Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 25)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 25)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
رات کے چار بجے کے قریب عریج کی آنکھ آرزو کے رونے کی آواز سے کھلی ،۔۔
وہ پریشان سی ہو کر اٹھ بیٹھی ۔۔
کیا ہوا ہو گاآرزو کو ؟؟؟
کیوں اس طرح رو رہی ہے ؟؟؟
وہ پریشانی سے اپنی نازک انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔
مجھے جانا چاہیے۔۔
پتا نہیں کہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے ؟؟
وہ خود ہی سے سوال جواب کر رہی تھی ۔۔
لیکن اگر ۔۔
میں گئی اور انہوںنے پھر مجھے رات کی طرح باتیں سنائیں اور میری عزت افزائی کرتی تو پھر ؟؟۔۔۔
اریج الجھن کا شکار تھی ۔۔
سمیر کے غصے سے بھی اس کو ڈر سا لگ رہا تھا ۔۔
دوسری طرف آرزو کے رونے میں مزید شدت آ رہی تھی وہ بہت زور سے رورہی تھی۔۔
اریج سے مزید صبر نہ ہوا اور وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر بھاگنے کے سے انداز میں سمیر کے کمرے کے سامنے پہنچی۔
۔دروازہ ناک کرنے کی اس کو ضرورت نہ پڑی وہ پہلے سے ہی وا تھا ۔۔
وہ پھر بھی ہلکا سا ناک کرکے ہمت مجتمع کر کے کمرے میں ذرا اندر داخل ہو ہی گئی تھی ۔
وہ ننھی گڑیا کو گود میں لیے ٹہل رہا تھا مگر وہ کسی صورت بھی چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور اس کی گود میں مچل رہی تھی بری طرح ۔۔۔
سمیر اس کے کھٹکا کرنے پر پلٹا تھا۔ ۔
عریج کو سامنے دیکھ کر اس کے چہرے پر واضح سکون نمودار ہوا تھا ۔۔
جس کو وہ تیزی سے سردمہری کے تاثرات میں چھپا گیا ۔۔۔
اریج اس کے سخت اثرات کو دیکھ کر آہستہ سے گویا ہوئی ۔۔۔
یہ بہت رو رہی تھی اس لئے میں یہاں آئی تھی ۔۔
یہی وجہ تھی جو میں اس کو تمہیں نہیں دے رہا تھا یہ تمہاری عادی نہ ہو جائے ۔۔
اب دیکھ لو نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔۔
کس طرح محض دو دن میں ہی یہ ضد کرنے لگ گئی ہے ۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
مگر بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔۔
انہیں تو بس تھوڑی سی محبت اور توجہ چاہیے ہوتی ہے ۔۔
ان کو ضد پہ آنے سے پہلے ہی ہمیں کسی نہ کسی طریقے سے پر سکون کر دینا چاہیے ۔۔
آرزو کے رونے نے اس کو یہ سب کہنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔
ہاں توں میں بھگت تو رہا ہوں تمہاری تھوڑی سی محبت اور توجہ کا نتیجہ آدھی رات کو ۔
وہ غصے میں آرزو کو زور سے دھپ لگانےکے انداز میں تھپک نے لگا ۔۔
اریج نے آرزو کو یکدم سمیر کی گود سے جھپٹنے کے سے انداز میں لے لیا تھا ۔۔
آپ نے آج تو اس معصوم بچی پر یہ ظلم کر دیا ہے۔۔۔
مگر اب جب تک میں یہاں ہوں یہ میری ذمہ داری ہے ۔۔۔
وہ شہادت کی انگلی سمیر کی طرف اٹھاتےہوئے وارننگ دینے کے انداز میں بولی ۔۔
اریج کی برداشت بس یہیں تک کی تھی ۔۔
وہ آرزو کو لیے اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھ چکی تھی ۔۔
سمیرہکا بکا سا اس کو اپنی ہی بچی چھین کر لے جاتے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
وہ ابھی تک حیران تھا اس کے اس طرح وارننگ دینے کے انداز پر ۔۔۔۔
صبح فجر کی کی اذانوں کی آوازیں سنتے ہی ہمدان نماز پڑھنے کے بعد اپنی جیپ کی چابی اٹھا کر سیدھا گاؤں کے لئے روانہ ہوگیا ۔۔۔
گاؤں کا بارہ گھنٹے کا طویل سفر ہمدان نے ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے آٹھ گھنٹے میں مکمل کرلیا تھا ۔
۔وہ non stop ڈرائیو کرتا اپنے گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکا تھا ۔۔
سلام صاحب ۔۔
راستے میں ملنے والے کئی لوگوں کا جواب وہ بس محض سر ہلا کر ہی دیتے ہوئے اپنی جیب کو اڑاتا ہوا جا رہا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ حویلی کے اندر داخل ہو چکا تھا ۔۔
اس کی واپسی اور برہمی کے تاثرات دیکھ کر تمام ملازمین کی روح اندر تک فنا ہو چکی تھی ۔۔۔
وہ وہ جیپ سیدھا حویلی کے کشادہ لون کے سامنے بنے حویلی کے دروازے پر ٹکر مارنے کے انداز میں کھڑی کرکے چھلانگ لگا کر نیچے آترا ۔۔۔
کہاں ہیں سب لوگ ؟؟؟
وہ ملازم سے گویا ہوا جو اس کو اندر آتا دیکھ کر فورا اس کی طرف لپک کے آیا تھا ۔۔
وہ شدید طیش کے عالم میں دندناتا ہوا سیدھا راہ داری سے گزرتے ہوئے ڈائننگ ایریا میں ملازم کے بتانے پر وحی آ گیا تھا ۔۔
وہ تینوں اطمینان سے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب ۔۔
بابا کی نظر اس کے غیض وغضب سے بھرے انداز پر پڑھی۔۔
اماں( ہمدان کی ماں) اسکا چہرے پر جھلکتا تناؤ اور قدموں میں پائی جانے والی دہشت دیکھ کرسمجھ گئی تھی کہ ۔۔۔
کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہے جو وہ اس طرح سب کے سامنے شدید طیش کے عالم میں مٹیھاں بھینچے کھڑا ہوا ہے ۔۔
تو گویا اطمینان کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔۔۔
بابا نے آہستہ سے کہا ۔۔
اماں نے ناسمجھی سے اپنے شوہرکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی تمام تر صورتحال کو ۔۔۔
وہ سلام کر کے دھاڑنے کے انداز میں ٹیبل پر بیٹھے تینوں نفوس سے گویا ہوا ۔۔
دادی کا اس کے چہرے کا تنائو دیکھ کر سارا اطمینان رخصت ہوچکا تھا ۔۔
مجھے بتائیں کہ چاچی کا کیا قصور تھا ؟؟؟
جو اس گھر سے ان کو آدھی رات میں دھکے دے کر بےرہمی کا ثبوت دیتے ہوئے نکال دیا گیا تھا ۔؟؟؟
دادی جونکہ پوتے کا غصہ دیکھ کر لاڈ کرنے کے لئے اپنی لاٹھی پکڑ کے اٹھنے کو تھیں اس کی چھنگھاڑتی آواز سن کر واپس بیٹھ گئیں۔ ۔
