No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“وہ وہاں ہوگی یا نہیں؟” یہ سوال بار بار اس کے دماغ میں آرہا تھا۔ ٹھٹھرا دینے والی سردی میں وہ صرف ایک ٹراؤزر اور ہالف بازو والی سفید ٹی شرٹ میں ساکت و جامد بیٹھا تھا۔چہرے پر نیل واضح تھے۔ہوں معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے چہرے پر تشدد کیا ہو۔وہ بھول جانا چاہتا تھا جو کچھ بھی کچھ دیر پہلے ہوا پر پتا نہیں ایسی کیا بات تھی کہ اسے اپنے دل میں ٹیسییں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ پھر یکایک اسکے جامد وجود میں حرکت پیدا ہوئی۔وہ تیزی سے اٹھا،بیڈ کے پاس پڑے اپنے موزے اور جوگرز اٹھا کر پہنے اور دروازے کی طرف لپکا۔اسے دس منٹ لگے تھے مطلوبہ مقام تک پہنچنے کے لیے۔اس نے بیس منٹ کا سفر پیدل دس منٹ میں طے کیا۔دروازہ ویسے ہی کھلا ہوا تھا۔وہ تیزی سے اندر کی طرف لپکا۔وہ وہیں تھی جہاں وہ اسے جاتے ہوئے دیکھ کر گیا تھا۔وہ کرسی کے پاس اوندھے منہ پڑی ہوئی تھی۔وہ اسکے پاس گیا اور اسکا رخ پلٹا۔خون کی ایک لکیر اس کے ماتھے سے ہوتے ہوئے گردن تک آئی ہوئی تھی جو کہ سوکھ چکی تھی۔اس نے پاس پڑی اس کی چادر اٹھائی اور اسے اوڑھا دی۔وہ گھر سے لے کر یہاں آنے تک یہ سوچتا آیا تھا کہ وہ وہاں ہوگی یا نہیں پر یہ خیال اسے ایک دفعہ نہیں آیا تھا کہ اگر وہ وہاں ہوئی تو وہ کیا کرے گا۔اس نے آہستگی سے اسے باہوں میں بھرا اور وہاں سے نکل آیا۔گھر پہنچ کر اسے نرمی سے بستر پر لٹایا اور پھر موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔
°°°°°°°°°°
“یار عاشی اب کیا ہوگا؟ مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے۔امی کی صحت دن بدن گرتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر نے بولا ہے کہ انھیں ہسپتال داخل کروانا پڑے گا۔ میرے پاس پیسے بھی بہت کم رہ گئے ہیں۔ بس دعا کرو جلدی سے کوئی جاب مل جائے۔” وہ اپنے سامنے موجود اپنی دوست عائشہ سے کہہ رہی تھی۔اس وقت وہ عائشہ کے بہت اسرار پر اسے ملنے ریسٹورنٹ آئی ہوئی تھی۔وہ دونوں باتوں میں مگن تھیں، اس بات سے بے خبر کہ ایک اور وجود ان کی باتوں سے فیضیاب ہو رہا ہے۔ مستقیم فارس اپنے ایک دوست سے ملنے ریسٹورنٹ آیا تھا۔ان دونوں کی گفتگو اس کے کانوں تک بھی پہنچ رہی تھی۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی ان کی آوازوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔
“عاشی اگر امی کو کچھ ہو گیا تو میں کیا کروں گی؟” لاکھ ضبط کے باوجود اس کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔اسکی بھرائی آواز پر بے ساختہ مستقیم کی نظریں اس کی جانب اٹھیں اور پلٹنا بھول گئیں۔وہ لڑکی بہت حسین تھی۔ایسا نہیں کہ مستقیم فارس نے حسین لڑکیاں نہیں دیکھی تھیں پر اس لڑکی کی سنہری آنکھوں میں موجود نمی اور تکلیف نے اسکے دل کو اپنے قابو میں کر لیا تھا۔وہ سفید لباس میں ملبوس تھی اور دوپٹہ سر پہ اوڑھا ہوا تھا۔مستقیم کو وہ لڑکی بہت پاک لگی۔ابھی وہ اسی میں گم تھا جب موبائل کی آواز نے اسے متوجہ کیا۔ اسکے جگری دوست کی کال تھی جو کہ آنے سے معزرت کر رہا تھا اور ایک ایمرجنسی کا بتا کر اسے فوری طور پر بلا رہا تھا۔مستقیم نے نا چاہتے ہوئے بھی اس پر سے نظریں ہٹائیں اور وہاں سے نکل آیا۔
°°°°°°°°°°
