Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 13)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

ادھر حمدان پوری طرح سے آگ کے دہکتے ہوئے شعلوں کی زد میں آ چکا تھا ۔ ۔

“کوئی کیسے تمہیں ہاتھ لگا سکتا ہے ؟؟؟”

“کیسے تمہارے گال کو چھو سکتا ہے؟؟؟؟”

بشر اس کا بہت اچھا قریبی دوست صحیح مگر وہ اس وقت صرف اسراءکا شوہر بن کر سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسراء کو کسی بھی طرح وہاںسے غائب کردے۔ ۔

“بس تم ایک دفعہ میر ی دسترس میں آ جاؤں “۔۔۔

حمدان کے دل میں اسراء کے لئے منفی خیالات گردش کرنے لگے ۔۔

و ہ ہر گس بھی شکی نہیں تھا وہ تو اس طرح کے کمزور ضرف مردوں کو لعنتیاں ملامتیاں بھیجتا کرتا تھا ۔۔۔

لیکن اسراء اس کو اس مقام پرخودلا آئی تھی ۔۔۔

و ہ بھول گئی تھی؟؟؟

یا جان کر بھی انجان بن نہ چاہ رہی تھی ؟؟

کہ وہ اس کا شوہر ہے وہ اس سے زیادہ دن اس طرح بھاگ نہیں سکتی ۔۔

مر دچاہے کتنا اچھا ہی کیوں نہ ہو پر اپنی بیوی کے لئے پوسیسو ھی اچھا لگتا ہے ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

حجاب اب تیار ہو رہی تھی ایئرپورٹ نکلنے کے لئے

موٹ البتہ اوف ہی تھا ۔۔

بشر جب کمرے میں آیا تو ایک نظر اس کے گول گپے کی طرح کچوری ہوتے منہ پر ڈالی ۔۔

بشر کو ہنسی آگئی وہ جو باہر سے غصے میں سوچتا آیا تھا کہ۔۔

” یہ کر دے گا وہ کر دے گا “۔۔

“خوب سنائے گا “۔۔

“آج تو وہ حجاب کی طبیعت ہرن کر دے گا “۔۔

اس چھوٹی سی جلیبی کی طرح سیدھی و معصوم لڑکی کو دیکھ کر بشر کا سارا طنطنہ اور اکڑ۔۔۔

کمرہ کا دروازہ بند کرتے ہوئے۔۔

و ہیں وہ بھی کہیں باہر ہی بند ہو کر رہ گئی تھی ۔۔

اور ہمیشہ جب سے وہ اس کی زندگی میں آئی تھی یہی تو ہوا تھا کہ وہ جب جب اس کی طبیعت صاف کرنے کی ٹھان تا تھا ۔۔۔

تب تب حجاب کی کوئی معصوم سی شرارت اس کے دل و دماغ کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیتی تھی ۔

اور وہ گھنٹوں اس کے حصار میں قید ہو جاتا ۔۔

وہ لڑکی ان سات ماہ کے عرصے میں اس کی زندگی بن چکی تھی۔۔۔

وہ تورات میں کی گئی اس کی شرارت پہ بھی اس سے دو دو ہاتھ کرنے آیا تھا ۔۔۔

مگر سب کچھ دھرا کا دھارا ر ہے گیا ۔۔

اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کس طرح سے اس کی لگائی ہوئی مرچوں کا حساب برابر کرے گا ۔۔۔

“مرچی لگاؤ کا میں سجنی کے نام کی”۔۔۔

“اب تم بچ کرتو دکھاؤ پھلجڑی”۔۔

“وہاں تو تم ہو گی میں ہوں گا اور بس ہمارا کمرہ ، تنہائی ہرررررےےےےے” ۔۔۔

“اس دفعہ اینٹ کا جواب ایسے پتھر سے دوں گا” ۔۔”کہ تم مجھ سے پنگا لینے سے پہلے سو دفعہ نہیں بلکہ کروڑوں دفعہ سوچو گی “۔۔۔

ماما بابوخا کو تو چمچہ بنانے کے بجائے پورا اپنا بیلچہ ہی بنا لیا ہے ۔۔۔۔

“اس بل بتوڑی نہیں “۔۔

“دوری نہ رہے کوئی “

“آج اتنے قریب آؤ “

“میں تجھ میں سما جاؤں”

” تم مجھ میں سماجاؤ “۔۔ن

پشر کمرے میں گنگناتا ہوا تیار ہونے لگا۔

حجاب حیران تھی کہ ابھی تک یہ لسوڑہ پھوٹا کیوں نہیں؟ ؟؟

“کیا اس کی اسکن چمپینزی کے جیسی ہے جو اس پہ مرچوں کا اسر ہی نہیں ہوا ؟؟؟”۔۔

وہ شیشے کے سامنے بال سلجھاتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔۔

اس کو بشر کا اطمینان ہضم نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

آریج کی کل پریزنٹیشن تھی وہ اس کی تیاری کرتے کرتے جب تھک گئی تو کچن سے چائے بنا کر کپ لیکر تھوڑی دیر ہوا خوری کرنے کے لئے لان میں آ کر بیٹھ گئی ۔۔

“اپنی شادی کے دن اب نہیں دور ہیں”۔۔

” میں بھی تڑپا کروں تو بھی تڑپ کر ے”

آبھی اس نے چائے کا دوسرا سپ ہی لیا تھا ۔۔

جب نہ جانے کہا ں سے زوار آدھمکا اور ایک لوفرانہ ادا سے اپنی گولا گنڈاسی ڈارک آتشی اور گولڈن شرٹ کا کالر سیدھا کر کے فحش قسم کا گانا گانے لگا ۔۔

“یہ اپنا افہیم چیوں والا بھو تا لے کر و ہیں کہسکو

جہاں تم جیسی full tunn موجود ہو ں”۔ ۔۔

“میرے سامنے سے یہ اپنا گوریلا جیسا منہ لے کر دفعان ہو جاؤ” ۔۔

ذوار اس کی تمام باتیں اک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہا تھا۔ ۔

اور بڑی کمینگی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ تھی کہ جیسے اس نے اریج کو فتح کر لیا ہو ۔۔

اریج کے دل سے اب مار مار کھا کھا کے اندر کا ڈر خوف ختم ہو گیا تھا “۔۔۔

شاید وہ اس مار کی عادی ہو گئی تھی۔۔

‘رہنے دو تم ایک کام کرو ڈیڈی اور اپنی اس سویٹ سکسٹین بہن کے پاس جا کے خوب اپنا یہ پگ جیسا گلا پہاڑ پھاڑ کر رووُ اور بتاؤ”۔۔

” میں نے تمہاری اوقات گدھے سے بھی بد تر کر دی ہے اور خوب چیخ چیخ کے رو نہ تاکہ وہ تمہیں جلدی سے لولی پاپ دےکر چپ کرا دیں اور پھر تم تالیاں بجانا خوش ہوں کے۔”۔۔۔

۔

یہ کہ کروہ اپنا چائے کا مگ اٹھاکر واپس اپنے کمرے میں جاکر بند ہو گئی ۔۔

4 ماہ بعداس کی شادی زوار کے ساتھ کرنے کے آرڈر جاری ہو چکے تھے ۔۔

ان چار ماہ کا بھی صرف اس لئے انتظار کیا گیا تھا تاکہ سبحان آسکے ۔۔۔

وہ اب ہر احساس اور جذبات سے عاری ہو چکی تھی اس کو کسی بھی چیز سے سروکار نہیں رہا تھا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

حجاب اور بشر کو گئے ہوئے 2 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے جب ماما گھرائ ہوئ بابا کے پاس آئیں۔۔

“کیا ہوا سب خیریت تو ہے “۔۔

“جی۔۔ جی ۔۔۔۔نہیں “۔۔

ماما کی آنکھوں میں آنسو تھے

“اسراء تو ٹھیک ہے نہ اور تم رو کیوں رہی ہو ؟؟؟”۔۔

اسداء تو ٹھیک ہے مگر آپ کے ۔۔۔۔

________

ماماگھبراکر سہیل صاحب کے پاس آئی

“کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا؟؟؟؟”

“جی۔۔ جی۔۔ ننہیں”۔۔

سائرہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔

اسراءتو ٹھیک ہے نا اور تم رو کیوں رہی ہو ؟؟؟؟

“ہاں آسرا تو ٹھیک ہے مگر آپ کے”۔۔

“کیا ہوا ہے؟؟؟؟

” پہلے سکون کا سانس لو اور مجھے صحیح سے بتاؤ “۔۔

“وہ انیس بھائی جان کی حالت بہت خراب ہے ہمیں ابھی اور اسی وقت کیسے بھی کرکے اسلام آباد نکلنا ہوگا “۔۔

“ابھی ابھی بھابھی کا فون آیا تھا بھائی صاحب کی حالت دوبارہ سے بگڑ گئی ہے ڈاکٹر نے انکو 24گھنٹوں کا وقت دیا ہے”۔۔

وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر بولتی چلی گئیں

آخر کو ان کے اکلوتے جیٹ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے ۔۔

آ

سائرہ کی بات سنکر سہیل صاحب کے بھی حواس معطل ہو گئے ۔۔۔

اور وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولے ۔۔

“چلیں آپ تیاری کریں میں ٹکٹس کر آتا ہوں “”۔

جاتے ہوئے وہ پلٹے اور سائرہ بیگم سے کہنے لگے کہ۔ ۔۔۔

“لیکن سائرہ اسر ا ءکو کیسے تنہا چھوڑ سکتے ہیں؟؟؟”۔

“ہاں یہ تو آپ ٹھیک کہے رہے ہیں مگر اس کو لیجہ بھی تو نہیں سکتے اس کی طبیعت ہی ایسی نہیں ہے “””۔۔

سہیل صاحب صحیح معنوں میں آسرا کو لے کر فکر مند ہو رہے تھے ۔۔

یہاں ان کا کوئی رشتہ دار بھی نہیں تھا سب ہی اسلام آباد میں مقیم تھے۔ ۔۔

“اگر ایسا ممکن ہوجائے کہ بی اماں اسراء کے پاس

آجائے ؟؟”۔۔

سائرہ بیگم کو خیال آیا کہ اگر ایسا ہو جائے تو آسرا کی طرف سے ان کی پریشانی قدرے دور ہوجائے گی۔۔۔

سہیل صاحب کو ان کی یہ تجویز مناسب لگی۔۔

کیونکہ اس وقت بی اماں کے علاوہ کوئ ان کو بھروسہ کے قابل نہ لگا تھا ۔۔

سہیل صاحب نے ٹائم زایہ کیے بغیر فوراًحمدان کے گھر فون کھڑکھڑایا ۔۔

“اسلام علیکم “۔۔

“جی وعلیکم السلام صاحب کون بات کر رہے ہیں؟؟؟”

“جی میں سہیل بات کر رہا ہوں بشر کا والد مجھے بی اماں سے بات کرنی ہے “۔۔۔

“جی بہتر “۔۔

اور کچھ ہی لمحوں میں بی اماں لائن پے تھیں ۔۔

بی اماں کو تمام صورتحال بتا کر انہوں نے اپنے گھر رہنے کے لیے کہا۔۔

مگربی اماں حمدان کے خیال سے راضی نہ ہوئیں اور اسراء کو بے فکر ہو کے اپنے پاس چھوڑ کر جانے کے لئے کہا ۔۔

سہیل صاحب اور سائرہ کو ان کی یہ تجویز بھی بری نہ لگی اور سمجھ میں آئی ۔۔۔

💓
💓
💓
💓

“آپ میری اور اپنی پیکنگ کریں نہ جانے کتنے دن لگ جائیں آسرا کو دیکھ لو زرا میں”۔۔۔

سہیل صاحب سائرہ سے گویا ہوئے۔ ۔

وہ آسرا کے کمرے میں آئے آسرا بیڈ پہ نیم دراز سوچ کی وادی میں گم تھی۔۔۔

یہاں تک کہ وہ سہیل صاحب کے کمرے میں آکر اس کے پاس موجودگی کو بھی محسوس نہ کر سکی ۔۔۔

“آسرا میرے بچے اب کیسی طبیعت ہے ؟؟؟”

اسراء ان کی آواز پہ واپس ہوش کی دنیا میں آئی اور دوپٹہ ٹھیک کر کے ادب سے ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

“جی خالو اب ٹھیک ہوں” ۔۔

اس کی نقاہت زدہ آواز نکلی ۔۔

“بیٹا اپنا خیال رکھو تم میری بیٹی ہو بڑی اور میں اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں “۔۔۔

سہیل صاحب اس کو ایک باپ کی طرح محبت اور شفقت سے سمجھا رہے تھے ۔۔۔

“بیٹا میرے بھائی کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے ہمیں فوری اسلام آباد کے لئے نکلنا ہوگا “۔۔