بیٹا یہ کس انداز میں تم اپنی دادی سے بات کر رہے ہو ؟؟
اما ں آپ کو کچھ نہیں پتا کہ انہوں نے کس طرح دو معصوم زندگیوں کے ساتھ کھیلا ہے ۔۔۔
کس طرح ان کو رات کے اندھیرے میں بے یارومددگار اس بھیڑیوں سے بھری دنیا میں دھکہے دے کر نکالا تھا ۔۔۔
ہمدان کی ماں کافی عرصے سے فالج کے اٹیک کی وجہ سے پیروں سے پیرالائز ہوچکی تھیں۔ ۔
وہ ویل چیر اس کے پاس گھسیٹتی ہوئی لائیں اور اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گویا ہوئیں ۔۔۔
بیٹا عزت اور احترام کا دامن اپنے ہاتھ سے مت چھوڑو جو بھی بات ہے سکون سے کرو ۔۔
آپ ابھی بھی مجھے عزت و احترام کی بات کہہ رہی ہیں ؟؟؟
دادی مجھ سے اتنا بتا دیں کہ چلیں آپ کی دشمنی چاچی سے تھی نہ۔ ۔
لیکن ان کی اولاد تو آپ کے بیٹے کا ہی خون تھی نہ ؟؟
ذرا سا رحم نہیں آیا اس 7 سالہ معصوم بچی کو گھر سے نکالتے ہوئے ۔۔؟؟
کیا آپ کے خود کے جگر میں اس چیز کی اجازت دے دی ۔۔؟؟؟
وہ آپ کے بیٹے کی اکلوتی آخری نشانی تھی ۔۔
آپ کس طرح اسے اپنی خود غرض ہوگئیں؟ ؟؟
حیرت ہوتی ہے مجھے ۔۔
شاید اسی چیز کو ہی خون سفید ہونا کہتے ہیں ۔۔۔
وہ آج ہر قسم کا لحاظ بالائے طاق رکھ کر ان کو حقیقت کا آئینہ دکھا رہا تھا ۔۔
حمدان بس اب میں ایک بات بھی نہ سنوں تمہارے منہ سے ۔۔
اما ں نے تنبیہہ کی ۔
جب کہ بابا خاموش تھے ۔۔
وہ جانتے تھے کہ وقت کبھی نہ کبھی کسی کے بھی ذریعے انصاف کر لیتا ہے ۔۔
ہمدان کی ماں ایک سمجھدار خاتون تھی اپنی دیورانی سے بھی وہ بہت پیار محبت سے رہتی تھیں۔ ۔۔
ان کو آج تک اس بات کا یقین نہ آیا تھا کہ قدسیہ اس گھر سے کسی کے ساتھ فرار ہوئی ہے ۔۔۔
________
حجاب صبح کے وقت شاور لے کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی بال سلجھا رہی تھی ۔
بن بتوڑی ذرا مجھے اٹھا کر واش روم تک پہنچا دو یار ۔۔۔
وہ منڈی مندی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جمائی لے کر بولا ۔۔
کیوں کیا آپ کی بنائی رخصت ہوگئی ہے ؟؟؟
رات میں تو آپ کو ہر چیز بہت وعزہ نظر آتی ہے ۔۔
بلکہ رات میں تو آپ کی آنکھیں چار ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ چڑھ کر بولی ۔۔
حجاب اس کی شرارت اچھی طرح سمجھ رہی تھی اس لئے لہجے میں مصنوعی غصہ سمو کر بولی ۔۔
یاراندھاتومیں اسی دن ہو گیا تھا۔۔
کس دن۔ ؟
حجاب اچھنبے سے بولی۔ ۔۔
جس دن تمہارا خوفناک چہرہ پہلی دفعہ دلہن کے روپ میں بیڈ کے اوپر گلی ڈنڈا کھیلتے دیکھا تھا ۔۔۔
ہییںننننننن۔ ۔
کیا کہا میرا خوفناک چہرہ ؟؟؟؟؟
حجاب غصے سے چڑھ کر ہاتھ میں پکڑا برش اٹھا کراسکی کٹ لگانے دوڑھی ۔۔
بشر نے اپنی باتوں کی نمائش کی وہ حجاب ہوں تب آنے میں جو کامیاب ہوچکا تھا ۔۔
حجاب اس کے سر پر کھڑی تھی اور غصے سے گول گپے کی طرح پھولی پورا ا f – 16 طیارہ لگ رہی تھی ..
Have you ever seen yourself???
look exactly like Strawberry…
او واقعی میں اسابری جیسا ہوں ؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر بولا ۔۔
ھاھاھا۔۔
جاو آئینے میں کبھی سہی سے اپنا چہرہ تو دیکھو ۔۔۔۔
حجاب فخریہ بولی جیسے بشر کو واقعی حیرانی ہو ۔۔
ویسے غالباً تمہیں اسٹابری ملک شیک بہت پسند ہے ۔۔
ہیں نا صحیح کہہ رہا ہونا ؟؟؟
وہ حجاب کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیئے بغیر بیڈ پر دھکیلتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں ہے مجھے پسند لیکن شیک۔ ۔
وہ آپ کے چہرے میں سے نکلنے سے رہا ۔۔۔
حجاب میں بھی حساب برابر کرنا چاہا اور خود کو چھڑا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بغیر سوچے سمجھے کیا بھول گئی ہے ۔۔
ہو یعنی تمہیں ابھی ملک شیک پینا ہے ؟؟؟
وہ معنی خیزی سے حجاب کے لبوں کو فوکس کرتے ہوئے بولا ۔۔
اور کہتے کے ساتھ ہی حجاب کے اوپر جھک کر اس نرم و گدازگلابی ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیئے ۔۔
حجاب غصے میں اپنے ناخنوں سے اسکی پوری کمر خھرچ ڈالتی ہے ۔۔۔
جنگلی بلی ۔۔۔
ظالم شیرنی ۔۔
بشر نے بلبلا کر دور ہٹ کے اپنا چہرہ صاف کرنے لگتا ہے اور پھر پوچھتا ہے اس سے کہ۔ ۔۔
ہاں تو ظالم حسینہ کیسا لگا نیچرل اسٹابری کا جوس ؟؟!
حجاب اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ بشر کو دوبارہ خود پر جھکتادیکھ کر اندر اندر ہی کھول ہی رہی ہوتی ہے۔۔
جب دروازہ ناک ہونے پر وہ بشر کو زور دار جھٹکا دے کر بیڈ سے جمپ لگانے کے انداز میں اترتی ہے ۔۔
اور بھاگتے ہوئے اس کو ٹھینگا دکھا تی دروازہ کھولنے کے لئے بڑھ جاتی ہے ۔۔۔



حجاب جیسے ہی دروازہ کھولتی ہے اسراءکو کمرے کے باہر کھڑا دیکھ کر وہ اس کو اندر آنے کے لئے کہنے ہی والی تھی کہ ۔۔
یار کون ہے ؟؟!
جلدی دیکھو اور واپس آؤ میرے پاس آئو۔۔
سارا ٹیمپو ٹوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ۔۔
وہ جھنجھلاتے ہوئے بولا ۔۔
بشر کو لگا کہ کوئی ملازمہ جگانے کے لئے آئی ہوگی ۔۔
کیونکہ صبح کے وقت کوئی نہیں آتا تھا ان دونوں کو ڈسٹرب کرنے ۔۔۔
باہر کھڑی اسراء اور کمرے کے اندر کھڑی حجاب دونوں ہی بشر کی بات پر سٹپٹا گئیں۔ ۔
حجاب سے تو خفت کے مارے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا ۔۔
اسراء بھی اس وقت آکر پچھتائی ۔۔
آواز نہیں آ رہی کب سے بلا رہا ہوں ؟؟
مزید انتظار نہیں ۔۔۔۔
وہ آنکھیں رگڑتا ہوا باہر آ رہا تھا جب سامنے کھڑی سٹپٹائی سی آسرا اور حیاء اور خفت سے سرخ پڑھیں حجاب کو دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے ۔۔
