Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 24)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 24)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
جب ایک دم حجاب کو ہوش آیا اور وہ آسرا کے پاس جا کر اس کے سینے سے جا لگی ۔۔۔
اسراءپلیز مجھے معاف کر دو مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے میں نے تمہارے پاک دامن پر ۔۔۔
وہ بلاگ لکھ کر اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی ااسرا بھی اس کے اسطرح بکھرنے پر ششدر سی رہ گئی۔۔
اسراء میں معافی کے قابل تو نہیں ہوں مگر پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔
حمدان بشر کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
بشر لاتعلق سا ہوا وا تھا حجاب سے ۔۔
بشر حجاب بھابھی کا دل بالکل کورے کاغذ کی طرح ہے صاف شفاف۔۔
ان کو جیسے ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر سب کے سامنے معافی مانگی۔ ۔
جس طرح سب کے سامنے تم سے سوال کیا تھا اسی طرح سب کے سامنے ہی معافی کی بھی طلب گار ہیں ۔۔
وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے ہیں جو غلطی کرکے اس سے سبق لے کر اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔۔
معافی مانگنا اور اپنا گناہ تسلیم کرنا بہت دل گردے کا کام ہوتا ہے ورنہ وہ چاہتیں تو اکیلے کمرے میں بھی اسراء سے معافی مانگ لیتی۔۔
یا نہیں بھی مانگتی اور یہ کہہ دیتی کہ جس طرح کےحالات تھے تو وہ یہی اخذ کرسکیں ۔۔۔
اور یہ ان کا ری ایکشن اس بات کا گواہ ہے کہ وہ تمہیں ٹوٹ کے چاہتی ہیں ۔
میں جانتا ہوں ۔۔۔
بشر اس کی پوری بات سن کر بس اتنا ہی کہہ سکا اور اسراہ کے پاس گلے شکوے دور کرتی حجاب کو الگ کرتے ہوئے اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے اسراء سے کہنے لگا کہ ۔۔۔
کیا تم میری چھوٹی سی معصوم سی بیوی کو معاف کر سکتی ہو یہ لڑکی عقل سے پیدل ہے بالکل ہی ۔۔۔
مگر یار جیسی بھی ہے اب تو تمہاری بھابھی ہے نا ؟؟؟
وہ ماحول میں تاری غمگین فضا کو تھوڑا ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا ۔۔
جب کہ حجاب حیران تھی بشر کے رویے پر اس کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا وہ تو یہ سمجھ رہی تھی کہ بشر اب اسکو بخشے گا نہیں ۔۔
مگر حجاب کو آج صحیح معنوں میں پتہ چلا تھا کہ ایک بہترین مرد وہی ہے جو عورت کی عزت کرے نہ کے اس پہ ہاتھ اٹھائے یا پھر بھری محفل میں اس کی بےعزتی کرے۔۔۔
ایک عظیم مرد وہی ہے جو وقت پڑنے پر جب عورت کو اس کی ضرورت ہو اور عورت حق پے ہو ۔۔
تب وہ اس کی ڈھال بن کے کھڑا ہوجائے ایسے کہ کوئی اس کی طرف نظر تو کیا بڑ بھی نہ سکے ۔۔۔۔
بلکہ اس کا غصہ اور ناراضگی اب ساری زندگی اس کے حصے میں آ ئے گی ۔۔۔
میں بشر تمہارے کہنے کے باوجود بھی اس کو معاف نہیں کروں گی اور تمہیں بھی ۔۔
تم نے اتنی بڑی بات جانتے پوچھتے بھی مجھ سے چھپائی ۔۔
وہ خفا خفا سی بشر سے گویا ہوئی ۔۔
ماما بہت خاموشی سے سب کو سن رہی تھی ان کا ذہن کچھ اور ہی لائحہ عمل تیار کرچکا تھا ۔۔
مگر آسرا ۔۔۔
حمدان نے کہا ۔۔
بشرا سرا کا جواب سن کر مایوسی سے خاموش ہو گیا جبکہ حجاب مزید زار و قطار رو پڑیں ۔۔
ٹھیک ہے میں تم دونوں کو معاف کرتی ہوں مگر میری ایک شرط ہے ۔۔
وہ بشر اور حجاب کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی اس کے پاس اب یہی تو کچھ رشتے باقی رہ گئے تھے اور وہ ان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
مخلص لوگ بہت کم ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے ۔۔۔
کیا پلیز تم جو کہو گی میں کروں گی لیکن تم ایک دفعہ بس مجھے معاف کردو اور اپنا دل میری طرف سے صاف کرو پلیز صرف ایک دفع ۔۔۔
ٹھیک ہے میں نے تمہیں معاف کیا لیکن ۔۔۔
پوری طرح معافی اسی وقت ملے گی جب تم دونوں مجھے پھپو کے رتبے پر فائز کر دو گے ۔۔
اسراء کی بات پر بشر اور ہمدان نے بے ساختہ کہہ کا لگایا جبکہ حجاب حیاءسے لال ٹماٹر ہوکر بشر کے پیچھے جاچھپی ۔۔۔
چلیں اسراہ۔۔
وہ اسراہ کے قریب آ کر بولا ۔۔
خالہ ۔۔۔
وہ دو زانو ں سختی سے مٹھیاں بھیچیں خالہ کے پاس بیٹھ گئی ۔۔
آپ کو سب کچھ سچ بتانے ہی والی تھی مگر ۔۔
مگر کیا کیوں چھپایا سب تم نے ۔۔؟؟؟
ان کا لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا ۔۔
چہرے پر غم و غصے کے واضع تاثرات تھے ۔۔
اسراء ان کو چند ہی منٹوں میں شروع سے لے کر آخر تک کی تمام روداد سنا گئی ۔۔
انہوں نے بڑے تحمل سے اس کی بات سنی اور پھر جب وہ بولی تو سب کو سانپ سونگھ گیا ۔۔
میں تمہیں اس کو لیجانے نہیں دو نگی جو کچھ بھی میری بہن کے ساتھ ہوا اسکے بعد میں اپنی بہن کی آخری نشانی کو جان بوجھ کر اندھی کھائی میں ہرگز بھی تھکی ل نہیں سکتی ۔۔
مگر خالہ ۔۔
تم خاموش رہو ۔۔
جو تم لوگوں نے کرنا تھا وہ تم لوگ کر چکے ۔۔
مزید کوئی حماقت میں تمہیں اب نہیں کرنے دوں گی آسرا ۔۔
حمدان ٹھیک ہے یہ تمہاری بیوی ہے اپنے سب بڑوں کو دادی سمیت لے کر آؤ اور نکاح نامہ یا پھر گواہ ساتھ لاؤ اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو میں پھر دوبارہ سے تم دونوں کا نکاح کروائونگی ۔۔
وہ بھی اس صورت میں جب تمہاری دادی اس نے کام شریک ہوگی ۔۔
اپنے گھر والوں کو لاؤ طریقے سے ساری دنیا کے سامنے اس کو رخصت کروا کے لے کر جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔
وہ سختی سے گویا ہوئیں ۔۔
اور ان سب کے لئے تمہارے ساتھ صرف پندرہ دن کا ٹائم ہے اور اگر ان پندرہ دنوں میں تم یہ سب نہیں کرسکے تو پھر تم اس طرح کے ساتھ اپنے اس بچے کو بھی بھول جانا میں اس کا عبورٹ کروا دوں۔۔۔
گی ۔۔۔
ان کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔۔
مگرماما یہ کیسے ممکن ہے ۔۔
بشر نے مداخلت کی ۔۔
وہ اس کی بیوی ہے ہم نہیں روک سکتے اس کو ۔۔
تمہارے پاس ثبوت ہے کہ یہ حملہ ان کی بیوی ہے لاؤ مجھے دکھاؤ میں ابھی اور اسی وقت اس کو عزت سے رخصت کردیتی ہوں اور اپنی بہن کے آگے سرخرو ہو جاتی ہوں ۔۔
جب کہ عصر اور ہمدان بے بسی سے خالہ کو دیکھ رہے تھے ہمدان کی آنکھیں اسے کی زیادتی سے صرف ہو رہی تھی اس کو اسراء کی اوپر شدید غصہ آ رہا تھا یہ تمام تر حالات صرف اس کی بیوقوفیوں سے ہی پیدا ہوئے تھے ۔۔
جن کا سامنا آج ان دونوں کو ہی کرنا پڑا تھا ۔۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ خالہ کی بات اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے ۔۔
بغیر کسی ثبوت کے اسراف و نہیں لے جاسکتا ۔۔
وہ خاموشی سے ہال کمرے کا دروازہ عبور کرکے جانے والا تھا جب ماما کی نے مزید کہا ۔۔۔
اور یاد رکھنا جب تک تمہاری دادی خوشی سے اس راگ کو رخصت کرانے نہیں آۓ گی میں اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گی ۔۔۔۔
ان کے رویے میں چٹانوں کی سی سختی اور چکی تھی ۔۔۔
__________
عریج سب لوگوں کے جانے کے بعد آرزو کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جا رہی تھی ۔۔۔
روکو اریج ۔۔
وہ ذرا سی مڑی اور حیران سی سمیر کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
لاؤ اس کو مجھے دے دو ۔۔
سمیر کی آواز پر وہ ٹھٹک سی گئی ۔۔
آرزو کو اٹھانے کے لئے اس کے بڑھے ہاتھ و ہیں تھم گئے ۔۔
مگر یہ تو کل بھی میرے ساتھ ہی سوئی تھی ۔۔
آپ پریشان نہ ہوں میرے پاس بہت سکون سے آرام سے رہتی ہے ۔۔۔
اس کو لگا شاید وہ اس کی پریشانی کی وجہ سے کہہ رہا ہے ۔۔
یہ میری بیٹی ہے میں اس کو بہت اچھے سے خیال رکھتا ہو تو اس کی ماں نہیں ہوں جو ۔۔۔
وہ سفاکی سے گویا ہوا ۔۔
مگر چا ۔۔۔۔
وہ چاچو بولنے والی تھی مگر پھر اپنی زبان کو دانتوں تلے دباہ کر خاموش ہو گئی ۔۔۔
میں اپنی بیٹی کو تمہارا عادی نہیں بنانا چاہتا ہوں۔۔
وہ پہلےہی اپنی ماں کے لمس کو ترسی ہوئی ہے۔۔
میں اس کو ایک دفعہ پھر سے اس قرب سے نہیں گزار سکتا ۔۔
۔
سمیر کے خود کے لہجے میں کئ کرب پنہاں تھے ۔
۔
اریج کو لگا جیسے اس کو کسی نے بری طرح اسے دھتکار کے رکھ دیا ہو ۔۔
وہ کل سے آرزو کے ساتھ تھی اس کو ایک دفعہ بھی اس معصوم سے الجھن یہ بیزاری محسوس نہیں ہوئی تھی بلکہ سمیر سے نکاح کے بعد تو آرزو کے لئے اس کے جذبات بہت نئے اور انوکھے سے ہو گئے تھے ۔۔
اس کو وہ ننھی سی گلگوتھنی اپنے وجود کا ہی حصہ لگنے لگی تھی ۔۔
وہ کل سے آرزو کو خود میں سمیٹے اپنے تمام دکھ اور تکلیف بھول چکی تھی ۔۔
اس بات کو بالکل ہی فرا موش کر بیٹھی تھی کہ یہ نکاح محض مجبوری کا سودا ہے اس نکاح کا موئی مقام یا کوئی منزل نہیں ہے ۔۔۔
اس رشتے کو ایک نہ ایک دن ختم ہو جانا ہے ۔۔۔
سمیر نے اس کو بہت گہری نیند سے گویا جھنجوڑ کر اٹھا دیا تھا اور ایک ہی لمحے میں اس کو اس کی اوقات بہت اچھے سے یاد کرا دی تھی ۔
۔
وہ تنہا سی سمیر کو اور آرزو کو لےجاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔
اتنے دنوں سے رورو کر اب تو اس کے آنسو بھی خشک ہو چکے تھے ۔۔۔

مجھے اریج کے ٹھکانے کا پتہ چل چکا ہے ۔۔
وہ دلآویز سے بولا ۔۔
پتہ چل گیا تو اٹھایا کیوں نہیں اس کو ابھی تک ؟؟
اس کے باپ کے پہنچنے سے پہلے اس تک پہنچ جائو۔ ۔
اگر وہ حیدر کو پہلے مل گئی تو سمجھ لو پھر کچھ بھی ہاتھ نہیں آسکے گا بلکہ ہم دونوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے چکی پیس رہے ہوں گے ۔۔
دلاویز کے لہجے میں لالچ اور خباثت بول رہی تھی ۔۔
کرے تو کیوں پریشان ہو رہی ہے میں ہوں نہ ؟؟؟
جب اس چڑیاں کا پتہ کرلیا ہے تو بہت جلد وہ تیرے قدموں میں ہو گی ۔۔۔
حیدر کی غیرت اسو منہوس کے بھاگنے کے بعد سے جاگ چکی ہے میرے لاکھ ورغلانے کے باوجود بھی وہ اپنی بیٹی کے غم میں گھلا جا رہا ہے ۔۔
چاروں طرف اس نے اپنے جان پہچان اثر و رسوخ رکھنے والے پولیس آفیسرز اریج کی کھوج میں لگا دیے ہیں ۔۔
ارے میری جان من تو کیوں پروا کرتی ہے تیرا یہ عاشق ابھی زندہ ہے وہ دلعویز کو خود پر گراتے ہوئے بولا ۔۔
چپ کر جا آہستہ بول یہاں پر کسی کو بھی پتہ چل گیا کہ تو میرا یار ہے بھائی نہیں تو تیرے ساتھ ساتھ میری بھی خیر نہیں ۔۔
تو میری جان کی ٹوٹی توکیو ں دیر کر رہی ہے جلدازجلد مال سمیٹ اور نکل ۔۔۔؟؟
میں تو خود بھی یہی چاہتی ہوں مگر بڈھے نے سوائے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے علاوہ کچھ بھی ابھی تک میرے نام ہی نہیں کیا ۔۔
وہ زوار کے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے خباست سے بولی۔۔
اچھا چل سب کچھ مجھ پر چھوڑ دے آج بڑے ہی دن بعد موقع ملا ہے ۔۔
تو بڑی مشکل سے میرے ہتھے چڑھی ہے ۔۔
وہ دونوں گندگی کے ڈھیر شیطانی کھیل میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔
اور یہ بھول بیٹھے تھے کہ ہمیں اپنے اعمال کا حساب اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور دینا ہے ۔۔۔

حمدان ساری رات غصے کی بھٹی میں جھلستا رہا ۔
۔
میری بیوی کو میں اپنے ساتھ ہی نہیں رکھ سکتا ۔۔
لعنت ہے مجھ جیسے شوہر پہ۔ ۔
زہریلی سوچیں اس کو سکون لینے نہیں دے رہی تھی وہ سگریٹ پر سگریٹ سلگائے جا رہا تھا ۔۔
اتنی بڑی خبر کے میری اولاد اس دنیا میں آنے والی ہے اور میں کیسا بدنصیب باپ ہوں کہ ۔۔
اپنے باپ بننے کی خوشی بھی نہیں منا سکا ۔۔۔
اس نے اپنی مٹھی کام کا بناکر سامنے رکھیں کہ پل پر دے مارا ۔۔
خاموشی سے اس کا دل و دماغ بھی قابو ہو رہا تھا ۔۔۔
ہمدان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو تباہ کردے۔ ۔
آگ لگا دے سب کچھ تہس نہس کرکے ختم کردیے۔ ۔
سب سے زیادہ افسوس اور خار اس کو اس بات پر چڑھی ہوئی تھی کہ خالہ نے ابارشن کی بات کیسے کی ؟؟۔
وہ ہوتی کون ہیں اس کے بچے کے بارے میں اس طرح کا سوچنے والی ۔۔؟؟؟
کتنی آسانی سے انھوں نے میری اولاد کو ختم کرنے کی بات کردی ۔۔۔
15 دن کا وقت دیا ہے نہ مجھے ۔۔
میں ایک ہفتے میں اپنی بیوی کو پورے استحقاق سے لے کر آؤں گا وہ بھی پورے زمانے کی موجودگی میں ۔۔۔
اس نے پاس پڑے گلدان کو اٹھا کر سامنے رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر دے مارا ۔۔۔۔
کانچ کے ٹکڑے کرچی کرچی ہوکر بکھر کر رہ گئے ہمدان کی وجود کی طرح ۔۔۔

حجاب اسرا کیلئے دودھ گرم کر رہی تھی دواؤں کے ساتھ دینے کے لیے اس کے دل میں اسراء کا مقام سب سے اونچائی پر پہنچ چکا تھا ۔۔
احساسات بدلنے پر جذبات بھی بدل گئے تھے ۔۔
اسراء کی شکل میں اپنی ایک بڑی بہن نظر آنے لگی تھی ۔۔
وہ اپنے کیے کی تلافی کرنا چاہتی تھی ۔۔
