Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 01)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 01)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
“میری بہن بہت معصوم ہے “۔۔۔۔”میں بہت بڑی مشکل میں ہوں “۔۔۔!
“تو بھلے اس کو دل سے قبول نہ کر مگر کچھ عرصے کے لئے اس کو اپنا لے “۔۔۔۔سمیر بشر سے التجا یہ انداز میں کہتا ہے ۔۔
بشر اس کےشانے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے
“یار تو سمجھنے کی کوشش کر میں ایسا نہیں کرسکتا حجاب بہت چھوٹی ہے میں اتنا بڑا ظلم نہیں کرسکتا یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے “۔***************************************
“ماما یہ دوا آپ کے لیے بہت ضروری ہے” اسرا آفس سے آکر سب سے پہلے اپنی ماں کو دوائیں دیتی تھی ۔۔۔
مامآ اپنی بیماری کی وجہ سے خاصی زدی بھی ہوگیں تھیں ۔ماما کو ڈاکٹر نے سختی سے دوl کی پابندی کے لئے کہا تھا .
ماما کو کچھ ماہ پہلے رات کے وقت اچانک ہاٹ اٹیک آیا تھا بروقت ٹریٹمنٹ کی وجہ سے اور اللہ کے حکم سے ان کو نئی زندگی ملی تھی۔
ماما کھانے پینے کی بہت شوقین تھیں اور اب ڈاکٹر نے ان کو بالکل ہی پرہیزی کھانا کھانے کی ہدایت کی تھی یہی وجہ تھی ان کے چڑ چڑھے رہنے کی ۔
اسکا اور تھا ہی کون اس دنیا میں سوائے ماما کے ۔بابا کا انتقال تو وہ جب سات سال کی تھی اس وقت ہی ہوگیا تھا ۔۔
اس کے بابا اپنے گاؤں کے وڈیرے تھے۔۔ماما سے ان کی شادی پسند سے ہوئی تھی ۔سسرال والوں کا رویہ ماما سے تو بابا کی زندگی میں بھی کچھ خاص اچھا نہیں تھا ۔سواۓ مصطفیٰ صاحب کے بڑے بھائی کے وہ قدسیہ کے ساتھ شفکت سے پیش آتے تھے ۔۔ “۔۔قدسیہ بیگم پڑھی لکھی تھیں اور وہ مصطفی صاحب کو یورسٹی میں پسند آ گئی تھی ۔۔۔
گھر والوں کو دھمکیاں دے کر اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرکے انھوں نے کسی نہ کسی طریقے سے قدسیہ بیگم سے شادی کر لی ۔۔
۔مگر ان دونوں کا ساتھ بس چند ہی سال کا رہا اور ایک دن ایک کار کے ایکسیڈنٹ میں وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلے گئے ان دونوں کو بالکل تنہا چھوڑ کر ۔۔بابا کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بھائی شاہ مقیم نے فیصلہ کیا کہ اسراء اور ان کے بڑے بیٹے شاہ حمدان کا اپس مے نکاح کر دیا جائے ۔۔وہ اپنی ماں کو اچھی طرح جانتے تھے کہ کچھ بھی ہوجاۓ وه اب قدسیہ بیگم کو ایک لمحہ بھی اس گھر میں برداشت نہیں کریں گیں۔
قدسیہ بیگم جوکہ بالکل ہی بے بس تھی کچھ نہ کہہ سکی اور پھر ایک دن اسراء اور حمدان کا نکاح ہو گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بشر اور سمیر کی دوستی کا دورانیہ زیادہ لمبانہیں تھا ۔
ان دونوں کی دوستی اس وقت ہوئی ۔۔۔۔”جب ایک دن بشر کو آفس بہت جلدی پہنچنا تھا اس کی ایک اہم میٹنگ تھی بشر تیزی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جب اچانک سے سامنے سے آتی بائیک جس پہ ایک عورت اور بچے بھی سوار تھے ، ۔ بشر کی نظر سڑک پر پڑے پیٹرول پے پڑگئی ۔بشر بائیک کو بچانے کے چکر میں سامنے درخت کو نہیں دیکھ پایا اور اس کی گاڑی بری طرح درخت سے جا ٹکرا گئی “۔۔
قریب ہی روڈ پر سمیر اپنی گاڑی میں جا رہا تھا ایکسیڈنٹ ہوا دیکھ کر فورا بائیک کی طرف لپکا پھر اسپتال سے لیکر گھر تک سمیر نے بشر کو پہنچایا اس طرح ان دونوں کی دوستی آہستہ آہستہ بڑھتی چلی گئی کچھ ہی عرصے میں دونوں ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگے ۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حجاب خاموشی سے سر جھکا ئے سمیر کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمیر اپنے سامنے انیلہ بیگم (ماں )کی نہیں سنتا تھا ۔وہ تو پھر بہن تھی۔۔
ابھی انیلا بیگم کی وفعات کو محض چھ ماہ ہی گزرے تھے کے سمیر اب اس پر نیا بم پھوڑ رہا تھا ۔
وہ خاموش نظروں سے بھائی کو دیکھتی رہی اب تو انیلہ بیگم بھی حیات نہیں تھی جن سے بعد میں وہ بھائی کی شکایت کر سکتی ۔
جانتی تھی سمیر سے کچھ کہنا بھی فضول ہے ۔
سمیر شروع سے اپنی ذات میں گم رہنے والا تھا وہ آج تک نہیں سمجھ پائی تھی کہ وہ ماما اور اس کے ساتھ اتنا روڈ کیوں رہتا ہے ۔
کبھی وہ یہ سوچتی بھی تو بس تھوڑی دیر کے لئے پھر اپنی اوٹ پٹانگ مشغلوں میں لگ جاتی ۔
وہ ایسی ہی تھی زندگی سے ہر لمحہ کشید نے والی زندہ دل شرارتی سی۔
انیلا بیگم نے اس کی پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔باپ کے انتقال کے بعد اپنے پروں میں سمیٹ کر دنیا کے سرد و گرم سے دور رکھا وہ اس کی حد سے زیادہ خوبصورتی اور معصومیت سے بہت خائف رہتی تھی وہ بہت سی چیزیں اس کو سمجھانا چاہتی تھی مگر وہ اتنی لاوبالی تھی کہ انیلہ بیگم کی باتوں پر کان ہی نہیں دھرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
حجاب جب دو سال کی اور سمیر 13 سال کا تھا۔۔۔تب اچانک صفدر صاحب ہارٹ فیل ہونے سے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ۔
سمیر صفدر صاحب کی پہلی بیوی سے تھا ۔
سمیر کی ماں اتنی جلدی اس کی ذمہ داری قبول کرنا نہیں چاہ رہی تھی ۔اس کے بہت بڑے بڑے پلان تھے ۔ایک دن دونوں میاں بیوی کی لڑائی میں وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی اور بعد میں پھر خلع لے لیا صفدر صاحب سے ۔
انیلا بیگم نے سمیر اور حجاب کو تنہا پالا تھا ۔۔۔انہوں نے حجاب تک سے یہ سچ ،چھپا کے رکھا تھا کہ سمیر ان کی سگی اولاد نہیں ہے ۔ ۔مگر سمیر یہ بات اچھی طریقے سے جانتا تھا کیونکہ اس وقت جب اس کے ماں باپ کی علیحدگی ہوئی تو وہ 8 سال کا تھا ۔
انیلہ بیگم نے سمیر کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ اس کی سگی ماں نہیں ہیں:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“اسرا بیٹا کیا ہوا ہے “
آفس میں سب خیریت تو ہے نا ؟
اسراء جس آفس میں کام کرتی تھی وہ ایک اخبار کا دفتر تھا ۔۔
اسراء اس اخبار کے لیے کالم لکھتی تھی ۔
“جی امی بس کچھ نہیں ایسی تھوڑا سر میں درد ہو رہا تھا ۔”اسرا نے جیسے ماں کو ٹالنا چاہا ۔۔
اس نے کچھ عرصہ پہلے ایک مشہور سیاستدان کے بارے میں انفارمیشن جمع کرکے اپنے اخبار کے لئے لکھی تھی ۔جو کہ اس سیاستدان کے خلاف تھی ۔
اس دن سے اسکو دھمکیاں موصول ہو رہی تھی طرح طرح کی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔
“مگر بھائی اگر آپ چلے جائیں گے”۔۔
” آسٹریلیا تو میرا کیا ہوگا؟”۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی “۔
ھوں ۔۔۔سمیر نے ہنکارہ بھرا ۔
“بے فکر رہو تمہارا بھی کوئی فیصلہ کرکے ہی جاؤں گا “۔
وہ جیسے جلد از جلد اپنے سر پر سے بالا اتارنا چاہتا تھا ۔
“سمیر جب ابروڈ پڑھنے گیا تھا تب اس کو ایک لڑکی فرح سے شدید محبت ہو گئی تھی وہ اس سے اسی وقت شادی کرنا چاہتا تھا ۔مگر فرح نے ایک شرط رکھی تھی کہ اگر وہ مکمل طور پر آسٹریلیا آئے گا تو ہی وہ اس سے شادی کرے گی۔۔ بقول فرح کے ۔۔۔
“پاکستان میں تو میرا دم گھٹتا ہے ۔ اور اب جبکہ اس کے سب انتظام ہو چکے تھے فراح بھی اس کے انتظار میں تھی تو وہ جلد ازجلد حجاب کو کہیں نہ کہیں ٹھکانے لگا کے جانا چاہتا تھا وہ اپنے پیچھے کوئی پریشانی نہیں لینا چاہتا تھا۔
حجاب ابھی تک اپنے بھائی کی سردمہری پر حیران تھی ۔۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا خود غرض ۔
“اور ویسے بھی میں نے تم سے کوئی رائے نہیں مانگی ۔”
“تمہیں اس لئے بتایا گیا ہے کہ اپنا سامان پیک کرنا شروع کرو میرے پاس صرف ایک ہفتہ ہے “۔۔وہ بے رخی سے بولا ۔۔۔
حجاب اپنی سرخ آنکھیں جو مسلسل رونے کی وجہ سے سو جھ چکی تھین بیدردی سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
مم ۔۔ مم ۔۔ مگر بھائی میں کہاں رہوں گی ؟۔۔۔
حجاب پریشانی سے بولی ۔
“میں تو ابھی فرسٹ ائیر میں ہوں جاب بھی نہیں ۔۔۔۔۔
“بس خاموش “ابھی اس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ بولا ۔”ہفتے کو تمہارا نکاح ہے بشر کے ساتھ “۔
وہ اس کو تنہا چھوڑ کر اپنی کہہ کے چلتا بنتا ہے ۔۔حجاب پیچھے سے اس کو جاتا دیکھتی رہے گئی ۔۔”بب۔۔۔۔ بب ۔۔۔بشر بھائی “۔۔۔۔۔۔!
_________
تو پھر کیا سوچا تو نے ؟
سمیر بشر کے آفس میں بیٹھا اس سے استفسار کر رہا تھا ۔۔
“میں تجھے بتا چکا ہوں “۔۔۔
بشر نے کہا ۔۔
“تو تیرا فیصلہ آج بھی وہی ہے “۔۔
سمیر کے لہجے میں کچھ سردمہری سی تھی ۔۔
“یار تو میرا دوست ہے میں تیری مدد کرنا چاہتا ہوں مگر “۔۔
بشر تھوڑا روکا ۔۔
“مگر کیا “
سمیر نے استہفامیہ نظروں سے بشر کو دیکھا ۔۔
“یار میں دو ایک دفعہ حجاب سے ملا ہو وہ بہت چھوٹی ہے اور پھر معصوم بھی “۔۔۔
بشر سمیر کو ہر پہلو سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔۔
“خیر سے وہ کالج میں ایڈمیشن لے چکی ہے “۔۔
“اور پھر جب ذمہ داری پڑے گی تو میچیور بھی ہوجائے گی “۔۔۔
بشر خاموش رہا ۔۔
“خیر میں نے تیرا جواب مانگا تھا “۔۔
“تجھے پورا اختیار ہے فیصلے کا “۔۔
سمیر تھوڑا رکا اور آگے کی طرف جھک کر میز پر دونوں ہاتھ رکھ دیئے اور پھر سے گویا ہوا ۔۔
“خیر حسن بھائی کے بارے میں کیا خیال ہے “۔۔
بشر نے ناسمجھی سے سمیر کو دیکھا ۔۔
“میں نے دوسرا آپشن یہ بھی رکھا تھا کہ اگر تیری کوئی مجبوری ہوئی تو پھر “۔۔
“پھر؟ کیا “
بشر بے چینی سے بولا ۔۔۔
“حسن بھائی “۔۔
آبھی سمیر کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بشریقدم سے بولا ۔۔
“تیرا دماغ تو تھیک ہے “
“وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں “
بشر نے جیسے یاد دلانا چاہا ۔۔
“ان کی وائف کی ڈیتھ ہو چکی ہے “۔۔۔
سمیر بولا ۔۔
“تو یہ بھول رہا ہے کہ ان کی ایک بیٹی حجاب کی ہم عمر ہے”۔
بشر کو رہ رہ کر سمیر کی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا وہ کیسے اپنے مفاد کے لئے اپنی بہن کو اندھی کھائی میں دھکیل سکتا تھا ۔۔۔
حجاب کا معصوم شرارتی سا چہرہ بشر کی آنکھوں میں گھوم سا گیا ۔۔
“یہ لاسٹ آپشن ہے میرے پاس اور پھر جب حسن بھائی کو میں نے اپنی پریشانی بتائی تو انہوں نے فوراً پرپوزل دے دیا “۔۔۔
بشر حسن کو اچھی طرح جانتا تھا۔۔ وہ سمیر کے کزن تھے ۔۔۔۔۔۔بشر کو وہ کچھ خاص پسند نہ تھے ان کی بیگم کی وفات کو ابھی پورا سال بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کو دوسری شادی کی بھی لگ گئی ۔۔۔۔ان کا ایک بیٹا ہائر سٹڈیز کے لیے اب روڈ میں تھا ۔۔۔ اور بیٹی حجاب کی ہم عمر۔۔۔۔حسن بہت ہی رنگین فکر فطرت کا مالک تھا ۔۔۔
بشر کا دماغ گھوم گیا ۔۔۔
پھر لمحے بھر کو بشرنے سوچا ۔۔
ایک معصوم لڑکی کو جانتے بوجھتے اندھی کھائی میں نہیں دیکھی لے گا ۔۔۔۔
“اور بس پھر فیصلے کی گھڑی تھی اور فیصلہ ہوچکا تھا ۔۔۔۔!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“ماما آج آپ آٹھ بجے تک ریڈی رہیے گا “۔۔
اسراء دوپٹہ سر پر سیٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔
“کیوں بیٹا “۔۔کہیں دعوت میں جانا ہے ؟
“اوہو ماما میں جانتی تھی آپ یہی کہیں گی” ۔۔
“آپ کو موقع مل جائے گا مجھے مصروف دیکھ کر بد پر ہیزی کرنے کا “۔۔۔
وہ مصنوعی خوف گی سے بولی ۔۔
ماما چھینپ سی گئیں۔ ۔۔
“آپ کا میں نے آج ھارٹ اسپیشلسٹ سے اپوائنمنٹ لیا ہے “۔۔۔
“میں ٹھیک ہوںبیٹا اور جو دعوائی میں لے رہی ہو وہ بھی صحیح ہے”۔۔
ما معنی جیسے ٹالنا چاہا ۔۔
مگر سامنے بھی انہی کی بیٹی تھی ۔۔
“ماما میری کولیگ ہے اس نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے یہ ملک کے بہت اچھے ہارٹ سرجن ہیں “۔۔
ڈاکٹر نے جلدازجلد قدسیہ بیگم کے بائپاس کا کہا تھا ۔۔۔اور جب سے ڈاکٹر نے اسراء کو یہ روح فرزا خبر سنائی تھی اس کی مانو راتوں کی نیند ہی فنا ہو گئی تھی۔۔۔
اسی سلسلے میں وہ آج کا فون منڈلی کرائی تھی ۔۔
“بس ماما مجھے دیر ہورہی ہے میں نکل رہی ہو “۔۔۔
“آپ بس رات آٹھ بجے تک تیار رہیے گا “۔۔۔
“اللہ حافظ “۔۔
وہ ماما کو جلدی سے ماتھے پر پیار کر کے باہر نکل گئی ۔۔
“خداحافظ “۔۔
ماما نے اپنی آنکھ میں آیا نناسا آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں میں جبز کرلیا ۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“بشر بیٹا بات سنو میری”۔۔
سائرہ بیگم مصروف سے انداز میں بشر کو باہر جاتے دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔
“جی ماما” ۔۔۔۔
وہ ماما کے اردگرد پھیلی چیزوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتا ہے ۔۔۔
“یہ دیکھو بشر “۔۔۔
“میں کچھ چیزیں لائی ہوئی حجاب کے لئے “۔۔
وہ چاروں طرف ڈریسز جیولری سینڈل وغیرہ پھیلا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ۔
پورا ھال کمرہ حجاب ہی کی چیزوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔
بشر نے ایک اچٹتی سی نظر ہر چیز پر ڈال کر کہا ۔۔۔۔
آپ یہ” شلوار سوٹ” کے بجائے” ٹراؤزر اور ٹی شرٹ لیتی “اور “سینڈل کے بجائے “ببل گمر ” کے شوز ۔۔۔ہونے چاہیے تھے ۔۔۔۔
اور چوڑیوں چھور کر” بیٹ بال” کی ضرورت تھی ۔ ۔
وہ جل بھن کر بولا ۔۔۔
“بابا جو ابھی ہال کمرے میں داخل ہی ہو رہے تھے اس کی تمام باتیں سن کر زوردار کہکا لگائے بغیر نہیں رہ سکے”۔۔
“ٹھیک ہے بشر بیٹا یہ سب چیزیں میں حجاب کو ولیمے کے دوسرے دن بلا دوں گا “۔۔
بابا اب کچھ سیریس انداز اپناتے ہوئے بولے ۔۔۔۔
“آپ آنے تو دیں ذرا محترمہ کو اس گھر میں بہت ہی سیدھی ہے بالکل جلیبی کی طرح “۔۔۔
بشرتپ کر بولا ۔۔۔
“اور وہاں سے واک آؤٹ کر دیا “۔۔
وہ دونوں پیچھے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“فراہ میں تم سے بار بار کہہ رہی ہو اپنے فیصلے پر غور کرو “۔۔
فراہ کی موم نے سخت لہجے میں کہا ۔۔
“اومام وہ بہت اچھا ہے”۔/
“بیٹا تم مغرب کی پروردہ ہو تم کیسے اس مشرق کے ماحول میں پلنے والے شخص کے ساتھ رہ سکوں گی؟”۔۔
“مام سمیرے میرے لیے سب کچھ چھوڑ کر یہاں آسٹریلیا آ رہا ہے “۔۔۔
فرح نے سمیر کی وکالت کی ۔۔۔۔
“ہاں تو منع کر دو اس کو اور ویسے بھی کاشی تمہیں کئ دفعہ پرپوز کرچکا ہے “۔۔
ؓمام اپنی ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بولیں۔ ۔
“مام بس آپ نے کہا تھا کہ اگر وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے گا تبھی آپ میری شادی اس سے کرائیں گی” ۔۔
فرح نے جیسے ان کواس سے کیا ہوا وعدہ یاد دلایا ۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا جب حجاب ہمیشہ کے لئے بشر کے نام لکھ دی گئی ۔۔۔![]()
ماما نے اس کو بڑے پیار سے پھولوں سے سجے سجائے کمرہ میں لا کر بٹھایا اور ڈھیر ساری دعائیں دے کر چلی گئیں۔ ۔۔
حجاب نے ان کے کمرے سے جانے کے بعد ۔۔۔۔کمرے کا جائزہ لینے کے لئے جیسے ہی نظر ادھر ادھر گھوم دھک سے رہ گئی ۔۔ ۔ ۔
“بچاو ۔۔۔۔۔۔۔بچاو ۔۔۔۔۔۔”
بشر نے ابھی کچن میں آکر پانی کا گلاس منہ سے لگایا ہی تھا کہ ۔۔۔۔۔ ۔
کمرے سے کسی کے چیخنے چلانے کی آوازیں سن کر پہلے تو وہ ناسمجھی سے دیکھتا ہے ۔
پھر یکدم دماغ میں ایک چھناکا سا ہوتا ہے۔ ۔
“ؓحجاب” ۔۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اندھا دھن کمرے کی طرف آتا ہے کمرے کا منظر دیکھ کر بھوچکا رہ جاتا ہے ۔۔
“ایک دن کی دلہن نہیں بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا محض دو گھنٹے کی دلہن”۔۔
بیڑ کے بیچوں بیچ کھڑی چلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر کود رہی تھی ۔۔
“کیا ہوا ہے “؟۔۔۔
بشر کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نےحجاب کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔وہاں چھ۔ ۔۔چھپکلی” ۔۔۔۔!
وہ سہمی ہوئی آواز میں بولتی بشر کو دیکھ کر مزید بوکھلا جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ گھوم کر دیکھتا ھے سامنے دیوار پر چھپکلی کا چھوٹا سا بچہ نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔
“تم ۔۔۔۔تم اس لئے اتنی عمر ڈھا رہی تھی “۔۔۔۔
بشر ایک جھٹکے سے اسکو بیڈ سے نیچے کھینچتا ہے ۔
وہ اس اچانک افتاد سے اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور بشر ک چوڑے سینے سے الگتی ہے۔ ۔
جب کہ بشر اس کو خشمگیں نظروں سے گھور ر تا ہے ۔ ۔ ۔۔۔۔
“مم ۔۔۔۔۔۔۔ممم ۔۔۔۔مے ۔۔۔۔وہ چھپکلی “
وہ بشر سے مزید بوکھلا جاتی ہے ۔۔۔
“اوف”۔۔۔۔۔۔۔کہاں پھنس گیا “”۔۔۔
بشر اس کو ایک جھٹکے سے چھوڑ کر کمرے سے نکل جاتا ہے ۔۔۔۔
“ارے چھپکلی تو مار دیتے “۔۔۔۔
پیچھے سے حجاب کی آواز ای ۔۔۔۔
