Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 14)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

اسراء کو کیا پتا تھا کہ رات میں اس پے یہ فتاد ٹوٹ پڑے گی ۔۔۔

وہ صرف رات میں اس طرح کی کپڑے پہنتی تھی ۔۔

حمدان اس کی بوکھلاہٹ اور شرم سے اٹھتی جھکتی پلکوں کے حسین منظر کو معبہوت سا دیکھتا رہ گیا ۔۔

“پلیز میرے قریب مت آنا “۔۔۔

اسراءے ایک قدم پیچھے ہوئی تھی ۔۔

_”‘کیوں میرا قریب آنا میرا چھونا تمہیں بہت تکلیف دیتا ہے ‘”؟؟؟؟

حمد ان کو دوبارہ اس کا بشر سے اتنا قریب ہونا یاد آ گیا ۔۔۔

“مم ۔۔۔میں کب بشر کے قریب ہوئی “؟؟

اسراءلڑکھڑاتی آواز میں بولی ۔۔۔

اس کے دل میں حمدان کی وحشت و دہشت پورے طریقے سے اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔۔۔

وہ نازک سی لڑکی کو بخار کی زیار تی سے پہلے ہی آدھی ہوئی وھی تھی۔۔۔

حمدان کے سامنے تو بالکل نازک سی بے ہمت کانچ کی گڑیا ہی تھی ۔۔۔

حمدان نے اس کا بازو کھینچ کر اس کوخود سے قریب کیا ۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے ہی اس کے سینے میں چھپ سی گئی ۔۔

“پلیز مجھے چھوڑ دیں “۔۔۔

اسراء مزاحمت کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے بولی۔۔

حمدان اس پر مزید جھکا اور اس کے کان کے قریب جا کر بولا ۔۔

“یہ تمہاری بھول ہے کہ اب تم مجھ سے بھاگ سکوں گی “۔۔

وہ حمدان کی بانہوں کے حصار میں قید بری طرح کانپ اور سسک رہی تھی ۔۔۔

حمدان اس کے بخار سے تپتے وجود کو اپنی بانہوں میں بھر کر بیڈ پہ لایا اور کسی نازک سی گڑیا کی طرح بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔

اور دوسری طرف خود آ کر بیٹھا ۔۔۔

اس کو اپنے برابر میں بیٹھتے دیکھ ا سرا گھبرا کروہاں سے اٹھنے لگی۔۔۔

“خاموشی سے ادھر بیٹھی رہو ‘۔۔ ۔

“شوہر ہوں تمہارا کوئی شکاری نہیں جو تمہیں نگل جاؤں گا “۔۔

اسراء اس کی بات سن کر مزید خوفزدہ ہو گئی ۔۔۔۔۔

اور اس نے بیڈ پہ پڑھا کمفرٹر اپنے وجود پر پھیلا لیا ۔۔۔

حمدان کو اس کی اس ادا نے بہت ٹریکٹ کیا ۔۔۔

“میں ابھی آ رہا ہوں اور خبردار اگر تم یہاں سے ہلیں بھی تو یاد رکھنا “۔۔۔

“آئی تم یہاں اپنی مرضی سے ہو مگر اب جانا تو دور کی بات حرکت بھی تم میری مرضی سے کروں گی”۔۔۔۔۔

حمدان تھوڑا جھک کر اس کی چٹیہ کے بل کھولتے ہوئے بولا ۔۔

اسراء نے اپنی مٹھیوں میں کمفرٹر کو سختی سے دبوچ لیا ۔۔۔

اور آنکھیں میچ لی ۔۔

حمدان اس کو گہری نظر وں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

“اور اگر تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کی تو یاد رکھنا رحم تو دور کی بات میں وہ کر سکتا ہوں جو تمہارے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہو گا “۔۔

وہ سختی سے وارننگ دیتا باہر نکل گیا ۔۔۔

اسراء کا پورا جسم خوف کی شدت سے کانپ رہا تھا

حمدان جب کمرے میں واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس اور میڈیسن تھی ۔۔۔۔

وہ آسرا کے قریب آیا اور اس کو

سہارا دے کر بٹھانے کے بعد اپنے ہاتھ سے دودھ کے ساتھ میڈیسن دی ۔۔۔

اسراء بغیر کوئی چون چرا کئے ایک لمحے میں ہی گڈ سےاتار گئی ۔۔۔

“اے میرےرب مجھ پر رحم کر یہ شخص مجھے نہیں بخشنے والا یہ مجھے بہت مارے گا پیٹے گا”۔۔۔

