Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 11,12)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

دروازہ کھولو اریج نہیں تو میں توڑ دوں گا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازے کے باہر سے ڈیڈی کی چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔

آریج کانپ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔

تو گویا امتحان کا وقت آن کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کہ کانپتی ٹانگوں سے اٹھی اور دروازہ کھول کر سائٹ پر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔

“تیری ہمت کیسے ہوئی اتنے’ شریف انسان’ کو زخمی کرنے کی “۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیڈی نے جھٹ اس کے بال اپنی مٹھی میں جکڑ کر دو تھپڑ رسید کیے ۔۔۔۔۔۔۔

بھائ صاحب میں تو بس اس سے یہی کہہ رہا تھا کہ اس طرح میرا تمہارے کمرے میں آنا مناسب نہیں ہے۔۔۔۔ ۔

آریج نے لال دانت پان اور پیک سے بھرے منہ والے ٹکلے زوار کوحیرت سے دیکھا۔۔۔

“نہ۔ ۔نن۔ ۔۔نہیں ڈیڈی یہ جھوٹ بول رہا ہے”۔۔۔۔۔۔

“حسن تو پہلے اس سے سن لیں سچ کیا ہے “۔۔۔

دلآویز چہرے پہ اریج کیلئے فکر مندی طاری کر کے بولی۔ ۔۔۔

دلآویز بیگم نے ایک ادا سے حسن صاحب کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔۔

“سچ کی بچی “۔۔۔۔۔۔

” میں بتاؤں تجھے سچ کیا ہے “۔۔۔۔۔۔۔

حسن صاحب نے بے دردی سے اس کی تھوڑی کو دبوچا ۔۔۔۔۔۔

“جب میں نے اس کو منع کیا تو یہ میرے قریب آکر” ۔۔۔

اف مجھ سے تو بیان بھی نہیں ہو رہا ہے۔ ۔۔۔۔

زوار نے ہاتھ کی پشت سے منہ سے باہر نکلی لال پیک صاف کرتے ہوئے کہا۔ ۔۔۔

میں نے اپنی عزت کے خیال سے اس کو دور کرا تو ۔۔۔۔۔

” تو۔۔۔۔۔ اس نیں نشے میں میرے سر پر لیمپ دے مارا”۔۔۔۔۔۔

وہ خباثت سے بولا ۔۔۔۔۔

“بس اریج اب ایک بات غور سے سن لو زوار تمہارا ہونے والا شوہر ہے اور بہت جلد میں تمھاری شادی کرنے والا ہو اس سے “۔۔۔۔۔۔

وہ اس کو روتا بلکتا چھوڑ کر چلے گئے تینوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

ان کے جانے کے آدھے گھنٹے بعد اس کا موبائل بجا وہ گرتی پڑتی تکلیف سے اٹھی اور زمین سے موبائل اٹھا کر دیکھا ۔۔۔۔۔۔

سبحان کا فون تھا ۔۔۔۔۔

وہ وقت اپنے ماں جائے کا نمبر دیکھ کر مزید بکھر گئی۔ ۔

” ہیلو بھائی آپ پلیز مجھے اپنے پاس بلالیں یا خود آجائے ڈیڈی مجھے بہت مارتے ہیں “۔۔۔۔

۔

وہ فون اٹھاتے اس کو خود پہ ہونے والے ظلم کی بابت رورو کر بتا گئ۔ ۔۔۔

“شٹ آب بند کرو اپنی یہ دو کوڑی کی بکواس” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” تم جیسی بےشرم بدکردار بہن ہونے سے تو بہتر تھا کہ میں اکیلا ہی ہوتا “۔۔۔۔۔۔۔۔

“میں آکر یہاں”۔۔۔

“یا پھر تمہیں یہاں بلا کر اپنا منہ کالا نہیں کرسکتا”۔۔۔۔۔۔

اریج ساکت سی اس کی باتیں سن رہی تھی وہ تو سمجھ رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ اس کے غم میں شریک ہوگا ۔۔۔۔۔

اس کو دلاسہ دے گا مگر۔۔۔۔۔۔

یہ کیا بھائی نے بھی آنکھیں پھیر لیں بدگمانی کی سیاہ چادر اوڑھلی ۔۔۔۔۔۔

“ڈیڈی نے مجھے سب بتا دیا ہے اور میری ایک بات کان کھول کر سن لو زوار اچھا لڑکا ہے اور تم بھی اس کو پسند کرتی ہو”۔۔۔۔۔۔

“صبر سے رہو اور یہ بے غیرتو والی حرکتیں مت کرو” ۔۔۔۔۔

“اور تم کیا چاہتی ہو ڈیڈی سے”؟؟؟؟؟

” جس کو تم پسند کرتی ہوں اسی سے تو تمہاری شادی کی جا رہی ہے”۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ اپنے بھائی کے منہ سے خود کو دی جانے والی گالی پہ پتھرا سی گئی تھی۔۔۔۔۔

” جی بھائی میں یہ ہی چاہتی تھی”۔۔۔

میں نے یہ سب زوار سے شادی کرنے کے لئے ہی تو کیا تھا”۔۔۔۔

میں تیار ہوں شادی کے لئے”۔۔۔

” بہت خوش ہوں”۔۔۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے کھڑاک سے فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات بشر کمرے میں کھانے سے فارغ ہو کے جلدی آ کر لیٹ گیا تھا ۔۔۔۔

لائٹ سی سینڈوشرٹ اور لونگ شارٹ پہنے وہ لیٹ کر ٹی وی پرچینل سر چنگ میں مصروف تھا ۔۔۔۔

جب” ایچ۔۔ بی ۔۔او” سے آتی “ففٹی شیڈز آف گرے” پہ آکر اس نے ٹی وی کا والیوم بڑھا کر لائٹ آف کر دی ۔۔

اس کو ایکشن، مرڈر، رومینس، سسپنس والی موویز بہت پسند تھیں ۔۔

حجاب ابھی تک باہر ہی تھی آج وہ کچھ زیادہ ہی ماما کے ساتھ کام کروانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

آسرا کو اس نے کام کو ہاتھ بھی نہ لگانے دیا بشر کو اس کی یہ تبدیلی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

حجاب کمرے میں جیسے ہی آئی سامنے

ٹی وی پہ چلتے انتہائی بولڈ سین کو دیکھ کر گھبرا گئ ۔۔۔۔۔

اور جلدی سے واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

بشر اسکی بوکھلاہٹ دیکھ چکا تھا جان کر والیم مزید بڑھا دی۔ ۔۔۔

وہ کافی دیر کے بعد واش روم سے باہر نکلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مووی میں ابھی انتہائ رومانٹک بولڈ سین جاری تھا۔۔۔۔۔

ا وہ جلد سے جلد باہر نکل نے لگیں کمرے سے ۔۔۔۔۔

“بے ہودا انسان “۔۔/۔۔

ماما تو کبھی مجھے موویز تو کیا ٹی وی بھی بہت کم دیکھنے دیتی تھی اور اس کو دیکھو ذرا عمران ہاشمی کا بڑا بھائی نہ ہو تو “۔۔۔۔۔۔۔

وہ بڑبڑا کر باہر نکلنے لگی جب بشر کی آواز نے اس کو پاوُں جکڑلیے ۔۔۔۔

“سنو ذرا پانی دینا “”۔۔۔۔۔

وہ مرتے کیا نہ کرتے کے مزداق اس کی سائیڈ ٹیبل کی طرف جگ سے نکالنے کے لئے بڑھی”۔۔۔۔

__________

حجاب مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق مڑتی ہے اور جگ کو اٹھانے کے لئے جیسی ھی جھکتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

بشر ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر حجاب کاہاتھ کھینچ کر خودپہ گرا لیتا ہے ۔۔۔

حجاب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بوکھلاہٹ میں پانی کا بھرا ہوا جگ بشر کے اوپر انڈیل دیا ۔۔۔

بشر اتنی ٹھنڈ میں اپنے اوپر پڑنے والی اتنی تھنڈی افتاد پہ بوکھلا گیا ۔۔۔

“یہ کیا کیا تم نے جنگلی بلی “۔۔۔۔

“سارے رومینس پہ ٹریکٹر چلادیا”۔ ۔۔

“ہاں توں آپ بھی تو پتہ نہیں کیا کیا” ۔۔۔۔۔

“کر کر کے مجھے ڈراتے رہتے ہیں “۔۔۔

بشر کو ایسا لگا جیسے یہ پانی حجاب نے اس کے اوپر نہیں۔۔۔۔۔

بلکہ اس کے دہکتے ہوئے جذبات پہ پوری بالٹی پانی و برف کی بھر کر انڈیل دیا ہو۔

۔۔

“ہاں تو پھر تمہارے ساتھ اس قسم کی حرکتیں نہیں کروں گا “۔۔۔۔”

“تو کیا پھر اس کے لئے بھی کوئ گرل فرینڈ دھونڈنی ہوگی “۔۔۔۔

“اوراس سے کہونگا میری بیوی کو اس طرح کی حرکتوں سے الرجی ہوجاتی یے مجھ سے۔ ۔۔

حجاب منہ کھولے اسکی بات سن رہی تھی۔۔۔

‘مم۔ ۔۔مم میراہی مطلب نہیں تھا”۔ ۔

وہ من منائی۔۔۔

بشر تو گویا سن ہی نہیں رہا تھا کچھ۔ ۔۔۔

وہ مزید بولا۔ ۔۔

“اس لئے آپ میرے ساتھ چلیں اور پھر میں اپنی بیوی کے سامنے جو کے مجھے اپنا بڑا بھائ سمجھ بیٹھی ہے”۔ ۔۔

” آپ کےساتھ اس قسم کی حرکتیں کروں تو شاید ان محترمہ کا بھی دماغ کچھ ٹھکانے پہ آجائے “۔۔۔۔۔

بشرصحیح معنوں میں تب چکا تھا ۔۔۔

شروع شروع میں تو وہ پھر بھی اگنور کر دیتا تھا۔۔

مگر اب جبکہ وہ حجاب کے اندر آنے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہا تھا اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ

حجاب اس کے اور اپنے درمیان خوبصورت رشتے کے تقاضوں کو کیوں نہیں سمجھ پا رہی تھی ۔۔۔۔

؟؟؟؟؟

ایسا ہرگز نہیں تھا کہ وہ مرا جا رھا تھا اس کی قربت کے لئے ۔۔

وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔

حجاب پر اس کا جائز حق تھا وہ کبھی بھی کسی طرح کے افیئر اور اس طرح کی دوسری دلچسپیوں میں نہیں پڑھا مگر حجاب جب پہلی دفعہ اس کی دلہن بن کر اس کمرے میں آئی ۔۔۔

بشر نے اسے دن اپنے پاکیزہ اور کھرے جذبات دل وجان سے حجاب کے نام کر دیے تھے ۔۔۔۔

وہ اس کو دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھا تا ہے ۔۔

“ایک بات میری حجاب کان کھول کر سن لو”۔۔۔

” جس دن میرا دماغ گھوم گیا “۔۔۔

” اس دن میں تمہاری ایک بھی نہیں چلنے دوں گا ۔۔”

‘اور جس چیز سے تم بھاگ رہی ہو یا نظریں چرا رہی ہوں “۔۔۔

‘زیادہ دن تم اپنی من مانی نہیں کر سکوں گی “۔۔۔

اور یہ کہہ کر وہ وہاں وار ڈراپ سے شرٹ نکال کر چینج کر کے ڈیرس میں چلا گیا ۔۔

💕
💕
💕
💕

وہ ایسی ہی تھی معصوم اس کی کچھ فرینڈ ایک دفعہ گھر آئی۔۔

جب کسی دوست نیں کوئی مووی کا بیہودہ

سین سنا تے واقت عمران ہاشمی کا ذکر کیا۔۔۔

حجاب اس وقت بڑی دلچسبی سے ان کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔

سامنے سے ماما آگئی اور انہوں نے تمام باتیں سننے کے بعد اسکی دوستوں کو چلتا کیا اور خوب اس کی بھی چھترول کی ۔۔

اس دن کے بعد سے پہلے جو وہ تھوڑا بہت موویز یا سونگ سن لیا کرتی تھی وہ بھی ماما نے بند کردیئے اور ٹی وی بھی اپنے سامنے دیکھآتیں۔ ۔۔

یہی نہیں اس کی تمام دوستوں کے گھر فون کر کے ان کی اماں ابا سے بھی خوب کٹ لگوئی تھی سب لڑکیوں کی ۔۔

ان کو یہ بات بالکل بھی پسند نہیں تھیں کہ لڑکیاں اپنی عمر سے پہلے وہ سب باتیں جان جائیں جو ان کی معصومیت کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہوں ۔۔۔

یہی وجہ تھی اس کے چہرے کی معصومیت اور نور ابھی تک برقرار تھا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕

گھر آکر اسرا پورا ٹائم پریشان اور خوفزدہ رہی۔۔۔۔

چڑیا جیسا دل تھا اس کا ۔

حمدان کی سرخی مائل گہری آنکھیں اس کو بہت کچھ باور کرا چکی تھیں۔۔

وہ جو سوچ رہی تھی خلاع کے لئے ۔۔۔

اب اس کو خالویہ خانہ سے اس سلسلے میں بات کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔

“اب کیا ہوگا اللہ میرا”۔۔۔

” حمدان تو کسی بھی صورت مجھے نہیں چھوڑے گا”۔۔۔۔

وہ تکیے پر سر رکھے بے آواز رو رہی تھی۔۔۔

اور اب اس گھر کے علاوہ میرے پاس کوئی جگہ بھی نہیں ۔۔۔

تنہا اسلام آباد والے گھر میں رہنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں ہے “۔۔۔

“اور ۔۔۔۔۔۔اور اگر وہ مجھے دعوت میں سے یہاں واپس ہی نہیں آنے دے تو پھر کیا ہوگا ؟؟؟؟”۔۔۔

اس خوفناک خیال کے آتے ہی وہ

لیٹےسے اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔

اتنی سردی میں بھی اس کے چہرے سے پسینہ پھوٹ پڑا ۔۔۔۔

یہ خوفناک سوچ اس کے پورے جسم ک

سے کسی چوڑیل کی طرح چمٹ گئی تھی ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

“السلام علیکم بابا “

“وعلیکم اسلام بیٹا “۔۔

خیر خیریت پوچھنے کے بعد وہ بولے۔ ۔

“اسراء ٹھیک ہے بیٹے؟؟؟”۔۔

“جی ٹھیک ہے بشر کے گھر پہ ہے”۔۔۔

” بشر اس کا خالہ زاد ہے “۔۔۔

“وہ بیٹا ایک بات میری سنو “۔۔۔۔

بابا نے تمہید باندھی۔۔

“جی بابا کئہے؟؟؟؟

اس کو بابا کچھ پریشان لگے ۔۔۔

“بیٹا تمہارا نکاح نامہ میں نے تمہاری دادی سے مانگا تھا “۔۔۔

“جی بابا آپ نے بھیجا نہیں وہ” ۔۔

“بیٹا ان کا کہنا ہے کہ نکاح نامہ وہ بہت پہلے ہی غصے میں پھا ڑ چکی ہیں” ۔۔۔

بشر نے حیرانی سے بابا کی بات سنی جیسے یقین نہ آ رہا ہو ۔۔۔۔

کہ آخربابا نے کیا کہا ہے؟؟؟؟

” بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ”۔۔

اس کے بغیر میں کیسے اس کو گھر لے کر آؤں گا؟؟!؟!؟

بابا کی طرف گہری خاموشی تھی۔۔۔

” باقی دو اور کاپی بھی تو ہیں “۔۔۔۔

“بیٹا ایک ک پی ا سرا کے پاس ہوگی کیونکہ وہ بھرجائی کو میں نے دی تھینکاح کے بعد” ۔۔۔

“ہوں۔۔۔۔۔ اور تیسری کاپی “۔۔۔

اس کو ابھی بھی ایک موہوم سی امید باقی تھی۔۔۔۔

بیٹا تیسرے کاپی نکاح خواں رجسٹرار کے پاس ہوتی ہے ان کو بھی میں ڈھونڈ رہا ہوں مگر ابھی تک ان کا کچھ اتا پتا نہیں مل رہا۔۔۔”

بابا بھوجل لہجے میں بولے۔ ۔

ٹھیک ہے آپ پرپیشان نہ ہوں میں دیکھ لوں گا “۔۔

اس نے باپ کی طبیعت کے خیال سے ان کو تسلی دے کر فون بند کردیا ۔۔۔

پریشانی حمدان کے چہرے پہ حویدہ تھی ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

دوسرے دن اس کی آنکھ پہلے کھلی ۔۔

بشرابھی سو رہا تھا ۔۔۔

۔

بشرکاسر حجاب کے بازو پہ تھا اور ایک ہاتھ سینے سے تھوڑا نیچے حجاب کے۔ ۔۔

وہ اس کی نیند کے خیال سے اٹھنے لگی جب بشر نے مزید اسکو کو جکڑ لیا ۔۔۔

“ہٹلر نے مجھے اپنا گاؤں تکیہ ہی سمجھ لیا ہے کیا ۔۔۔۔؟؟؟؟”

“اپنا یہ دو سو کیلو کا وجود لے کر چڑھ گئے ہیں “۔۔۔۔۔۔

وہ بڑبڑائی۔۔۔

“چڑھا ہوا نہیں ہوں جملہ درست کرو” ۔۔۔۔

بشر اس کے بالوں میں گھسا کر بڑ بڑایا ۔۔۔

“تو گویا آپ اٹھے ہوئے ہیں “۔۔۔

‘تمہارے قریب کوئی پاگل ہی ہو گا جو سو سکتا ہے”۔۔۔۔۔

وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔۔

اسکا رات کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔۔۔

وہ اسی کی تھی یہ سوچ کر وہ پرسکون ہوگیا تھا۔

“بات سنیں زرا میری”۔

حجاب نے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“بس تم سنوتی رہو میں سنتا رہونگا” ۔۔

بشیر نے اس کے کان پر ہلکا سا کاٹا ۔۔۔۔

حجاب تو اس کی اس حرکت سے بلبلا اٹھے

آپ پہلے برش کرلیں منہ سے سمیل آ رہی ہے

بشر نے ایک جھٹکے سے ایجاد کچھ چھوڑا

نیند کا خمار بھک سے اڑ گیا

وہ آنکھیں پھاڑے

حجاب کو تھوڑا ترچھا اٹھ کے دیکھ رہا تھا

حجاب موقع کا فائدہ اٹھا کر وہ شروع جاچکی تھی

صوفیہ لڑکی سارے رومینس پہ زور زور سے ہتھوڑے برسا دیتی ہے

اللہ ابھی 16 کی ‏t20 تک کی ہونے تک مجھے شادی شدہ ہو کے بھی

ایشوز کی طرح ہی رہنا پڑے گا کیا

سمیر کے بچے تو نے میرا اتنا بڑا بھلا کیا ہے گی تو سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔

💕
💕
💕
💕

رات میں سب حمد ان کے ہاں جانے کے لئے تیار تھے جب ما ما نیں آسرا کو آواز دی ۔۔

“جی خالہ”۔۔۔

” بیٹا آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟؟؟؟

خالہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے سر میں درد ہے “۔۔۔

“ارے بچہ خیر تو میں رک جا تا ہوں”۔ ۔

“نہیں خالوآپ پریشان نہ ہو”۔۔

“آپ لوگ جائیں “۔۔

“میری فکر نہ کریں میں ابھی ٹیبلٹ کھا کے سو جاؤں گی “

“ارے سر میں درد ہے ۔۔۔

تو مجھے بولا ہو تا میڈیسن ہی دے دیتا “۔۔۔

بشڑنے پریشانی سے کہا ۔۔۔

سیڑھیوں سے آتی حجاب نے بشر کا جملہ سن لیا ،۔ ۔

“ہٹلر آپ کے منہ میں ہی نہ ثھونس دوں کافور کی گولیاں”۔۔

حجاب نے جل کر سوچ اور جلدی سے ان کے قریب جا کر بولی ۔۔۔

“آرے اسراء تو پھر تم آرام کرو “۔۔

“ہاں حجاب ٹھیک کہہ رہی ہے تم ریسٹ کرو بیٹا

اور گھبرانا نہیں گھر میں بوا ہے”۔۔

“میں اس کو کہہ دونگی تمہارا خیال رکھنے کا “

” خالہ آپ لوگ جائیں پریشان نہ ہوں”۔۔۔

یہ کہہ کر اسراء واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

Episode 12

وہ سب لوگ حمدان کے گھر پہنچ چکےتھے….

حمدان اور بی اماں نے سب کا بہت محبت سے ویلکم کیا

سب لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔۔۔

جب حمدان نے اسراء کو نہ پاکر بےقراری سے سوال کیا ۔۔۔۔

“باقی لوگ نہیں آئے؟؟؟”

“سب تو ہیں”

“بس میری کزن نہیں آسکی “۔۔

بشر بولا

“ارے تو ان کو بھی لے آتے”

حمدان نیں بشر سے کہا ۔۔۔

“بیمار ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے وہ نہیں آسکی”۔۔

بشر نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے تفصیل سے جواب دیا ۔۔

حجاب بچوں کی طرح بڑے مزے سے کبابوں کے ساتھ انصاف کر رہی تھی۔۔۔۔

، بی اماں کی نظر اس پر پڑی۔۔۔۔

بشر اور حجاب جو کہ تھری سیٹر صوفے پر دراز تھے۔۔۔۔

فاصلے سے بیٹھے ہوئے تھے بی اماں نے بیچ میں بیٹھ کر اس خالی جگہ کو پر کیا ۔۔۔

“ہائے بیٹا تم بشر کی دلہن ہو” ؟؟

حجاب اب مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ تھی۔۔

بشرکے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔

“نہیں آنٹی دولہن تو بس میں اپنی شادی پر بنی تھی” ۔

وہ بڑے مزے سے کولڈرنک اٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔

“ہے کیا؟؟”””۔۔۔

” تم اس کی دلہن نہیں ہو” ۔۔۔

بی اماں نے مٹھی میں دبا پان بھی منہ کھا۔۔۔

حجاب کی بے سروپا بات پہ بشر کا دل چاہا سامنے لگے فانوس پہ لٹک جائے یا اس کو لٹکا دے ۔۔۔

“لو بھلا مزاق نہیں کرو بیٹا مجھے پتہ ہے تم شرما رہی ہو۔”۔۔۔

“سدا سہاگن رہو، ہمیشہ پوتوں پھلوں، اللہ تمہاری گود ہری کر دے جلدی” ۔۔

بی اماں کی بات پہ نہ جانے کیوں حجاب کی پلکیں خود بخود جھکتی چلیں گئیں۔۔۔

“ویسے بیٹا تم کہیں سے بھی سہاگن نہیں لگتی”۔۔۔

” سجا سنورا کرو”۔۔

” تیار رہا کرو”۔۔۔۔

شوہر کے دفتر سے آنے سے پہلے خوب اچھی طرح سے تیار ہوا کرو”۔۔۔

“اچھے اچھے کپڑے پہنا کرو چوڑیاں پہنا کرو”۔ ۔۔

“ہمارے وقتوں میں تو ایسا ہی ہوتا تھا آجکل کی اس کلموہی نسل کو پتہ نہیں کیا ہوتا جا رہا ہے” ۔۔؟؟

بشر کی بتیسی بی اماں کی باتوں پہ پوری کھل گئی ۔۔۔

“سمجھائے سمجھائے بی اماں کافی سمجھائے اس کو، عقل دیں تھوڑی “۔۔۔۔۔

بشر منہ پہ سنجیدگی طاری کر کے بولا۔۔

“بلکہ اس کو تو دو تین دن آپ کے پاس چھوڑ دیتاہوں” ۔۔۔

وہ مزید بی اماں کے پاس کھسک کے بولا اور اپنا ایک ہاتھ انکے شانے پہ ٹکا دیا۔۔۔

حجاب کا بس نہیں چلرہا تھا کہ بشر کے منہ میں اپنا ڈھائ .گز کا دوپٹہ ٹھونس کے اس کی گھوڑے کی طرح چلتی زمان کو بند کردے۔۔۔

بشر کے دل میں لڈو تو کیا پوری حلوائی کی دکان پھوٹ پڑی تھی۔۔۔

۔ اس کا دل چاہ رہا تھا بی اماں کی خوب ساری “پپیاں “لے ڈالے۔

اور ان ساتھ اس بن بتوڑی کے سامنے بھنگڑا ڈالے ۔۔

بشر نے جان کر اپنا دھیان وہاں سے ہٹایا ورنہ اس کی ہنسی چھوٹ جاتی۔۔۔

وہ.سب کے سامنے خامخواہ ہنس کے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا تھا ۔۔۔

ادھر ادھر نظر دوڑائی ہمدان کو دیکھنے کے لئے وہ ڈرائنگ روم میں کہیں بھی نہیں تھا ۔۔۔

“”واہ بی اماں آپ ہی اس کو “ایسی ویسی” باتیں سمجھا دیں تا کہ میرا بھی زیادہ نہیں تو کچھ تو بھلا ہوسکے “”۔۔۔

وہ صوفہ پہ سر ٹکائے سوچنے لگا۔۔

“لیکن لگتا ہے میری زندگی تو اپنے بچے پالنے کے بجائے”۔۔۔

” اس ننہی دودنی کو پالتے پالتے ہی گزر جائے گی ۔۔۔

بشر ابھی بھی اپنی سوچوں میں گم تھا

💕
💕
💕
💕
💕

اسرا کمرے میں آکر پریشانی اور گھبراہٹ سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی ۔۔۔۔

“پتا نہیں اب حمدان کا کیا ری ایکشن آئے گا اور اگر بالفرض وہ مجھے کسی نہ کسی طریقے سے لے گیا تو پھر کیا حشر کرے گا میرا۔”۔۔

۔ میں نے اس کی انا کو جو چوٹ پہنچائی ہے ۔۔۔

“وہ کوئ معمولی نہیں تھی”۔۔۔

“وہ اس جیسے پست زہن وڈیرے کے دل پہ تو کسی تازیانے سے کم نہیں لگی ہو گی “۔۔۔

اس نے خوف سے کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔۔۔

لیکن یہ کیا ۔۔۔

جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولی کمرے میں گھپ اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔۔۔

اس نے لائٹ کا انتظار کیا کہ شاید ابھی جرنیٹر چل جائے گا ۔۔۔

مگر جب کافی دیر تک جنریٹر نہ چلا تو اس نے ادھر ادھر ہاتھ مار کر اندھیرے میں اپنا موبائل تلاشا مگر کوشش رائیگاں رہی۔۔۔

وہ ہلکے ہلکے راستہ ٹٹولتی ہوئی کمرے سے باہر کوریڈور میں پہنچی ۔۔۔۔

کوریڈور میں قدم رکھتے ہیں اس کو احساس ہوا کہ یہاں اندھیرے کی وجہ سے وہ شاید آگے نہ بڑھ پائے۔۔۔

اس نے گھبرا کر واپس جانے کے لئے قدم بڑھائے ہی تھے کہ کسی نے زور سے کھینچ کر اس کو دیوار سے لگایا ۔۔

ابھی وہ اس افتاد سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ۔۔۔۔

کسی نے اس کے گداز ہونٹوں پر اپنے مضبوط ہاتھ رکھ کر اس کی نکلنے والی چیخوں کا بےدردی سے گلہ گھونٹ دیا۔۔۔۔ا

آندھیرے کے باعث وہ اس ہیولے کو دیکھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔

مگر اسے اپنی گردن پر کسی کے دہکتے ہوئے ہونٹ اور گرم گرم سانسیں محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔

اسرا کا تنفس بگڑنے لگا۔۔۔۔

اس کی آنکھیں خوف کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہے گئیں۔۔

آنسوں بہے کے گالوؑ پر آ گئے تھے ۔۔۔

وہ اس وقت صحیح معنوں میں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔۔۔

جب اس کے کان میں یہ لفظ پڑھے۔۔

“کہا تھا نہ تم میری امانت ہو اور میں اپنی امانت میں خیانت برداشت نہیں کرسکتا “۔۔۔

اسراء اس آواز کو پہچان کرخوف و سراسیمگی سے بےہوش ہو چکی تھی۔۔۔

حمدان کے حصار میں قید ۔۔۔

اسی لمحے لائٹ بھی آ گئی اور کوریڈور روشن ہو گیا ۔۔۔

حمدان نے اس کو اپنی باہوں میں بھر کر روم میں جاکر اس کے بیڈ پر لٹا دیا اور پانی کا چھیٹا اس کے منہ پہ ڈال کر کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بشر حمدان کی تلاش میں لان کی طرف آیا جب حمدان سامنے سے آتا اس کو دکھائی دیا ۔۔۔

“ارے کہاں تھا تو مجھے اندر بی اماں اور حجاب کے پاس چھوڑ کر خود فرار ہو گیا” ۔۔

بشر نے اس کے سینے پر مصنوعی مکہ رسید کیا

“کہیں نہیں بس یہی گیا تھا ایک دوست آیا تھا باہر کام سے”۔۔۔

اس نے سوچا ہوا جواب دیا ۔۔۔

“اور تو اتنی ٹھنڈ میں باہر کیوں کھڑا ہے چل اندر”۔۔۔

حمدان اس کو اپنے ساتھ لیے اندر بڑھ گیا ۔۔

ڈنر بہت ہی خوشگوار فضا میں کیا گیا ۔۔

کھانا کھا کر تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اس نے الودہ لی اسکو صبح آفس کے کسی کام کے سلسلے میں دوبئ نکلنا تھا اپنے ساتھ بابا کے کہنے پہ اس بن بتوڑی کی بھی سیٹ کرالی۔ ۔۔

حجاب کو بابا پہلے ہی بتا چکے تھے۔ ۔۔

4 دن کا اسٹے تھا دونوں کا۔ ۔

اس لئے بشر پھر ان کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر جلدی الوداع لے کر چلا گیا۔ ۔

ماما بابا بھی سات ہی تھے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حجاب دعوت سے آنے کے بعد جلدی سے کمرے میں آئی۔۔۔۔

اس کے دماغ میں پھر سے شیطانی خیالات گردش کر رہے تھے ۔۔۔

“کل کی رات بہت ستایا ہے نہ مجھے”۔۔۔

“اب دیکھو آج کی رات تمہیں بھی کتنی پیاری نیند آئے گی”

۔۔۔

رات میں بشر کمرے میں آیا اس وقت وہ محترمہ بڑے مزے سے صوفے پر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔

“اوہو تو آج خود یہ بن بتوڑی صوفہ پہ سوگئی”

” واہ کیا بات ہے”۔۔۔۔

“” چلو آج رات میری” کٹ “نہیں لگے گی “”

ورنہ سوتے میں بھی لاتے مکوں سے مار مار کے میرے دل گردے ،پھیپڑے سب پھوڑ چکی ہے” ۔۔۔

وہ فریش ہو کر آیا اور لائٹ آف کر کے اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ ۔۔

ابھی اس کو بیڈ پر لیٹے ہوئے محض 10 منٹ ہی ہوئے تھے جب اس کو اپنے ہاتھ پاوُں میں عجیب سی جلن کا احساس ہوا ۔۔۔

اس نے خارش کرتے ہوئے ہاتھ بڑھا کے لیمپ کا بٹن آن کیا ۔۔۔

اور اٹھ کر اپنے بیڈ کا جائزہ لینے لگا ۔۔

بیڈ پے پڑی لال مرچ کا پاؤڈر دیکھ کے بشر کے 14 طباق روشن ہو گئے ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

“ماما میں بہت پریشان ہوں اب تو ڈاکٹر نے بھی صاف لفظوں میں بتا دیا ہے کہ کوئی بھی راستہ نہیں ہےباقی”۔۔

فرح صوفے پر بیٹھی اپنی ماں سے گویا ہوئی ۔۔۔

“میں نے تمھیں کتنا کہا تھا بعض آجاو مگر تم نہیں مانی” ۔۔

وہ ایک بہت نیچ سوچ کا مالک شخص ہے اور وہ تمہیں پنجرے میں قید کرنے کے لئے ہی تو یہ سب کچھ کر رہا ہے” ۔۔

“ماما اب میں کیا کروں مجھے نہیں پڑھنا ان سب جھمیلوں میں ابھی سے”

“بیٹا تم نے شاید سنا نہیں کہ تمھاری پریگنینسی کو ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ۔۔۔۔”

“اب تو تمہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔”۔۔۔

“جو تم چاہتی ہو وہ اب بالکل ممکن نہیں ہے، “۔۔

“اس طرح تمہاری جان بھی جا سکتی ہے “

فارح اپنا سر تھام کے بیٹھ گئی ۔۔

فرح کو منانے آیا سمیر ان دونوں کی باتیں باہر کھڑے ہوئے دروازہ کی اوٹ سے سن چکا تھا۔۔۔۔

اس کو بہت افسوس ہوا اپنی شریک حیات پر۔۔

“اسکے لئے میں نے سب کچھ چھوڑ دیا اور یہاں آیا تھا “۔۔

آج اپنے متعلق اسکو انکے جیالات جان کے جھٹکا لگا۔ ۔۔

مگر جس چیز سے وہ پریشان تھا کہ فارح کہیں اس کے بچے کو ضائع نہ کر دے ۔۔۔

وہ خوف اب ختم ہو چکا تھا۔۔۔

وہ مطمئن سا واپس مڑ گیا۔۔۔۔

“فرح اس بچے کو دنیا میں آنے کے بعد تم بھی اس کے بغیر ایک لمحہ نہیں گزار سکو گی ہم دونوں تمہیں اپنی محبت کے حصار میں قید کر لیں گے۔”

وہ مستقبل کے تانے بانے بن رہا تھا۔ ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

حمدان رات بھر ادھر سے ادھر بے چین ہوکر کروٹیں بدلتا رہا ۔۔۔

اس کو بار بار رہ رہ کر ہیر نی کی طرح سہمی ہوئی دو آنکھیں اپنی نگاہوں میں آ رہی تھی۔۔۔

_________

“میرا ہرگز بھی مطلب تم کو خوفزدہ کرنا نہیں تھا “۔۔

حمدان نے چہوتا ڈبہ کھلا تھا سگریٹ کا۔ ۔۔

وہ پچھلے 2 گھنٹے میں سگریٹ کے تین ڈبے ختم کر چکا تھا اسراء کے حجر میں۔

“مگر تم مجھے کیوں بار بار اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہوں جہاں محبت کی جگہ ضد اور انا لے لے”۔

“کیا تھا اگر تم سیدھے طریقے سے اس رشتے کو قبول کر لیتی ؟؟؟

“لیکن اسرا تمہاری ان بیوقوفیوں کے آگے میں کوئی بیوقوفی کا مستحق نہیں ہو سکتا “۔

” مجھے پیار سے کوشش کرنی ہوگی

“اس سمجھاؤں گا”۔

“اس کو اپنی محبت کا یقین دلاؤں گا”۔۔

“اور اگر وہ پھر بھی نہیں مانی تو؟ ؟؟

اس “تو” کے آگے اس کا دماغ بالکل سُن ہو گیا تھا ۔

“نہیں محبت پیار سے بھی تمہیں راہ راست پر لانے کی کوشش پوری کروں گا”۔۔

” اور اگر پھر بھی تم نہ مانیں تو پھر جو میں چاہؤنگا گا وہی ہوگا “۔۔

“شوہر ہوں تمہارا

“ہر طرح سے اپنا حق وصول کرسکتا ہوں”۔۔

اس نے سگریٹ کی ایش کو ایش ٹرے میں ڈال کر دوبارہ لبوں سے لگائ۔ ۔

“صرف حق ہی نہیں ڈیئر وائف تمہیں بھی اپنے 11 بچوں کی اماں نہ بنایا تو میرا نام بدل دینا ۔”

اپنی اس سوچ پہ اس کے لب بے ساختہ مسکرا اٹھے آنکھوں میں کئ دیئے تھے جو یک لخت روشن ہو گئے ۔۔۔

💓
💓
💓
💓

دوسرے دن ناشتے پہ سب موجود تھے۔

ماما اسراء کہاں؟ ؟؟؟

وہ کیوں نہیں ہے ناشتہ پے ؟؟؟

جب بشر نے اسراء نہ پا کے ماما سے پوچھا ۔

“بیٹا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ساری رات بخار میں دہک تے ہوئے گزاری ہے بچاری بچی نے۔ “..

“ہاں بیٹا آپ کی ماما نے بتایا تھاتب میں اس کو دیکھنے گیا تھا”…

“اس وقت بھی قدرے غنودگی میں ہی تھی “

بابا بولے ۔

بشر کرسی گھسیٹ کر اٹھا اسرا کو دیکھنے کے لئے ۔۔

“آپ ناشتہ کریں پہلے بعد میں دیکھ لیجئے گا ۔”

بشر کو ناشتہ چھوڑے اٹھتا دیکھ کر حجاب بول پڑی۔

“ہاں بیٹا ناشتہ کرلو پھر آرام سے تھوڑی دیر بیٹھ بھی جانا اس کے پاس تم ان دونوں “

ما ما کو لگا جیسے بشر کا اسراء کو لیکر پریشان ہو نا حجاب کو پسند نہیں آیا ہے ۔۔

اس لئے بات سنبھالتے ہوئے بولیں۔

“ماما اسراء اس گھر کی فرد ہے اور میری بہت اچھی کزن کے ساتھ اب دوست بھی”۔

اس نے اک اچٹتی نظر حجاب پہ ڈالی اور پھر سے گویا ہوا۔

” اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے خالی پیٹ ہے وہ رات سےاور میں اپنا پیٹ بھر لو ں”۔

بشر کو غصہ حجاب کی بات پہ تھا ۔۔۔

اور پھر ماما نے بھی اس ہی کی تائید کی ۔۔

بشر کو یہ چیز پسند نہ آئی ۔۔

بشر ایک نظر حجاب پہ ڈال کے اسراء کے روم کی طرف بڑھ چکا تھا ۔

“ارے حجاب بچے یہ بتاؤ کب تک نکل رہے ہو آج آپ دونوں؟ ؟؟

” میرے خیال سے تو ایک بجے کی ہے فلائٹ تم لوگوں کی “

بابا چائے کا کپ ہاتھ میں لئے حجاب کی طرف متوجہ ہوئے

حجاب غائب دماغی سے ہوں ہاں کرتی رہی ۔۔

وہ سب کے ساتھ ہوئے بھی وہاں نہ تھی۔ ۔

ماما کو اچھی لگی اس کی بشر کو لے کر اس “possesivenes “..

💓
💓
💓
💓
💓

بشر ا ،سراکے کمرے کا دروازہ ہلکے سے ناک کرکے اندر آیا۔ ۔۔

اسرا ابھی بھی شاید سو رہی تھی

بشر آہستہ سے کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس بیڈ کے قریب ہی بیٹھ گیا ۔۔۔

“اسراء اب طبیعت کیسی ہے “

وہ بہت آہستہ لہجے میں بولا ۔

بشر کی آواز سن کر اس نے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں

بشر نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ماتھا اور گال چھوا ۔۔

بخارا ب کم تھا مگر پورے طریقے سے اترا نہیں تھا

“کیا ہوا ہے تمھیں ؟؟؟

“ایک ہی دن میں کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ؟؟۔

اسراءبشرکا محبت بھرا لہجہ دیکھ کر مزید اپنے آنسوؤں پہ بندھ نہ باندھ سکی۔

“ارے یہ کیا تم رو کیوں رہی ہو ؟؟

“سب خیر تو ہے؟؟؟

” اگر کوئی بات ہے جو پریشان کر رہی ہے تو مجھسےشیئر کرو”۔۔

” اگر مجھے کچھ سمجھتی ہو تو”

“پلیز مگر یوں اس طرح نہ روؤ”

“چلو ایک کزن سمجھ کر نہیں تو ایک اچھا دوست سمجھ کر ہی اپنا دل ہلکا کر لو”

بشر کو لگا شاید وہ اپنی ماں کو یاد کر کے رو رہی ہے ۔۔

وہ چاہتا تھا اس کے دل کا غبار نکل جائے ایک دفعہ ہی اچھی طرح ۔

اسراء نے اس کو اپنا محسن سمجھا اور حمدان سے اپنے نکاح کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا ۔۔

“بشر میرا بچپن میں “۔

“ایک منٹ زرا رکنا “

اسراء کی بات ادھوری ہی رہ گئی تھی۔۔

جب حمدان کی اپنے موبائل پر آتی کال دیکھ کر اس نے اسراء کی بات کاٹی ۔

سلام دعا کے بعد حمدان نے اپنی بے چینی چھپاتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔۔

“اور سب خیریت ہے؟؟؟”

“ہاں یا ر شیری سب خیریت ہی ہے “

“کیا ہوا تیرا لہجہ کیوں اتنا افسردہ سا ہے ؟؟؟

اصل میں اسنے اسراءکی بے قراری میں فون کیا تھا ۔۔۔

حمدان کی مجبوری تھی اسراءکا نمبر اس کے پاس نہیں تھا ۔۔

“بس میری کزن کے پاس آیا تھا”۔۔

“اچھا اچھا وہی جو کل طبیعت خرابی کی وجہ سے نہ آسکی تھی”۔

اسراء لاتعلق سہی آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔۔

اسکو علم ہی کہا تھا کہ فون پر وہی ستمگر موجود ہے ۔۔

“اب کیسی طبیعت ہے ان کی “؟

حمدان نےاپنے لہجے میں لاپروائی سمو کر کہا۔

“اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہےابھی بھی بخار ہے میں اس کے پاس ہی بیٹھا ہوں “۔۔

‘صبح سے اس کےکمرے میں

حمد ان کی مٹھیاں غصے کی شدت سے بھینچتی جلی گیئں۔ ۔

“چیک کیا تو نے ٹیمپریچر “؟؟

اس نے غصے کی شدید اٹھتی ہوئی لہر کو دباتے ہوئے پوچھا

“ہاں ابھی گال چھو کر دیکھا تھا ہلکا ہلکا ابھی بھی ہے

“بس میں ابھی اس کو بٹھا ہی رہا تھا بیڈ پہ ناشتے کے لئے تو تیرا فون بج اٹھا “۔

بشر کی اگلی بات سن کر حمدان کی آنکھوں میں گویا خون اتر آیا تھا ۔۔

اس نے مزید کچھ بھی کہے بغیر فون بند کر دیا اور بشر ھیلوھیلو کرتا رہ گیا

اسرا چونکی جب فون ڈس کنیکٹ ہوجانے کے بعد بشر نے ہیلو حمدان کہے کہے کےفون کو گھورا ۔۔

“ھاں اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھی ؟؟

مگر اس کے لبوں پہ تالا لگ چکا تھا۔۔۔

“نہیں بس کچھ نہیں “۔۔

وہ ٹا ل گئی۔۔

“اچھا چلواٹھو میں تمہارے لئے اپنی ناشتے کی پلیٹ ہی ڈائننگ ٹیبل سے اٹھا لآیا”۔۔

” اٹھو شاباش”۔۔

وہ اس کو چھوٹے بچوں کی طرح پچکاررہا تھا ۔۔

اسراء اسکی اتنی فکر دیکھ کر خود کے لئے ۔۔۔

اس کو مناہ نہ کرسکی ۔۔

نقاہت سے اٹھنے لگیں جب بشر نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا ۔۔

وہ بشر کے ہاتھ کے گھیرے میں تھی ۔۔۔

جب حجاب اچانک کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھول کر آگئی ۔۔

بشر اسرآء کو بٹھا چکا تھااور حجاب کو مکمل طور پر اگنور کررہا تھا ۔۔

وہ ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر اندر تک سلگ گئ۔ ۔

حجاب اوپری دل سے بشر کے سامنے اس کی طبیعت پوچھ کر چلی گئی کمرے سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *