No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
اسکا موبائل مسلسل بج رہا تھا ۔کال اس کے پرسنل نمبر پر آ رہی تھی نہ جانے کون ڈھیٹ تھا جو مسلسل کال کری جا رہا تھا فون مسلسل بج بج کر اب بند ہو چکا تھا وہ ابھی شاور لے کر باہر آیا تھا اور اب شیشے کے سامنے کھڑا تولیے سے اپنے بال خشک کر رہا تھا اسنے کالا ٹراؤزر اور کالی ہی بنیان پہنی ہوئی تھی ابھی وہ بال خشک کر کے ہیئر برش اٹھا رہا تھا جب فون ایک دفع پھر بجا۔اسنے دور سے ہی ایک اکتایٔ ہوئی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل پر ڈالی اور اسکی طرف بڑھ گیا۔اس نے موبائل اٹھایا تو سامنے ہی اسکے والد محترم کی کال آ رہی تھی اسکے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ چھا گئی وہ کال اٹھانا نہیں چاہتا تھا پر نہ جانے کس جذبے کے تحت اس نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا پر آگے سے سے اسے جو آواز سننے کو ملی تھی سن کے اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا ۔
“السلام علیکم فاتح بیٹا کیسے ہیں آپ پلیز کال بند نہ کریے گا میری پوری بات سن لیں پہلے” فائقہ بیگم کی نم آواز سن کر وہ اپنے لب بھینچ گیا۔
“جی بولیں کیا بات کرنی ہے آپکو جلدی بولیں میرے پاس وقت نہیں ہے۔”
“فاتح اپ کے بابا کی طبیعت بہت خراب ہے وہ آپکو بہت یاد کرتے ہیں پلیز ایک دفع آ کر ان سے مل لیں آپ” وہ التجائیہ لہجے میں بولیں۔
“میں ابھی بزی ہوں فون رکھتا ہوں اللّه حافظ” وہ اپنی بات کہہ کر انکی کوئی بات سنے بغیر کال کاٹ گیا۔
وہ اپنے باپ سے نفرت کا دعوے دار تھا پر اسکا دل اپنے باپ کی بیماری کا سن کر بے چین ہو اٹھا تھا لوگوں کی نظر میں ایک کامیاب اور ہینڈسم بزنس مین تھا پر اصل میں اتنا بدنصیب تھا کہ ماں کی محبت کے بعد باپ کی محبت سے بھی محروم تھا۔ اس نے سر جھٹک کر ساری سوچوں کو پیچھے پھینکا ا ور ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔
🖤🖤🖤🖤🖤
وہ اسے ایک پرائیویٹ کلینک لے آیا تھا اور اسکی پٹی بھی کروا چکا تھا۔ اس نے کلینک سے فری ہو کر اسے پھر سے گاڑی میں بٹھایا۔ وہ ڈاکٹر سے پٹی کروانے کے دوران اسکا نام جان چکا تھا۔
“مس حریم آپ ایڈریس بتایں مجھے اپنے گھر کا میں آپکو ڈراپ کر دوں۔ آئ ایم سوری میری وجہ سے آپکا اتنا وقت ضائع ہو گیا۔ “
اسکا یہ کہنا ہی تھا کہ حریم کو یاد آیا کہ وہ تو جاب کے انٹرویو کے لئے نکلی تھی گھر سے اور پھر مستقیم کی گاڑی سے ٹکرا گئ۔ یہ یاد آتے ہی وہ پھر سے رونا شروع ہو گئی۔ مستقیم تو اسے روتے دیکھ کر بوکھلا گیا اسے یہی لگا لگا کہ وہ درد کی وجہ سے رو رہی ہے پر وہ تو اپنی آخری امید کے ٹوٹنے پر رو رہی تھی ۔
“کیا ہوا مس حریم زیادہ درد ہو رہا ہے آپکو کیا ؟” وہ بہت نرمی سے آنکھوں میں پریشانی لئے حریم سے استفسار کر رہا تھا ۔ اسکی نرمی پر حریم کا دل اور بھی بھر آیا ۔
“نہیں میں۔۔۔ اب درد کی وجہ سے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔رو رہی ۔۔ بلکہ کسی اور وجہ سے۔۔۔۔ رو رہی ہوں” وہ اب باقاعدہ سسکیاں لیتے ہوئے اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔ اسکی سرخ ناک اور آنکھیں دیکھ کر مستقیم کا دل پھر سے ڈولنے لگا۔ کوئی روتے ہوئے اس قدر خوبصورت کس طرح لگ سکتا تھا!
“تو بتائیں پھر کیوں رو رہی ہیں آپ؟”
“آج مجھے ایک انٹرویو کے لئے جانا تھا ایک کمپنی میں پر ایکسیڈنٹ ہو گیا پھر اور اب تو بہت وقت گزر چکا ہے. یہ میری آخری امید تھی وہ بھی ختم ہو گئی اب میں کیا کروں گی ؟” وہ مستقیم کو اپنا مسلہ بتا کر پھر سے رونا جاری کر چکی تھی۔
“اوہ تو اس وجہ سے رو رہی ہیں آپ یہ تو بہت چھوٹا سا اشو تھا جو کہ آپ سمجھیں حل بھی ہو گیا ایکچولی میری کمپنی کو بھی کیضرورت ہے آپ میری کمپنی جوائن کر سکتی ہیں.” وہ چٹکی بجاتے اسکا مسلہ دور کر چکا تھا.
