لئے مزید مشکلات کھڑی کر دو گے مگر تم نہیں مانے اور آج دیکھ لو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔۔۔

تم نے میرے چند ہی بچے کچھے رشتوں کے سامنے مجھے ان کی کیا اپنی ہی نظروں سے گرادیا ۔۔۔

وہ اپنے دل و دماغ سے جنگ لڑ تی سسکیاں بھر رہی تھی ۔۔

اس کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی ۔۔

حجاب اور چیختے ہوئے بولی کہ۔ ۔

بتاؤ کیا تعلق ہے تمہارا اور اس کا؟!؟؟

جو ڈاکٹر ابھی انکشاف کرکے گیا ہے تم جانتے تھے نا !؟؟؟

تم نے اس کے ساتھ ناجائز ۔۔۔۔

ابھی وہ کچھ اور بھی بولتی اور بشر کا ھاتھ اٹھتا دیکھتے ہوئے ۔۔

ہمدان کی نےآواز حجاب کے الفاظوں کو واپس حلق میں جانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔

بس میں اب کوئی بھی فضول بات نہیں سنوں گا ۔۔۔

وہ سسکتی ہوئی اس راہ کے پاس بیٹھ کر اس کا یا بستہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولا ۔۔

ما مانڈھال سی ھوکر حجاب کو تو کبھی ہمدان کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

ان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہونے لگا ۔۔

بشر نے ایک جھٹکے سے حجاب کو خود سے دور کرتے ہوئے ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالی اور کہنے لگا ۔۔

ہمدان میں ڈیل کرتا ہوں نا تم پریشان مت ہو ۔۔

نہیں بشر تو کچھ نہیں جانتا بس اب وقت آ گیا ہے ۔۔

اسرانے کبوتر کی طرح سختی سے آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔

اف اتنی رسوائی اس دن کو دیکھنے سے پہلے میرے رب تو نے مجھے اپنے پاس کیوں نہ بلا لیا میری سانسیں کیوں چل رہی ہیں ابھی تک ۔۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود کو ختم کردے یا کہیں غائب ہو جائے جہاں کوئی بھی اس تک پہنچ نہ سکے ۔۔۔

میں سب کچھ جانتا ہوں ۔۔۔

مجھے بی اماں نے اپنے جانے سے ایک دن پہلے سب کچھ بتا دیا تھا جب میں تجھ سے ملنے آیا تھا ۔۔

بشر نے ہمدان اور آسرا کے سر پر دھماکہ کیا ۔۔

کیا جانتے ہو تم بشر ۔۔؟!

ماما اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں۔ ۔

دیکھو جو بھی ہے مجھے سچ بتا دو میرے اندر اب مزید برداشت نہیں ہے میرا دل ڈوب جائے گا میرے ساتھ مزید یہ آنکھ مچولی مت کھیلو ۔۔۔

حجاب بس خاموش تھی اس کو بس اپنا شوہر سرخرو چاہیے تو اس کی نظروں میں بھی کئی سوال تھے ۔۔

میں بتاتا ہوں آنٹی ۔۔

حمدان اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور ان سے تھوڑا فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ۔

دانی رک جامیں۔ ۔۔۔

بشر نے اس کو روکنے کے لئے لب کھولے ہی تھے جب ۔۔۔

ہمدان نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو خاموش رہنے کا کہا ۔۔۔

“اسرا میری بیوی ہے “۔۔۔

حجاب اور ماما ہمدان کی اس بات کو سن کر ہکا بکا سی رہ گئیں۔ ۔۔

ماما سکتے کی حالت میں تھیں اس انکشاف پر ۔ ۔

جب کہ حجاب کو لگا جیسے حمدان نے کہا کچھ اور ہے اور اس کو سنائی کچھ اور دیا گیا ہے ۔۔

یہ کیسے ممکن ہے ؟؟؟

ماما خود کو سکتے کی کیفیت سے بہت مشکل سے نکال کر گویا ہوئیں ۔۔

اسرا ابھی تک اپنی آنکھیں بند کئے رو رہی تھی آنسو تواتر سے اس کی آنکھوں سے بہ رہےتھے۔۔

یہ حقیقت ہے کہ یہ میری بیوی ہے ۔۔

اور ساتھ ہی میری سگی چچازاد بھی ۔۔

وہ دھماکوں پہ دھماکے کر رہا تھا ۔۔

ہمارا نکاح آج سے بہت سال پہلے ہوگیا تھا ۔۔

حجاب ہمدان کی بات سن کر اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی ۔۔۔

جبکہ ماما کو اپنے دل میں تھوڑا سکون سا محسوس ہوا کہ ان کی بھانجی نے کچھ غلط نہیں کیا ان کی بہن کی تربیت میں کوئی کمی ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔

ان دونوں نے ایک جائز رشتے کے تحت تعلق قائم کیا ہے مگر کچھ باتیں وہ ہمد ان سے پھر بھی کرنا چاہتی تھیں۔ ۔۔

میں اسراہ کو لے کر جا رہا ہوں ۔۔

میرانہیں خیال ہے کہ اب کسی کو اعتراض ہو گا اس کو لے جانے پر میرے یہاں سے ۔۔۔

وہ آسرا کے اوپر ایک جتاتی ہوئی نظر ڈال کر گویا ہوا ۔۔

حجاب بھابھی بشر صرف آپ کا ہی ہے اور آپکا ہی رہے گا وہ حجاب کے سر پر ہاتھ رکھ کے بولا ۔۔

مگر آپ اپنے شریک سفر پہ اعتبار کریں کیونکہ یہ رشتہ محبت کے علاوہ اعتماد اور اعتبار کا بھی ہے ۔۔

حجاب کو خود سے اس وقت قراہیت سی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ کیسےایک پاکدامن لڑکی کے دامن پر کیچڑ اچھال گئ؟؟؟

اور کیوں کر اس نے اپنے اتنے پیارے محبوب شوہر کو شک کی نظروں سے دیکھا ۔۔

چلو اسراء تمہارے کہنے پر میں نے تمہیں تمام معاملات ٹھیک کرنے کا وقت فراہم کیا تھا اب جب کہ تمام تر حالات درست ہو چکے ہیں اب تمہیں میں تمہارے شوہر کی حیثیت سے لے جا سکتا ہوں۔۔۔

حمدان کے لہجے میں کسی قسم کی لچک نہیں تھی ۔۔۔

آج وہ آ ریا پار کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔

غصے اور ذلت سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی دماغ کی رگیں تن سی گئی تھی ۔۔۔

وہ آسرا کو اٹھا کر سہارا دیتے ہوئے گویا ہوا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *