Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وہ آج پھر ایک دفعہ اپنی قسمت آز مانے نکلی تھی ۔ اس نے ایک کمپنی کا ایڈ دیکھا تھا جہاں اسٹاف کی اشد ضرورت تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی تعلیم ناكافی ہے اس پوسٹ کے لیے لیکن پھر بھی وہ اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اللّه کا نام لے کر گھر سے نکل پڑی تھی ۔ اس کے پرس میں اس وقت صرف دو سو روپے ہی تھے ۔ آفس اس کے گھر سے پیدل پچیس منٹ کی مسافت پر ہی واقع تھا ۔ اس نے سوچا کےکہ پیدل ہی آفس پہنچ جاۓ گی کم از کم آٹو کے پیسے تو بچیں گے ہی نا ۔ اس سوچ کو لے کر وہ جلدی ہی گھر سے نکل آئ تھی کہ وقت سے پہلے ہی وہ آفس پہنچ جاۓ گی ۔ اسے کل رات سے بخار تھا اور اب تو جسم بے جان ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا نقاہت کی وجہ سے سر بار بار چکرا رہا تھا پر وہ ہمت سے کام لیتے ہوئے سڑک پر پاؤں گھسیٹتی چلتی جا رہی تھی ۔ اپنی بے دیهانی میں اسے پتا نہیں چلا تھا کہ وہ سڑک کے درمیان میں آ چکی ہے ۔ گاڑی کے ٹائر چر چرانے کی آواز نے اسے ہوش کی دنیا میں لا پٹخا تھا اس نے بے ساختہ ہی قدم پیچھے لے جانا چاہے پر تب تک وہ گاڑی اسے ٹکر لگا چکی تھی ۔ وہ لہرا کر نیچے گری تھی ۔ مستقیم جو جو اچانک ایک لڑکی کو گاڑی کے سامنے آتا دیکھ کر بریک لگا چکا تھا اسے نیچے گرتا دیکھ کر جلدی سے گاڑی سے نکل کر اسکی طرف لپكا ۔ وہ لڑکی سفید چادر میں ملبوس تھی ۔ مستقیم اسے آواز دینے ہی والا تھا جب اس نے چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔ مستقیم حریم کو یوں اس طرح اس حالت میں اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہو چکا تھا ۔ وہ شکل سے ہی نڈھال لگ رہی تھی چہرے کی شادابی تو جیسے کہیں کھو ہی گئی تھی حریم نے اٹھنا چاہا پر بخار کی نقاہت اور کہنی پر لگنے والی چوٹ نے جیسے ہمت ہی چھین لی تھی ۔ بے بسی سے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ۔ادھر مستقیم اس کے آنسو دیکھ کر بے چین ہو اٹھا تھا ۔ اس نے بے ساختہ ہی اسے سہارا دے کر اٹھایا اور گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر اسے اندر بٹھایا ۔ اس نے دروازہ یونہی کھلا چھوڑ دیا اور ڈیش بورڈ سے پانی کی بوتل پکڑ کر اسکا ڈھکن کھول کر حریم کو پکڑا دی ۔ وہ مسلسل رو رہی تھی ۔ مستقیم کو مزید ٹینشن ہونے لگی شاید اس لڑکی کو زیادہ چوٹ لگ گئی ہو۔ یہ سوچ کر اس نے حریم کو مخاطب کیا ۔
“ایکسکیوز می مس! آپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟ پلیز آپ رونا بند کریں اور مجھے بتائیں کہاں چوٹ لگی ہے آپ کو.” وہ بہت نرمی سے حریم سے پوچھ رہا تھا۔
“یہاں!” حریم نے کہنی سے کپڑا ہٹا کر زخم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ اسے واقعی زیادہ چوٹ آئ تھی۔ کہنی سے جلد پھٹ چکی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔ مستقیم نے جلدی سے اپنے کوٹ کی جیب سے رومال نکالا اور اسکے زخم پر رکھ کر ہاتھ پیچھے کر لیا۔
