Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 06,07)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

ڈرائنگ روم میں صرف چار نفوس موجود تھے کمرے میں موت جیسا سناٹا طاری تھا ۔۔۔۔

اپنی خالہ کو دیکھ کر آسرا کے رونے میں مزید روانی آ گئی ۔۔۔

آج وہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہاپنے کسی ننھیالی رشتے کو دیکھ اور محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

خالہ کا بھی بالکل اسراء آجیسا ہی حال تھا ۔۔۔

وہ رات دن اپنی بہن کے بارے میں سوچتی کہ کہاں ہوگی، کیسی ہوگی، کس حال میں ہو گی ؟۔۔

انہوں نے کئی دفعہ حویلی بھی فون کیا مگر ایک ہی جواب ہمیشہ موصول ہوتا کہ یہاں کوئی قدسیہ بیگم نہیں رہتیں اور فون بند کردیا جاتا بغیر کوئی بات سنی اور کہے ۔۔۔

وہ اپنی بہن کی آخری نشانی کو آج پہلی دفعہ دیکھ رہی تھیں۔ ۔۔

خالہ کی جیسے ہی آسرا پر نظر پڑی وہ ان کو قدسیہ ہی کی پرچھائیں لگی ۔۔۔

اسراء بالکل اپنی ماں کی شکل تھی ۔۔

خالا نے آگے بڑھ کر اسرا کو خود میں ایک ماں کی طرح چھپا لیا ۔۔۔۔

جیسے انہوں نے روتی ہوئی قدسیہ کو اپنے گلے لگا لیا ہو ۔۔۔

خالو بھی آبدیدہ ہوگئے ۔۔

انہوں نے ہاتھ آگے بڑھ کر اسراکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔۔۔

“بیٹا جس کا جتنا وقت مقرر ہے اس کی سانسیں اتنی ہی دیر چل سکتی ہیں”۔۔۔

انہوں نے اسراکو بہت پیار سے سمجھایا ۔۔۔

ہم بس انسان صبر ہی کر سکتے ہیں اپنے پیاروں کو یاد کر کے ۔۔

خالوا سرا کو گلے سے لگائے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

اسراء کو ایسا لگا جیسے اس کے باپ نے آج پہلی دفعہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ہو ۔۔۔

“اچھا اب آپ لوگوں کی امانت آپ کے پاس ہے مجھے اب اجازت دیں “۔۔۔

ماحول میں تاری سناٹے کو خالدہ انٹی( پڑوسی) کی آواز نے توڑا ۔۔۔

خالہ ان کی آواز سن کر چونکی اور پھر کہنے لگیں ۔۔

“آپ کا بہت بہت شکریہ اس مشکل وقت میں آپ نے ہماری بچی کو تنہا نہیں چھوڑا “۔۔۔

“شکریہ کیسا اسرار جب سات سال کی تھیں تو کچھ سیاہ اس کو یہاں لے کر آئی تھی ۔۔

یہ میرے لئے بالکل میری بیٹی کی ہی طرح ہے “۔۔

خالدہ آنٹی نے اپنے آنسو پونچھ کر کہا ۔۔۔

خالا ان کی دل سے مشکور ہوئیں۔ ۔۔

“اللہ آپ کو جزا دے “

خالہ نے دل سے کہا ۔۔۔

“آپ لوگ کب تک ہیں یہاں ؟”

خالدہ نے دریافت کیا ۔۔۔

“بس بہن ہم کل صبح واپس چلے جائیں گے “۔۔

خالو نے کہا ۔۔

“اچھا آسرا بیٹا میں کل صبح آوگی تمہارے جانے سے پہلے تم سے ملنے پتہ نہیں پھر کب ملاقات ہو سکے گی”۔ ۔

خالدہ نرم لہجے میں بولیں۔۔۔

“جی آنٹی “۔۔۔

اسراء روتے ہوئے ان کے گلے سے لگ گئی ۔۔۔۔

“اللہ تمہیں صبر دے میری بچی اپنا بہت خیال رکھنا اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو “۔۔۔

اور پھر خالدہ اسرا کے سر پہ ہاتھ رکھ کر دعائیں دے کےخدا حافظ کہہ کر چلیں گئی سب کو ۔۔

۔

“چلئے اب آپ دونوں بھی رونا بند کریں اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے قران پاک پڑھیں ۔۔۔

خالہ اسر کو لے کر وضو کرنے چلی گئیں۔ ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

پخ۔ ۔۔۔پخ۔ ۔۔پخ۔ ۔۔

بشر ماما بابا کو چھوڑ کر ایئرپورٹ سے گھر واپس آیا ہی تھاجب لان سے گزرتے وقت بشرکی نظر حجاب پہ پڑھی۔۔۔

بشر کا دماغ گھوم گیا حجاب کو دیکھ کے ۔۔ ۔ ۔

تمام بطخیں اور مور پورے لان میں” ڈسکو ڈانس” کرنے میں مصروف تھے ۔۔

جب کہ وہ بن بتوڑی کبھی ایک کو پنجرے میں بند کرتی تو دوسرا باہر نکل آتا دوسروں کو تو پہلا واپس باہر کود آتا ۔۔۔

البتہ مور اپنے پر کھولے بڑے مزے سے ڈانس کرنے میں مصروف تھے دونوں ۔۔۔

“ارے رکوع کو جلدی جلدی اپنے گھر میں چلی جاؤ تم سب” ۔

حجاب غصے سے لال پیلی ہوتی ان کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔

“اگر ہٹلر آگیا تو میرے ساتھ ساتھ تم لوگوں کو بھی بے گھر ہونا پڑے گا “۔

اب وہ بطخوں کو چھوڑ پہلے موروں کو بند کرنے ان کی طرف بھاگی ۔۔۔۔

“ہائے اللہ جی آج تو ماما بابا بھی نہیں ہے کون بچائے گا مجھ پہ جاری کو “۔۔۔

وہ اب زور زور سے بولتی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ بطخوں اور موروں کو پکڑنے کی بھی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

یہ جانے بغیر کے بشر اس کی تمام حرکات کو ملاحظہ کر رہا ہے ۔۔۔

بشر کو حجاب کیوں پر اس لئے غصہ تھا کہ یہ بطخیں کافی خطرناک تھیں۔۔

دو ایک دفعہ کھولنے پر مالی بابا کو بھی کاٹ چکی تھیں۔۔۔

“حجاب”۔۔۔

بشر کی کاٹ دار آواز نکلی۔ ۔۔

حجاب نیں آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہٹلرکو دیکھ کر اچھل ہی پڑھی۔۔۔

“کس خوشی میں ان کو کھولا ہے پتہ بھی ہے تمہیں یہ کتنی خطرناک ہیں؟”۔ ۔۔

“میری بال اندر چلی گئی تھی پنجرے میں وہی نکالنے کے لئے پنجرے کا دروازہ کھولا تھا اور یہ سب بہار “۔۔۔

“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لا ک بہت مضبوط ہے پنجرے کا کھل ہی نہیں سکتا “۔۔

حجام نے چیونگم چباتے ہوئے کہا ۔۔

“جی۔۔ جی لاک تو بہت مضبوط ہے اگر لگایا جائے تو”۔۔۔۔

اور یہ کہتے ہی زور سے اندر جانے کے لیےقدم بڑھایا ۔۔۔

وہ جلدازجلد لان سے بھاگنا چاہ رہی تھی بشیر کے عتاب کو جو آواز دے چکی تھی اس لیے بھاگنہ ہی اس کو سب سے بہترین آپشن لگا ۔۔۔

اورجیسے ہی اس نے بھاگنے کیلئے پہلا قدم بڑھایا

پیر کے آگے پڑھی کر مچ کی بال تیزی سے اڑ ھ کر بشر کے ماتھے پر پیار بھری “پپی “دے گئ۔ ۔۔

وہ اپنا سر تھام کر وہیں زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔

حجاب کے تو یہ دیکھ کر ہاتھ پیر ہی بھول گئے ۔۔۔

“اوئے تیری مارے گی آج تو “

پنجاب نیں اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کے کہا۔ ۔۔

“آج نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں تم نے اپنی شامت کو خود آواز دی ہے”۔۔۔

بشر اپنا سر پکڑےغصے سے دھاڑا۔ ۔۔

“اور میں بھی دیکھتی ہوں آپ مجھے کیسے پکڑتے ہیں “۔۔

تجارت میں زبان چڑائی اور ٹھنگا بھی دکھایا ۔۔۔

حجاب بھی اپنے نام کی تھی وہ بس تنہائی کی وجہ سے کمرے کی حد تک ہی بشر سے کنفیوزڈ ہوتی تھی۔۔۔

ورنہ تو پورے گھر میں وہ شیرنی بن کر گھومتی تھی ۔۔۔

وہ اب چھلانگ لگا کر اندر غائب ہو چکی تھی۔ ۔۔

حجاب نیں اب پورا دن ماما کے کمرے میں بند رہنا تھا ۔۔۔

وہ دل ہی دل میں تہیہ کر چکی تھی کہ وہ اب رات میں صرف برتھ ڈے میں جانے کے لئے تیار ہونے ہی نکلے گی بس۔ ۔۔

یہ بھی مجبوری تھی کیونکہ اس کو تیار اپنے کمرے میں ہی ہونا تھا ۔۔۔۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

“حمدان بیٹا پس عقل کی ٹکٹ کنفرم کرالو”۔۔

“جی بابا میں آج ہی کی کرا لیتا جو اگر مجھے آج ایک دوست کی طرف بہت ضروری نا جانا ہوتا “۔۔۔

“چلو خیر ہے بس کل کی یاد سے کروا لینا “۔۔

“نہ جانے کیوں اندر سے میرا دل گھبرا رہا ہے جسے کچھ ہو چکا ہو یا کچھ ہونے والا ہو”۔ ۔۔

بابا لیتٹے ہوئے حمدان سے اپنی دوا اور پانی کا گلاس لیتے ہوئے بولے ۔۔۔

حمدان اور بابا کراچی آئے ہوئے تھے ایک اہم ڈیل فائنل کرنا تھی جو وہ اکیلے نہیں کرسکتا تھا بابا کی موجودگی بہت ضروری تھی ۔۔۔

“بیٹا میں نے تمھاری بات پر غور کیا ہے “۔۔

“کس بات پہ بابا ؟”۔۔۔

وہ یہی سمجھا کہ شاید آج کی ڈیل کے حوالے سے کوئی اہم بات ہو ۔۔

وہ بابا کے بیڈ کے پاس چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔

“بیٹا تم نے جو رخصتی کی بات کی تھی اسی سلسلے میں “۔۔

“اگرم تمہاری ماما پیرالائز نہ ہوتیں تو وہ خود بھر جائی سے جا کے سارے معاملات طے کرتیں”۔ ۔