“نہیں بلکل بھی نہیں مجھے جاب اپنی کابلیت کے بل بوتے پر چاہیے آپ کی ہمدردی کے باعث نہیں” وہ قطعیت بھرے لہجے میں بولی تھی ۔
“ارے میں کونسا آپکو ایسے ہی جاب دے دوں گا پہلے آپکا انٹرویو ہوگا پھر ہی اپکی سلیکشن ہوگی.” وہ اسکی سوچ پڑھ کے اسکے مطابق بولا کیوں کہ وہ جان چکا تھا ک وہ اسکا احسان نہیں لے گی ۔
“اوکے ٹھیک ہے .’وہ اب کے نیم رضا مند ہوتے ہوئے بولی تھی .
“چلیں اپنا ایڈریس بتائیں آپ .میں آپکو اپکے گھر ڈراپ کر دوں .دو دن ریسٹ کر کے پرسوں آپ اس ایڈریس پر آجائیے گا انٹرویو کے لئے .’وہ اپنا کارڈ اسے دیتا ہوا بولا.
“آپ پلیز یہاں سائیڈ پر ہی اتار دیں مجھے میں خود چلی جاؤں گی تھنکس آپ نے میری اتنی ہیلپ کی اب میں خود ہی چلی جاؤں گی.” وہ جھجک کر بولی.
“نہیں اپ اس طرح نہیں خود جا پائیں گی آپ مجھے اپنا ایڈریس بتائیں مجھے اب مزید کوئی بحث نہیں۔” اسنے حریم کو دیکھتے ہوئے قطعیت سے کہا تو وہ ناچار اسے اپنا ایڈریس بتا گئی کیوں کے وہ اسکی بہت مدد کر چکا تھا۔ مستقیم نے ایک نظر اسکے جھکے ہوئے چہرے پر ڈال کر گاڑی آگے بڑھا دی
🖤🖤🖤🖤🖤
وہ آج بہت تھک چکی تھیں۔ اپنی اسائنمنٹس وہ دونوں جمع کروا کر کلاس سے باہر آ گئیں۔ انکا اگلا لیکچر ایک گھنٹے بعد تھا اس لئے وہ دونوں ریفریش ہونے کے لئے باہر آ گئیں۔
چلو یار کینٹین سے کچھ لے کر آتے ہیں۔ آج تو میں ناشتہ بھی نہیں کر کے آئ تھی ٹیسٹ کے چکر میں۔” امايا دعا سے کہتی ہوئی اسکے ساتھ کینٹین کی طرف بڑھ رہی تھی .
“ہاں چلو پر کینٹین میں نہیں بیٹھیں گے بلکہ گراؤنڈ میں بیٹھیں گے کتنی پیاری ہوا چل رہی ہے نا!” دعا اپنی آنکھیں بند کر کے ٹھنڈی ہوا اپنے اندر کھینچتی ہوئی بولی.
وہ دونوں کینٹین سے برگر اور کولڈ ڈرنک لے کر گراؤنڈ میں بیٹھ گئیں. وہ دونوں بیٹھی ابھی باتوں میں مصروف تھیں جب انکا کلاس فیلو کمیل انکے پاس آ کر بیٹھ گیا .
“ہیلو دعا اینڈ امايا کیسی ہیں آپ دونوں؟ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟” وہ مسکراتا ہوا دونوں سے اجازت مانگ رہا تھ۔ا پر اسکا سارا دیہان دعا کے چہرے کی طرف ہی تھا۔
“مسٹر کمیل آپ آل ریڈ ی ہی بیٹھ چکے ہیں .”
امايا اسے چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولی .
وہ کافی دن سے مسلسل کمیل کی نظریں دعا پر محسوس کر رہی تھی. اسے یہ لڑکا شروع سے ہی نہیں پسند تھا جو عجیب نظروں سے دعا کو گھورتا رہتا تھا .
اسکے جواب پر وہ ڈھیٹ پن سے دانت نکالنے لگا .
“دعا مجھے آپ کی اسائنمنٹ مل سکتی ہے کیا ایکچولی آپ کی اسائنمنٹس بیسٹ ہوتی ہیں تو اگر اپ مجھے ۔۔۔۔۔”وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسے منتظر نظروں سے دیکھنے لگا .
“رول نمبر 10 کم ہیئر ” اس سے پہلے کہ وہ کمیل کی بات کا جواب دیتی ایک بھاری گھمبیر آواز میں اپنے نام کی پکار سنائی دی اسے .
اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو تھوڑی ہی دور سر فاتح اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ سامنے ہی ایستادہ تھے۔
“رول نمبر 10 آئ ایم کالنگ یو ” اس نے دوبارہ آواز دی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھی. گود میں پڑا ہوا برگر نیچے گر پڑا .وہ دوپٹے سے الجھتی گرتی پڑتی جلدی سے فاتح کی طرف بڑھی.
“جج ۔۔۔جی سر آپ نے بلایا .”
“میرے آفس میں آئیں آپ فورا ” وہ سنجیدگی سے کہ کر اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ پہلے تو ہونق بن کی کھڑی رہی پھر یاد آنے پر تیزی سے فاتح سر کے آفس کی طرف بڑھی.
🖤🖤🖤🖤🖤
