Teri Ulfat Mein Sanam By Meem Aain Readelle50154

Teri Ulfat Mein Sanam By Meem Aain Readelle50154 Last updated: 18 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Ulfat Mein Sanam

By Meem Aain

اس نے دھیرے سے اپنی دکھتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور ایک اجنبی نظر ارد گرد کے اجنبی ماحول پر ڈالی۔ وہ بیڈ پہ موجود سفید چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔ دائیں طرف ایک دروازہ موجود تھا شاید باتھروم کا تھا وہ۔ اور اسکے آگے اسی طرف کونے میں ایک چیئر اور اس کے آگے رائٹنگ ٹیبل تھا جس پر ایک لیپ ٹوپ پڑا ہوا تھا اور ساتھ کچھ کاغذات اور ایک پنسل۔ اتنے سے معائنے کے بعد ہی اسکا سر چکرانا شروع ہو گیا تو اس نے سر واپس بستر پر پھینک کر آنکھیں بند کر لیں۔ ذہن کے پردوں پر آہستہ آہستہ گزرے ہوئے واقعات ایک ایک کر کے ابھرنے لگے تو وہ ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول گئی۔ وہ روٹین کے مطابق کالج سے آنے کے بعد اکیڈمی گئی تھی۔ فاتح سر فزکس کا ایک سوال اسے سمجھا رہے تھے اور تب ہی کریم تایا وہاں آ گئے اور انتہائی برے الزامات فاتح سر اور اس پر لگائے ۔ وه فاتح سر پر تشدد کر رہے تھے وہ انکو چھڑوانے کے لئے آگے بڑھی تھی پر خود ہی انکے عتاب کا نشانہ بن کر بیہوش ہو کر گر پڑی۔ اسکے بعد ؟ ہاں اس کے بعد کیا ہوا تھا؟ اور پھر اس کے دماغ میں اچانک سے کلک ہوا۔ ہاں ! اس کے بعد پتا نہیں کیسے وہ اس جگہ پہنچ گئی اور اس کی ماں کی موجودگی میں اسکا نکاح ہوا تھا۔ نکاح ؟؟؟ پر کس کے ساتھ ؟ پھر اس کے دماغ میں ایک جملہ گونجا ۔ "دعا حیدر بنت حیدر عبّاس آپکو فاتح ابراھیم ولد ابراھیم خان کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟" یہ جملہ ذہن میں گردش کرتے ہی اسکا دماغ سنا اٹھا۔ یہ کیا ہو گیا تھا اس کے ساتھ ؟ اچانک یہ کیسا پلٹا کھایا تھا قسمت نے؟ اس کے مقدر میں یہ رسوائی کیوں آئ تھی؟ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی اسے گناہ گار کیوں ٹھہرایا گیا تھا ؟ اسے اس گناہ کی سزا کیوں دی گئی جو اس نے کیا ہی نہ تھا؟ آخر کیوں؟ تکلیف ده سوچوں سے تنگ ہو کر وہ چیخ پڑی۔ اس کی آواز سن کر کچن میں سوپ بناتی سارا بیگم سب چھوڑ چھاڑ تیزی سے اسکے پاس آئیں تو وہ بیڈ پہ بیٹھی اپنے بال نوچتی چیخ رہی تھی۔ "دعا ! میری بچی۔ کیا ہو گیا میری بچی کو۔" وہ اسے اپنے ساتھ لگاتی اسکی پیٹھ سہلاتی ہوئی بولیں. "ماما ایسا کیوں ہوا ؟ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟ میں نے کچھ نہیں کیا ماما کچھ بھی نہیں۔ تایا ابا کو غلط فہمی ہوئی کوئی۔ میں ایسی نہیں ہوں ماما۔ اور فاتح سر نے بھی کچھ نہیں کیا۔ وہ تو بس ایک سوال سمجھا رہے تھے مجھے۔ اوپر سے تایا ابا آ گئے اور میری ایک بات بھی سنے بغیر مارنا شروع کر دیا۔ فاتح سر کو بہت مارا انہوں نے ماما اور بہت گالیاں بھی دی۔ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں تھا کیا۔" وہ انکے ساتھ لگی روتی اور کانپتی ہوئی ساری بات بتانے لگی۔ " بس چپ میری جان! میں جانتی ہوں میری دعا بہت معصوم ہے ۔وہ کبھی بھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔" وہ اسکے بال سلاتے ہوئے اسے حوصلہ دینے لگیں۔ " پر ماما میں تو تایا ابا سے بہت پیار کرتی ہوں انہوں نے ایسا کیوں کیا؟" وہ سسکتی ہوئی سارا بیگم سے استفسار کر رہی تھی۔ "ان کو غلط فہمی ہوئی ہو گی بیٹا کوئی۔" وہ تکلیف دہ لہجے میں بولیں۔ کتنی عزت کرتی تھیں وه اپنے جیٹھ کی۔ ہمیشہ بڑا بھائی ہی سمجھا۔ اور انہوں نے آگے سے کیا کیا؟ ان کی بیٹی کی ہی عزت پر حرف اٹھایا۔ اسے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی نہ سوچا ایک لمحے کے لئے بھی کہ جس کی عزت پر حرف اٹھا رہے ہیں اور اتنا گھٹیا الزام لگا رہے ہیں وہ ان کے مرحوم بھائی کی اکلوتی بیٹی ہے جسے شہزادی بنا کر رکھا ہمیشہ اور کبھی پھول سے بھی نہ مارا۔ اور انہوں نے کیا حشر کر دیا اس معصوم کا۔ "میری بات اب دیہان سے سنو دعا! جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا بیٹا ۔ قسمت کا لکھا کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔ پرانی باتوں کو بھول کر آگے بڑھنا سیکھو ۔ جو لوگ ماضی کے گرداب میں پھنس کر خود کو بے پرواہ کر لیتے ہیں نا وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں اپنے حال اور مستقبل کو تباہ و برباد کر لیتے ہیں۔اس لئے کہہ رہی ہوں کہ آگے بڑھنا سیکھو اور ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتی رہو۔ بیشک وہ پاک پروردگار شکر کرنے والوں کو اور زیادہ نوازتا ہے۔ تم میری بات سمجھ رہی ہو نہ۔" انہوں نے ہچکیاں لیتی ہوئی دعا کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اپنا سر ہلا گئی۔ "دیکھو بیٹا جن حالات میں بھی تمہارا اور فاتح کا نکاح ہوا پر وہ تمہارا شوہر ہے اب اور اسکی ہر بات ماننا تمہارا فرض۔وہ ایک بہت سلجھا ہوا اور سمجهدار انسان ہے۔ خود کو اور تمہیں بہت جلد ان مسئلوں سے نکال لے گا اور مجھے امید ہے کہ اس سب میں میری بیٹی اسکا ساتھ دے گی۔ میں سہی کہ رہی ہوں نا ؟" ان کے پوچھنے پر وہ آنسو ضبط کرتی پھر سے سر ہلا گئی۔ سارا بیگم نے اسکا ماتھا چوما اور کچن کی طرف بڑھ گئیں ۔ °°°°°°°