“ماضی میں دونوں کی بہت اچھی دوستی رہی ہے”۔۔

“جی اگر آپ کہیں تو میں کل اسلام آباد پہنچ کر اماں کو لے آؤں پہلے؟ “۔۔۔

“نہیں بیٹا میں ابھی تمہاری دادی کے علم میں کوئی بات نہیں آنا چاہتا “۔۔۔

“ٹھیک بابا جیسا آپ بہتر سمجھیں”۔ ۔۔۔

بابا کوشش کیجئے گا چاچی کو بھی ساتھ ہی حویلی جانے کے لئے راضی کر لیں”۔ ۔۔

“میں ان کو بھی وہاں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا ہوں”۔

۔۔

“وہ اس گھر میں اسرا کے بعد بالکل تنہا ہو جائیں گی” ۔۔۔

“نہیں ابھی تو مصرع کو لے کر حویلی نہیں پاؤ گے “۔۔

“بلکہ یہیں اس گھر میں بھرجائی اور اسراء کے ساتھ کچھ اور عرصہ رہوگے”۔۔

بابا کراچی میں قائم اپنے اسی بنگلے کی بات کر رہے تھے جس میں وہ لوگ ابھی ٹھیرےہوئے تھے ۔۔۔

“جی بابا جیسا آپ بہتر سمجھیں “۔۔

“اس دوران میں کچھ باتیں تمہاری دادی سے ایک ہی دفعہ کر کے ختم کر دینا چاہتا ہوں”۔۔۔

“بہتر بابا یہاں کراچی میں میرے کچھ دوست بھی رہائش پذیر ہیں آس پاس ہی چاچی اور اسرا کو تنہا شہر میں رہنا نہیں پڑے گا” ۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓

“حسین بچپن میرا اس گھر میں گزرا ہے “۔۔

“ادھر میری ماں کے ساتھ میری پیاری پیاری یادیں وابستہ ہیں “۔۔۔

“اور آج اسی گھر میں میری آخری رات بھی ہے “۔۔

اسراء ماما کے کمرے کی ایک ایک چیز کو جو چھو کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ماما کی ہر ہر چیز کی خوشبو وہ اپنے اندر بسا رہی تھی ۔۔۔

“ماما آپ مجھے کیوں تنہا کر گئیں؟ “۔۔۔

“ماما لوٹ آئیں نہ واپس “۔۔۔

“دیکھیں آپ کی آسرا آپ کو بلا رہی ہے رو رہی ہے فریاد کر رہی ہے “۔۔۔

اسرا فرش پہ بیٹھی اپنی ماں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔

“حمدان شاہ اگر میرے سر پہ تمہارے نام کی تلوار نہ لٹک رہی ہوتی تو میں کبھی بھی اپنا گھر اور یہ شہر چھوڑ کر نہ جاتی ۔۔

یہاں میری ماں کی خوشبو بستی ہے۔۔۔

میرا بچپن بچپن بستہ ہے ۔۔۔

مگر میں اپنی ماں کی طرح ایک اور قدسیہ نہیں بن سکتی ۔۔۔

تم وڈیرے لوگ عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہو میں کبھی بھی خود کو تمہاری فرسودہ روایات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دونگی۔۔۔

اور اگر میں ان کی لیتی ہوں اس رشتے کو تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تمہاری ماں یا دادی یا تو خود بھی ۔۔۔

اگر میری بھی اولاد پہلی بیٹی ہوئی تو اگر میرے ساتھ بھی تم لوگوں نے وہی کیا جو میری ماں

نے پوری زندگی جھیلا تو میں اپنی اولاد کے آگے کیا منہ دکھاؤں گی؟؟؟؟

کہ میں نے بھی ایک اور آسرا پیدا کی ہے۔۔۔

نہیں نہیں میں اسے ہرگز بھی نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔

وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلائی ۔۔

اس رشتے کو ہی حمدان شاہ ختم کر دوں گی میں۔ ۔

صفحہ ہستی سے مٹا دوں گی میں اپنا اور تمہارا یہ رشتہ ۔۔۔

ماما کی الماری سے نکاح نامہ نکالے وہ ہاتھ میں لئے خود سے باتیں کرتی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔

خالہ کے گھر جانے کی کچھ دن بعد ہی خالو اور خالہ سے اپنے خلع کی بات کرونگی ۔۔

وہ سوچتے اور روتے روتے نہ جانے کب وہیں زمین پر ہی سو گئی ۔۔۔

اور یوں اس طرح بھی اسلام آباد میں اسکی آخری رات بھی آہستہ آہستہ سر دی گئی ۔۔۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

سمیر کی رہائش ابھی فی الحال فرح کے گھر میں ہی تھی ۔۔۔

فرح کی ماں کا راویہ سمیر کے ساتھ بہت زیادہ اچھا نہیں تھا تو بہت زیادہ برا بھی نہیں تھا ۔۔

وہ رسمی طور پر سمیر کے ساتھ بات چیت کرلیا کرتی تھیں۔۔۔

مگر سمیر کو فرح کے گھر کا ماحول کچھ زیادہ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔

کاشف کا ہر وقت گھر پہ ڈیرہ جمائے رکھنا ۔۔۔

اس پے تضاد فرح کا ہو لیہ اور بے باکی ۔۔۔

میر کو اندر ہی اندر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔۔

سمیر کے دل میں خوشی کے بجائے ایک افسردگی سی اپنے پر پھیلا رہی تھی ۔۔۔

فراح نے کئی دفعہ کہا کہ ماما سے بات کرو شادی کی ڈیٹ فکس کریں تاکہ۔۔۔

مگر سمیر ہر دفعہ یہ کہہ کر ٹال رہا تھا کہ ۔۔۔

پہلے میں اپنی رہائش کا بندوبست کر لو ں۔۔۔

اور فرح ہمیشہ یہ سن کر ایز یو وش کہہ کر کندھے اچکا دیتی ۔۔۔

: “آج میں یہ ساڑھی پہن کر ہی رہوں گی

حجاب بڑے مزے سے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی خود سے باتیں کرنے میں مصروف تھی یہ جانے بغیر کہ بشر کمرے میں آ چکا ہے ۔۔۔

” میں کچھ مدد کر سکتا ہوں میں بتاؤ؟

“۔۔۔

“کیونکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو میدان چھوڑ کر کسی کو تکلیف یا پریشانی میں اکیلا دیکھ کر ایک کمرے میں چوروں کی طرح چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں “۔۔۔

بشر نے دوپہر والی بات پر حجاب پہ چوٹ کی ۔۔۔

حجاب جو کہ یہ سمجھ رہی تھی کہ بشر تیار ہو کے نیچے چلا گیا ہے ۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ خاموشی سے کمرے میں آکر تیار ہو رہی تھی ۔۔۔

کہ بشر کی آواز اتنے قریب سے سن کر ایک دم ڈر کے اچھل ہی پڑھی۔۔۔۔

اس اچانک افتا د پہ حجاب کے ہاتھوں سے ساڑی کا پلو نیچے زمین پر گر گیا ۔۔۔

فل آستین ،گول گہرے گلے والا وائٹ بلاؤز پہنے۔۔

وہ تمام حشر سامانیوں کے ساتھ ۔۔

بشر کے سامنے سراپا امتحان بنی ہوئی تھی ۔۔۔

بشر لمحے بھر کے لیے ساکت سا ہو گیا ۔۔۔

لیکن پھر یاد آیا کہ وہ پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں مزید دیر علی کے غصے کو اور ہوا دے گی یہ سوچ کر وہ دل مسوس کر رہ گیا ۔۔۔

“جی نہیں سٹر ہٹلر آپ ساڑھی باندھنے کے بجائے کھول ہی دیں گے پوری “۔۔۔

حجاب بےساختگی میں بہت معنی خیز بات کہہ گئی تھی اگر اس کو علم ہوتا کہ وہ کیا کہہ گئی ہے تو وہ یوں اس طرح بشر کے سامنے ایک لمحہ بھی کھڑی نہ رہ پاتی ۔۔۔۔

اس کی نظر نیچے اپنی ساڑھی پر تھی وہ بشر کی آنکھوں میں چمکنے والے حسین رنگ نہیں دیکھ پائی۔۔۔

جو حجاب کی اس ایک بات پر بشر کی آنکھوں میں بھر گئے تھے ۔۔۔

“اچھا محترمہ بہت جان گۓ ہو تم تو اپنی شوہر کو”۔۔۔۔

حجاب جو ساڑھی کا پلو اٹھانے کے لئے نیچے جھک رہی تھی بشر نے اس کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا ۔۔۔

حجاب ساڑھی کی وجہ سے ویسے ہی بہت جھن جھلا رہی تھی ۔۔۔

اس پے تضاد بشر کی ذومعنی باتیں اس کے سر پر سے گزرتی اس کو مزید کنفیوز کر رہی تھیں۔ ۔۔

پٹیں یہاں سے مجھے تیار ۔۔۔

وہ جیسے ہی بشر کو نظریں اٹھا کر دیکھتی ہے حجاب کو اپنے دل کی دھڑکن مزید تیز ہوتی محسوس ہونے لگتی ہے۔۔۔۔

بشر نے ابھی بھی اس کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔۔۔

بشرایک جھٹکے سےحجاب کو خود سے قریب کرتا ہے ۔۔۔

گھبرائی کنفیوز سی حجاب کسی ان چھوئی کلی کی طرح اس کی باہوں میں کھنچی چلی آتی ہے ۔۔۔

وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ حجاب اس کی دھڑکنیں تک محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔

” تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں “

؟؟؟؟

“ج۔۔ جج۔۔۔ نہیں مجھے چھوڑیے میں نے تیار ہونا ہے”۔۔

حجاب کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ اب باقاعدہ کانپ رہی تھی ۔

Episode 7

کے اتنے قریب تھا کہ حجاب اس کی دھڑکنیں تک

محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔

” تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں “

؟؟؟؟

“ج۔۔ جج۔۔۔ نہیں مجھے چھوڑیے میں نے تیار ہونا ہے”۔۔

حجاب کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ اب باقاعدہ کانپ رہی تھی ۔

“اف یہ لڑکی میری اتنی سی قربت نہیں سہ پاتی”۔۔۔

بشر منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ۔۔۔۔

مسکراکر اپنے سر پہ ہاتھ پھیرتا ہے۔۔۔

حجاب کےماتھے پے اپنی محبت کی نشانی ثبت کرکے اس کو بہت آہستہ سے اپنی گرفت سے آزاد کردیتا ہے۔۔۔۔

” میں نے نہیں پہننی یہ ساری”۔۔۔

حجاب کو اس کی قربت بوکھلا دیتی تھی۔۔۔

” اچھا بس اب رونا بند کرو میں یوٹیوب لگا رہا ہوں”۔۔۔

” اس پر دیکھ کر باندھ لیں گے “۔۔۔۔

“ہیں آپ کیسے بنوائیں گے”۔۔۔

حجاب کا منہ کھلا رہ گیا حیرانی سے۔۔۔

“کیو ں اس کام کو کرنے کیلئے کیا سرٹیفیکٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔

” آپ کا کام تو بس مجھ سے لڑنا اور غصہ کرنا ہے”۔۔۔۔

حجاب نے منہ بسوڑا۔۔۔

” اچھا”۔۔۔۔

بشر اب خود کو تھوڑا سیریس ظاہر کرکے بولا۔۔

“تو اور نہیں تو کیا آپ کو اور آتا ہی کیا ہے “۔۔۔

حجاب اب اپنی ٹون میں واپس آچکی تھی ۔۔۔

“آتا تو بہت کچھ ہے مائ ڈیئر وائف اگر املاً بتاؤں تو تم پھر رو دوں گی”۔۔

” ایک تو یہ آپ کی باتیں میرے سر پر سے گزر جاتی ہیں”۔۔۔

حجاب جھنجلائی۔۔

” اچھا چلو ابھی تو تیار ہو پھر کبھی اگر تم نے موقع فر اہم کیا تو اپنی تمام باتیں بڑی فرصت سے سمجھاؤں گا بھی اور عمل کرکے بھی دکھاؤں گا”۔۔۔

بشر نے ساڑھی زمین سے اٹھا کر کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے بھئی سمجھا دئے گا۔ ابھی پلیز یہ ساڑھی میں میری ہیلپ کریں”۔۔۔

بشر نے اپنے تمام جذبات پہ لوہے کی زنجیر سے لاک لگا کراس دشمنِ جاں کی ساڑھی یوٹیوب سے دیکھ دیکھ کر باندھ ہی دی آخر۔۔۔

” میں دنیا کا پہلا مرد ہو نگا جو اس طرح اپنی بیوی کی ساڑھی باندھ رہا ہے”۔ ۔۔

بشر نے جل کے سوچا۔ ۔

ایک گھنٹے کی کھینچم تانی کے بعد جیسے تیسے مشن سکسیس فل ہوا۔۔ ساڑھی بند ھ ہی گئی۔۔

بشر صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔۔

” بس حجاب اب جلدی کرو”۔۔

میک اپ نہیں کرو اور بال کھلے چھوڑ دو”۔۔

بشر نے حجاب کو آئ شیڈ لگاتے دیکھ فوراً ٹوکا۔۔۔۔۔

“ارے مگر “۔

“نہیں بس یہ بہت ہے”۔۔

” ایسے ہی محترمہ آفت ڈھا ر ہی ہیں” ۔۔۔

بشر بڑبڑایا ۔۔

حجاب نے وائٹ بلاؤز کے ساتھ پلین شیفون کی ساڑھی کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔

بشر کی جلدی جلدی پر اس نے ریڈ لپ اسٹک ہی لگائی اور آئی لائنر لگا کر بال پشت پہ کھلے چھوڑ دیے۔۔۔۔

بشر حجاب کو دیکھ کر اپنے ضبط کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔

” چلیں”۔۔۔

حجاب نے جلدی سے سینڈلز پہنیں اور ہینڈ کلچ لے کر کمرے سے باہر نکل گئ۔ ۔۔

💗
💗
💗
💗
💗

وہ لوگ علی کے فنکشن میں پہنچ چکے تھے…

علی اور ثناء( علی کی وائف) نے دونوں کو بہت گرم جوشی سے ویلکم کیا۔۔۔۔

سناءنے تھوڑی ہی دیر میں حجاب کو ایک دوست کی طرح خود سے گھلاملالیا۔۔۔

آج حجاب بشر کو بہت حیران کر رہی تھی لگی ہی نہ رہا تھا کہ یہ وہی آفت ہے جو گھر میں تہلکہ مچا کر رکھتی ہے۔۔

حجاب سلیقے سے سب سے مل رہی تھی ۔ ۔

ٹہر،ٹہر کر سب سےسلیقے سے گفتگو کرتی۔

بشر کو حیرانیوں کے سمندر میں دھکیل رہی تھی۔۔ ۔

“اوئے کیا بات ہے ارادے کیا ہیں جناب کے “۔۔

علی نے سیٹی بجاتے ہوئے بشر کو چھیڑا۔۔۔۔۔

وہ بہت دیر سے بشر کو نوٹ کر رہا تھا وہ بات تو اس سے کرہا تھا مگر بشر کی نظریں بار بار حجاب کی طرف بھٹک رہیں تھیں۔ ۔۔۔

“نہیں کچھ نہیں”۔۔۔

بشر نے مکہ بناکر علی کے شولڈر پر رسید کیا۔۔ ۔

” لگتا ہے آج مو وف دل ہار بیٹھے ہیں “۔

توچپ ہوتا ہے یا میں سناء کو شادی کے پہلے والے افیئرز کا بتاو تیرے”۔۔۔

بشر کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور علی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔

” اچھا معاف کردے کیوں شیرنی کے پنجرے میں مجھ ناچیز کو دھکیل رہا ہے؟ ؟؟؟؟؟۔۔

“ادھر آ تجھے کسی سے ملواؤں گا”۔

“کس سے بتا تو”۔۔۔

” ابھی پتا چل جائے گا”۔۔

علی اس کو کھینچتا ہوا حال کی اینٹرنس پہ لے آیا۔۔۔

” اب تو بھی مل دیکھ میں کوئی بھی سرپرائز فضول نہیں دیتا ۔۔۔

بشر حمدان کو اتنے عر صے بعد دیکھ سرپرائز ہو گیا۔ ۔

“دانی تو بے غیرت کہاں غائب ہو گیا تھا ؟؟؟”۔۔

بشر نے حمدان کو دیکھ کر فوراً عزت افزائی شروع کردی اس کی ۔۔۔

“ارے ارے نہ سلام نہ دعا بس ملتے ہی لعنتیا ں شروع کردیں تو نے دینی “۔۔۔۔۔

“تو نہیں سدھرے گا۔” ۔۔۔

حمدان نے آگے بڑھ کر بشر کو گلے لگایا ۔۔۔

وہ لوگ پورے چھ سال بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے ۔۔۔

“ویسے تو یہ بتائے گا کہ تو اتنے عرصے مرا کہا تھا”۔۔۔

بشر حمدان کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔

“یار پہلے اسپیشلائزیشن کے لئے ملک سے باہر چلا گیا تھا” ۔

“تجھے اتنی دفعہ کال بھی کی”۔۔

بشر بولا۔ ۔

۔سم چینج کرنی پڑی اس لیے کہ ایک حسینہ تیرے دوست سے شدید قسم کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی وہ الگ بات ہے کہ مابدولت نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نمبر ہی بدل ڈالا”۔۔

حمدان نے بشر کے کندھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔

البتہ علی ایکسکیوز کر کے چلا گیا کسی گیسٹ کو رسیو کرنے۔۔۔۔

” چل سم کا تو سمجھا آگیا”۔۔۔۔

گھر تو آ سکتا تھا نہ”۔

بشر نے مزید لتاڑا ۔۔

” بیٹاسم میں نے بدلی مگر گھر تو نے بدلہ تھا “۔۔

حمدان نے تیوری چڑھا کر کہا ۔۔۔

“مطلب تو گیا تھا پہلے والے گھر؟؟”۔۔۔

” جی جناب اور وہاں جا کر پتہ چلا کہ آپ لوگ شفٹ ہوگئے ہیں” ۔۔

“چل یہ سب چھوڑ بچے کہاں ہے لایاہے یا نہیں”۔۔/

بشر نے پوچھا۔۔۔

” بیوی اور بچے ہا۔ ۔ہا۔ ۔ہا” ۔۔

“ابھی بی وی کابو نہیں آرہی اورتو بچوں کی بات کررہا ہے “۔۔۔۔

حمدان مصنوعی بے بسی چہرے پر تاری کی ۔۔۔۔،”

مطلب؟؟؟

بشر نہ سمجھی سے بولا۔ ۔۔

” یہ کہ ہماری زوجہ محترمہ رخصتی کے لیے تیار نہیں ہیں” ۔۔

” اور جب تک رخصتی نہیں ہو گی تو بچے کیسے ہوسکتے ہیں””۔۔۔

” خیر میرا چھوڑ تو بتا کہاں ہیں آج کل شادی کی یا ویلا ہی گھوم رہا ہے؟؟”۔۔۔

حمدان نے موضوع تبدیل کیا ۔۔۔

“شادی ہوچکی ہے میری 20 دن پہلے “۔۔

بشر نے بتایا ۔۔

“بہت مبارک ہو مگر میرے بغیر ہی “۔۔

“یار ایک تو تیرا اتا پتا نہیں تھا اوپر سے میری شادی بھی بہت ہنگامی حالات میں قرار پائی تھی “۔۔”

“مطلب میں کچھ سمجھا نہیں”۔۔

حمدان نیں کہا ۔۔۔

” بشر آپ یہاں ہیں میں کتنی دیر سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں”۔۔

حجاب بشر کو ڈھونڈتی ہوئ آئ۔ ۔۔

” سلام علیکم”۔۔۔

حجاب نیں جھٹ سلام کیا۔ ۔

بشر کےبرابر میں کھڑے ہمدان کو۔۔۔

“وعلیکم سلام “۔۔

بشر یہ ؟؟۔۔

حمدان نے کچھ بھی بولنے سے پہلے تعرف چاہا۔۔

“یہ حجاب ہے میری وائف”۔۔

” اور حجاب یہ حمدان عرف دانی میرے بچپن کا دوست”۔۔

“نائس ٹو میٹ یو”۔۔

حجاب نے کر ٹیسی نبھائی۔۔۔

“نائس ٹو میٹ یو ٹو بھابی”۔

ہمدان کو چھوٹی سی معصوم سی حجاب بشر کی لائف پارٹنر کے طور پہ بہت پسند آئی۔۔

بشر تو آج حیران ہی ہو رہا تھا حجاب کے طور طریقے دیکھ کر لوگوں سے علیک سلیک اور دھیمی آواز میں سب کو اچھے طریقے سے ملتی کہیں سے بھی وہ بشر کی” بن بتوڑی” نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

“اف آج تو بہت تھک گئی”۔۔۔

حجاب سالگرہ سے گھر آکر اپنی وارڈروب کھول کے کھڑی رات کے لئے کپڑے نکال رہی تھی۔۔

جب بشر کمرے میں آیا اور حجاب کو اپنی وار ڈروب میں گھسے دیکھ کر ایک شیطانی سی مسکراہٹ بشر کے لبوں پہ آ کر معدوم ہو گئی ۔۔۔

“اب آئے گا مزا بن بتوڑی “۔۔

جبکہ حجاب اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئ ابھی حجاب کو اندر گئے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے جب ایک زور دار چیخ کی آواز کے ساتھ ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر وہ چنگھاڑتی ہوئی نمودار ہوئ۔۔۔

” کس نے کیا ہے یہ؟ ؟؟؟؟”

وہ اپنی شرٹ ٹراوزر آگے کر کے بولی۔۔۔

“اللہ یہ بھی”۔۔

حجاب نے دوسرا ڈریس نکالا پھر ایک کے بعد دوسرا سب کے حالت ایک سی ہی تھی ۔۔۔

وہ صدمے سے بولی ۔۔۔

“مجھے پتہ ہے یہ سب آپ نے ہی کیا ہے”۔۔۔

حجاب باقاعدہ بشر کی طرف بڑھی وہ ابہی تک ساڑھی میں ہی تھی ۔۔۔

“کیوں میں کیوں کرنے لگا؟؟”۔

بشر نے ابرو اچکا کر کہا ۔۔

“اس لیے کیوں کہ آپ نے مجھ سے بدلہ لیا ہے میں نے آپ کے کپڑوں کو جو خراب کیا تھا”۔۔۔

وہ بیڈ پر بیٹھے بشر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔

جب بشر سے چند قدم کے فاصلے پر اس کا پیر اپنی ہی ساڑھی میں الجھا اور وہ اوندھی بشر کے اوپر گر پڑی۔۔۔

” محترمہ اتنا ہی قریب آنے کا شوق ہے تو مجھ سے کہہ دیا ہوتا”۔۔۔۔

بشر نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر دیے۔۔۔۔

” چھوڑئے مجھے “۔

حجاب نے بشر کی سانسیں اپنے چہرے کو جھلسا تی محسوس کیں۔ ۔۔۔

” اور اگر نہ چھوڑوں تو”؟؟؟؟۔

بشر نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر جب کہ دوسرا اس کے بالوں میں نرمی سے پھیر رہا تھا۔۔۔

اور پھر آہستہ سے وہ حجاب کو اپنے چہرے کے اوپر جھکا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اوآوچچچچچ “۔

بشر نے حجاب کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا حجاب نیں گھبرا کر بشر کے کان پر اپنے دانت گھاڑھ دیئے تھے۔۔۔

بشر اپنا سرخ کان پکڑ کر تلملا کر رہے گیا۔۔۔

حجاب موقع کا فائدہ اٹھا کر ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی۔۔۔

” جنگلی بلی نہ ہوتو”۔۔

بشر بڑھایا”۔۔

” میں بھی دیکھتا ہوں کب تک مجھ سے دامن بچا ؤ گئی”؟؟؟؟۔۔

بشر کے لبوں پر بڑی دلفریب مسکراہٹ تھی۔۔۔

” اب منزل دور نہیں “

وہ اچھی طرح حجاب کی بدلتی ہوئی کیفیات نوٹ کر رہا تھا یہی وجہ تھی جو وہ اس کو ٹائم دے رہا تھا۔۔۔

اب اس کے دل میں ایک خواہش ابھر رہی تھی کہ حجاب خود اس کی طرف بڑھے پہلے کی بات اور تھی جب وہ اپنے اور بشر کے رشتے اور حقوق نہیں سمجھتی تھی مگر اب وہ اس میں بہت کچھ تبدیلیاں دیکھ رہا تھا وہ بھی ایک محبت کرنے والا دل رکھتا تھا اور محبت کا جواب محبت سے ہی چاہتا تھا مگر اب حجاب کی دوری وہ زیادہ دن نہیں سہہ پائے گا یہ وہ بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا۔

_________

حجاب ڈریسنگ روم میں آکر ادھر ادھر دیکھتی ہے کہ شاید کچھہلکا پھلکا رات کو پہننےکے لئے مل جائے ۔۔۔۔۔

مگر اسے و ہاں ادھر ادھر ڈھونڈنے پر بھی کچھ ایسا نہیں مل سکا ۔۔

سوائے ماما کے دیے ہوئے “نائٹ ڈریس “کے۔۔

حجاب نے شکر کا سانس لیا۔۔۔۔

” اب آئے گا مزا اب دیکھو میں کیا کرتی ہو “۔۔۔

حجاب کچھ سوچ کے بڑبڑائ۔ ۔۔

آ دیکھیں زرا۔۔۔

کس میں کتنا ہے دم ۔۔۔

وہ اب باقاعدہ گنگنا رہی تھی ۔۔۔

حجاب نائٹی اٹھاکر چینج کرنے چلی گئی۔۔۔

ہجاب جب چینج کر کے باہر آئ اس وقت بشر واش روم میں تھا ۔۔۔۔۔

وہ بڑی خاموشی و شرافت سے اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹ گئی اور کمفرٹر سر تک ڈھانپ لیا ۔۔۔

“مائے سویٹ ہارٹ صبح آپ کو بہت فخر ہوگا

میرے کپڑےاتنے بہترین ڈیزائن کرنے پر “۔۔

“چھوڑنے والی تو میں بھی نہیں ہوں آپ کو بس اب صبح کا انتظار ہے “۔۔

“بشر فریش ہو کر کمرے میں آیا”۔۔

سوتی ہوئ حجاب کو دیکھا ۔۔۔

وہ سر سے پیر تک خود کوکمفرٹرسے چھپائے شاید سورچکی تھی۔ ۔۔

بشر لبوں پہپیاری سی مسکراہٹ بکھر گئ۔ ۔

” لگتا ہے بن بتوڑی کا دماغ ٹھکانے پرآنا شروع ہو گیا ہے”۔۔

تیرا ہونے لگا ہوں۔ ۔۔

کھونے لگا ہوں۔ ۔۔

بشر نے سیٹی بجاتے ہوئے شوخ سی دھن گنگنائی ۔۔

“چلو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی”۔۔۔

۔ بشر مزید حجاب کو تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے خاموشی سے آکر اپنی جگہ پر لیٹ گیا

💫
💫
💫
💫
💫
💫

صبح بشرکی آنکھ پہلے کھل گئ۔ ۔۔

اس نے اٹھ کر ٹائم دیکھا۔۔۔

گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی ۔۔۔

حجاب پہ نظر ڈالی وہ کمفرٹر میں گھسی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔۔

ابھی وہ فریش ہونے کے لئے اٹھ رہا تھا جب

اس کا موبائل بج اٹھا ۔۔۔

اسکرین پر بابا کا نمبر دیکھ کر اس نے فوری کال ریسیو کی

“السلام علیکم بابا”۔۔۔

” وعلیکم اسلام بچہ”۔۔۔

“سب خیریت ہے بچہ “۔۔

“جی بابا سب خیر ہے”۔۔۔

“کل ماما سے بات ہوئی تھی آپ سو رہے تھے اس وقت”۔۔۔

“جی بچہ ماما نے بتایا تھا آپ کی صبح “۔۔

“حجاب کہاں ہے؟

” لاؤ بات کراوُ اس سے میری”۔۔

” با با حجاب سو رہی ہے”۔۔

” اٹھتی ہے تو کال کرواتا ہوں”۔۔

“اچھا بچہ اب ہم لوگ ناشتہ کر کے 12بجے تک ائیر رپورٹ کیلئے روانہ ہوں گے”۔۔

” ٹھیک ہے بابا میں ر سیو کر لوں گا آپ لوگوں کو”۔ ۔۔۔۔۔

“چلو اب آپ بھی ناشتہ کرو”۔

” فی امان اللہ بیٹا”۔۔۔

” فی امان اللّہ بابا “۔۔

بشر نے بات ختم ہونے کے بعد فون بند کیا ۔۔۔

وہ حجاب کو سوتا سمجھ کر روم سے باہر نکل جاتا ہے۔ ۔

دل تو کیا کہ اٹھا دے ساتھ ناشتے کے لیے مگر پھر ایک خیال ذہن میں کوندا۔۔

” شہد کی مکھی سے فلحال دور ہی رہنا چاہیے۔”۔۔۔ “ابھی تو وہ زخمی شیرنی بنی ہوئی ہوگی”۔۔

بشر ایک نظر حجاب پر ڈالتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

بشر کے جاتے ہی حجاب فوراً اٹھ کے بیٹھ گئی۔۔۔

وہ اس کے جانےکا ہی تو انتظار کر رہی تھی ۔۔۔

ورنہ اٹھ تو وہ تبھی گئی تھی جب بشر بابا سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔

جلدی جلدی فریش ہو کر برات والا نائٹ ڈریس (نائٹی) بغیر تبدیل کیے وہ کمرے سے باہرنکل گئ۔۔

“میرے پیارے ‘hubby’ اب تم اپنی جیب خالی کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ شلوار قمیض میں نہیں پہنتی”۔۔۔

” تم نے میری اتنی پیاری پیاری ٹی شرٹس کاٹ دیں” ۔۔۔

حجاب کو رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔

“ہیلو میرے پیارے ہٹلر “۔۔

حجاب بشر کے سامنے کھڑی بہت دلکش انداز اورایک ادا کھڑی صبح کا سلام پیش کر رہی تھی۔۔۔۔

بلکل کوئ فلم کی ہیروئن کی طرح ۔۔۔

بشر نے جواب دینے کے لئے جیسے اس کو دیکھا ۔۔۔

بشر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ایساب میں ایکدم اشتعال سا بھر گیا۔۔۔

” یہ کیا پہن کر نکلی ہو ؟؟؟؟”۔۔۔

بشر کا دماغ بھک سے اڑ گیا اس کو نائٹی میں باہر دیکھ کر

“کیوں کیا ہوا؟؟؟؟”۔۔۔۔

حجاب نے شرارتی لہجے میں آنکھیں پٹ پٹا پٹا کر معصومیت سے کہا ۔۔۔۔

ملازمہ جو ابھی ابھی ڈرائنگ روم ناشتہ لے کر داخل ہوئی تھی حجاب کو دیکھ کر پوری بتیسی کی نمائش اس نے مفت میں کر ڈالی ۔ ۔۔۔

بشر شرمندگی اور غصے کی اتھاہ گہرائیوں میں تھا۔۔۔۔

” تم جاؤ یہاں سے اور اپنی یہ بتیسی اندر کرو “۔۔۔۔

وہ ملازمہ پہ دھارا۔۔۔

ملازمہ اپنی ہنسی بامشکل ضبط کرتی وہاں سے کھسک گئی ۔۔

بشر اپنی کرسی سے اٹھا اور حجاب کا ہاتھ سختی سے پکڑ کےکمرے میں کھینچتا ہوا لے کر آیا۔۔۔۔

“تم یہ کیا بیہودہ لباس پہن کر باہر آئی ہو” ۔۔۔

“کونسا بیہودہ لباس ؟؟؟

“میں نے تو نائٹ ڈریس پہنا ہے “۔۔۔

حجاب نیں معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ۔۔۔

” میں بتاؤں کیا ہے اس میں؟ ؟؟؟؟”۔۔

بشر طیش کے عالم میں حجاب کی طرف بڑھا۔۔۔۔ وہ آج شدید زچ ہو چکا تھا۔۔۔

حجاب اس کے تاثرات دیکھ کر الٹے قدموں پیچھے دیوار سے جا لگی ۔۔۔۔

حجاب کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ ۔۔

بشر نے اس کی کلائی پکڑ کر اسکا منہ دیوار کی طرف کیا اور اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر رکھ کر

کلائی سختی سے مروڑی ۔۔۔

کلائی بشر کے ہاتھوں حجاب کی کمر پر سختی سے مڑی ہوئ تھی ۔۔۔

“پلیز چھوڑیں مجھے ۔۔۔

درد سے اس کی آنکھوں میں نمی بھر گئی ۔۔۔

“اس لباس میں تمہیں دیکھنے کا حق صرف اور صرف میراہے “۔۔۔

“میرے علاوہ چاہے کوئی بھی ہو میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی نظر تمہارے جسم کےنشیب و فراز پر پڑے”

میں نےتمہیں اگر ڈھیل دی ہوئی ہے۔۔

اس کا ہر گز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی من مانی کر”۔۔

وہ آج پہلی دفعہ اس سے خائف ہوئی تھی۔۔۔

وہ تو سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنی غلطی پر پچھتائے گا مگر یہ کیا ۔۔۔

بشر اس کی نمی سے بھری آنکھوں کو دیکھ کر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کے کمرے سے نکل گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *