No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
وہ آج کالج کے بعد فاتح سر کے ساتھ فزکس کی ایکسٹرا کلاس لینے کے لئے رکی تھی۔ اس نے امايا کو بھی بولا تھا رکنے کو پر وہ کالج سے جانے کے بعد بچوں کو ٹیوشن دیتی تھی۔ اس لئے پھر دعا نے اسے زیادہ زور بھی نہیں دیا۔
وہ ابھی فاتح کے آفس کے باہر کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اندر جاۓ یا نہ جاۓ جب اسے فاتح کی آواز سنائی دی۔
“رول نمبر ٹین جسٹ کم ان ناؤ””
اسکی بھاری آواز میں یہ پیغام سن کر وہ سٹپٹا گئی۔ اسے کیسے پتا چلا کہ وہ باہر کھڑی ہے۔اس نے دروازہ نوک کیا۔
“یس !” اجازت ملنے پر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
“بیٹھیں آپ پلیز!”
وہ اسے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا تو وہ صوفے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر دعا کی طرف بڑھا اور صوفے کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔
دعا اس کے یوں نزدیک بیٹھنے پر کنفیوز ہو گئی۔ حالاں کہ وہ اس سے مناسب فاصلے پر بیٹھا تھا۔
فاتح نے بک کھول کر اسے پڑھائی کی طرف متوجہ کیا تو اس نے بھی اپنا دھیان کتاب پر لگا دیا۔
فاتح اسے نمریکل سمجھا چکا تھا اور وہ اب بیٹھ کر ایک دفعہ اسکی پریکٹس کر رہی تھی۔ فاتح اپنا لپپٹوپ سامنے کھولے کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ دعا کے ہوتے ہوئے بلکل بھی ممکن نہیں لگ رہا تھا کیوں کہ وہ لاکھ اسے اگنور کرنے کی کوشش کرتا پر نظریں بار بار بھٹک کر اس معصوم پری کے چہرے پر جا رہی تھیں اور وہ اس سب سے انجان اپنے کام میں مشغول تھی۔اسکی بے خبری پر فاتح نے سر جھٹکا اور اپنا دیہان لپپٹوپ کی طرف لگا دیا۔
°°°°°°°
وہ تیزی سے دروازہ کھول کر بھر بھاگی تو سامنے سے آتے وجود سے ٹکرا گئی۔اسنے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھائیں تو سامنے مستقیم کو دیکھ کر اسکے بازو سے چپک کر رو دی۔ اسکی ٹوٹی بکھری حالت دیکھ کر مستقیم کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔
بکھرے بال،روئی روئی سوجی ہوئی لال آنکھیں، جوتے سے بے نیاز پاؤں اور دوپٹے سے بے پرواہ وجود لئے وہ مستقیم کا دل بند کرنے کے در پے تھی۔
مستم رات کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے کمرے میں آ گیا تھا پر طبیعت پر ایک عجیب سا بوجھل پن طاری ہو رہا تھا۔ اسکا دل بہت گھبرا رہا تھا۔ اس نے حریم کی خیریت جاننے کے لئے اسکا نمبر ملایا تو اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ اس نے سوچا کے شاید سو گئی ہو۔
وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔ بے مقصد سڑکیں ناپتا وہ بے خودی میں ہی گاڑی حریم کے گھر کی طرف موڑ گیا۔ وہ گاڑی اسکے گھر کے پاس پارک کرتا حریم کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا جب وہ ایک دم آ کر اس سے ٹکرائی ۔
وہ اسکے بازو سے لگی رونے لگی ۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ پوچھتا بکتا جھکتا بشیر حریم کے پیچھے نکل آیا۔
اسے دیکھتے ہی وہ خوفزدہ ہو کر مستقیم کے پیچھے چھپ گئی۔بشیر کو یوں سامنے دیکھ کر اور حریم کی حالت دیکھتا وہ ایک سیکنڈ میں سارا معملہ سمجھا تھا۔ غصے سے اسکی رگیں تن گئیں۔
وہ حریم کے گرفت سے اپنی شرٹ چھڑواتا جنونی انداز میں میں بشیر کی طرف لپكا اور اس پر پل پڑا۔ حریم کی خوف سے چیخ نکل گئی۔مستقیم نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ بے رحمی سے اس پہ لاتوں اور مکوں کی برسات کر دی۔ پہلے وہ دھمکییاں دیتا رہا پر اسکی مار سے بے حال ہوتا پھر اسکی منتوں پر اتر آیا کہ ایک آخری دفعہ اسے معاف کر دے۔
“سس۔۔۔سر پلیز ۔۔۔چھ ۔۔چھوڑ دیں اس۔ ۔۔اسے ۔۔وہ مر ۔۔مر جاۓ گا۔” اسکے جنونی روپ سے مار کھا کر ادھ موا ہوتے بشیر کو دیکھ کر وہ ہچکیياں لیتی اسے روک گئی۔
مستقیم نے غصے سے آخری دفعہ پاؤں زور سے اسکے منہ پہ مارا تو وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔ مستقیم نے پولیس کو کال کی اور کال ختم ہونے کے بعد اسکی طرف بڑھا۔اپنی جیکٹ اتار کر اسکی طرف بڑھائی تو وہ روتے ہوئے اسکی جیکٹ تھام کر پہن گئی۔
“اب بھی آپ یہاں اس گھر میں اکیلی رہنا چاہتی ہیں؟ میں کوئی بات نہیں سنوں گا اب ۔ آپ کے پاس صرف دس منٹ ہیں اگر اپنا کوئی ضروری سامان یا اپنے ماں باپ سے وابستہ کوئی یادیں سمیٹنا چاہتی ہیں تو۔”
وہ سخت برہم تھا پر اسکی حالت دیکھتا نرمی برت رہا تھا۔
آج ابھی جو کچھ بھی ہوا تھا اس کے بعد وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اکیلی یہاں نہیں رہ سکتی۔
یہ ہمارے معاشرے کا کڑوا سچ ہے کہ ایک اکیلی عورت یا لڑکی زندگی سکوں سے بسر نہیں کر سکتی۔ انسان کی چمڑی میں موجود گدھ ہر وقت اکیلی لڑکی کو نوچنے اور نگلنے کو تیار رہتے ہیں۔انسان نما بھیڑیے ہر وقت اکیلی کمزور عورت کی تاک میں رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی اسکی عزت کو تار تار کرنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔
مستقیم اسے بازو سے پکڑ کر اندر لایا کچن میں جا کر پانی کا گلاس لے کر آیا اور حریم کو پکڑا کر باہر بڑھ گیا۔
وہ اسے تھوڑا وقت دے رہا تھا تا کے وہ خود کو ذہنی طور پر آمادہ کر لے اس گھر کو چھوڑ کر جانے کے لئے جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا اور اپنے والدین کے ساتھ یادیں بنائی تھیں۔
کچھ دیر بعد گاڑی حریم کی گلی سے نکلتی چلی گئی تو اس نے مڑ کر ایک اداس الوداعیہ نگاہ اپنے گھر پر ڈالی اور اپنے ہاتھ کے پوروں سے آنکھوں میں موجود نمی سمیٹ کر گاڑی کی سیٹ سے اپنا سر جوڑ کر آنکھیں موند لیں۔