سہیل صاحب نے اسراء کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور اس کو بتایا کہ وہ اس کو اپنی ایک “عزیز” کے گھر چھوڑ رہے ہیں یہاں ملازموں کے بیچ میں اس کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔۔۔۔

اسراء خاموش رہیں اور چپ چاپ خالو کی بات پر سر جھکا گئ۔۔۔۔

🌷
🌷
🌷
🌷

خالہ اور خالو اسراء کو حمدان کے گھر چھوڑ کر بی اماں کے حوالے کرکے جاچکے تھے۔۔

“ہائے میری دھی تو بہت بیمار ہے آچل بیٹھ میرے پاس پتری “۔۔

اسراء کو پر خلوص سی بی اماں بہت اچھی لگیں

“جی آنٹی”۔۔

” اور مجھے آنٹی مت کہو تم میرے پوتے جیسی ہی ہو میرے لئے مجھے بی اماں ہی کہو “۔۔

اسرانے اثبات میں سر ہلایا ۔۔

پھر عشاء کے بعد بی اماں کے ساتھ کھانا کھا کر وہ تھوڑی دیر صوفے پر بیٹھی۔۔

جب اس کو خیال آیا کہ کیا اس گھر میں اور کوئی نہیں ہے بی اماں کے علاوہ مگر اس کو پوچھا مناسب نہ لگا۔ ۔۔

“اچھا بیٹا میں اب سوُ نگی تم اوپرجاوُ وہاں ‘پرلی’ طرف تمہارا کمر تیارکروا دیا ہے “۔۔۔

“پرلی طرف”؟؟؟؟؟

آسرا کو پرلی کا مطلب سمجھ نہیں آیا وہ رائٹ لیفٹ یا دائیں باِئیں ہی جانتی تھی ۔

ابھی اس نے پوچھنے کے لئے لب وا ہی کیے تھے کہ بی امّاں عشاء کی نماز کیلئے نیت باندھ چکی تھیں۔۔۔

وہ اوپر تو آ گئی مگر اس کو پرلی طرف کا کمرہ نہیں مل رہا تھا ۔۔

“ہوسکتا ہے یہی ہو ایک کمرے کا دروازہ تھوڑا کھلا دیکھ کر اس کو لگا شاید یہ کمراہی اس کے لیے کھولا گیا ہے”۔۔

وہ کمرے کے اندر داخل ہو گئی کمرہ انتہائی خوبصورت انداز میں ڈیکوریٹڈ تھا ۔۔

بیج وائٹ اور ڈارک چاکلیٹی کلر کی تھیم دی گئی تھی پورے کمرے کو۔۔۔

اسرانےپورے کمرے کا جائزہ لینے کے بعد اپنا سامان سائٹ پر رکھا اور عشاء کی نماز کے لئے وضو کرنے چلی گئی ۔۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

حمدان رات دیر سے گھر پہنچا اور بغیر کسی کو جگائے اپنے کمرے کی طرف بڑھا کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔

سردیوں کی راتیں ہر سو خاموشی کا راج

گھڑی کی ٹک ٹک کی کی آواز پورے ماحول میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی ۔۔۔

اس نے لائٹ ان کی پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔۔

اسی وقت اسراء واش روم سے باہر نکلی۔

حمر ان کو کمرے میں پاکر اس کی آنکھیں خوف کی زیادتی سے پھٹی پڑھ رہی تھیں۔ ۔۔۔

حمدان اپنی گھڑی اتار کے جیسے ہی مڑہ اسراء کو اپنے کمرے میں رات کے اس پہر بیچ ودبیچ استادہ یکھ کے حیران رہ گیا ۔۔

اسرا ہاف سلیو کی شارٹ شرٹ اور ڈھیلا ڈھالا ٹراوزر پہنے ہوئے تھی۔۔

حمدان ان کی نظریں یکلخت اسراء کے و جود کے نشیب و فراز میں الجھ کر رہ گئیں۔۔

حمران کو سامنے دیکھ کر اسرا شرم اور سراسیمگی سے اپنا دوپٹہ ادھر ادھر تلاشنے لگی۔۔

🌷
🌷
🌷

بشر اور حجاب دبئ پہنچ چکے تھے اور آب اپنے

ہوٹل شیرٹن 0۔4 بر دبئی میں تھے ۔۔

“تم فریش ہو لو جب تک میں کھانے کا آرڈر کرتا ہوں”۔۔

بشر نے حجاب کو کہا جو محض دو گھنٹے کے سفر سے ہی تھک چکی تھی ۔۔

اور اب صوفے پر سر ٹکا ئے آنکھیں موندے نیم دراز تھی ۔۔۔

“آج 7 بجے میری ایک کلائنٹ سے میٹنگ ہے اس کے بعد رات میں ڈیرہ دبئی کی طرف چلیں گے”۔۔۔

بشر نے پروگرام بتایا ۔۔

ا” بھی ریسٹ کرنا ہے تو کر لو رات میں پھر مجھے مت کہنا کہ میں نے تھکا دیا “۔۔

وہ زو معنی لہجے میں بولا ۔۔

بشر پہ پھر سے شوخی سوار ہو رہی تھی ۔۔

“ہاں ویسے بھی آپ کے منہ ہی کون لگنا چاہتا ہے “؟؟؟؟

حجاب سوٹ کیس میں سے کپڑے نکالتے ہوئے بولی۔۔۔

“تم منہ لگنا نہیں چاہتی تو کیا ہوا مجھے تو لگنے دو اپنے منہ”۔۔

بشر مزید پٹری سے اترا ۔۔۔

حجاب بھی اب پہلے جیسی کوئی اتنی کمسن نہیں رہی تھی ۔۔

بشر کے ساتھ رہے کے کچھ کچھ اس کی اور اپنے درمیان رشتے کے تقاضوں کو سمجھنے لگی تھی ۔۔۔

بشر کی قربت اور اسکا لمس اسے بہت کچھ سمجھا چکا تھا اور وہ خود بھی بشر کے بارے میں اکثر سوچنے لگی تھی۔۔۔

اسرااوربشر کو اتنا قریب دیکھ کے وہ اپنے کمرے میں آئ اور اپنی دوست آریج کو فون کرکے دل ہلکا کیا ۔۔۔

اریج نے بہت چاہا اس کے دل سے بشر کے لئے آی بدگمانی اور شک کی دیوار کو مٹانا ۔۔

مگر حجاب کی اپنی ہی منتقیں تھیں۔۔

اریج نے ہر ممکن کوشش کی حجاب کو اس کے اور بشر کے رشتے کے اتارچڑھاؤ اور باریکیاں سمجھانے کی ۔۔

“حجاب تم اپنی حرکتوں سے اپنے شوہر

کو خود اس مقام پر لے کر آؤں گی”۔۔۔۔

” اگر وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں رہا ہو گا تو تمہاری حرکتوں سے عاجز آ کر وہ ضرور اس قسم کی روش اختیار کر سکتا ہے” ۔۔

“یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ اس کو ایز آ سسٹر ڈیل کر رہا ہوں “۔۔

“تمہاری انہی حرکتوں سے وہ تم سے بدظن ہو جائےگا” ۔

آریج نہیں چاہتی تھی کہ حجاب کا کسی بھی طریقے سے گھر خراب ہو یا اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ناچاقی پیدا ہو۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ حجاب کو اس کی باتیں سمجھ ائیں یا نہیں مگر وہ حجاب کو لیکر خود بہت پریشان ہو چکی تھی ۔۔۔

حجاب ایک تیکھی نظر بشر پہ ڈال کر اپنے کپڑے باہر ہولڈر پہ ٹانگ کے ٹاؤل لیے شاور لینے چلی گئی۔۔۔

“چل بشر اب لگ جاکام سے”۔۔

” اب تیرے جسم پے لگائی ہوئی مرچوں کے ایک ایک ذرے کو برف میں بدلنے کا ٹائم ہو چکا ہے” ۔۔

پشر تیزی سے اٹھا اور حجاب کے لٹکا ئے ہوئے سوٹ کو اپنے پاس بیڈ پہ رکھ کر وہیں دراز ہو گیا ۔۔۔

ٹی وی چلا کر ایکشن مووی کا چینل لگا کر ریموٹ سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔

مووی ابھی شروع ہی ہوئی تھی وہ انہماک سے مووی دیکھنے میں مشغول ہو گیا ۔۔

“اب بن بتوڑی میرے دل جگر پھیپڑے سب کو ٹھنڈک ملے گی “۔۔

اج بھری محفل میں کوئی بد نام ہو گا

بشر مسکراتے ہوئے گنگنانے لگا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *