Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

حجاب خاموشی سے سر جھکا ئے سمیر کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمیر اپنے سامنے انیلہ بیگم (ماں )کی نہیں سنتا تھا ۔وہ تو پھر بہن تھی۔۔
ابھی انیلا بیگم کی وفعات کو محض چھ ماہ ہی گزرے تھے کے سمیر اب اس پر نیا بم پھوڑ رہا تھا ۔
وہ خاموش نظروں سے بھائی کو دیکھتی رہی اب تو انیلہ بیگم بھی حیات نہیں تھی جن سے بعد میں وہ بھائی کی شکایت کر سکتی ۔
جانتی تھی سمیر سے کچھ کہنا بھی فضول ہے ۔
سمیر شروع سے اپنی ذات میں گم رہنے والا تھا وہ آج تک نہیں سمجھ پائی تھی کہ وہ ماما اور اس کے ساتھ اتنا روڈ کیوں رہتا ہے ۔
کبھی وہ یہ سوچتی بھی تو بس تھوڑی دیر کے لئے پھر اپنی اوٹ پٹانگ مشغلوں میں لگ جاتی ۔
وہ ایسی ہی تھی زندگی سے ہر لمحہ کشید نے والی زندہ دل شرارتی سی۔
انیلا بیگم نے اس کی پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔باپ کے انتقال کے بعد اپنے پروں میں سمیٹ کر دنیا کے سرد و گرم سے دور رکھا وہ اس کی حد سے زیادہ خوبصورتی اور معصومیت سے بہت خائف رہتی تھی وہ بہت سی چیزیں اس کو سمجھانا چاہتی تھی مگر وہ اتنی لاوبالی تھی کہ انیلہ بیگم کی باتوں پر کان ہی نہیں دھرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
حجاب جب دو سال کی اور سمیر 13 سال کا تھا۔۔۔تب اچانک صفدر صاحب ہارٹ فیل ہونے سے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ۔
سمیر صفدر صاحب کی پہلی بیوی سے تھا ۔
سمیر کی ماں اتنی جلدی اس کی ذمہ داری قبول کرنا نہیں چاہ رہی تھی ۔اس کے بہت بڑے بڑے پلان تھے ۔ایک دن دونوں میاں بیوی کی لڑائی میں وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی اور بعد میں پھر خلع لے لیا صفدر صاحب سے ۔
انیلا بیگم نے سمیر اور حجاب کو تنہا پالا تھا ۔۔۔انہوں نے حجاب تک سے یہ سچ ،چھپا کے رکھا تھا کہ سمیر ان کی سگی اولاد نہیں ہے ۔ ۔مگر سمیر یہ بات اچھی طریقے سے جانتا تھا کیونکہ اس وقت جب اس کے ماں باپ کی علیحدگی ہوئی تو وہ 8 سال کا تھا ۔
انیلہ بیگم نے سمیر کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ اس کی سگی ماں نہیں ہیں:
"اسرا بیٹا کیا ہوا ہے "
آفس میں سب خیریت تو ہے نا ؟
اسراء جس آفس میں کام کرتی تھی وہ ایک اخبار کا دفتر تھا ۔۔
اسراء اس اخبار کے لیے کالم لکھتی تھی ۔
"جی امی بس کچھ نہیں ایسی تھوڑا سر میں درد ہو رہا تھا ۔"اسرا نے جیسے ماں کو ٹالنا چاہا ۔۔
اس نے کچھ عرصہ پہلے ایک مشہور سیاستدان کے بارے میں انفارمیشن جمع کرکے اپنے اخبار کے لئے لکھی تھی ۔جو کہ اس سیاستدان کے خلاف تھی ۔
اس دن سے اسکو دھمکیاں موصول ہو رہی تھی طرح طرح کی ۔
"مگر بھائی اگر آپ چلے جائیں گے"۔۔
" آسٹریلیا تو میرا کیا ہوگا؟"۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی "۔
ھوں ۔۔۔سمیر نے ہنکارہ بھرا ۔
"بے فکر رہو تمہارا بھی کوئی فیصلہ کرکے ہی جاؤں گا "۔
وہ جیسے جلد از جلد اپنے سر پر سے بالا اتارنا چاہتا تھا ۔
"سمیر جب ابروڈ پڑھنے گیا تھا تب اس کو ایک لڑکی فرح سے شدید محبت ہو گئی تھی وہ اس سے اسی وقت شادی کرنا چاہتا تھا ۔مگر فرح نے ایک شرط رکھی تھی کہ اگر وہ مکمل طور پر آسٹریلیا آئے گا تو ہی وہ اس سے شادی کرے گی۔۔ بقول فرح کے ۔۔۔
"پاکستان میں تو میرا دم گھٹتا ہے ۔ اور اب جبکہ اس کے سب انتظام ہو چکے تھے فراح بھی اس کے انتظار میں تھی تو وہ جلد ازجلد حجاب کو کہیں نہ کہیں ٹھکانے لگا کے جانا چاہتا تھا وہ اپنے پیچھے کوئی پریشانی نہیں لینا چاہتا تھا۔
حجاب ابھی تک اپنے بھائی کی سردمہری پر حیران تھی ۔۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا خود غرض ۔
"اور ویسے بھی میں نے تم سے کوئی رائے نہیں مانگی ۔"
"تمہیں اس لئے بتایا گیا ہے کہ اپنا سامان پیک کرنا شروع کرو میرے پاس صرف ایک ہفتہ ہے "۔۔وہ بے رخی سے بولا ۔۔۔
حجاب اپنی سرخ آنکھیں جو مسلسل رونے کی وجہ سے سو جھ چکی تھین بیدردی سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
مم ۔۔ مم ۔۔ مگر بھائی میں کہاں رہوں گی ؟۔۔۔
حجاب پریشانی سے بولی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *