Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 02)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 02)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
بشر جیسے ہی کمرے سے باہر نکلتا ہے۔۔
سامنے ماما اور بابا کمرے کے دروازے کے باہر کھڑے ہوتے ہیں ۔۔۔
بشر شرمندہ سا آگے بڑھتا ہے ۔۔
بابا کچھ بھی بولے بغیر خاموشی سے واپس ہو جاتے ہیں ۔۔۔
البتہ ماما اس کا راستہ روکے کھڑی رہیں۔ ۔۔۔
“کیا ہوا بیٹا سب خیریت تو ہے “۔۔؟
ماما کچھ جاتے ہوئے استفسار کرتی ہیں ۔۔
مگر کڑی نظروں سے بشر کو بھولنا نہیں بھولتیں۔ ۔
“جج ۔۔۔۔جج۔ ۔۔جی ماما سب ٹھیک ہے “۔۔۔
بشر خامخا نظریں چراتا آگے بڑھ جاتا ہے ۔۔۔
“کچھ نہ کرنے پر یہ حال ہے کچھ ہوجائے تو پتا نہیں کیا کریں گے “۔۔
بشر منہ ہی منہ میں بر بڑھاتا ہے ۔۔۔۔
اس کو رہ رہ کر ماما کی لاڈلی بہو کے اپر تاؤ آتا ہے۔۔۔
مامااس کو گھورتے ہوئے کہتی ہیں ۔
۔ “بشر ر کو “
بشر جانے کے لئے پر تول رہا ہوتا ہے ماما کی آواز پر پلٹتا ہے ۔
“جی”
“حجاب ابھی بہت معصوم ہے اور نہ سمجھ بھی اس کا خیال رکھنا” ۔۔۔
ماما کی بات پر وہ مزید شرمندگی سے لال ٹماٹر ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
بشر کا بس نہیں چل رہا ہوتا کے حجاب کا سر ہی پھاڑ دے ۔۔۔
ماما کچھ بھی کہے بغیر مشرقی کمرے کی طرف رخ کرتی ہیں۔ ۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“بیٹا اب کچھ سوچ لے “
“کب تک تم باپ بیٹے اس کلمو ہی عورت کا انتظار کرتے رہو گے ؟”
دادی پاندان بند کرتے ہوئے کچھ تنفر سے گویا ہوئیں۔
“اما تو اتنی بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر”۔۔۔
“بھر جائی بہت اچھی تھی “
“ہوسکتا ہے اس رات کچھ ایسا ہوا ہو جو ہمارے علم میں ہی نہ ہو “۔۔
مقیم صاحب جیسے ماں کو سمجھانا چاہتے تھے ۔۔
” اے بچے مجھے سب پتا ہے کون صحیح تھا کو ن نہیں “۔۔
“ماں جی جب ہمدان کا نکاح ہوا تھا وہ پورا چودہ سال کا تھا وہ کوئی بچہ نہیں تھا میں نے اسے ایک دوبارکہا تھا کہ تم شادی کر لو پتہ نہیں اب lسرا کہاں ہے”؟
ما ں جی ہم تم گوشی سے مقیم صاحب کی بات پوری سن رہی تھیں۔
“مگر وہ کہتا ہے کہ میں اپنی منکوحہ کو کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کے رہوں گا”۔۔۔
“بڑا آیا ۔۔۔پتا نہیں میں اپنے پوتے کے بچے دیکھ سکوں گی یا نہیں” ۔۔۔
“تو یہ سمجھ لے جیسی ماں تھی ویسی ہی بیٹی بھی ہوگی “۔۔
“ما ں جی بھرجائی بہت نیک سیرت تھی “
“ہنہ۔۔۔۔ نیک سیرت “۔۔۔
اماں نے ہنکارا بھرا
“بڑی آئ نیک سیرت پہلے میرے سونے لال کو اس کی نحوست کھا گئی اور اب میرے پوتے کو میں کسی صورت قربان نہیں ہونے دوں گی “۔۔۔
ماں جی کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی ۔۔
“”نہ کیا کر مجھ سے ایسی باتیں اماں مجھے بہت چھپتی ہیں مجھے بھر جائیں کبھی بھی غلط یا کسی بھی صورت قصوروار نہیں لگی “۔۔۔
“چلیں بابا “۔۔۔
حمدان جو اندر آ رہا تھا تمام باتیں سن لیں ۔۔
مگر خاموش رہا
“اے میاں کہاں نا سلام نا دعا “۔۔۔۔
دا دی نے لتاڑا ۔۔
ہمد ان کو بالکل بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی کسی کے کردار کی دھجیاں اڑائے ۔۔
“السلام علیکم دادو آج بابا پروٹین چیک اپ ہے میں شہر سے اسی لیے آیا ہوں بابا بہت دنوں سے خود سے نہیں جا رہے “۔۔۔
ہمدان جیسے جلدازجلد ان کے سامنے سے ہٹ نہ چاہ رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ماما دو تین دفعہ نوک کرتی ہیں بشر ک کمرے کا دروازہ ۔۔۔۔
مگر جب کوئی آواز نہیں آتی تو آہستہ سے دروازہ وا کرتی اندر جاتی ہیں ۔۔۔
مگر یہ کیا ۔۔۔۔۔
کمرے کی حالت دیکھ کر چکرا سی جاتی ہیں ۔۔
سامنے دیوار پر طرح طرح کے نقش و نگار بنے ہوتے ہیں (شاید چھپکلی کا کر یہ کرم کیا گیا تھا )۔۔۔۔۔
سینڈل ۔۔۔۔برش ۔۔۔ریموٹ ۔ ۔حد یہ کہ ہر وہ چیز جس سے دیوار پر بےدردی سے کسی کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔۔۔۔
“البتہ جیسے ہی ماما کی نظر حجاب پر پڑتی ہے۔۔۔ جو بالکل معصوم سی بغیر اپنا لباس اور جیولری اتارے مدہوش نیند کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔۔۔
ماما آگے بڑھ کر اس پر کمفٹر ڈال کر اور محبت بہت آہستہ اس کا آدھا زمین پر گرا ہوا ہاتھ اس کے سینے پر پر احتیاط سے رکھ کر بار چلی جاتی ہے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔
وہ اور ما ماجیسی ہی ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلی سامنے رے سیپشن سے مرتے شخص کی آنکھیں پتھرا گئیں جیسے۔۔۔۔۔
دوسری طرف کچھ ایسا ہی حال قدسیہ بیگم کا بھی تھا ۔۔۔۔
پورے بیس سال کے طویل عرصے کے بعد وہ اس چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بہت جلد میں تمہارے سامنے ہونگا “
سمیر بے خودی سے بولا ۔۔
“ہاں مجھے بھی بہت انتظار ہے اب یہ لمحےگزرتے نہیں ہیں”۔۔۔//
فرح نے کہا ۔۔۔۔
“بس میرے آتے ہی ۔۔۔جو ہے ہم شاپنگ کریں گے شادی کی اور ایک دو دن میں نکاح” ۔۔۔۔۔
“اف لگتا ہے بڑی مشکل سے میری بیوی تم سے برداشت ہو رہی ہے “۔۔۔۔۔۔
“اپنی شادی کے دن اب نہیں دور ہے ۔۔۔۔ تو بھی تڑپآ کرے میں بھی تڑپاکروں۔ ۔۔”
سمیراب باقاعدہ گنگنا رہا تھا ۔۔ ۔
۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
اگلے دن صبح وہ فریش ہونے کمرے میں آتا ہے پہلی نظر اس کی حجاب پر پڑتی ہے ۔۔۔۔
وہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔۔۔
حجاب ابھی تک شرارے میں ہی تھی ۔۔۔۔
ایک پاؤں زمین پر لٹک رہا تھا ۔۔۔۔
بندیا ماتھے سے بالوں میں الجھ چکی تھی
1پاؤ شرارے میں سے تھوڑا بہار تھا ۔۔۔
ھاتھ بیڈ کے نیچے لٹک رہا تھا
کمفٹر آدھا بیڑ پر تو آدھا زمین کی زینت بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔
عجیب وغریب طریقے سےمحترما بڑے مزے سے سو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بشر سلگتی ہوئی نظر حجاب پر ڈالتا باتھ روم کی طرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔
بڑبڑاتے ہوئے اس کو اپنی قسمت پر رہ رہ کر غصہ آ رہا ہوتا ہے ۔۔۔
ا”ووں۔ ۔۔۔۔۔اووووں۔ ۔۔۔”
بشرابھی برش بی کر رہا ہوتا ہے کہ جب عجیب و غریب آوازیں سن کر باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر اپنی گردن باہر نکال کر دیکھتا ہے تو مزید بھنوٹ ہو جاتا ہے ۔
حجاب صاحبہ اٹھ چکی تھیں ۔۔۔
دونوں ہاتھ ہوا مے تھے اور مزے سے انگڑائیاں لی جا رہی تھیں ۔۔۔
“پہلی دلہن ہو گی جو اس قسم کی انگڑائیوں سے صبح کا آغاز کر رہی ہے۔ ۔””
“بشر جل بھن کر سوچتا ہے اور زور سے باتھروم کا دروازہ بند کرتا ہے”۔۔
حجاب ایک دم چونک کر اپنی موندی موندی آنکھوں سے باتھ روم کی طرف دیکھتی ہے اور برا سا منہ بنا کر کہتی ہے۔۔۔
” ہٹلر نہ ہو تو “۔۔۔۔
اب وہ مکمل طور پر کمرے کا جائزہ لیتی ہے خوبصورتی سے سجے سجائے گلابوں پے نظر پڑتے ہی وہ ادھر ادھر دیکھتی ہے مطلوبہ شہ hمل ہی جاتی ہے ۔۔۔
وہ فولڈنگ چیر کو کھول کر اب اس پر چڑھ کر پھول اتار رہی تھی ۔۔
“اماں کہتی تھی پھولوں کو نہیں توڑا کرو جن بھوت پیچھے پڈ جاتے ہیں اور یہاں تو ہر طرف بس یہی ہیں “۔۔۔۔۔
“پتہ نہیں کتنے جن بھوت اب تک جمٹ چکے ہوں گے مجھ سے “۔۔۔
وہ خود پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونک مارتی ہے ۔۔۔
بشر زور سے bathroom کا دروازہ کھول کر فریش ہو کے نکلتا ہے ۔۔۔۔
لمحے بھر کو مبہوت سارہے جاتا ہے ۔۔۔
ؤ زنی شرارہ کا دوپٹہ lتر چکا تھالمبے سلکے بال پورے اس کی پشت پر بکھرے ہوئے تھے ۔n
وہ ایک مکمل خوبصورتی کا پیکر تھیں کمر سے نیچے آتے بال دودھ ملائی جیسی رنگت
سمارٹ فگر ۔۔اس پے تضاد کے معصوم اور کمسن حسن بشر کو جیسے مدہوش سا کر رہا تھا ۔۔۔
وہ ساقط سا کھڑا ہی تھا کہ ایک۔۔۔۔۔۔۔
چر ر ۔۔۔۔۔۔
کی آواز پے وہ یکدم حواسوں مے لوٹ تا ہے ۔۔
جیسے ہی اس کی نظر چیئر پر پڑتی جو بیلنس وٹ ہونے کی وجہ سے واپس fold ہوری تھی۔۔
بشر فورا بھاگتا ہوا ہجاب کی طرف آتا ہے اور اس کو زمین بوس ہونے سے پہلے ہی اپنی مضبوط باہوں میں بھر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“۔گر گئی۔۔۔۔۔ گر گئی”۔
وہ زور زور سے چیخ رہی تھی۔۔۔
یہ محسوس کیے بغیر کے وہ اپنے شوہر کی مضبوط باہو کے حصار میں قید ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔
اس کے زور زور سے چیخنے چلانے پے بشر ایک دم گھبرا جاتا ہے ۔۔
“
کیا ہے چپ ہو جاؤ”
جنگلیو کی طرح مت چیخو ۔۔۔۔
وو حجاب کے لبوں پے اپنا ہاتھ رک دیتا ہے۔ ۔ آوچ ۔۔۔۔
حجاب اس کے ہاتھ پےاپنے دانت گڑھا دیتی ہے ۔۔
بشر بل بلاتا ہوا اس کو چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔
حجاب جواب ابھی بھی آنکھیں بند کئے چیکھنے میں مصروف تھی ۔۔
وہ اب دھڑام سے زمین پر گر چکی تھی۔
“گر گئی۔۔۔۔ گرگئی۔۔۔۔۔
حجاب جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آتی ہے مگر اب کیا دلہن ساہبا زمین بوس ہو چکی تھی ۔۔ ۔
“کیوں گرایا؟ “۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بشر کو بولتی ہے۔۔۔
اوربشر ایک جلانے والے مسکراہٹ اس پر اچھالتا ،۔
“گڈ مارننگ”۔
کہتا باہر نکل جاتا ہے۔۔۔۔
