No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
وہ جیسے ہی شکستہ قدم لئے گھر ہوئی اسے اپنی ماں کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے اپنی نم آنکھیں صاف کیں اور اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔اس کی ماں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھی اور یہی بات حریم کی نیندیں اڑاۓ ہوئے تھی کہ اگر اسکی ماں کو کچھ ہو گیا تو ؟ اس تو کے آگے نہ وہ کبھی سوچ پائی اور نہ ہی سوچنا چاہتی تھی۔ اس کی ماں ہی اس کا واحد سہارا تھی اور وہ بھی اپنی ماں کا واحد سہارا تھی۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ باپ کی زندگی میں حالات پھر بھی ٹھیک تھے۔ اگر زیادہ اچھے نہیں تو زیادہ برے بھی نہیں تھے۔ باپ کے ساۓ نے زمانے کے سرد و گرم سے پناہ دے رکھی تھی۔ پر باپ کے آنکھیں موند نے کے بعد تو زندگی جسے عذاب بن گئی تھی۔ زمانے کے گد ہر وقت اکیلی جوان اور خوبصورت لڑکی کو نوچنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے۔ باپ کی موت کے بعد ماں کی بیماری نے تو جیسے حریم کی کمر ہی توڑ دی تھی۔ اوپر سے گھر کے مالی حالات بھی دن بدن خراب ہوتے چلے جا رہے تھے۔ وہ اپنی تعلیم بھی ادھوری چھوڑ چکی تھی۔ آج کل وہ کسی جاب کی تلاش میں تھی جو کے اتنی تعلیم کے ساتھ ملنا مشکل تھی۔آج بھی وہ ایک اسکول میں ٹیچنگ کے لیے ایپلاۓ کرنے گئی تھی پر وہاں کے پرنسپل کی اپنے وجود پر اٹھتی گندی نظروں سے وہ انجان نہیں تھی۔ وہاں سے بھی اٹھ کے نکل آئ اور واپسی پر بشیر کی گھٹیا باتوں نے اسے اور بھی دل برداشتہ کر دیا تھا۔ اس نے ساری سوچوں کو دماغ سے جھٹکا اور اپنی بیمار ماں کی جانب متوجہ ہو گئی
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ گھر سے نکل کر سیدھا اپنے فلیٹ پر آ گیا تھا۔اس نے مستقیم کو بھی یہاں ہی بلا لیا تھا۔ وہ اسکا جگری یار تھا۔ اسکا رازدان، اس کے دکھ درد کا ساتھی۔ وہ اسکی زندگی کے ہر پہلو سے واقف تھا۔وہ دہ جسم،ایک جان تھے۔ اس نے فلیٹ پہ آنے کے بعد سامان باہر لاؤنج میں موجود صوفے پہ رکھا اور فریش ہونے کے لئے بیڈ روم میں چلا گیا۔ فریش ہو کہ باہر آیا اور لاؤنج میں لگی ہوئی ایل-سی-ڈی اون کر لی۔ اس کا سر شدید درد کر رہا تھا اور اس نے اب تک کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ اس کا کھانا بنانے کا فلحال کوئی موڈ نہیں تھا۔ اس نے سوچا کے چاۓ پہ ہی گزارا کر لیا جاۓ۔ کم از کم سر درد میں تو آفاقہ ہوگا ۔ ابھی وہ کچن کی طرف بڑھ ہی رہا تھا جب اسے ڈور بیل سنائی دی۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت دروازے پر کون ہوگا۔ اسکی امید کے عین مطابق مستقیم ہی تھا دروازے پر۔ فاتح نے دروازہ کھلا ہی چھوڑ دیا اور خود پھر کچن کی طرف بڑھ گیا۔ مستقیم بھی دروازہ بند کر کے اسکے پیچھے کچن میں ہی آ گیا۔اسکے ہاتھ میں کھانے والا بیگ تھا جو وہ ابھی آتے ہوئے اپنے ساتھ لایا تھا۔اس نے وہ بیگ شلف پہ رکھا اور برتن میں کھانا نکالنے لگا۔
“لو جی یہی رہ گیا اپنی زندگی میں اب بس۔ لوگوں کی بیویاں انکے گھر واپس آنے پر ان سے کھانے کا پوچھتی ہیں اور پھر نہایت پیار سے کھانا لگاتی ہیں اپنے شوہر کے لئے پر مجھے لگتا ہے میں ایک کمینے دوست کی بیوی ہی بن کر ہی رہ جاؤں گا بس” مستقیم کے اس طرح دہائی دینے پر فاتح کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی جس کو اس نے فورا لب دبا کر چھپا لیا۔
“ہنس لے ہنس لے کمینے مزہ لے لے تو میری اس مسکین حالت کا۔مجھ سے لکھوا لے جتنا میں تیرا خیال رکھتا ہوں نہ تیری فیوچر وائف بھی نہیں رکھے گی۔اب دیکھ میں جانتا تھا میرے جگر نے کھانا نہیں اب تک کھایا ہوگا اس لئے آتے ہوئے کھانا لیتا آیا۔” وہ اپنی ہی ہاناک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا ضرور فاتح کے گھر میں کوئی مسلہ ہوا تھا ورنہ وہ اس طرح سامان اٹھا کے یہاں فلیٹ پہ نہ آتا ۔
” تو تجھے کس نے کہا تھا کھانا لانے کے لئے اور میری خدمات کرنے کے لئے۔تجھے خود هی میری بیوی بننے کا شوق اگر تو میں کیا کہ سکتا ہوں۔” فاتح نے ناک چڑھا کر کہا پر سچ تھا کہ مستقیم کے آنے سے اسکا ذہن فلحال اپنی پریشانی سے ہٹ چکا تھا۔
“پھر کیا سوچا تو نے اب۔ آفس کب سے ری جوائن کر رہا ہے۔” کھانا کھانے کے بعد اب وہ فاتح سے اسکے نیکسٹ پلان کی بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“نہیں فالحال آفس نہیں جوائن کر رہا نیکسٹ ویک سے سٹارٹ کروں گا تب تک سمبھال لو تم ہی۔ دانیال انکل کی کال آئ تھی آج۔ انکے کالج کے ایک ٹیچر کی ڈیتھ ہو گئی۔ فلحال کسی ٹیچر کی ضرورت ہے انھیں۔ مجھ سے ریکویسٹ کر رہے تھے کے تھوڑا ٹائم دے دوں اور تم جانتے ہو میں انکل کو انکار نہیں کر سکتا اس لئے حامی بھر لی میں نے۔ کالج 3 لیکچر اٹینڈ کر کے وہاں سے ہی آفس آ جایا کروں گا پھر۔” فاتح سے اسے ساری ڈیٹیل بتا دی۔
“چل ٹھیک ہے لالے جیسا تجھے بہتر لگے اور تو ٹینشن نہ لے میں کر لوں گا آفس مینیج۔ چل اٹھ اب کافی بنا کے پلا اچھی سی۔” مستقیم نے فاتح کو حکم سنایا اور خود وہیں صوفے پر لیٹ کر موبائل میں مصروف ہو گیا۔
“اوکے لاتا ہوں۔” یہ کہہ کر فاتح کچن کی طرف بڑھ گیا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
دعا اور امايا کلاس میں ساتھ ہی داخل ہوئیں۔ لاسٹ بنچ خالی تھا۔ وہ دونوں جا کر وہاں بیٹھ گئیں۔ تمام سٹوڈنٹس آپس میں باتوں میں مگن تھے۔ دعا اور امايا بھی ایک دوسرے کو اپنی فیملی اور اپنے رزلٹ کے بارے میں بتانے لگیں۔ امايا کو وہ معصوم اور پیاری سی گڑیا جیسی لڑکی بہت پسند آئ تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا چکی تھیں۔ یہ آغاز تھا دعاحیدر اور امايا حسن کی دوستی کا۔امايا بہت کونفیڈنٹ لڑکی تھی اور دعا اس کے بالکل برعکس۔ دعا بچپن سے بس ماں باپ کی چھاؤں میں رہی تھی۔اس کی اسکول میں بھی کوئی دوست نہیں تھی۔ امايا حسن اسکی پہلی دوست تھی۔ وہ پہلی لڑکی جسے دعاحیدر نے دوستی کا شرف بخشا تھا۔
ابھی وہ سب باتوں میں مصروف تھے جب پرنسپل سر فاتح کے ساتھ کلاس میں داخل ہوئے۔انہوں نے سٹوڈنٹس کو کالج میں ویلکم کرنے کے بعد ان سے فاتح کا تعارف کروایا۔ اسکے بعد پرنسپل سر وہاں سے روانہ ہو گئے تو فاتح کلاس کی طرف متوجہ ہوا۔
“السلام علیکم سٹوڈنٹس! ماے نیم از فاتح ابراھیم خان۔آیٔ ڈڈ ماے MBA تھری ایرز اگو۔ ناؤ آئ ایم ہیر تو ٹیچ یو فزکس۔ ناؤ اسٹینڈ اپ ون باے ون اینڈ انٹروڑیوس یور سیلف۔”
اس کے چپ ہوتے ہے ایک سحر تھا جو ٹوٹا تھا اسکی پرسنیلیٹی کے بعد اسکا بولنے کا انداز ساحرانہ تھا۔ اسکے کہنے پر سب سٹوڈنٹس باری بری کھڑے ہو کر اپنا تعارف کروانے لگے۔
“ارے یار دعا سر کتنے ہینڈسم ہیں نا یار۔ بلکل ٹرکش ہیروز کی طرح۔ ” وہ دعا کے کان کے قریب جھک کر بولی۔ لیکن دعا نے جواب نہ دیا۔ وہ نوٹ بک پر جھک کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔اتنے میں امايا کی باری آئ تو اس نے بھی کھڑے ہو کر اپنا انٹروڈکشن کروایا۔ اسکے بعد اب فاتح اگلے سٹوڈنٹ کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔وو لڑکی جھک کر کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ اسکا چہرہ نہیں نظر آرہا تھا اس طرح۔ صرف سفید مومی ہاتھ ہی نظر آ رہے تھے جوتیزی سے کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ امايا نے اسکو بازو سے پکڑ کر ہوش دلایا اور اسکا دھیان سر کی طرف کروایا۔اس نے جسے ہی سر اٹھایا اس کی کانچ سی نیلی آنکھیں فاتح کی بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں تھیں۔ اسکے چہرے پر پڑنے والی پہلی نظر ہی فاتح ابراھیم خاں کا چین وین سب لے اڑی تھی۔پل بھر میں ہی فاتح ابراھیم کا دل لٹنے کو تیار ہوا تھا۔وہ معصومیت کا پیکر تھی اور حسین تھی۔ بہت حسین۔ بالکل کسی شاعر کی غزل کے جیسی۔ شبنم کے پہلے قطرے کے جیسی۔پاک اور شفاف۔ فاتح ابراھیم کا دل ڈولنے لگا تھا اسے دیکھ کر۔اگر کوئی اس وقت فاتح ابراھیم سے پوچھتا کے دنیا کا سب سے خوبصورت منظر کونسا ہے تو وہ آنکھیں بند کر کے ایک لمحے سے پہلے جواب دے دیتا۔ دعا حیدر کے چہرے پر پڑنے والی پہلی نظر۔ اور یہ پہلی نظر ہی فاتح ابراھیم کو لے ڈوبی تھی۔ دل کو بڑی مشکل سے آمادہ کر پایا تھا وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹانے سے۔ دعا نے جلدی سے اپنا نام بتایا اور واپس بیٹھ گئی۔
