Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ فاتح سر کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی اس دن کی مدد کے لئے پر وہ اس دن اسے کالج سے گھر کر باہر ڈراپ کرنے کے بعد ایسے غائب ہوا تھا کے اسکا کوئی سراغ ہی نہیں مل رہا تھا۔ اس دن وہ اتنی پریشانی میں تھی کہ اسے اندر آنے کا بھی نہ بول سکی ۔ گھر کے باہر جیسے ہی گاڑی رکی وہ بنا اسے دیکھے اندر کی طرف بڑھ گئی تو وہ بھی گاڑی وہاں سے بهگا لے آیا۔ اگلے دن کالج آ کر وہ فاتح سر کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی پر وہ نہ آیا۔ اسے ایک کلاس فیلو سے پتا چلا تھا کہ فاتح سر دو ہفتے کی لیو پر ہیں۔ وہ اس بات کو اگنور کر چکی تھی پر بار بار آج کل فاتح سر کا خیال دماغ میں آ رہا تھا۔ وہ خود سے بھی اس بات کا اعتراف نہیں کر رہی تھی کہ وہ انھیں مس کر رہی تھی۔
“دعا فاتح سر اپنے آفس میں تمہیں بلا رہے ہیں۔”
وہ اسائنمنٹ بنانے میں مصروف تھی جب ایک لڑکی نے آ کر پیغام دیا۔ وہ چونک گئی۔ فاتح سر 2 ہفتے بعد آئے تھے اور آج کلاس بھی اٹینڈ نہیں تھی کی پھر اسکو اپنے آفس کیوں بلا رہے تھے۔
“اوکے میں جاتی ہوں۔”
وہ اپنی چیزیں چیئر پر رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور سر کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔
سر کے آفس کے باہر کھڑے ہو کر اس نے ایک دفعہ پھر سے کندھے پر پڑا دوپٹہ سہی کیا اور پھر دروازہ نوک کیا۔
“یس ۔”
فاتح کی بھاری گھمبیر آواز آواز سن کر اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔ پیچھے دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔
فاتح نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ ماہ جبین سفید یونیفارم زیب تن کیے کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ کانچ سی نیلی آنکھوں پر اس وقت پلکوں کی جھالڑ گرائے چہرے پر ازلی بھولپن سجائے وہ اسکو پھر سے اپنا دیوانہ کر گئی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ فاتح ابراھیم نے حسن نہیں دیکھا تھا۔ اس نے بے پناہ حسین لڑکیاں دیکھی تھیں پر اسکا دل آج تک کسی کی طرف مائل نہیں ہوا تھا۔
فاتح ابراھیم خان کے دل پر چڑھے خول کو دعا حیدر نے چٹخآیا تھا۔
“آ۔۔آپ نے بلایا سر ؟”
اس نے ذرا کی ذرا نظریں اٹھائیں اور اپنا سوال اسکے سامنے پیش کر کے جلدی سے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔
“جی آئیں پلیز بیٹھیں آپ۔” وہ اسے چیئر کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا۔
اسکے کہنے پر وہ قدم بڑھا کر آگے آئ اور کرسی پر ٹک گئی۔
“آپکو میں نے کلاس کی سی- آر بنایا تھا اینڈ آئ ہوپ میری غیر موجودگی میں آپ نے سب سہی سے ہینڈل کر لیا ہوگا۔”
“جج ۔۔۔جی سر۔”
اسکے اس طرح گھبرانے اور گڑبڑانے پر وہ گھنی مونچھوں تلے مسکراہٹ دبا دیا۔
ابھی وہ مزید کوئی بات کرتا کہ دروازہ پھر سے نوک ہوا تھا۔
فاتح نے بدمزہ ہو کر دروازے کی جانب دیکھ کر اجازت دی ۔
آنے والی امايا تھی۔
“دعا جلدی چلو تمھارے گھر سے کال آئ تھی تمھارے پاپا کی طبیعت بہت خراب ہے ہمیں جلدی تمھارے گھر پہنچنا ہوگا۔” وہ چہرے پر پریشانی سجائے دعا کو بتا رہی تھی۔
اسکی بات سن کر دعا کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھی اور باہر نکل گئی۔ امايا بھی اسکے پیچھے بھاگی۔
°°°°°°°°
وہ سرخ آنکھیں لئے کمپیوٹر کے اگے بیٹھی کام کر رہی تھی۔ ساری رات جاگنے اور رونے سے اسکی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں اور سر بھی بری طرح دکھ رہا تھا۔ اسے ایک فائل پر مستقیم سر سے سائن لینے تھے۔
اس نے فائل اٹھائی اور سر کے آفس کی جانب قدم بڑھائے۔ بے دھیانی میں ہی اسکا ہاتھ لگا اور دروازہ کھلتا چلا گیا۔ سامنے صوفے پر لال بالوں والی ایک ماڈرن سی لڑکی مستقیم کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ اسکے نوک کیے بغیر اندر آنے پر اسکے چہرے پر ناگوار تاثرات چھا گے۔
“یہ کون لڑکی ہے مستقیم جسے یہ بھی تمیز نہیں کے نوک کر کے اندر آتے ہیں۔” وہ اپنے لہجے کی نا گواری چھپائے بغیر بولی تھی۔
“بیہیو نینا یہ میری سیکرٹری ہیں مس حریم اور مس حریم یہ میری کزن ہیں نینا آپ پلیز آئیں اندر اور بیٹھیں۔”
وہ پہلے نینا کو تنبیہ کرتا بولا اور پھر حریم کو مخاطب کر کے اپنی کرسی کی طرف بڑھ گیا۔
” نو سر بس مجھے اس فائل پر آپکے سائن لینے تھے۔ آپ پلیز یہاں سائن کر دیں بس۔” اس نے کہنے کے ساتھ فائل مستقیم کی طرف بڑھائی تو مستقیم نے پڑھے بغیر اسکی نشاندہی پر فائل پر سائن کر دیے۔
سائن لینے کے بعد اس نے فائل پکڑی اور وہاں سے نکل کر اپنے کیبن کی طرف بڑھ گئی۔
اس کے جانے کے بعد مستقیم نینا کو اگنور کرتا اپنے لپپ ٹوپ میں بزی ہو گیا اور نینا خود کو اگنور ہوتا دیکھ کر تن فن کرتی وہاں سے نکل گئی۔
°°°°°°
نینا کے جانے کے بعد وہ سامنے پڑے لیپ ٹوپ کی سکرین گرا دی۔
وہ حریم کی سرخ آنکھوں کو یاد کرتا انٹر کوم اٹھا گیا۔
“مس حریم میرے آفس میں آئیں آپ ابھی۔”
“مے آئ کم ان سر۔”
وہ سرخ بوجھل آنکھوں کے ساتھ اندر انے آنے کی اجازت مانگ رہی تھی۔
“یس کم مس حریم۔”
“جی سر آپ نے کس لئے بلایا مجھے۔”
اسکی بوجھل آواز پر وہ ایک گہری نظر اس پہ ڈال گیا۔
“مس حریم آپ یہاں آ کر چیئر پر بیٹھیں پہلے۔” اسکے بیٹھنے کے بعد وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوا۔
“مس حریم آپ ٹھیک ہیں ؟ اپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ کیا ہوا ہے؟”
وہ پریشانی سے اس سے استفسار کر رہا تھا۔
“آئ ایم فائن سر بس سر میں تھوڑا درد تھا۔”
” آر یو شیور ؟”
“یس سر۔”
اسکے کہنے پر مستقیم نے انٹر کوم اٹھایا اور دو کپ کافی منگوائی۔
“چلیں میرے ساتھ ایک کپ کافی پئییں دیکھئے گا آپکا سر درد غائب ہو جائے گا۔”
اسکے کہنے پر وہ چپ چاپ سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ فلحال اسکا کسی سے بھی بات کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
جب کہ مستقیم اسکے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ کر گہری سوچ میں گم ہو چکا تھا۔
°°°°°°
وہ گھر آئ تو ایک قیامت اسکی منتظر تھی۔ اس پہ جان لٹانے والا اسکا جان سے پیارا باپ ہارٹ اٹیک کے سبب اس دار فانی سے کوچ کر چکا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر بے حال ہو چکی تھی۔ یہ کیا ہو گیا تھا اچانک۔ ان کے ہنستے بستے گھر کو کس کی نظر لگ گئی تھی۔ ابھی صبح ہی تو اس نے اپنے باپ سے اتنا پیار بٹورا تھا۔ وہ صبح گھر سے نکلتے وقت کہاں جانتی تھی کہ گھر واپسی پر اسے اپنے باپ کی ہمیشہ کے لئے بند چہرے کو دیکھنا پڑے گا۔سارا بیگم خود نڈحال ہونے کی با وجود اسکو سمبھالنے میں لگی ہوئی تھیں۔ بیٹی کی یہ حالت انھیں ہولہ رہی تھی۔ جنازہ اٹھنے لگا تو روتی كرلاتی کسی کے قابو میں ہی نہیں آ رہی تھی اور پھر اچانک بیہوش ہو کر گر پڑی۔
حیدر عباس کو فوت ہوئے 3 دن گزر چکے تھے۔ وہ اب تک بے یقین تھی کہ اسکا باپ اسکے ساتھ نہیں رہا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ یتیم ہو چکی ہے۔
اسکی ماں اسے سمجھاتی رہی تھی آج بھی کہ اسکا باپ اللّه کی امانت تھا جو اس نے واپس لے لی۔ یہ دنیا تو فانی ہے۔ جو آیا ہے اسے واپس بھی جانا ہے۔ سب کو ہی ایک نا ایک دن مرنا ہے بس فرق یہ ہے کہ سب کا الگ وقت مقرر ہے۔
اسے رونا نہیں تھا صبر کرنا تھا۔ اللّه سے دعا کرنی تھی اپنے باپ کی بخشش کے لئے۔
وہ اٹھ کے واش روم گئی وضو کر کے باہر آئ جاۓ نماز بچھایا اور عشا کی نماز کے لئے کھڑی ہو گئی۔ نماز پڑھ کے بستر پر لیٹی تو پھر سے آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ باپ کی موت پر صبر کرنا آسان تو نہ تھا۔ یوں ہی روتے روتے اسکی کب آنکھ لگی اسکو پتا نہ چل سکا اور وہ نیند کی وادی میں گم ہو گئی۔
°°°°°°
وہ اسکی نیند کے خیال سے آہستگی سے اسکے کمرے میں داخل ہوا اور اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھاے جہاں وہ سوگوار حسینہ محو استراحت تھی۔ کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔ اس نے سب سے پہلے آگے بڑھ کر لائٹ بند کی اور سائیڈ ٹیبل لیمپ جلا دیا۔ وہ سفید ڈوپٹے سے حجاب کیے آڑی ترچھی بیڈ پر لیٹی تھی۔ چہرے پر انسوؤں کے مٹے مٹے نشا نات تھے۔ خم دار گهنی لمبی پلکیں آنسوؤں سے بھیگ کر جڑی ہوئی تھیں۔ چوٹی سی ناک بھی سرخ ہو رہی تھی۔ اس نے دعا کو سیدھا کر کے لٹایا اور اسے كمبل اوڑھا دیا۔ پھر وہ دعا کے سرہانے بیٹھا اور اسکا سر تھوڑا سا اٹھا کے اسے حجاب سے آزاد کر دیا۔ حجاب اترتے ہی اسکے سیاہ بالوں کی لٹیں اسکے چہرے پر جھولنے لگیں۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گالوں کو چھوتی ہوئی لٹ اسکے کانوں کے پیچھے اڑسی اور جھک کر اسکی صبیح پیشانی چوم لی۔
دعا نے نیند میں ہے کسمسا کر کروٹ بدل لی۔ اسکے چہرے سے اسکی بے سکونی واضح ہو رہی تھی۔ وہ اسکے گھنے بالوں میں انگلیاں چلا کر اسے سکون پہنچانے لگا۔ اسکی انگلیاں کافی دیر دعا کے بالوں میں حرکت کرتی رہیں۔ کچھ دیر بعد وہ گھڑی پر ایک نظر ڈال کر اٹھا جھک کر ایک دفعہ پھر اسکی پیشانی چھو لی اور کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔ دو سیکنڈز میں ہی وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