جی آپ کیا کہہ رہے تھے ؟؟؟
حجاب کو تو گویا حساب برابر کرنے کا موقع مل چکا تھا ۔۔۔
وہ بشر کو شرم دلانے کو بولی ۔۔
ہاں تو یہ آسرا کی غلطی ہے کہ وہ غلط وقت پر آئی ۔۔
خوامخواہ ہمارا رومانس خراب کیا ۔۔
وہ ڈھٹائی سے کہتا اپنی جھنپ مٹانے لگا ۔۔
نہیں مجھے تو کچھ بات کرنا تھی ۔۔
اسرا اپنی شرمندگی چھپاتے ہوئے بولی ۔۔
ہمدان سے یہ بھی نہیں سیکھا تم نے کہ۔ ۔
وہ حجاب کو اس کی غصے سے گرتی ہوئی آنکھوں کی پرواہ کیے بغیر بولا ۔۔۔
اسره کا تو مآ نو بشر کی باتوں پر خون خشک ہونے لگا تھا ۔۔
وو بےوقت اکر پچتائی تھی بری طرح ۔
میں بعد میں آجائونگی۔ ۔
یہ کہے کر وہ سر پٹ ڈور لگا گئی۔ ۔
پیچھے حجاب نے بشر کو بآ تھروم میں بھگ کر لوک لگاتے دیکھ کر اپنے دانت پیس
سمیر فریش ہو کے صبح کے وقت ناشتے کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھا ۔۔
بوااس کے لئے ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھیں۔ ۔
جب وہ اریج اور آرزوکی کمی کو محسوس کرکے بوا سے پوچھ بیٹھا نہ چاہتے ہوئے بھی ۔
۔
بوا آرزو کہاں ہے اور اریج نے کر لیا ناشتہ ؟؟
اس نے بادل ناخواستہ کہا ۔۔
جی سمیر بابا چھوٹی بی بی آپ کے اٹھنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی سوئی ہیں۔ ۔
۔
میں جب اپنے کوارٹر سے صبح آئی تھی تب اریج بی بی آرزو بیٹیاکو گود میں لیے لانچ میں ٹہلا رہی تھیں۔ ۔
آرزوکی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟؟
کو ناشتے سے ہاتھ روک کر بولا ۔۔۔
جی بابا طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔
مگر گڑیا کے شاید پیٹ میں درد تھا اس لئے بہت روروکر سوئی ہے ۔۔
سمیر سے بیٹی کا حال جان کر اس کو دیکھے بغیر رہا نہ گیا ۔۔
وہ اٹھ کر سیدھا اریج کے کمرے کی طرف آیا ۔۔
پہلے اس کے دل میں آئی کے نوک کرے۔ ۔
مگر پھر آرزوکی نیند کے خیال سے آہستہ سے یہ سوچ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا کہ اگر کھلا ہوا تو آرزو کو ایک جھلک دیکھ لوں گا اور اگر لاکھ ہوا تو پھر آہستہ سے ناک کرلونگا ۔۔
وہ ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر گھماتا ہے ۔۔
کمرہ اندر سے لاک نہیں تھا ہینڈل گھمانے سے دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔
اس کو تھوڑا آکوٹ تو فیل ہوا تھا اس طرح اریج کی بغیر اجازت کے کمرے میں جانا مگر پھر اپنی بیٹی کی محبت غالب آ گئی ۔۔
وہ اندر داخل ہوکر جیسے ہی آرزو کو دیکھتا ہے اس کے سونے کے انداز پرسمیر کے لب بے ساختہ مسکرا اٹھتے ہیں ۔۔
وہ بڑے مزے سے اریج کے سینے پر الٹی لیٹی بڑے پرسکون انداز میں سو رہی تھی ۔۔
آریج نے اس کو دونوں ہاتھوں سے اپنے۔۔ خود میں چھپایا ہوا تھا ۔۔
سمیر کو یہ منظر بہت حسین لگا تھا کتنا مکمل لگ رہے تھے وہ دونوں ایک ساتھ ۔۔
۔
سمیر نے بلینکٹ کھول کر دونوں پر ڈھانپ دیا اور لائٹ آف کر کے باہر آ گیا ۔۔
اس کو اپنا بہت پرسکون لگا بہت تویل عرصے کے بعد۔ ۔
حمدان سب کے ساتھ حویلی کے بڑے ہال کمرے میں بیٹھا تھا ۔۔
دادی اپنے تخت پر اور اماں حمد ان کے پاس رکھے صوفے تک اپنی ویل چیئر لے آئی تھیں۔۔
جبکہ بابا بہت خاموش تھے آج وہ ہمدان کو اپنی اپنی عمر سے مزید کئی سال بوڑھے لگ رہے تھے ۔۔
ارے یہ دیکھو ہمارے ہاتھوں کا لڑکا ہم پر ہی زبان درازی پر اتر آیا ہے ۔۔
ہم پر یعنی اپنی دادی پر الزام لگا رہا ہے شرم نہیں آئی اس کو؟؟؟؟ ۔۔۔
میرے پوتے اس میں تیرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔
اس میں قصور اس ڈائن کی ہی بیٹی کا ہے اسی نے
تجھے ورغلا آیا ہے۔۔
نا گن کی بیٹی جو ٹھہری ۔۔۔
بس۔۔۔۔۔
دادی میں اب آپ کا احترام کر رہا ہوں میرے ضبط کو مزید نہ آزمائیں ۔۔۔
آپ کو اپنی ہی پوتی جو کہ آپ کے بیٹے کا خون ہے۔۔۔
اسی سے نفرت ہے چڑھ ہے ۔۔
خیر حیرت ہے کس طرح کا دل ہے آپ کا ۔۔؟؟؟
مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کسی کی۔۔۔
سچے دل سے میری شادی میں شرکت ہونا ہے تو ٹھیک ہے ۔۔
نہیں ہونا تو آپ کی مرضی ہے ۔۔
میں ویسے بھی اپنی بیوی کو اس حویلی سے دور رکھوں گا اور میں آج خود ابھی اور اسی وقت آخری دفعہ آپ کو یہاں نظر آ رہا ہو اس کے بعد میں آپ کو حویلی تو کیا اس گاؤں میں بھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔
اے میرا پترا تو کیسے اتنی بڑی بات پر سکتا ہے ۔۔؟؟
تو جیسا کہے گا۔۔
جو کہے گا۔۔
بالکل ویسا ہی ہو گا۔۔
دادی کا طنطنہ منٹوں میں ہمدان نے مٹی میں ملایا تھا ۔۔
ہاں۔۔
اس طرح راضی نہیں ہوئیے گا جس طرح چاچا کی شادی کے وقت ہوئی تھیں ۔
اور پھر اس بے بس عورت کو نکال باہر کھڑا کیا تھا ۔۔۔
ہمدان سے آج مزید قسمت نہیں ہو پا رہا تھا ۔
آج وہ صحیح معنوں میں دادی کو چھوٹا ہو کر بھی بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔
اسی طرح کیا گیارنٹی ہے کہ میری بیوی کو بھی میرے کچھ ہو جانے کے بعد ۔۔
اماں ایک دم سے ہمدان کے منہ پر ہاتھ رکھ گئیں۔۔۔
بیٹے کی بات پر ان کا کلیجہ منہ کو کھنچا چلا آیا تھا ۔۔
نہیں میرے پتر جو ہوا وہ ماضی تھا ۔۔
اسے بھول جا بتا کب چلنا ہے تیری ووہٹی کو لینے ۔؟؟؟
۔
ہمدان نے ایک نظر وہاں موجود تمام نفوسو پر ڈالی اور پھر بہت ٹھہر کر بولا ابھی اور اسی وقت ۔۔
