Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 10)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 10)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
میں جانتا تھا کہ تم بہت ضدی ہو۔۔۔
اس طرح نہیں مانو گی اور بھلا کبھی لاتوں کے بھوت باتوں سے بھی مانے ہیں ؟؟؟
حمزہ کے چہرے پر عجیب سی چمک رقصاں تھی!! جیسے وہ اپنی کامیابی سے بس چند قدم کے فاصلے پر ہو
۔منزل کے بہت قریب تر۔۔۔
فتح اس کی منتظر اپنی باہیں واہ کیے کھڑی ہو جیسے ۔۔۔
کیا ہے یہ ان کاغذوں میں ؟؟؟
شفا کو اچانک اس کی چمکتی شاطرانہ آنکھوں سے شدید خوف سا محسوس ہوا ۔۔
اسکی نقاہت زدہ آواز بہت مشکل سے حلق سے نکل سکی تھی۔۔۔
وہ اب مزید کسی بحث میں پڑنے کے بجائے جلدازجلد حمزہ کا اصل مقصد جاننا چاہ رہی تھی جس کے تحت وہ اس کے بیڈروم میں آیا تھا ۔۔۔
یہ لو اس پر سائن کرو۔۔
حمزہ نےاسکےدونوں بازوُوں میں اپنی مضبوط انگلیاں پیوست کر کے زبردستی اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔
یہ دیکھے بغیر کے وہ ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی ہسپٹال سے ڈسچارج ہو کر آرہی ہے ۔۔۔
مجھ سے دور ہٹ کر بھی تم بات کرسکتے ہومجھے چھوئے بغیر۔۔۔۔۔
اس کو لگا تھا جیسے اس کے پورے وجود کو کسی آکٹوپس نے جکڑ لیا ہو خود میں ۔۔۔
وہ آنکھوں میں شدید نفرت لیے اس کو دیکھتے ہوئے اور غرآئی تھی ۔۔۔
عادت ڈال لو میرے قرب کی اور میری جسارتوں کی ۔۔۔۔
ابھی تو کئی کئی مرتبہ تمہیں میرا ظالم لمس ایسا ہی تڑپائے گا ۔۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بہت گہرے لہجے میں مخاطب تھا ۔۔۔
نظرایسی تھی کہ شفا کے پورے وجود کو جلا کر خاکستر کرنے کو تیار ۔۔۔
مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔
میرے بازوؤں کو اپنی اس جارحانہ گرفت سے آزاد کرو ۔۔۔۔
اس دفعہ میں وہ واویلا مچا ئو گی کہ تمہاری سو دو سو پشتیں بھی نہیں بھول سکیں گی ۔۔۔۔۔
میں ایک دفعہ جس چیز پر نظر ڈال دوں یا پھر اس کو چھو لوں تو وہ صرف اور صرف میری ہوجاتی ہے۔۔۔۔
اس چیز پہ پھر اس کا دور کی بات کسی کا بھی اختیار نہیں رہتا ۔۔۔۔
اور رہی واویلا کرنے کی بات تو محترمہ یہ شوق بھی تم بخوشی پورا کر سکتی ہو !!میں تو چاہتا ہوں کہ تم ایسا کرو ۔۔۔
اور پھر تمہاری یہ سو دو سو پشتو والی خواہش بھی میں تمہارے ہی وجود سے پوری کرونگا ۔۔۔۔
۔۔۔
میں کوئی چیز نہیں ہوں مسٹر حمزہ جلال ۔۔۔
میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔
وہ لفظوں کو چبا چبا کر ادا کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اسنے تیزی سےجھک کر اس کے پیچھے سے دوپٹہ اٹھا کر خود کو اچھی طرح ڈھانپاتھا ۔۔۔۔
حمزہ کی کہی آخری بات پہ مارے خفت و حیاء سے اس کا برا حال تھا ۔۔۔
تم اس قسم کی فضول اور فحش بکواس ہی کرسکتے ہو۔ ۔۔
کوئی بھی بات مہذب انداز میں توکرنا کہا کھائی ہے کسی نے تمکو ۔۔۔۔
وہ اب باقاعدہ اس کے اوپر طنز کے تیر چلا رہی تھی ۔۔۔۔
یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کتنا مہزب ہے اور کون کتنا بے غیرت اور بے رحم ۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ دونوں اب ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے موجود تھے۔۔۔
میرے پاس مزید تمہاری کسی بھی قسم کی فضول بکواس سن نے کا وقت نہیں ہے۔۔
سائین کروان پیپر ز پہ۔ ۔۔
وہ حاکمانہ انداز میں اس کے سامنے کاغذات بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ۔
یہ۔۔۔۔۔۔
یہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نکاح کے پیپر ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کو شدید قسم کا حیرت کا جھٹکا لگا تھا حمزہ نے اس کے آگے نکاح کے کاغذات لہرائے تھے ۔۔
۔
تم اس حد تک گر جاؤ گے ؟؟؟
شفا کے لہجے میں بے یقینی تھی ۔۔۔
میری حد کا تعین تم مت کرو ۔۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میری حد کہاں تک ہے؟؟؟
اگر تمہیں میرے اختیارات کا علم ہوجائے تو ۔۔۔
وہ “تو” پھر زور ڈال کے بولا ۔۔۔
خیر میں اپنی اختیارات کی تفصیل تمہیں پھر کبھی بتاؤں گا ابھی جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو ۔۔۔۔
اس نے گویا آرڈر جاری کیا ۔۔۔۔
“میں ان پیپرز پہ ہرگز بھی سائن نہیں کروں گی !!اس نے سامنے پڑے نکاح کے پیپرز پرزہ پرزہ کر کے حمزہ کے چہرے پہ اچھالے”۔۔۔۔
“جانتی بھی ہو کہ تم اس وقت کس کے سامنے کھڑی ہو اور تمھاری یہ حرکت تمہارے ساتھ کس قدر برا کر سکتی ہے؟؟؟؟ “۔۔۔۔
وہ برہم ہوا۔۔۔
“جانتی بھی ہوں اور بہت اچھے سے اب تمہاری ایک ایک خصلت سے واقفیت بھی رکھنے لگی ہو حمزہ جلال “۔۔۔
شفا کا لہجہ پر اعتماد تھا ۔۔۔۔
“تو پھر تمہیں یہ بھی بہت اچھی طرح پتہ ہوگا کہ میرا اگلا اسٹیپ کیا ہے ؟؟؟”
وہ فاتحانہ ہنسی ہنسنے لگا۔ ۔۔
“تم اور تمہارے مقاصد !!مگر یاد رکھنا میں بھی شفا رحمان ہوں۔ ۔۔
رحمان چغتائی کی بیٹی !!تمہیں تمہارے کسی بھی ناپاک عزائم کامیاب نہیں ہونے دوں گی” ۔۔۔۔۔!!
“یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس حد تک اپنے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔؟؟”
وہ چٹان سہ اسکی کمر کو جکڑ گیا۔ ۔۔۔
“میں بھی یہیں ہو!! تم بھی یہی ہو “۔۔۔۔وہ اسکے کان کےنزدیک پگھلتا ہوا سیسہ انڈیل چکا تھا۔ ۔۔۔
“میں لڑکی ضرور ہوں مگر ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھیں!!
اب تم بھی دیکھو گے !!کہ شفاء کس طرح تمہیں اس گھر سے نکلو آتی ہے !!اس کو چاہے تو میری دھمکی سمجھ لو یا پھر میرا چیلنج “۔۔۔۔۔
“تم اور تمہارے پانی کے بلبلے جیسے چینلجز”۔۔۔۔۔
“ہاہاہا” ۔۔۔۔!!
حمزہ کا فضا میں تمسخر اڑاتا کہکہ بلند ہوا ۔۔۔۔!!!۔۔۔

داود اٹھ جائیں تیار بھی ہونا ہے جلدی کرو ۔۔۔
وہ شاور لیکر فریش ہو کے لائٹ پر پل اور وائٹ کلر کا سوٹ جس پر ہلکا نفیس سہ کام بھی تھا اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے۔۔۔
وہ داود پہ جھکی اس کو جگانے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔۔
جب اچانک داؤد نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر کلائی سے پکڑ کر بیڈ پہ گرایا تھا اور خود ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس کے اوپر جھکا تھا ۔۔۔
گویا تمام فرار کی راہیں مسدود کردی ۔۔۔۔
اوف یہ رات ۔۔۔!!!!
کتنی بے وفا ہے کتنی جلدی تھی اس کو سورج سے اپنے ملن کی ۔۔۔۔
وہ اس کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
آنکھیں بے خوابی کی چغلی کھا رہی تھی ۔۔۔
پلیز داود اب سب لوگ آتے ہی ہونگے ناشتہ لے کر گھر سے میرے ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود سے دور دھکیلتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔
اچھا صبح ہو ئی تو کیا؟؟؟؟
تم خود فیصلہ کروچھوٹی نہیں تھی گزری شب ؟؟؟
جیسے چند منٹوں میں ہی سرک گئی ہو؟؟؟
چلو پھر سے سو جاتے ہیں ۔۔۔
جھلستے ہوئے سورج کو مزید جھلسا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ جذبات سے چور خمارالود لہجے میں اس پر مزید چھکتے ہوئے!! اس کے لبوں سے معصومانہ شرارت کر بیٹھا ۔۔
پلیز دیر ہو رہی ہے دو دفعہ بھابھی کی مسڈ کال آ چکی ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی مزید کچھ کہنے کو تھی کہ۔ ۔
ٹھک۔ ۔۔۔
ٹھک۔۔۔۔ ٹھٹھک۔۔۔۔ ٹھٹھک ۔۔!
دروازہ اب زور زور سے پیٹا جارہا تھا۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے باہر موجود شخص دروازے کو توڑ کر اندر آنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔۔۔
ارے رات کے مسافر وں اٹھ جاؤ ۔۔
دن چڑھ آیا ہے۔۔۔۔
باہر سے غزل دروازہ پیٹنے کے ساتھ ساتھ جملے بھی کس رہی تھی ۔۔۔۔
بھابھی ابھی ہماری صبح نہیں ہوئی ہے۔۔۔
تھوڑی دیر اور ہے ۔۔۔
وہ اس کی گھوریوں کی قطاً پروا کیے بغیر بولا۔۔۔۔
جی جی بھابھی میں آ رہی ہوں ۔۔۔
عائشہ کے منہ سے بوکھلاہٹ میں فیصلہ تھا ارے دیور جی اب ذرا ہماری نئی نویلی دیورانی کو دروازہ کھولنے کے لئے تو بھیج دو ۔۔۔
غزل نے مسکراتے ہوئے باہر سے ہوائی فائر کیا تھا۔۔۔۔
جبکہ عائشہ کا تومار شرم اور گھبراہٹ کے دل اچھل کر حلق میں آن پہنچا تھا ۔۔۔
ارے یار یہ میری بھابھی کو اور کوئی کام نہیں ہے جب دیکھو کبھی دروازہ کھول کر اندر گھسنے نہیں دیتیں!! تو کبھی اندر آنے کے لئے دروازے کو توڑنے کے درپے ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔
داود چڑھ کر بیچارگی سے بولا ۔۔۔۔
پلیز داود مجھے جانے دیں بھابھی کیا سوچیں گی؟؟؟؟؟
عشاء کا خون خشک ہوچکا تھا ۔۔۔
ہاں تو بڑی مشکل سے تمہارے اماں ابا نے میرے ساتھ تمہیں رخصت کیا ہے اور بھابھی کی خیر ہے۔۔۔۔
میرے بھائی مجھ سے زیادہ دس ہاتھ آگے ہیں رومینس میں۔۔۔۔۔۔
وہ مزے سے اس کے گال کو چومتے ہوئے ٹالنے والے انداز میں بولا ۔۔۔
لیلا مجنون مجھے اندر آنے بھی دو۔۔
رات بھر کیا سوئے نہیں ہو؟؟؟
ٹھیک سے یا پھر مچھروں نے پوری رات جگائے رکھا؟؟؟
باہر بھی غزل موجود تھی وہ کہاں نخشنے والوں میں سے تھی ۔۔۔
شرارت تو اس کے ساتھ ہر وقت رقص کیا کرتی تھی ۔۔
پورے گھر کی رونق تھی وہ سگے بھائیوں سے زیادہ داود کو محبت دیا کرتی تھی ۔۔۔۔
سن لیا۔۔۔۔
شرم سے میرے ہاتھ پاؤں کی جان نکلنے کو ہے ۔۔۔
کہتے کہ ساتھ ہی اس نے داود کے کان پر اپنے دانتوں سے درد بھری ” پپی” لے ڈالی تھی ۔۔۔۔۔۔
اتنی زور سے کیوں کاٹا ؟؟؟؟؟
وہ تڑپ کر دور ہٹا تھا جبکہ وہ موقع کا فائدہ اٹھا کر دروازے کی طرف دور لگا چکی تھی ۔
کیا ہوا دروازہ کھولنے میں اتنا ٹائم کیوں لگ گیا؟
خیریت تو ہے نا دروازہ کھولنے میں کافی دیر لگی ؟؟؟؟؟
غزل نے عائشہ کے دروازے کھولتے ہی چہرے پہ بلا کی معصومیت طاری کرکے پوچھا ۔۔۔
جب کہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔ ۔۔۔ میں۔۔۔۔۔
وہ بوکھلائی۔۔۔۔
وہ وہ میں کیا؟؟؟؟
لگتا ہے میرے دیور نے تمہیں دروازے تک آنے میں بہت تنگ کیا ہے ؟؟
کہیں پیروں میں بیڑیاں تو نہیں ڈالدی تھیں؟ ؟؟؟
نہیں۔۔۔۔۔ نہیں وہ تو گہری نیند سو رہے ہیں ۔۔۔۔
اچھا اچھا سو رہا ہے ۔۔۔!!
صحیح ۔۔۔۔۔۔صحیح کہا۔ ۔۔
وہ تو مجھے نظر آ رہا ہے کہ وہ کتنی گہری نیند سو رہا ہے۔۔۔
تم ادھر تمہارا دوپٹہ ادھر۔۔۔۔
وہ شریر لہجے میں عائشہ کو چھیڑنے لگی۔۔۔۔
جبکہ عائشہ کی نظریں حیاء سے اٹھ نہ سکیں ۔ ۔۔
غزل نے دل سے ان دونوں کی خوشیوں کے لئے دعا کی تھی اپنے رب سے بہت خاموشی سے ۔۔۔
ویسے عا شی سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ تمہارا دوپٹہ وہاں کیسے پہنچا؟؟؟
وہ اب باقاعدہ اس کے شانے پر اپنا بازو ٹکراتے ہوئے تنگ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
چلو بھئی عاشی تم تو تیار ہو نیچے چلو جلد ی امی کب سے انتظار کر رہی ہیں۔۔۔۔
لبوں پہ انگلی رکھ کر غزل اسکو گھسیٹتی ہوئی ڈریسنگ روم میں لے جاچکی تھی ۔۔۔
داود نے دونوں کے جاتے ہی بیڈ سے جمپ لگانے کے انداز میں اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔
کیا ہے یار بار بار میری بیوی کو میری دسترس سے دور لے جاتی ہیں ظالم سماج نہ ہو تو ۔۔۔
وہ بھنوٹ ہوا ۔۔
اس بات سے بے خبر کہ اس کے بالکل پیچھے اب وہ دونوں موجود ہیں ۔۔۔
کیا فرمارہے تھے دیور جی ؟؟؟
ابھی ابھی آپ۔۔۔
غزل نے ہاتھ سے اس کے سر کے بال بکھیرے ۔۔۔
آ۔۔۔آ۔ ۔۔پ ۔۔۔؟؟؟
جی میں۔ ۔۔۔
اب یہ حال تھا کہ پورے کمرے میں آئشہ اورغذل کی ہنسی گونج رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ داود کھسیا کر واشروم میں بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔

عمر کہاں جا رہے ہو ؟؟سمیرا نے عمر کو گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر جاتے دیکھ کر جلدی سے ٹوکا ۔۔۔۔۔۔
امی میں کچھ کام سے باہر جا رہا ہوں ۔۔۔
وہ جلدی سے بول کر آگے بڑھنے لگا ۔۔۔
بیٹا شام کو لائبہ کو لینے چلے جانا تمہارے بابا نے اسلام آباد کے لیے تمہاری سیٹ کنفرم کرادی ہے رات 8 بجے کی ۔۔۔
کیوں سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟
وہ یکدم پریشان ہوا ۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا ۔۔۔۔
سب خیریت ہے تمہاری پھپا پھپو حج پر جا رہے ہیں چالیس دن بعد واپسی ہوگی اس لیے آپی نے لائبہ کی ذمہ داری ہم پہ سونپ دی ہے ۔۔۔
سمیرا نے تفصیل سےبتایا۔۔۔۔
لائبہ کو لانے کی ذمہ داری آپ اس کے بھائی کی بھی تو لگا سکتی تھی ۔۔۔۔
اس کو یہاں چھوڑ نے کے لئے ۔۔۔
عمر نے چڑ کر کہا کیونکہ لائبہ سے اس کی ایک نہیں بنتی تھی۔
دونوں میں ڈھائی اکڑے کا بیر رہا کرتا تھا ایک مشرک ہے تو دوسرا مغرب ۔۔۔
کہنے کو تو وہ اس سے 8 سال چھوٹی تھی مگر مجال ہے جو کبھی اس ڈرامہ کوئن بقول عمر کے ۔۔۔
اس نے کبھی اس کے نام کے ساتھ بھائی کا دم چھلا استعمال بھی کرنا پسند کیا ہو ۔۔۔
بیٹا وہ آجکل بہت زیادہ مصروف ہے اس کا شیڈیول بہت ٹف ہے پورے پندرہ دن کا ۔۔۔
مسلسل پندرہ دن اس کی فلائٹس ہیں۔ ۔
عمر پھر خاموش ہو گیا تھا کیونکہ مصطفی کا واقعی شیڈیول بہت مصروف ہوا کرتا تھا ۔۔۔
وہ پاکستان کی مشہور ایئرلائن کا پائلٹ تھا ۔۔۔
اور پھر عمر کو اچھا بھی نہیں لگا مزید کچھ کہنہ۔۔۔۔
اور پھر بیٹا تمہاری پھپو نے سوہا کیلئے ڈھکے چھپے لفظوں میں مصطفی کے لیے سوہا کا ذکر چہڑاہے۔ ۔۔
مگر امی وہ تو سوہاسے بہت بڑے ہیں ۔۔۔
اور پھر ان کا مزاج بھی کافی حد تک سخت ہے سوہا ان کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پائے گی ۔۔۔
عمر سب چیزیں بھول کر یک دم سوہا کے دفاع میں پریشان سہ گویا ہوا ۔۔۔
زینب پھوپھو کی دو اولادیں تھیں پہلی مصطفی اور دوسری لائبہ جبکہ زینب چھوٹی ہونے کے باوجود اچھا رشتہ آنے کی وجہ سے جلدی پیا دیس سدھار گئیں تھیں اور شادی کے پہلے سال ہی اس کے آنگن میں مصطفی کے نام کا پھول کھلا تھا ۔۔۔۔
پھر اس کے بعد باری آئی جلال کی زینب کی شادی کے تین سال بعد جلال کی شادی ہوئی جبکہ سب سے چھوٹے رحمان کی جلال کی شادی کے ڈھائی سال کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

ایسا کیا ہے جو وہ آگ سے ڈرتی ہے ؟؟؟؟
کس بات کا اس قدر اس کو خوف تھا کہ میرے ایک معمولی سہ لائٹر جلانے کی وجہ سے وہ اس حد تک خوفزدہ ہو گئی تھی ؟؟؟
ارمغان لان میں بیٹھا رات کے ڈھائی بجے ٹھٹرتی ہوئی ٹھنڈ میں سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا اور مسلسل صرف اور صرف فجر کے متعلق ہی سوچے چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
کتنی حسین اور خوبصورت تھی وہ بالکل اس کی گڑیا جیسی ،،
گڑیا کی سوچ آتے ہیں وہ ایکدم ٹھٹک سا گیا اور کِی لمحے سوچنے کے بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔
فجر اس کے لئے ایک مسٹری بن چکی تھی ۔۔۔۔
وہ چھوٹی سی نازک سی لڑکی کہیں نہ کہیں اس کے دل کو اندر سے نرم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

نہیں نہیں بابا ۔۔۔۔ما ما ما ۔۔۔۔۔ما بھائی آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے ۔۔۔
بابا انکل بچائیں نہ میرے مما بابا کو میرے بھائی کو بچائیں نہ ۔۔۔۔۔
وہ چیختے ہوئے نیند سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔
کیا حقیقت تھی کیا حادسہ؟ ؟؟
وہ ایک حادثہ تھا یا پھر سوچا سمجھا پلان ۔۔۔۔۔؟؟
یا پھر تیسرا رخ جو اس نے سنا تھا وہ سچ تھا ؟؟؟
پسینے میں شرابور وہ اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر بری طرح سے سسکنے لگی تھی ۔۔۔۔
اور جو سچ اس کے سامنے آیا تھا کیا واقعی وہ سچ تھا ؟؟؟؟
یا وہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش ؟؟؟