“آپ زخم پر رومال دبا کر رکھیں تا کہ زیادہ بلیڈنگ نہ ہو ہم ابھی کسی کلینک سے پٹی کروا لیتے ہیں۔” مستقیم نے اسکی سائیڈ کا دروازہ بند کر دیا اور ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اس کو منع کرنا چاہتی تھی پر نہ جانے کیوں ایسا نہ کر پائی اور سیٹ کے ساتھ سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔
🖤🖤🖤🖤
رات کے تیسرے پہر جہاں ساری خلقت میٹھی نیند کے مزے لے رہی تھی وہاں ہی ایک وجود ایسا بھی تھا جو کسی محبوب ہستی کی یاد میں غافل تھا۔بلیک ہڈی اور بلیک ہی پینٹ پہنے وہ اس اندھیرے کا ہی ایک حصہ معلوم ہو رہا تھا۔ اس کے عنابی ہونٹوں پر اس وقت دلکش مسکراہٹ تھی۔
تمہیں سوچ کر جو آتی ہے
وہ مسکراہٹ کمال کی ہوتی ہے
اس کے خیالوں پر اس وقت ایک پری پیکر کا بسیرا تھا۔ اسکی یاد ہی باعث سکون تھی۔ وہ اس سے میلوں دور تھی پر ایسا محسوس ہو رہا تھا اسے جیسے وہ یہیں کہیں آس پاس ہی ہو۔ کتنی عجیب بات تھی نا ایک پتھر دل انسان کے اسی پتھر دل کو ایک نازک اور چھوٹی سی لڑکی اپنے بس میں کر چکی تھی۔
عشق عین، عشق شین، عشق قاف کرتا ہے
یہ لاحق جسے ہو جائے اسے برباد کرتا ہے
ابھی وہ اسی پری پیکر کے خیالات میں گم تھا تھا جب اسکی گھڑی سے مخصوص الارم کی آواز سنائی دی۔ اس نے اپنی سوچوں کو جھٹکا اور اپنے مخصوص ٹھکانے کی طرف چل دیا۔
🖤🖤🖤🖤
دعا اور امايا کی ان دو دنوں میں ہی بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی۔ ان کا بیچ بھی سیم تھا اس لئے دونوں سارا دن ساتھ ہی ہوتی تھیں کالج میں۔ ابھی بھی وہ دونوں کینٹین سے آئ تھیں۔ یہ انکی فزکس کی کلاس تھی۔ دعا شروع سے ہی پڑھائی میں بہت شارپ سٹوڈنٹ تھی پر فزکس اسے تھوڑی سی مشکل لگتی تھی۔اسی لئے وہ پورے لیکچر میں اپنا سارا فوکس صرف بک پر ہی رکھتی تھی۔ اس کے لئے پلس پوائنٹ یہ تھا کہ سر فاتح بہت اچھا پڑھاتے تھے۔ پر ان کے چہرے پر سرد مہری دیکھ کر اسے بہت ڈر لگتا تھا ان سے۔ وہ ایک سخت ٹیچر تھے۔ ابھی بھی وہ اپنی نوٹ بک پر ایک نمیریکل حل کرنے میں مشغول تھی جب فاتح نے اسے پکارا۔”رول نمبر ٹین اسٹینڈ اپ!” فاتح نے دعا کو مخاطب کیا پر وہ ابھی بھی اپنے نمیریکل میں ہی الجھی ہوئی تھی۔ ساری کلاس اسکی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔ امايا نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا اور اسکی توجہ سر کی طرف دلوائی۔ وہ ہربڑا گئی۔
“رول نمبر ٹین آج سے آپ اس کلاس کی سی-آر ہیں۔ سٹوڈنٹس کی اسائنمنٹس جمع کر کے میرے آفس میں پہنچا دیں آپ۔”
“سر میں؟” وہ بوکھلا گئی۔بھلا وہ کیسے اتنی بڑی ذمہ داری لے سکتی تھی۔
“جی آپ! آئ تھنک رول نمبر ٹین آپ ہی ہیں۔”
“جج۔۔۔جی سر اوکے سر!” بول کر وہ جلدی سے سر جھکا گئی۔ جب کہ اسکی ایسی حالت پر کلاس میں سب سٹوڈنٹس کی ہنسی چھوٹ گئی جسکو بریک فاتح سر کی ایک سرد نگاہ نے ہی لگائی تھی۔ لیکچر ختم ہوا تو دعا نے کلاس سے اسائنمنٹس جمع کیں اور مرے مرے قدموں سے فاتح سر کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔
🖤🖤🖤🖤