اس لئے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ اسرہ کا زیادہ سے زیادہ ہر طریقے سے خیال رکھنے کی ممکن کوشش کرے گی ۔۔۔
وہ کچن میں اپنے لئے کافی بنانے کے لئے آیا تھا۔۔۔۔
حجاب کو اس وقت خلاف توقع کے کچن میں دیکھ کر حیران ضرور ہوا پھر خاموشی سے اپنے لیے کافی بنانے کے لئے بڑھ گیا ۔۔
حجاب اس کو مگ میں خود سے کافی بیٹ کرتے دیکھ کر کہنے لگی۔۔
لائیں میں بنا دیتی ہوں ۔۔
بشر ا سکو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ۔۔
تم صرف شک کرنا جانتی ہو اس کے علاوہ تمہیں آتا ہی کیا ہے؟؟؟ ۔۔
حجاب اپنا کافی کے لئے بڑھایا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیتی ہے۔۔
اس کے دل میں چھن سے بہت کچھ ٹوٹا تھا ۔۔۔۔

حجاب کمرے میں آتی ہے بشر کی اوپر ایک نظر ڈالکر ڈریسنگ روم میں چلی جاتی ہے ۔۔
بشر آنکھوں پہ بازو رکھے شاید سو رہا تھا ۔۔۔
ڈریسنگ روم میں جا کر وہ کچھ لمحے سوچتی ہے ۔۔
اف اللہ جی بشر تو بہت ہی زیادہ ناراض ہو گئے ۔۔۔
اس کے دماغ میں اسراء کا دیا ہوا ایڈیا چل رہا ہوتاہے۔۔۔
وہ جب اس راگ کو دودھ کے ساتھ دوائی دینے گئی تھی تو اس وقت اسراءاس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ گئی ۔۔۔
اور اس کے پوچھنے پر حجاب سنی معصومیت سے سب کچھ کہہ سنایا ۔۔
یار تو اس کو مناونا تم اس کے لئے تیار ہو اس کو یقین دلاؤ اپنی محبت کا ۔۔
وہ وارڈروب میں سے اپنی نائٹی ۔۔۔
اور اب حجاب اس کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔
__________
حجاب ڈریسنگ روم سے خوشبو سے مہکتی بہار آئی ۔۔۔
وہ بشر کو سوتا دیکھ کر سوچنے لگی کہ ۔۔
ایسے سو رہے ہیں جیسے زندگی میں پہلی بار نیند نصیب ہوئی ہو ۔۔۔
یہاں میری نیندیں اڑ گئی ہے ۔۔
اب کیا کروں اٹھاؤ ں یا نہ اٹھاؤ ں؟ ؟؟؟
ایک کام کرتی ھوں خود بھی سو جاتی ہو ۔
مگر مجھے ان کی ناراضگی سونے بھی تو نہیں دے گی ۔۔
وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی ۔۔۔
کہاں پھنسا دیا اریج مجھے۔۔
اس کو بشر کے پاس جانا ایسا لگ رہا تھا جیسے خود کو جان بوجھ کر شیر کے منہ میں دھکیلنا ۔۔۔
چلو اللہ کا نام لے کر ایس ہٹلر کے پاس چلی جاتی ہوں ۔۔
جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔
وہ اندر ہی اندر خوف زدہ بھی تھی کیونکہ بشر اس سے اس طرح پہلی دفعہ ناراض ہوا تھا ۔۔
وہ ہمت کرکے بشر کے سرہانے پہنچ ہی جاتی ہے ۔۔
ہاتھ بڑھا کر اس کو جگانے کے لئے بڑھ ہی رہی ہوتی ہے کہ ۔۔
بوکھلاہٹ میں بیڈ کے پاس رکھے میٹ اور بشر کی سلیپر سے الجھ کر آوندھی بشر کے اوپر گر پڑتی ہے ۔۔
بشر اس اچانک گرنے والے خود پر بلڈوزر سے گھبرا کر گہری نیند سے جاگتا ہے ۔۔۔
حجاب کو ڈیپ مہرون نائٹی میں دیکھ کر وہ حواسوں میں جلدی سے واپس آتا ہے ۔۔
اوف لوگ اس قسم کی صورتحال پر حواس کھو بیٹھتے ہیں مگر میری اس چڑیل بیوی نے نیند میں میرے چودہ طبق روشن کر کے رکھ دئے ہے ہیں ۔۔
وہ غصے سے بڑبڑاتا ہے ۔۔
کیا ہوا ہے ؟؟؟؟
رات کے اس پہر تو سکون لینے دو ۔۔
یا میرے خوابوں میں بھی جھانک کر ڈھونڈ رہی ہوکہ کس لڑکی سے مل رہا ہوں اور عشق کی پینگیں بڑھا رہا ہوں،۔
وہ تپ کے چنگھاڑتے ہوئے بولا ۔۔
وہ میں آپ سے ناراض تھیں اس لئے آپ کے اوپر ھی گل گئی ۔۔۔
وہ بشر کے غصے سے خوف زدہ ہو کے الٹا ہی کہہ گئی تھی ۔،
یاالہی ۔۔۔
تو کیا میرے اوپر گرنے سے ناراضگی ختم ہو گی تمھاری ۔۔۔؟؟؟؟
وہ بھنا کر بولا ۔۔
اب کیا ساری رات ایسے ہی پڑے رہنے کا ارادہ ہے ؟؟؟
یا جب تک میں پورے طریقے سے اسٹیکر نہیں بن جاؤں گا تب تک نہیں ہٹوگی ؟؟؟
نن۔۔۔نننن نہیں تو ۔۔۔
وہ خود کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔
مگر جیسے ہی سر اٹھاتی ہے اس کے لمبے بال بشر کی شرٹ کے بٹن میں الجھ جاتے ہیں۔۔۔
اور وہ ایک دفعہ پھر اس کے چوڑے سینے سے الگ تی ہے ۔۔۔
رات کی فصوں خیزی ۔۔
خوبصورتی سے تراشا ہوا پیکر ۔۔
جائز رشتہ ۔۔۔
استحقاق ۔۔
وہ کچھ لمحوں کے لئے اس کے سحر میں گرفتار سا ہو گیا تھا ۔۔۔
مگر جذبات پر ایک دم دوپہر والا حجاب کا کارنامہ کسی فلم کے سین کی طرح دماغ کی سلیٹ پر چل گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے جھٹکے سے حجاب کو خود سے دور کیا ۔۔
اوچ ۔۔
اس کے بے دردی سے جھٹکنے سے حجاب کے سرکے کئ بال بشر کی شرٹ کے بٹن میں رہ گئے تھے ۔۔
جب کہ حجاب اپنے بال کھینچنے پر تکلیف سے کراہ اٹھی تھی ۔۔۔
یہ کیا میرے سامنے بیہودہ قسم کا لباس پہنا ہوا ہے ؟؟
میں تو ایک دل پھینک اؤ باش قسم کا مرد ہو اس لباس میں میں تمہاری ہی عزت نہ اتار۔ ۔۔
۔
بشرحجاب کی آنکھوں میں چمکتے موتی دیکھ کر بڑی مشکل سے خود کے غصے کو کنٹرول کر پایا تھا ۔۔۔
حجاب سے مزید اس کی ناراضگی برداشت نہ ہوئی اور وہ تیزی سے بھاگ کر بشر کے چوڑے سینے سے آ لگی ۔۔
بشر پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔
مگرمیں نے آپ پر شک کیا مگر میں آپ کی محبت میں ایسا سوچ میٹھی خودغرض ہو گئی تھی ۔۔۔
آپ کو کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا خیال ہی میرے لئے جان لیوا تھا ۔۔
وہ اب باقاعدہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔
بشر نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے کان کے پیچھے کیا اور کہا ۔۔۔
حجاب دیکھو میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے وہیں کچھ جگہوں پر آکر یہ بالکل کچے دھاگے کی مانند ہو جاتا ہے ذرا سا کینچانہیں اور ٹوٹ گیا ۔۔
وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
اور اگر شک کا بیچ ایک دفعہ اس رشتے میں آجائے تو پھر یہ رشتہ ختم ہونے کے در پہ آ جاتا ہے ۔۔
لیکن مجھے بہت اچھا لگا کہ تم نے انا اور ضد کو بیچ میں لائے بغیر ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
کیونکہ اسی طرح اس رشتے میں انا کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کی غلطی کے ہونے کے باوجود بھی درگزر کر دینا۔۔
اس رشتے کو بالکل ایسا کر دیتا ہے جیسے سچے موتی ۔۔۔
بشر میرا وعدہ ہے میں کبھی بھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔
بشر اسکے حسین سراپے کو اپنے بازوں میں اٹھا کر
پیار بھری شرارت کر بیٹھتا ہے ۔۔