دودھ کا خالی گلاس حمدان نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔

وارڈروب کھول کر نائٹ ڈریس نکال کر شرٹ وہیں بیڈ پہ پھیکی اور باتھ روم میں گھس گیا ۔۔۔

فریش ہو کر وہ بغیر شرٹ کے باہر نکلا واش روم سے۔۔۔

اسراء کی اٹھی پلکیں واپس جھک گئی اور وہ اپنے پاؤںسکیڑ کر خوفزدہ سی بیڈ کے سرہانے سے جا لگی

جب حمدان آگے بڑھا اور ایک نظر ۔۔

سراسیما سی اپنی بیوی پر ڈالی۔۔۔

حمدان کے لبوں پے بڑی دلفریب مسکراہٹ ابھری تھی۔ ۔

وہ اسرا کی دوسری طرف آکر لیٹا اور ایک ہاتھ سے اس کو کھینچ کر اپنے بازوؤں پر لٹا لیا ۔۔۔

اسراء نے تھوڑا کھسکنے کی کوشش کی جب حمدان نے کہا ۔۔

“میں بہت تھکا ہوا ہوں اور اب کسی بھی قسم کی فضول حرکت کی تو پھر تم سمجھدار ہو کہ اس وقت کیا ۔۔۔۔۔کیا نہیں ہوسکتا “۔۔۔

“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے خاموشی سے سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو “۔۔۔

حمدان نے اس کی طرف کروٹ کی اور اپنے دوسرے ہاتھ سے آہستہ آہستہ اس کے بال سہلاتا رہا آسرا سکون کی دوائی کی وجہ سے فوری نیند کی وادی میں اتر گئی ۔۔۔۔

جبکہ حمدان ابھی بھی یقین کرنا چاہ رہا تھا

کہ واقعی اس کی محبت۔۔

اس کی تلاش۔۔۔

اس کے اتنے قریب اس کی دسترس میں ہے ۔۔۔

💕
💕
💕
💕

فرح کی طبیعت دن بدن گرتی جا رہی تھی مگر ڈاکٹر کے مطابق کوئی ایسے خطرے کی بات نہیں تھی کچھ وومنز کے ساتھ ایسے معاملات ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔

سمیر نے اس دوران اس کا بہت اچھی طرح ہر طریقے سے خیال رکھا تھا ۔۔۔

وہ سمیر کی اتنی کیئر دیکھ کے لڑنے جھگڑنے سے باز آ چکی تھی۔۔۔

بس اب وہ دن گن رہی تھی اس کی پریگنینسی کا تھرڑ ٹرائمنسٹر ختم ہونے میں دو چار دن ہی بچے تھے۔۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓

حجاب نے شاور لینے کے بعد و اش روم کا دروازہ

تھوڑا سہ کھول کر ہاتھ بڑھایا کپڑے لینے کو ۔۔۔

“کپڑے کہاں ہیں یہی تو لٹکائے تھے ؟؟؟؟؟”۔۔۔

حجاب اندر سے چیخی۔۔

“لگتا ہے کسی کو میری ضرورت ہے”۔۔

بشر نے ٹی وی کا والیوم مزید تیز کرکے وہیں سے لیٹے لیٹے ہانک لگائی ۔۔۔

“کپڑے کہاں ہیں میرے ہٹلر “۔۔۔

وہ غصے سے داڑھی ۔۔

حجاب نے ہمت کرکے واش روم کے دروازے سے سر تھوڑا سا باہر نکالا ۔۔

بشر نے اس کو جھانکتا دیکھ کے پوری بتیسی کی نمائش کرھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“کیا کہہ رہی ہوں آواز نہیں آ رہی “؟؟؟؟!۔

ل”گتا ہے تم نے مجھ سے کل رات کا بدلہ لیا ہے “۔۔۔ وہ بولی۔ ۔

“کیوں کیا کیا تھا کل رات تم نے بن بتوڑی؟؟؟؟”۔۔

“کچھ کیا تھا کیا ؟؟؟؟؟”

“دیکھیں پلیز کسی اور طریقے سے اپنا بدلہ پورا کرلے گا ابھی پلیز کپڑے دے دیں” ۔۔۔

حجاب اب التجا ئیہ آواز میں بولی ۔۔۔

“کپڑے چاہئے ہیں نہ آوآکر لے لو یہ رہے “۔۔

بشر نے بیڈ پہ رکھے کپڑوں کو ہاتھ میں اٹھا کر کہا

حجاب کو آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوگیا تھا کھڑے کھڑے ۔۔۔۔

“آپ کو احساس ہونا چاہیے میں اتنی دیر سے باتھ روم میں کھڑی ہوں اور آپ ہیں کہ اپنی مستیوں میں لگے ہیں “۔۔۔

ویسے مستیاں تو ابھی شروع ہی کہاں کی ہیں میں نے؟ ؟؟؟

وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔ ۔۔

“تھوڑا تو احساس کریں”۔۔۔

وو رودینے ہوئی ۔۔

“اچھا اچھا احساس”۔۔۔

” تم نے احساس کیا تھا رات میں میرے بستر پے لال مرچ جھڑکتے ہوئے “۔۔۔

“میں نے تو کوئی لال مرچیں نہیں چھڑکیں _””

وہ مکر گئی۔۔۔

“اچھا تمہارے فرشتے آئے تھے مجھے مجھے لگانے کے لئے خاص طور پر “۔۔۔

“پتا بھی ہے کچھ کہا کہا مجھے تمہاری لگائی ہوئی مرچوں سے جلن نہیں ہوئی”؟؟؟۔۔

بشر کو پھر سے اپنے ساتھ ہوئی واردات یاد آگئی ۔۔۔۔۔۔۔

“اچھا سوری پلیز ابہی تو دے دیں “۔۔۔

“ایک دفعہ کپڑے مل جائیں پھر دیکھنا کل تو صرف مرچی ہی لگائی تھی نہ اب دیکھنادہکتے ہوئے کوئلے سے تمہاری مرمت کروگی”۔۔۔۔

۔۔

“باہر تو نکلنے دو ذرا مجھے”۔۔۔

وہ خود سے بولی۔ ۔

“کیا کہا آواز نہیں آئی “۔۔۔؟؟؟

“کہانہ سوری “۔۔۔

“لگتا ہے میرے کان میں کچھ چلا گیا ہے آواز کی نہیں آ رہی “۔۔۔

“آواز نہیں آرہی تو پلنجر دوں کیا؟؟؟؟؟

” اس سے کان کے پردے بھی کھل جائیں گے “۔۔۔

ایک گھنٹے سے کھڑے کھڑے حجاب کے پیر شل ہو رہے تھے ۔۔۔

دماغ اس کا پھر سے گھومنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔

“بن بتوڑی یار میرے پیروں میں بہت درد ہے ایک کام کرو آکر لے لو مجھ سے تو اٹھا ہی نہیں جا رہا “”””۔۔۔۔۔

بشر نے اپنے پیروں کو زور زور سے دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے نہیں چاہیے مجھے اپنے کپڑے”۔۔۔۔

“ہیں تو کیا میں آنکھیں بند کرلو ں؟؟”۔۔

“نہیں میں ان کو ٹوتھ برش سے پھوڑ دونگی پھر نہ رہیں گی آنکھیں نہ کرنا پڑے گی بند”۔۔۔

“بتاؤ نہ میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں تمھیں بہار آنا ہے کیا؟ ؟؟

“کب تک یوں اس طرح شرما تی رہو گی میں اٹھ نہیں سکتا تو کیا ہوا آنکھیں تو بند کر ہی سکتا ہونا”۔۔۔۔

بشر نے اپنا ہاتھ آنکھوں پہ رکھ رکھ کر کہا اوردو انگلیوں کو تھوڑا سا چاک کرکے حجاب کو دیکھا ۔۔۔۔

“اب اتنا بھی بے شرم نہیں ہوں “۔۔۔

وہ معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑ کر بلا ۔۔

“نہیں چاہیے مجھے کپڑے “۔۔۔

وہ یہ کہہ کر دروازہ اندر سے لاک کر کے وہیں کھڑی ہو گئی ۔۔۔

بشر نے گھڑی کی طرف دیکھا جو 6:30 بجا رہی تھی۔ ۔۔

بشر کو ترس آیا اس پہ مگر پھر دوبارہ اپنے ساتھ کئے ہوئے اس کےتمام” مظالم” یاد آگئے ۔

حجاب کو اندر کھڑے کھڑے تین گھنٹے ہو چکے تھے اس کے پاؤں کی درد کی وجہ سے جان نکل چکی تھی ۔۔

پیر تھے کہ سن ہو رہے تھے۔۔

“میں نے سوچا تھا یہاں ہم ہنی مون منائیں گے

اب دیکھو تمہیں ہی مون پہ پہنچا ہوں گی “۔۔۔۔۔

بشر کے لئے اس کے بدلتے احساسات

اریج کے عقل دینے سے کچھ ٹھکانے پر آئے تھے واپس دماغ کے زنگ لگے پورشن میں قید ہو گئے تھے ۔۔۔

