Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ بھیگی سرخ آنکھیں جھکائے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم ایک دوسرے میں پھنسائے لب بھینچے اسکے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ سفید رنگ کا نفیس اور خوبصورت جوڑا پہنے ور آتشی دوپٹہ سر پر لئے سوگوار سی بیٹھی تھی۔قسمت نے اسے کس مقام پر لا کھڑا کیا تھا۔ اس نے کب سوچا تھا کہ یہ شاندار شخص اسکا ہو جاۓ گا اور وہ بھی اس طرح ! ہر لڑکی کی طرح اپنی شادی کو لے کر اسکی بھی بہت سی خواہشات تھیں۔ وہ بھی اپنے ہمسفر کے لئے پور پور سج کر اسکی زندگی کو مہکانا چاہتی تھی۔ پر قسمت نے ایسا کھیل كهيلا تھا کے اسکو بلکل بے بس کر چھوڑا تھا۔ اسکے پاس کوئی اور راستہ ہی کہاں بچا تھا۔
اسکے سامنے مستقیم بیٹھا تھا جس نے سفید شلوار قمیض پر آف وائٹ واسکٹ پہن رکھی تھی۔
وہ آج نکاح ک کرنے مسجد میں آئے ہوئے تھے۔ گواہ کے طور پر فاتح اور اسکے تین اور ساتھی دوست موجود تھے۔
” حریم فاروق بنت فاروق احمد آپ کو دس لاکھ حق مہر کے عوض مستقیم فارس ولد فارس کمال کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپکو قبول ہے؟ “
نکاح کے کلمات اسکی سماعت سے ٹکرائے تو اس نے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر مستقیم کی آنکھوں میں دیکھا ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ حریم کے دیکھنے پر اس نے سر اثبات میں ہلا کر اقرار کرنے کا اشارہ کیا۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟”
مولانا صاحب کے دوسری دفعہ پوچھنے پر اس نے اپنی نظریں جھکاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور زبان سے بھی مستقیم کو قبول کرنے کی سند بخشی۔
مستقیم سے پوچھا گیا تو اس نے بخوشی تین دفعہ قبول ہے کہہ کر اسے اپنی زوجیت میں لیا۔
نکاح کے بعد اسکے دوستوں نے گلے لگ کر اسکو مبارکباد دی اور اور رخصت ہو گئے۔
ان کے جانے کے بعد مستقیم حریم کے پاس آیا اور اسکے کانپتے ہوئے سرد نم ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں جکڑ لیا اور اسے لئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
وہ دونوں پورا راستہ خاموش رہے تھے۔ نہ ہی مستقیم نے کوئی بات کی نہ ہی حریم نے۔ گاڑی بلڈنگ کے باہر رکی تو مستقیم باہر نکلا اور حریم کی سائیڈ پر آ کر اس کے لئے دروازہ کھولا۔ اسکے باہر نکلتے مستقیم نے گاڑی لاک کی اور پھر سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا۔
مستقیم نے اسے لا کر بیڈروم میں کھڑا کیا اور اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔
“حریم آر یو اوکے ؟”
مستقیم نے اسے کانپتے ہونٹ چباتے دیکھا کر پوچھا تو وہ بے ساختہ اسکے کندھے سے سر ٹکائے ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔
اسکی قربت پر مستقیم کا تیز دھڑکتا ہوا دل اچانک ساکت ہوا تھا۔ اسکے یوں قریب آ کر اپنے کندھے سے لگنے سے وہ بھی بے اختیار اپنی باہیں اسکے گرد پھیلا گیا۔ تھوڑی دیر رو چکنے کے بعد وہ شرمندہ ہوتی پیچھے ہوئی تو مستقیم نے بھی اسے اپنے حصار سے آزاد کر دیا اور ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو پونچھنے لگا۔
“کیوں رو رہی ہیں آپ ؟ اپنے اس فیصلے پر پچھتا رہی ہیں کیا ؟”
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھنے لگا۔
“نن ۔۔۔نہیں ۔۔ایسا نہیں ۔۔بس وو ۔۔وہ مجھے اپنے پپ۔۔پیرنٹس ۔ کک ۔۔کی یاد آ گئی۔”
اس نے اپنی ہچکی دباتے کہا تو وہ گہرا سانس بھر کے رہ گیا۔ وہ اس کی فیلنگز سمجھ سکتا تھا۔ اسکی نظر میں چاہے وقتی ہی سہی پر اسکی زندگی کا نیا آغاز تھا۔ ہر لڑکی کی طرح اسے بھی اس موقع پر اپنے ماں باپ کی دعاؤں کی طلب تھی۔پر وہ بیچاری تو ماں اور باپ دونوں کے ہی پر شفقت سائے سے محروم ہو چکی تھی۔
“پریشان نہ ہوں آپ وہ اللّه کی امانت تھے نا تو اس نے لے لی واپس ۔ میں ہوں نا اپ کے ساتھ!”
اس کے آخری الفاظ پر اس نے مستقیم کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ اسکی نظروں کا مطلب سمجھتا نظریں چرا گیا۔
“آپ چینج کر لیں اور فریش ہو جائیں ۔ میں دوسرے کمرے میں ہوں۔ آپ ایزی ہو کر سو جائیں اور کوئی بھی کام ہوا اگر تو مجھے آواز دے دیجئے گا۔”
اسکے کہنے پر وہ اقرار میں سر ہلا گئی تو وہ کمرے سے نکل کر دروازہ بند کر گیا۔ حریم نے ایک گہری سوگوار نگاہ شیشے میں نظر آتے اپنے دلکش سراپے پر ڈالی اور ایک سادہ سا سوٹ پکڑتی باتھروم میں گھس گئی۔


فاتح نے کال کر کے سارا بیگم کو مختصر کر کے بات بتائی اور انھیں لینے کے لئے ڈرائیور کو بھیج دیا گاڑی دے کر۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ پریشان صورت لئے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئیں اور كانپتی آواز میں فاتح کو پکارا۔
“فاتح بیٹا کہاں ہے میری دعا۔ جلدی بتاؤ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔”
فاتح انہیں لئے چپ چاپ ایک کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئیں ان کی نظر دعا پر پڑی تو ان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔ وہ تیزی سے دعا کی طرف لپکیں اور اسکے سرہانے بیٹھ کر اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ کر اسکا ماتھا چوما۔
ان کی پھولوں جیسی بیٹی جس کو ان دونوں میاں بیوی نے کبھی روئی سے بھی نہیں تھا مارا وہ کس حال میں پڑی تھی۔ گلابی رنگت بدل کر زرد ہو چکی تھی لمبی پلکیں آنسوؤں سے بھیگ کر جڑی ہوئی تھیں اور اسکی نیلی کانچ سی آنکھوں پر پردہ ڈال گئی تھیں۔ ایک گال پر تھپڑ لگنے سے نیل پڑ چکا تھا اور ماتھے پر دائیں طرف سفید پٹی لگی ہوئی تھی۔
“میں اپ کو کیا کہوں کریم بھائی میری پھول جیسی بچی کا کیا حال کر دیا اپ کو ذرا سا بھی خیال نہیں آیا۔ میری معصوم بچی پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔”
وہ روتی ہوئیں کریم عباس پر افسوس کرنے لگیں۔
مستقیم لب بھینچے دروازے میں کھڑا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر آ کر دعا کی مرہم پٹی کر گیا تھا۔ اس کے سوجے گال اور زخمی ماتھے کو دیکھ کر ڈاکٹر نے اس کو بھی پٹی کروانے کا کہا پر وہ انکار کرتا ڈاکٹر کو رخصت کر آیا۔
کچھ سوچتے ہوئے سارا بیگم نے دعا کا سر تکیے پر رکھا اور اٹھ کر فاتح کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں۔
“فاتح بیٹا میری کتنی عزت ہے تمہاری نظر میں۔”
ان کے پوچھنے پر فاتح نے سر اٹھا کر انھیں دیکھا اور ان کے دونوں ہاتھ تھام کر احترام سے انکے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
“میری ماں نہیں ہیں اس دنیا میں۔اور میں نے آپ کو اپنی ماں کا ہی مقام دیا ہے اور میرے دل میں آپ کے لئے اتنی ہی عزت ہے جتنی اپنی سگی ماں کے لئے۔ میں نے پہلے دن سے ہی اپ کو اپنی ماں کی جگہ دی ہے۔”
وہ ان کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگاتا ہوا بولا۔ اس کے لہجے میں ان کے لئے احترام ہی احترام تھا۔
جب سے دعا اکیڈمی جا رہی تھی تب سے ہی فاتح ان سے رابطے میں تھا۔ وہ دعا کی خیریت پوچھنے کے لئے ان سے بات کرتیں تو اسکی فرماںبرداری اور احترام پہ نہال ہو جاتیں۔ انھیں ایسا لگتا جسے وہ ان کا ہی بیٹا ہے۔
ان کی طبیت کی خرابی پر وہ خود ان کو دو تین مرتبہ ہسپتال بھی لے کر جا چکا تھا اور ان کے گھر کا چکر بھی لگا چکا تھا کافی مرتبہ۔ پر وہ ہمیشہ دعا کی غیر موجودگی میں آتا اور سارا بیگم نے بھی اس بات کا دعا سے ذکر نہیں کیا تھا کبھی اس لیے وہ اس بات سے ناواقف تھی۔
“اگر مجھے ماں سمجھتے ہو تو میری ایک بات مانو گے؟”
وہ بہت امید سے اسکی طرف دیکھتیں اس سے پوچھ رہی تھیں۔
“آپ حکم کریں!”
وہ انکے سامنے سر جھکا کر بولا۔
“میری دعا سے نکاح کر لو فاتح!”
وہ اس کے سر پر دهماكا کرتی ہوئی بولیں۔
“پر میں کیسے؟ دیکھیں انٹی آپ پلیز جذباتی ہو کر نہ سوچیں آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔وہ بہت چھوٹی اور نہ سمجھ ہے اور عمر میں بھی کافی چوٹی ہے مجھ سے۔ یہ ظلم ہے اس کے ساتھ!” وہ بے چینی سے بولا۔
ہاں یہ سچ تھا کہ اسے دعا سے پہلی نظر کی محبت ہوئی تھی اور محبت کا یہ بیج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک تناوار درخت میں تبدیل ہو چکا تھا پر اس نے کبھی اپنی محبت حاصل کرنے کا نہیں سوچا تھا تھا۔ اس نے تو بے غرض ہو کر بے لوث محبت کی تھی دعا سے۔ دل کے سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے اسکا دیدار ہی کافی تھا فاتح کے لئے۔
“دیکھو فاتح تم کریم بھائی اور ان کی فیملی کو نہیں جانتے۔ اب تک تو وہ پوری سوسائٹی میں دعا کو بد کردار بنا کر بدنام کر چکے ہوں گے۔ میری دعا بہت معصوم ہے فاتح وہ یہ سب نہیں جھیل پائے گی۔میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں میں اکثر ہی بیمار رہتی ہوں اب کسی روز ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر گئی اگر تو میری دعا کا کیا ہوگا؟ میں اسے ایک مضبوط سہارا دینا چاہتی ہوں اور میرے لئے وہ مضبوط سہارا صرف تم ہی ہو! کیا کرو گے میری بیٹی سے شادی ؟”
وہ اسے تمام حقائق سے آگاہ کرتی آنکھوں میں امید کے دیے لئے فاتح سے جواب طلب کر رہی تھیں۔
“ٹھیک ہے میں اس شادی کے لئے تیار ہوں۔ جیسا آپ کہیں گی ویسا ہی ہوگا۔ پر آپ پلیز دعا کی رضامندی معلوم کر لیجئے گاپہلے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ زيادتی ہو کوئی۔”
وہ اپنی بات مکمل کرتا باہر کی طرف بڑھ گیا اور نکاح کی ضروری کاروائی کا انتظام کرنے لگا۔ کچھ دیر میں دعا ہوش میں آ گئی اور سارا بیگم نے نہ جانے اسے کیا کہہ کر راضی کیا تھا کہ ٹھیک گھنٹے بعد وہ دعا حیدر عبّاس سے دعا فاتح ابراھیم بن چکی تھی۔
°°°°°°°°°°