Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 03)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 03)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
ماما بہارا آ کر بشر کو ڈھونڈتی ہیں
“ارے تم یہاں ہو “۔۔
بشر لان میں بیٹھا کسی سے فون پرمحو گفتگو ان کو نظر آتا ہے ۔۔۔
ماما اس کے قریب آکر فون بند ہونے کا انتظار کرتی ہیں
جیسے ہی وہ فون بند کرتا ہے ماما اس کو کان سے پکڑ کر پوچھتی ہیں ۔۔۔۔۔
“بیٹا آپ کی ایک عدد نئ نویلی دلہن بھی ہے جو آپ کا کمرے میں انتظار کر رہی ہے اور آپ یہاں کس سے باتیں بھگار رہے تھے”۔۔۔۔۔
“کر ہی نا لیں ماما محترمہ میرا انتظار “۔۔۔۔۔۔
“اور رہی بات دلہن کی تو وہ نئی نویلی دلہن نہیں بلکہ نئی نویلی “چڑن” ہے میرے لئے “۔۔۔۔
اسنے جل کے سوچا ۔۔
مگر ماما کے سامنے ظاہر یہی کیا کہ مذاق میں کہہ رہا ہے ۔۔۔۔
“رہنے دو پتا ہے مجھے دل میں تو تمہارے لڈو پھوٹ رہے ہونگے “۔۔۔
ماما نے ہلکی سی دھپ لگاتے ہوئے چھیڑا ۔۔۔
“اچھا چلو بس اب اپنے کمرے میں جاؤ “
ماما نے کچھ ایسے لہجے میں بولا کے بشر کی ہمت ہی نہیں ہوئی کچھ اور کہنے کی ۔۔۔
“جی جا رہا ہوں”۔۔
اس نے منہ بسورا
“دعا کیجئے گا میری عافیت رہے آپ کی بہو چوڑیل سے”۔۔۔۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔۔اور چاروناچار اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
پھر جب تک وہ کمرے میں نہیں چلا گیا ماما وہی کھڑی رہیں۔ ۔۔۔
۔”شکر بس اللہ پاک بس تو ان دونوں کے رشتے میں صبر اور برداشت پیدا کردے۔ ۔۔ ایک مشرق تو دوسرا مغرب “۔۔۔
انہوں نے دل میں کہاں وہ جانتی تھیں کہ دونوں ہی بہت ضدی ہے ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر ۔۔۔














ماما کے کمرےجانے سے بعد وہ اٹھ کر شیشے کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں اور گھوم گھوم کر خود کو دیکھ رہی ہوتی ہے ۔۔۔
“
“کتنا حسین میک اپ کیا ہےاس میک اپ آرٹسٹ نے “
حجاب اب شیشے کے سامنے اپنا جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔۔۔!
آج وہ اپنے ریسپشن (walima) میں لگ بھی اپسرا رہی تھی ۔۔۔
“پھر اپنا موبائل اٹھا کر کھٹا کھٹ پندرہ ،بیس سلفی لے ڈالیں “۔۔۔۔۔
“آرے وہ اب تو اور زبردست پوز بنے گا”
حجاب کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے بشر کے بلیک سن گلاسس پر پڑھی ۔۔۔۔
وہ جلدی سے گلآ سسس اٹھا کر لگاتی ہے ۔۔
“ہونٹوں کو گول گول کر کے چونچ بنا کر وo جیسے ہی کلک کرتی ہے ۔۔۔۔۔”
این اسی وقت بشر کمرے کا دروازہ کھول کر اندر ا
آتا ،۔۔
“کلک” ۔۔۔۔(دروازے ک بلکل سامنے چونکے ڈریسنگ ٹیبل تھی )دروازے سے اندر آ تے بشر اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی حجاب دونو اس تصویر مے قید ہوجاتے ہے “۔۔۔۔![]()














حجاب جیسے ہی باتھ روم میں جاتی ہے اس کی نظر ماما کے لٹکائے ہوئے “””نائٹ ڈریس”””” پر پڑتی ہے ۔۔۔
“ارے یہ کچھ زیادہ ہی چھوٹا نہیں ہے “
وہ بلیک نائیٹی کو دیکھ کر بڑبڑاتی ہے
“کبھی تو پاس میرے آءو”
“کبھی تو نظر مجھ سے ملاو”۔۔۔۔۔۔۔!
وہ واش روم سے فریش ہو کر اپنی ہی دھن میں گنگناتی ہوئی باہر نکلتی ہے ۔۔۔
بشر جو کہ فریش ہونے کے چکر میں بیٹھا اس کےباہرآنے کا ویٹ کر رہا تھا اس کی گنگناہٹ پہ یکدم چوک تا ہے ۔۔۔
پھر جیسے ہی نظر اٹھا کر دیکھتا ہے مدھوش سا ہوجاتا ہے ۔۔۔
وہ بال کھولے بلیک نائٹی میں باتھ روم سے باہر آتی ہے ۔۔۔۔۔
حجاب اس کے حواس پر طاری ہو رہی ہوتی ہے ۔۔۔وہ آہستہ سے اس کے قریب جاتا ہے اور اس کے کمر کے گرد اپنا ایک بازو حائل کر دیتا ہے
اور دوسرے ہاتھ سے اس کے لمبے بالوں کو پکڑ کر ان کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا ہی ہوتا ہے کہ ۔۔۔
چھوڑے میرے بالوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب تھوڑا چیخ کے بولتی ہے
وہ اس کے مزید قریب ہوتا ہے اور آپنے لب اس کی گردن پر رکھ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
حجاب پہلے تو نہ سمجھیں کے عالم میں اسکو دیکھتی ہے نہ جانے کیوں اس کی اتنی قربت سے اس کی دھڑکن تیز ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔
ابھی بشر مزید کوئی پیشقدمی ہی کرتا کرتاکہ ۔۔۔۔
“چھوڑیں مجھے گد گددی ہو رہی ہے یہ کیا کر رہے ہو مسٹر ہٹلر “۔۔۔/
“میں ماما کو بتاؤں گی آپ نے میرے بال پکڑے تھے زور سے “۔۔۔
بشر یکدم سٹپٹا کر اپنے حواسوں میں واپس لوٹتا ہے۔۔۔۔۔
“یہ۔۔۔۔۔ یہ کیا بیہودہ قسم کا لباس پہن رکھا ہے تم نے “۔۔۔۔
اب وہ کافی حد تک اپنے آپ کو سنبھال چکا ہوتا ہے
اور غصے میں اس سے کہتا ہے ۔۔۔
“ارے واش روم میں یہی ڈریس تھا “۔۔۔
“ماما نے کہا تھا یہی ڈریس پہننا “”۔۔۔۔۔
بشراس کی بات سن کر مزیسٹپٹا جاتا ہے ۔۔۔
“مجھے بھی لگا تھا کہ نائٹ ڈریس تھوڑا چھوٹا ہے مگر پھر بھی ماما نے کہا تھا تو میں نے پہن لیا ۔۔۔
حجاب اپنی گول گول آنکھیں پٹ پٹا پٹ پٹا کر کہتی ہے ۔۔۔
“میں تو سمجھا تھا شاید محترمہ آج کے موقع کی نزاکت کو سمجھ کر پہن کر آئی ہو ں گی “۔۔۔وہ خود سے کہتا ہے اور پھر مٹھیاں بھیجتا اپنی قسمت پر لعن طعن بھیتا باتھ روم کی طرف بڑھ جاتا ہے ۔۔۔
__________
رات کا نا جانے کونسا پہر تھا جب بشر کو اپنی ناک میں شدید درد کا احساس ہوتا ہے ایسے جیسے کوئی چیز اچانک زور سے اس کی ناک کی ہڈی سے ٹکرائی ہو. . ۔۔۔۔
بشر کی آنکھوں میں تارے ناچنے لگتے ہیں اب وہ مکمل طور پر حواسوں کی دنیا میں واپس آتا ہے ۔۔۔۔
“ہٹاؤ یہ اپنا 20 کلو کا ہاتھ” ۔۔۔۔
وہ دھاڑا
حجاب تھوڑا کلبلائی اور پھر آڑی ترچھی ہو کر دوبارہ سو گئی ۔۔۔۔
سوتی ہوئی حجاب کا انگوٹھی والا ہاتھ نیند میں سوتے بشر کی ناک پر مکے کی صورت میں لگتا ہے۔۔۔
بشر اب دوبارہ سونے کی کوشش کرتا۔۔ سو،دوسولعن طعن دے کر وہ ابھی نیند کی وادی میں دوبارہ اترا ہی ہوتا ہے جب ۔۔۔۔۔
.آ . .آ . “آوچ”. . .
شدید درد سے وہ اپنا پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے
اب کی دفعہ حجاب کا پیر اس کے پیٹ پر اپنی محبت کی نشانی نشر کر دیتا ہے ۔۔۔۔
۔
“اٹھو فوراً”۔۔۔۔
“نہیں تو اٹھا کے زمین پر پھینک دونگا”۔۔
وہ باقاعدہ حجاب کو کندھے سے پکڑ کر بٹھا دیتا ہے۔
“ڈائن۔۔۔۔ بدرو ح مجھ ہی سےچمٹنا تھا”۔۔
“کیا کہا “۔۔
نیند ویند حجاب کی ایک طرف وہ اب اپنی استین لڑنے کے لئے چڑھاتی ہے جیسے ہی کونی پردوسرے ہاتھ سے چھوتی ہے تو حجاب کا زہن بے دار ہے۔۔۔ پھر ایک نظر خود پر ڈالتی ہے۔۔
” او۔۔۔۔ تو میں ماما کے دیے ہوئے” نائٹ ڈریس” میں ہوں” ۔۔۔
“میں ڈائن اور بدروح”۔۔۔۔ اب وہ آستین چھوڑ کر کمر پر ہاتھ رکھے فل لڑنے والے موڈ میں جا گ چکی تھی ۔۔۔
“تم ۔۔۔۔تم کیا ہو مجھے تو پورے اینک والے جن ہی گتے ہو۔ ۔۔”
حجاب نے گویا حساب برابر کیا۔ ۔۔۔
“ہاں ہاں تمہی چڑیل ڈائن بدرو ح سب ہو”۔ ۔۔۔
غصے سے بشر کے دماغ کی رگیں تن سی گئیں۔”
“اب تم میرے بیڈ پر نہیں سو گئی”
،بشر کے اگر اختیار میں ہوتا تو وہ ایک سیکنڈ بھی حجاب کو اپنے کمرے میں ٹھہرنا تو دور کی بات پھٹکنے بھی نہیں دیتا اس کی حرکتیں اس کو طیش دلاتی تھی ۔۔
وہ بیچ میں تکیہ پھینک کر بولی ۔۔۔
“یہ اب میرا بیڈ بھی ہے”۔۔
” اور میں بھی اسی پر سو کر دکھاؤں گی “””۔۔۔۔
“بس میں نے کہہ دیا تم صوفے پر سُو گی “۔۔۔
“اور صوفے پے نہیں سونا تو میری بلا سے بھلے کوہ کاف جا کے سو جاؤ” ۔۔۔
“میں اور صوفہ ناممکن وہ دونوں ہاتھ جھاڑ کر بولی”۔۔۔۔
“تو تم ایسے نہیں مانو گی” ؟!؟
“ٹھیک ہے” ۔۔
وہ خون خوار لہجے میں بولا ۔
“کیوں مانو اب یہ روم میرا بھی ہے “
“تم سو جاؤ مسٹر عینک والے جن “۔۔۔
صوفی پر۔۔۔۔۔
وہ بڑے مزے سے آپ سے تم تک کا فاصلہ طے کر گئی
“اے مجھے آپ کہاں کر بات کرنا آئندہ “
بشر بھی کسی ٹین ایجر کی طرح اس سے دوبدو دودوہاتھ کے لئے تیار ہو گیا ۔۔۔
“عینک والاجن تم نے کس کو کہا کبھی خود کو دیکھا ہے بلکل بل بتوڑی ناساں چوڑی جیسی ہو “۔۔۔
بشر کا تو جیسے خون کھول رہا تھا ۔۔۔
“اچھی ہمدردی کی جوگلےہی پڑ گئی “۔۔
بشربڑبڑھایا ۔
اس کو مزید چڑھا کر وہ واپس بیڈ پر لیٹ گئی اور ایسے لیٹی کے بشرجہازی سائز بیڈ پر لیٹ ہی نہیں سکتا تھا ۔۔
“بس اگر تم خود نہیں جا رہیں تو اب دیکھو”۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے حجاب کو اٹھا کر بازوُں سے اپنے کندھے پر ڈالا۔۔۔۔۔۔
“نہیں چھوڑوں گی تمہیں عینک والے جن”۔
وہ اب اوندھی اس کے کندھے کےاوپر مکہے برسا رہی تھی۔۔۔
بشر نے اس کو صوفے پر پھینکنے والے انداز میں پٹخا۔
“خبردار اب اگر میرے قریب یا میرے بیٹھ کے قریب بھی پھٹکیں تو۔”
۔
وہ تھوڑا حجاب کے اوپر جھک کر بولا ۔۔۔
“او مسٹر اینگری””۔۔
حجاب نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے ماتھے پر سیدھی رکھ کر اس کا خود پر جھکا ہوا سر پیچھے کیا ۔۔
“سوکر تو میں بھی تم کو وہی دکھاؤں گی “”
حجاب کا انداز چیلنجنگ تھا ۔۔۔۔۔
وہ جو سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے اتنا قریب آنے پر بوکھلا کر مان جائے گی۔۔۔۔
اچھی طرح سمجھ چکا تھا سامنے والی ہستی بھی ٹلر کے ہی خاندان کی ہے ۔۔
“دیکھتے ہییں” ۔
وہ بھی معنی خیزی سے بول فا تحانا چال چل کر اپنے پیٹ پر چلا گیا ۔۔۔۔۔
بشر تیس سالہ مرد اس لڑکی سے دوبدو لڑھ رہا تھا وجہ صرف اور صرف ضد اور انا تھی وہ دونوں میں ہی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی وہ اپنی لائف پارٹنر میچور جاہتا تھا اس لئے حجاب کی اوں پٹانگ حرکتیں اس کو عاجز کر رہی تھیں۔









++++++++
صبح وہ کافی دیر سے اٹھا اور جب پوری طرح نیند کی وادی سے جاگا تو اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں سب سے پہلا خیال اپنی نئی نویلی دلہن صاحبہ کا آیا ۔۔۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا وہ کمرے میں کہیں پر بھی نظر نہیں آئی وہ جلدی جلدی فریش ہو کر نیچے ڈائننگ ہال میں آیا ۔۔۔۔
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے البتہ بابا چائے پی رہے تھے اس کا مطلب وہ ناشتہ کر چکے تھے۔
“اسلام علیکم”!
بشر نے سب کو سلام کیااورکرسی کھسکا کر بیٹھ گیا
” وعلیکم السلام “۔
“بیٹا کیا لو گے “
ماما نے پوچھا
“ماما پلیز پہلے ایک گلاس پانی دے دیں””
بابا نے سلام کا جواب دے کر چھیڑنے والے انداز میں کہا ۔۔۔
” بیٹا جی آج زیادہ جلدی نہیں اٹھگئے کافی “
بشر نے گھڑی کی طرف دیکھا جو 11 بجا رہی تھی
“جی بابابس وہ “۔۔۔
بشر نے ہلکا خسیا کر کان کھجایا۔۔۔
“ارے بابا میں بتاتی ہوں ” ۔۔
بشر کی بات بیچ میں ہی رہ گئی اور وہ بن بتوڑی فورا بول پڑی۔۔
“جی بیٹا بتائے ہمیں بھی تو پتہ چلے ذرا “۔۔۔۔
بابا پوری توجہ سے مسکراہٹ چھپائے حجاب کی طرف ہم تن گوش تھے ۔۔۔۔۔وہ آج جیسے بخشنے والے موڈ میں نا تھے ۔۔۔
“بابا ماما آپ کو پتہ ہے یہ عینک والے جن مجھ سے پوری رات لڑتے رہے ہیں ایک لمحہ بھی مجھ کو سونے نہیں دیا “
بشر نے پانی کا گلاس منہ سے لگایا ہی تھا اس کی بات سن کر پانی کا فوارہ ایکدام اس کے منہ سے باہر نکلا اور وہ زور زور سے کھانسنے لگا لگا منہ۔
بشر کو تو اس کی بات پہ اچھو ہی لگ گیا ۔۔
سامنے سے چائے کے کپ لاتی بوا (کام والی) کی بھی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔۔
ماما البتہ اپنے آپ کو تھوڑا مصروف ظاہر کرہی تھیں جیسے ناشتے سے کوئی اہم کام دنیا میں نہ ہو
مگر بشر ان کی آنکھوں میں شرارت دیکھ چکا تھا ۔۔
بابا نے فوراً اخبار اپنے منہ کے آگے کرلیا
اس کی بات پر بشر سن کراس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حجاب کے منہ میں ساری ڈبل روٹی بھر کر اس کا کسی طرح مونہ بند کرادے۔ ۔
“اور پتہ ہے ماما آپ کو “۔۔۔۔۔
“بیٹا یہ لونا یہ پر اٹھا لو نہ شاباش یہ سب چھوڑو ناشتہ کرو “۔۔۔۔
وہ ابھی مزید کوئی گوہر افشانی کرتی کے
ماما سٹپٹا کر ایک دم حجاب کو کہنےلگیں ۔۔۔۔
ماما باباکو اپنی ہنسی روکنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا بابا تو فورااخبار بند کرکے اٹھ گئے۔۔
بشر مزید شرمندگی سے پانی پانی ہو جاتا ہے
اور بوا جو چائےرکھنے آئ تھی ابھی تک کھڑی ہنس رہی تھی۔ ۔
تم تو اپنی 32 داتوں کی نمائش بندکرو او رجاوُ اپنا کام کرو ۔
و ہ کھی کھی کرتی چلی جاتی ہے۔۔
“ارے ناشتہ تو پورا کرو”۔۔۔
بشر کو ادھورا ناشتہ چھوڑ کر آٹھتا دیکھ کر فوراً ٹوکتی ہیں ۔۔۔۔
“نہیں بھر گیا میرا پیٹ بہت اچھی طرح “
خونخوار نظر حجاب پہ ڈالتاکر کہتا ہے۔
” آپ اپنی چہیتی بہو کو کھلائیں”۔۔
“اور یہ بھی کم پڑ ے آپ کی بہو صاحبہ کے لئے تو کرسی ٹیبل پر دےسب کچھ کھلا دئیےگابس اس کا منہ بند کر دیےگا” ۔۔
وہ سلگتی ہوئ نظر سے حجاب کو دیکھتا سے واک آوٹ کر جاتا ہے۔













ناشتے کے بعد حجاب لان کی طرف نکل جاتی ہے۔۔۔ “اوووو۔ ۔۔۔۔۔تم کتنے پیارے ہو “۔۔
حجاب کی نظر کیاری میں چھپے بلی کے بچے پر پڑتی ہے سفید رنگ کا وہ بچہ ہے حجاب کو اتنا اچھا لگتا ہے کہ محترمہ کھڑے کھڑےاس کوگود لینے کا فیصلہ کرلیتی ہیں”۔۔۔۔۔
میرا پالا موتی وہ اب اس کا نام بھی رکھ چکی تھی
بشر: آج نہیں چھوڑوں گا”
وہ اس کو ڈھونڈتا لان میں آتا ہے ۔
“ارے۔۔۔۔۔ ارے مسٹر ہٹلرآہستہ چلیے گر گئے تو بلڈوزر بھی نہیں اٹھا سکے گا آپکو “۔۔۔۔
“بلڈوزر کے نیچے تو اب تم اوُگی “
وہ اس کی فضول گوئی سے مزید چڑھ کر بولا ۔۔۔
“کیا بکواس کی ہے تم نے ابھی اندر”؟”
حجاب :”میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا بس ناشتہ۔۔”
وہ حجاب کی بات کاٹ کر بولا ۔۔
تم میں سینس نہیں ہے بات کرنے کا” ۔۔۔
“سینس وہ تو میں اپنے گھر چھوڑ آئی تھی بھائی نے کہا ڈوگی آپ لوگ پسند نہیں کرتے “۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر بشر مزیدسلگ جاتا ہے اور حجاب کے غصہ میں دونوں بازوؤں کو زور سے پکڑ کر سختی سے تھوڑا خود سے قریب کرتا ہے ۔
“کس نے کہا تھا کہنے کو یہ کہ پوری رات میں نے تمہیں سونے نہیں دیا “۔۔
حجاب :”””””اچھا وہ خیر میں نے صحیح تو کہاں تھا پوری رات آپ نے مجھ سے جنگ عظیم جاری رکھی نہ خود سوئے نا مجھے سونے دیا اتنا لڑے مجھ سے “۔۔۔۔۔
بشر :آ”ئندہ اپنی زبان بند رکھنا ورنہ حشر کردوں گا”۔۔۔۔
حجاب :”چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے بہت”۔۔۔
” ممامما بچاؤ بچاؤ “””
بشر: “چپ کرو ور نہ لگاؤں گا الٹے ہاتھ کا”
مما حجاب کی چیخ و پکار سن کر اندر سے گھبرا کر باہر آئیں دونوں کو لڑتا دیکھ کر فورا ًان کی طرف تیزی سے بڑھیں ۔۔۔
“مامایہ مجھے بہت زور زور سے ڈانٹ رہے ہیں “
حجاب کچھ روہانسی ہو کر بولی ۔۔۔۔
“بشر کیا ہوا ہے”
بشر:”کچھ نہیں ماما “
حجاب: “ماما انہوں نے ابھی مجھے بہت زورسے کھینچا ہے اتنا زور سے کی انکاسینہ میرے ماتھے پر زور سے لگاہے اور پتا ہے رات میں انہوں نے مجھے زبردستی بیڈ سے اٹھا کر صوفے پر اچھال۔۔۔۔۔
“بس بشری آئندہ ایسا نہ ہو وہ کوئی اورگوہر افشانی کرتی ماما نے بات ہی ختم کردی۔۔۔۔
” بشر اپنا سر پکڑ کر رہ گیا ہے “
اس کا بس نہیں چل رہا تھا اپنا سر دیوار میں دے مارے