حجاب اپنی کمر پہ ہاتھ رکھ kr اب اٹھنے کی کوششوں میں تھی ۔۔۔![]()
_________
آج ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی حجاب آج برات سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی گرین اور پنگ کے امتزاج کا غرارہ پہنے وہ بڑے مزے سے اسٹائل مار مار کر کیمرہ مین کو حیران اور” پریشان” بھی کر رہی تھی۔۔۔۔
بشر : “یہ اپنا چھچھور پن تھوڑا کم کرو “۔۔
حجاب :”2،3 پوز اور “۔۔۔۔
بشر کی گھوریاں بھی حجاب کو باز نہیں رکھ پائیں۔۔۔۔
“سر آپ تھوڑا قریب آئے “
“میم آپ سر کے سینے پر سر رکھئیے”
کیمرے مین نے کہا ۔۔۔۔
“ارے ایسے تھوڑی بشر آپ میرے شولڈرس پر ہاتھ رکھیں اور میں آپ کے سینے پر سر رکھوں گی”۔۔۔
حجاب نے جیسے فوٹوگرافی میں” پی ایچ ڈی” کر رکھی تھی ۔۔۔۔۔
بشرشرمندگی سے پانی پانی ہو رہا تھا بس نہیں چل رہا تھا حجاب کا سر ہی پھاڑ دے۔۔۔
یاچلوبھر پانی میں خود ہی ڈوب جائے۔۔۔
“حجاب کیمرہ مین کو زیادہ پتا ہے نہ کس طرح pics لینی ہوتی ہے “۔
بشر نے حجاب کو دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ غصے سے حجاب کو کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا کہ سامنے سے سمیر کو آتا دیکھ کر چپ ہو گیا ۔۔۔
“چلیں بس بہت ہے یہ پکس بشر گویا صبر کا سانس لیتا ہے “۔۔۔
وہ حیران تھا اور آجز بھی حجاب کی ان اوٹ پٹانگ حرکتوں پر۔ ۔۔۔
ادھر حجاب جو کہ ابھی اور کوئی پوسز مارنے کے لیے تیار تھی ۔۔۔۔۔
سمیر کو آتا دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئی ۔۔۔
سمیر اور بشر اب باتوں میں مصروف تھے۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“بیٹا حوصلہ رکھو بھرجائی بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی “۔۔۔۔
مکیم صاحب نے اسراء کے سر پر ہاتھ پھیر کر گویا تسلی دینا چاہی ۔۔۔۔۔
وہ اپنے بھائی کی اکلوتی بیٹی کو یوں اس طرح روتے دیکھ کر خود بھی افسردہ ہو رہے تھے ۔۔۔بھتیجی بھی وہ جو بیس سال بعد ان کی نظروں کے سامنے آئی تھی ۔۔ ۔ جس کو انہوں نے اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کے لئے اپنی محبت اور شفقت دینے کے لئے اپنے بیٹے سے محض اسراء کی سات سال کی عمر میں ہی نکاح کروا دیا تھا ۔۔۔
وہ آسرا کو ہر طرح کے سرد و گرم سے بچانا چاہتے تھے ۔۔۔
اسرا کو تو جیسے اردگرد کی کچھ خبر ہی نہیں تھی ۔۔
وہ اپنی ماں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنے رب کے آگے گڑ گڑائے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
“اے میرے اللہ تو میری ماں کو زندگی دےدے” ۔۔۔
“بدلے میں مجھ سے میرا تو سب کچھ لے لے۔۔
اے میرے اللہ میاں جی میری ماں کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں ہے میرا “
وہ اپنے حواس میں نہیں تھی جب سے ڈاکٹر نے اس کو بتایا تھا قدسیہ بیگم کو دوسرا ہاٹ اٹیک آیا ہے وہ گویا اپنے حواس کھو بیٹھی تھی اور جب سے رو رو کے بار بار یہی جملہ دہرا رہی تھی ۔۔۔۔
حمدان جو کب سے خاموشی سے آسرا کو روتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ایک گلاس میں ٹھنڈا پانی انڈیل کر اسراء کے لئے لایا ۔۔۔
اسراء نے گلا س تھام لیا اور ایک ہی سانس میں پی گئی ۔۔۔
ایسا لگتا تھا جیسے بالکل ہی جان نکلنے کی ہو اس کی ۔۔۔
“رو نہیں چاچی بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی “۔۔
ڈاکٹر سے میں نے پوچھا تھا ان کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دیر میں چاچی کو ہوش آجائے گا”۔۔۔
اس نے بس خاموش نظر حمدان پر ڈالی اور واپس اپنے مشغلے میں مصروف ہوگئ۔۔۔
حمدان کو اپنے اور اسراء کے درمیان رشتے کے بارے میں علم تھا اور آج وہ اپنی ہم سفر کو سامنے دیکھ کر جہاں خوش ہوا تھا وہاں اس کا ہر آنسو اس کو اپنے دل پر گرتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
جب اس کا نکاح اسراء سے ہوا وہ چودہ سال کا تھا۔۔
حمدان اچھی طرح اس رشتے کی اہمیت کو سمجھتا تھا ۔۔۔۔
دادی کے لاکھ کہنے پربھی وہ اسراء سے کبھی بھی بددل نہیں ہوا ۔۔۔۔
اس کو آج بھی یاد ہے وہ چھوٹی سی معصوم سی ہری آنکھوں والی بچی جو ہر وقت منہ بصورتی رہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔۔۔
اور جب بالکل ہی تھک جاتی تھی کوئی اس کی بات نہیں سنتا تھا تو احمد ان کی انگلی پکڑ کے اس کے ذریعے اپنی بات سب سے منواتی تھی ۔۔۔
گویا اس کو یہ یقین تھا کہ باباماما کے بعد بس وہی ہے جو اس کی ہر خواہش پوری کر سکتا ہے ۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ولیمے کی تقریب ختم ہونے کے بعد وہ لوگ گھر آئے پھر ۔۔۔۔۔۔
ماما حجاب کو کمرے میں لے کر آئیں اور بہت نرمی سے بولی۔۔۔۔۔
“بیٹا میں بشر کی ماں ضرور ہوں مگر اب تمہاری بھی ماں ہوں۔ ۔۔۔ تم زندگی میں کبھی بھی مجھے اپنی ماں سے کم نہیں پاؤں گی”۔۔۔۔
حجاب کی آنکھیں ان کی اس بات سے جھلملا گئیں۔۔۔۔۔۔
“جی آنٹی “۔۔۔۔۔
حجاب بس اتنا ہی کہہ سکی۔ ۔۔
“ارے ابھی تو بتایا ہے کہ میں آپ کی مما ہو ں” ۔۔
انہوں نے پیار سے حجاب کے سر پر چپت رسید کری۔۔۔۔
“مما “۔۔۔۔وہ کتنے دن بعد یہ لفظ بول پائی تھی ضبط سے حجاب کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔
ماما نے اس کو اپنے سینے میں بھینچھ لیا ۔۔۔
دو موتی ان کی آنکھوں سے بھی گر گئے ۔۔۔۔اور حجاب کے کامداد دوپٹے میں جزب ہوگئے ۔۔
۔
“نہ بچہ ایسے نہیں شاباش آج کے بعد میُں آنسو نہ دیکھو آپ کی ان پیاری سی آنکھوں میں “۔۔۔
ماما نے پیار بھری خفگی سے اس کو ڈانٹ پلائی ۔۔
ماما اس کی پیشانی پر پیار کر کے کمرے سے جانے لگیں کے کچھ یاد آنے پر واپس مڑیں اور بولیں۔۔۔
“اچھا گڑیا آپ کا “نائٹ ڈریس “واش روم میں ہے فریش ہو کے پہن لیے گا “۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں کمرے سے نکل گئیں۔۔۔۔
حجاب نےشریف بچوں کی طرح گردن ہلا دی ۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
“باباآ پ جائیں میں ہوں ادھر “
حمدان نے بابا کو کہا ۔۔۔۔
بابا بضد تھے کہ وہ ھوسپٹل میں ہی رہیں گے ۔۔
۔
“نہیں بابا آپ جائیں آپ کا ویسے بھی بی پی کافی ہآئی ہے ڈاکٹر نے آپ کو آرام کے لئے کہا ہے “۔۔۔
بابا جو بار بار ضد کر رہے تھے اب خاموش ہوگئے وہ جانتے تھے ان کا بیٹا جو بات کہہ دے اس کو آخری فیصلہ سمجھتا ہے ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔میں پھرصبح آؤں گا “۔۔۔
یہ کہہ کر وہ ایک نظر اسرا ء اور قدسیہ پر ڈالتے اسراء کو تسلی دےکر ہسپتال کے کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔۔۔۔
اسراءابھی بھی صوفے پر بیٹھی ہسپتال کےکمرے میں زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔
حمدان سے اس کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
حمدان اب دو زانو بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو محبت سے تھام لیتا ہے ۔۔۔
“اگر اب تم چپ نہیں ہوئی تو میں تمھیں گھر بھیج دوں گا “۔۔۔۔۔/
وہ تھوڑا دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔۔۔
اس کی یوں اس طرح ہاتھ پکڑنے سےوہ ایک دم ہوش کی دنیا میں آئی۔۔۔۔۔
اور اپنے ہاتھوں کو فورا اس کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت سے کھیچنا چاہا ۔۔۔۔
حمدان جو اس کو ہی گہری نظروں سے گھور رہا ۔تھا۔ اسکی اس حرکت پر اتنی پریشانی کے عالم میں بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔۔۔
“آپ ۔۔۔آپکی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی “۔۔
وہ اس کی گہری نظروں اور اس قدر قربت سے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اس کو پہلی دفعہ کسی مرد نے چھوا تھا ۔۔۔
حمدان کے چھونے سے اسراء کے پورے جسم میں جھرجھری سی پھیل گئی تھی ۔۔۔
حمدان اب مزید محضوض ہوا۔۔۔۔ا۔
اس کو وہ معصوم سی گھبراہٹ چھپاتی لڑکی بہت اچھی لگ رہی تھی سیدھا اس کے دل میں اتر کر گھر کر رہی تھی ۔۔۔۔
حمدان نے اس کا مزید دھیان بٹانے کے لئے کہا ۔۔
“ہمت تو میری اور بھی بہت سی چیزوں کی ہے “
وہ ا سکے کہ کان کے بہت قریب آ کرسرگوشیانہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔
وہ اس کی اس حرکت پر سرخ پڑ گئی اور ایک جھٹکے سے اس کو پرے دھکیلا ۔۔۔
“آپ پلیز ایسا نہ کریں مجھ سے دور رہیں میں آپ کی تایا کی بیٹی ہوں بس اس لئے آپ کا احترام کر رہی ہو ں “۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی گھبراہٹ اس کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے تھوڑا اپنے آپ کو نڈر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے الٹا ہی بول گئ ۔۔۔
“ارے ابھی سے آپ میرا احترام کرنا سیکھ گئی ہیں ۔۔اچھی بات ہے مستقبل قریب میں تمہیں پریشانی نہیں ہوگی “۔۔۔۔
وہ اس کے گالوں پہ آئ آوارہ لٹ کو اپنی شہادت کی انگلی پر لپیٹا معنی خیز انداز میں بولا ۔،۔
اس کی اس حرکت پر اسراء کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی ۔۔۔۔
رات ایک بجے کا وقت تھا ماحول میں عجیب سی فسوں خیزی سی تھی ایک فریق بہت کچھ جانتا تھا اور دوسرا بہت کچھ باتوں سے بے خبر کچھ بھی نہیں.