بشر کے کلائنٹ کا فون آگیا تھا ۔۔

“زندہ ہوں یا مر گئی ہو “؟؟؟؟۔

“کہو تو بریانی کا بندوبست کرہی دوں”۔۔۔

بشر نے باہر سے ہانک لگائی ۔۔

“جاو جاؤ بریانی کے ساتھ ساتھ قورمے کی بھی تیاری کرو ورنہ لوگ کہیں گے شوہر کے لیے یہ بھی نہ کر سکیی”۔۔۔

“اچھا میں جا رہا ہوں میرا کلائنٹ آچکا ہے “۔۔۔

“کپڑے ہولڈر پر واپس لٹکا دیے ہیں “۔۔

“خود پہن کے چلے جاؤ “۔۔

وہ جل کر بولی ۔۔

“خیر مجھے دیر ہو رہی ہے مگر یاد رکھنا بدلہ ابھی پورا نہیں ہوا ہے رات کو نمٹونگاب پورا پورا ۔۔۔

وہ شوخی سے کہتا روم سے باہر نکل گیا

“بےھودہ انسان نہ ہو تو “۔۔۔

💓
💓
💓
💓
💓

صبح جب اسراء کی آنکھ کھلی تو خود کو کل رات پہلے کمرے میں نہیں پاتی ۔۔۔۔

“یہ کمرہ وہ تو نہیں ہے جہاں رات میں رکی تھی “۔۔۔۔

وہ حیرت سے پورے کمرے کا جائزہ لیتی ہے مگر زیادہ دیر سر کو گھماں نہیں پاتی اس کو ہلکے ہلکے کمزوری کی وجہ سے چکر آنے لگتے ہیں وہ اپنا سر تھام کے بیٹھ جاتی ہے۔۔۔

رات کی پوری فلم اسکے دماغ پے چل پڑھتی ہے

حمدان کا کمرے مے آنا ۔۔

اس کو خوف زدہ کرنا ۔۔۔

دوآ دیکر خود کے ہاتھ پے سلانا۔۔۔

اسکو لگا جیسے رات اسنے کوئی بھیانک خواب دیکھا ہو ۔۔

دروازے پے ہوتی دستک سن کر وہ خوف سے دروازے کی طرف دیکھتی ہے ۔۔

بخار، کمزوری، ڈر اور پریشانی کی زیادتی سے وہ اپنے حواس کھو بیٹھتی ہے ۔۔۔

________

کمرے میں آنے والی کام والی تھی

جب تین سے چار دفعہ دستک دینے کے باوجود بھی اندر سے دروازہ نہ کھلا اور کوئی آواز نہ آئی تو وہ ناشتے کی ٹیبل پہ حمدان کے ساتھ بیٹھی بھی اماں کے پاس آکر بولی ۔۔۔

بی بی جی ام نے بہت دفعہ بچایا مگر کسی نے دروازہ کھولا تو ہم واپس آگیا ۔۔

ارےکہی بچے کی طبیعت زیادہ تو نہیں خراب ہو گئی ۔

حمدان کا منہ میں رکھآنوالا حلق سے نیچے نہیں اتر رہاتھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اس کا کے پاس پہنچ جائے

ہے بھی تو بالکل دھان پان سی آج کل کی لڑکیوں کو ایک بتاو زرا ۔۔

نہ جانے کیا ڈائٹنگ کی پڑی رہتی ہے ۔۔

بی اماں اسرہ کے لیے فکرمندی سے بولیںں

اے دا نیترا دیکھ کر آپ بچی کو میں تو سیڑھیاں چڑھ ہی نہیں سکتی ہیں یہ جوڑوں کا درد

وہ بے بسی سے بولیں

بی اماں جی بہتر

حمد آن ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کرسی گھسیٹ کر کھڑا ہوا ۔۔۔

بغیر دروازے پہ دستک دیے وہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر گیا

اس کی کلائی کی نبض چیک کی ماتھے اور گردن کو چھو کر دیکھنے کے بعد اس کو اپنے بازوؤں میں بھرکرنیچے بھاگا

ارے دانی کیا ہوا کیوں اتنا بوکھلایا ہوا ہے ۔۔

وہ اپنی ویلفیئر گھسیٹتی ہوئی جلدی جلدی آئی ۔۔

اما اسکی نفس بہت ہلکی چل رہی ہے اور جسم خطرناک حد تک ٹھنڈا ہو چکا ہے

میں اس کو لے کے فورا ہوسپٹل جا رہا ہوں

جا پتر جلدی جا میری تو بچی کی اس حالت پر جان ہی نکلی جا رہی ہے نہ جانے کیا ہو گیا ہے اس عمر کی لڑکیا تو بالکل گلاب کی طرح کھلی پڑتی ہیں نہ جانے اس بچی کو کیا ہو کر رہ گیا ہے بالکل سرسوں کی طرح پیلی پڑ رہی ہے۔۔

اما ں آپ پریشان نہ ہوں میں بس لے کر جارہا ہوں یہ کہتا ہوا وہ گاڑی کی طرف بڑھا اور آسرا کو فرنٹ سیٹ پر بٹھانے کے بعد وہ ریش قسم کی ڈرائیونگ کرتا ہاسپٹل پہنچا ۔۔

ڈاکٹر صاحب کیا ہوا ہے ان کو

ڈاکٹر نے ایک نظر ہمدان پہ ڈالی اور گویا ہوا

آپ ان کے کون ہیں

حمدان لمحہ پر بعد بولا شوہر ہو ۔

آپ کی وائف انتہائی کسی پریشانی میں مبتلا ہے کوئی بھی ایسی وجوہات جو ان کو پریشان کر رہی ہے اس سے دور رکھیں ان کو اور اگر اسی طرح یہ پریشان رہیں تو ان کا نر وس بریک ڈاؤن بھی ہو سکتا ہے

جی میں پوری کوشش کروں گا کے کسی بھی بات کو لے کر ڈپریس نہ ہو

ابھی میں نے ان کو سکون کا انجکشن دیا ہے آپ ان کو گھر لے جائیں اور کوشش کریں دویٰ دینے سے پہلے کچھ کھلا ضرور دیں

حمدان مصافحہ کرکے اسراکو لیے باہر آ گیا

گھر پہنچنے کے بعد آسرا کو بی اماں نے زبردستی کھانا کھلایا ۔۔

اماں بی نے کام والی کو بلا کر کہا آسرا کو اس کے کمرے میں لے جاؤ

اماں بی میں نے نہیں جانا میں آپ کے پاس ہی رہوں گی

اسراء نے خوفزدہ نظر حمران پہ ڈال کر ا ماں سے کہا ۔۔

حمدان اسکی بچوں جیسی خواہش کے بے ساختہ مسکرا دیا

💓
💓
💓
💓
💓

بہت بہت مبارک ہو آپ کو نرس نے سمیر کے پاس آکر نازک سی گڑیا تھامآتے ہوئے کہا ۔۔

سمیر کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔

میری ننھی پری تم جانتی ہو تمہیں چھو لینے کا احساس میرے لیے دنیا کا سب سے حسین اور اچھوتا احساس ہے آج مجھے لگ رہا ہے جیسے میں مکمل ہو گیا ہوں دنیا کی سب سے قیمتی شہ قدرت کا سب سے انمول تحفہ بنکر مجھے مل گئی ہو ۔۔۔

وہ اپنی بیٹی کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بولا ۔۔

سمیر کو اللہ نے بیٹی جیسی رحمت سے نوازا تھا ۔۔۔۔۔۔

فرح کا صبح بی پی ہائی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر ز کو پری میچور ڈیلیوری کرنا پڑیں ۔۔۔

ڈاکٹرز کے مطابق بچی کی ہارٹ بیٹ سلو ہونا شروع ہو گئی تھی ۔۔

فرح کا حبیبی انتہائی خطرناک حد تک شروع کرچکا تھا ۔۔

سامنے سے آتی فرح کی موم کو دیکھ کر سمیر ان کی طرف خوشی سے بڑھا گویا آکسی سپنے کی کمی وہ پوری کرنا چاہ رہا ہوں ان کی شکل میں ۔۔۔

اس کو آج حجاب بہت یاد آ رہی تھی وہ بار بار سوچ رہا تھا کہ ابھی اگر یہاں حجاب ہوتی تو وہ اسکو چھونے بھی نہیں دیتی وہ دیوانی تھی بچوں کے لئے اور پھر اپنی بھتیجی کو دیکھ کر تو وہ پھولے نہ سماتی۔ ۔

مگر بس وی سوچ کے رہ گیا ۔۔۔

عدل نہ جانے کیوں اس کا اندر سے افسردہ سا ہو رہا تھا ۔۔

بہت مبارک ہو آپ کو معصوم سی گل گو تھنی ان کو دیتے ہوئے بولا۔۔

سمیر کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے اس معصوم کو اپنی گود میں لینا تو دور کی بات دیکھنا تک گوارا نہ کیا ۔۔

تمہیں مبارک ہوں میں تو تب خوش ہوتی جو اگر میری بیٹی بھی خوش ہوتی ۔۔۔

وہ سرد مہری سے کہتیں فرح کے روم کی طرف بڑھ گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *