No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
وہ آج دو دن آرام کرنے کے بعد مستقیم کے دیے گئے ایڈریس پر آئ تھی۔ گلابی رنگ کا لباس پہنے جو کے بار بار دھونے سے اپنی اصلی رنگت کھو چکا تھا لیکن اسکی شادابی رنگت پر خوب جچ رہا تھا۔ سوٹ کے ساتھ کا ہی گلابی دوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا اور کندھوں کے گرد سفید رنگ کی چادر پھیلا رکھی تھی۔ لیکن جس چہرے پر مہینوں سے مایوسی طاری تھی آج اس چہرے پر خوشی رکساں تھی۔ وہ آج اپنی ماں کی دعاوں کے حصار میں گھر سے نکلی تھی۔ وہ یہ سوچ کر اندر سے ڈری بھی ہوئی تھی کہ اگر اسکا انٹرویو اچھا نہ ہوا اور اس شخص نے اسے جاب نہ دی تو پھر کیا کرے گی لیکن پھر اس مایوسی پر امید حاوی ہو جاتی تھی کہ اللّه نے اگر کسی کو اسکے لئے وسیلہ بنا کر اسے امید کی کرن دکھائی تھی تو وہ اسکے یقین کو بھی برقرار رکھے گا۔ اسکا حوصلہ پست نہیں کرے گا۔ بیشک وہی تو ہے جو مایوسی کے اندھیرے سے نکال کر اپنے بندے کو امید کی روشنی سے روشناس کرواتا ہے۔ وہ جو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندے سے وہ کیسے اپنے پیارے بندے کی دعا رد کر سکتا ہے جب اسکا بندا پورے دل اور ایمان کے ساتھ اسے پکارے۔ جب ماں کے دل سے دعا نکلے تو وہ عرش تک جاتی ہے اور عرش والا کس طرح ایک ماں کی دعا رد کر سکتا ہے۔ وہ تو اپنے کسی گنہگار بندے کی بھی دعا رد نہیں کرتا۔ وہ تو کہتا ہے کہ میرے بندو مجھ سے مانگو میں تمهين عطاء کروں گا۔ وہ بھی اپنی ماں کی دعاوں اور اللّه پہ یقین رکھ کر آئ تھی۔ اسنے ریسیپشن پر جا کر مستقیم کا پوچھا تو اسنے بتایا کہ مستقیم ابھی تک نہیں آیا اسکو انتظار کرنا پڑے گا۔ وہ اسکے انتظار میں ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئی۔ اسکو انتظار کرتے ہوئے بیس منٹ گزر چکے تھے جب اسے کوریڈور سے مستقیم آتا ہوا دکھائی دیا۔نیلے رنگ کا پینٹ کوٹ پہنے،سرخ ٹائی لگاے ، دائیں ہاتھ میں قیمتی گھڑی پہنے ، چہرے پر ۔سنجیدگی طاری کئے وہ اسی جانب آتا دکھائی دیا
وه اتنا دلکش لگ رہا تھا کہ حریم نے بے ساختہ ہی اس سے اپنی نظریں چرا ئیں ۔ وہ اسکے پاس سے گزر کر جانے لگا جب اسکی نظر حریم پر پڑی۔
“مس حریم آپ کب آئیں؟ مس زارا آپ انہیں میرے آفس میں بٹھا دیتیں۔” وہ پہلے حریم سے اور پھر ریسیپشن پر موجود اپنی ورکر سے بولا۔
“چلیں میرے آفس میں آئیں آپ۔” وہ اسے ساتھ لئے اپنے آفس میں داخل ہوا۔
“آپ بیٹھیں پلیز !” وہ اسے کرسی کی طرف اشارہ کرتا اپنی مخصوص کرسی کی طرف بڑھ گیا۔
وہ گلابی لباس میں شفاف چہرے کے ساتھ اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ کو اسکے چہرے سے نظریں ہٹانا مشکل لگ رہا تھا۔ نظریں بھٹک بھٹک کر اسکے شفاف چہرے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
“اب کیسی طبیعت ہے اپکی اور اپکا زخم کیسا ہے اب۔” وہ حریم سے مخاطب تھا۔
“جی سر الحمداللہ ٹھیک ہوں میں اب اور یہ لیں میرے ڈاکومینٹس۔” اسنے مستقیم کے سوال کا جواب دے کر اپنے ڈاکومینٹس والی فائل اسکی جانب بڑھائی جبکہ اسکی نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں۔
مستقیم نے اسکی فائل پکڑ کر ریڈ کرنا شروع کر دی۔ وہ گریجویشن کے آخری سال میں تھی۔ اسکی تعلیم واقعی ناكافی تھی۔
“مس حریم آپکی جی- پی- اے تو اچھی ہے پر ابھی اپکی ڈگری مکمل نہیں ہے۔ آپکو جاب کیوں کرنی ہے ڈگری مکمل کرنے سے پہلے ہی؟”
“کیوں کہ مجھے جاب کی بہت ضرورت ہے ۔ میرے والد حیات نہیں ہیں اور والدہ بہت بیمار ہیں۔ گھر کو چلانے کے لئے مجھے جاب کی ضرورت ہے اور رہی بات تعلیم کی تو میں پہلے بھی پرائیویٹ پڑھ رہی تھی اب بھی ساتھ پڑھ لوں گی۔” وہ بہت دھیمے لہجے میں بول رہی تھی۔
“اوکے مس حریم مجھے سیکرٹری کی ضرورت ہے میں آپکو اس پوسٹ کے لئے اپائنٹ کر رہا ہوں۔تین مہینے اپکی پرفارمنس دیکھ کر پھر اپکی تنخواہ بھی بڑھا دی جاۓ گی۔ آپ باہر رے سے اپنا جوائننگ لیٹر ریسیو کر لیں۔” وہ اسے پھر تنخواہ اور جاب کے متعلق ضروری باتیں بتانے لگا۔ حریم بہت خوش تھی۔ اسکو اسکی امید سے کہیں بڑھ کر تنخواہ مل رہی تھی۔ تشکر کے آنسو اسکی آنکھوں میں چمکنے لگے۔وہ علودائیہ کلمات کہہ کر اسکے آفس سے نکل آئ۔ اسکے جانے کے بعد مستقیم آخری لمحات میں اسکے چہرے کی خوشی یاد کرتا مسکرا دیا۔
🖤🖤🖤🖤
“مے آئ کم ان سر؟” وہ آل تو جلال تو کا ورد کرتی اسکے آفس کے سامنے کھڑی اجازت مانگ رہی تھی۔ نہ جانے کیوں پر دعا کو فاتح ابراھیم خان سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اسکے چہرے پے چھائی سنجیدگی اور گہری نظریں دعا کا ننھا سا معصوم دل سکیڑے رکھتی تھیں۔وہ ایک نظر فاتح پر ڈال کر جلدی سے اپنی نگاہیں جھکا گئی۔
“یس کم ان۔” وہ بک شیلف کے سامنے کھڑا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا جب اسکی آواز پہ پلٹا۔ اسے اجازت دے کر وہ بک شیلف کے پاس سے ہٹ کر اپنی کرسی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی نظریں دعا کے صبیح چہرے پرگاڑھ دیں۔ وہ معصومیت سے نظریں جھکاے کھڑی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔ وہ جو کھڑا تفصیل سے اسکا جائزہ لے رہا تھا اسے یوں کنفیوژ دیکھ کر گہرا مسکرایا۔
“رول نمبر ٹین! آپ یہاں پڑھنے آتی ہیں نہ کہ دوسرے فیلوز کے ساتھ گپیں هانكنے ۔ تو بہتر ہے کہ جس مقصد کے لئے آتی ہیں اس پے ہی دھیان دیں۔ ڈو یو گوٹ اٹ؟” کمیل کا اسکے پاس بیٹھنا اسے بہت غصہ دلا گیا تھا اور جن نظروں سے وہ دعا کو دیکھ رہا تھا وہ فاتح کا خون کھولا گئی تھیں۔پر وہ کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا۔
“يي ۔۔۔یس سر ۔” وہ جو پہلے ہی اس سے خوفزدہ رہتی تھی اب اسکے سرد لہجے میں دی گئی وارننگ سے سخت حواس باختہ ہو گئی اور جواب دے کر بغیر اسکا ایک لفظ بھی مزید سنے ہوا کے جھونکے کی طرح وہاں سے غائب ہو گئی۔ اس کی ایسی حواس باختگی پر وہ بے ساختہ قہقہہ لگا اٹھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤
وہ دونوں آج کافی دنوں کے بعد فاتح کے فلیٹ پر مل رہے تھے ۔ وہ دونوں ابھی فاتح کے ہاتھ کی بنی کافی پی کر لاؤنج میں بیٹھے تھے۔فاتح کے چہرے پر پھیلا سکون اور ہلکی سی مسکراہٹ مستقیم کی زبان کو سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔
“کیا بات ہے لالے بہت خوش لگ رہا ہے۔ تیرے اس منحوس چہرے پر پھیلی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی۔ خیر تو ہے نا۔ کہیں محبت وهبت تو نہیں کر بیٹھے۔۔۔۔ہاں ؟”
وہ اسے کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہوا شرارت سے پوچھ رہا تھا۔
“ہاں ایسا ہی سمجھ لو” وہ لبوں پر دھیمی مسکراہٹ سجائے بولا۔ آنکھوں میں چھن سے اس پری پیکر کا دلربا سراپا ابھرا تھا۔لبوں پر چھائی دھیمی مسکراہٹ اب گہری مسکان میں ڈھل چکی تھی۔
“کیا سچ میں ؟” مستقیم آنکھوں میں بے یقینی لئے پوچھ رہا تھا۔
اس نے تو بس مذاق میں بات کی تھی پر وہ نہیں جانتا تھا کے وہ اس قدر سیریس ہے۔
“تو پھر تم نے اسے بتا دیا جس سے تم محبت کرتے ہو آئ مین بھابی کو؟” مستقیم اب آنکھیں میں شرارت کے ساتھ اشتیاق لئے فاتح سے پوچھ رہا تھا۔
“پر کیوں ؟”
“کیا مطلب کیوں تم اپنی محبت حاصل نہیں کرو گے کیا؟” وہ حیرت سے اپنے دوست کا پاگل پن دیکھ رہا تھا۔
“تم سے کس نے کہا کہ میں اپنی محبت حاصل کرنا چاہتا ہوں؟ تمہیں کس نے کہا کہ میں نے محبت کسی منزل کی چاہ میں کی ہے۔ میں نے تو محبت بس اس سکون کے لئے کی ہے جو مجھے اسے دیکھ کر ملتا ہے۔ اس ٹھنڈک کے لئے جو اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں اترتی ہے۔ اس اطمینان کے لئے جو اسکی موجودگی کی وجہ سے میری روح میں سرائیت کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ میں نے محبت کا کھیل کھیلا ہے جس میں ہار جیت سے پرے ہو کر اسے چاہتا رہوں گا بس۔اس سے محبت میرا سکوں ہے بلکہ وہ خود میرے لئے سراپا سکون ہے! ہاں میں اقرار کرتا ہوں کہ وہ دعا حیدر فاتح ابراھیم خان کا سکون ہے۔” وہ آنکھیں بند کیے لبوں پر مسکان سجا ے ایک جذب سے اپنے جگری یار کے سامنے اپنی محبت کا با ضابطہ اعلان کر رہا تھا۔
اور مستقیم بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی ابھی جو کچھ بھی اسکے کانوں نے سنا وہ فاتح نے ہی کہا ہے یا پھر وہ جاگتی آنکھوں سے ہی خواب دیکھ رہا ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤
وہ آنکھیں بند کیے نیند کی وادی میں گم تھی۔ ہلکے گلابی رنگ کا نائٹ سوٹ پہنے جسکی شرٹ پر فروزن کی پرنسیس ایلسا بنی ہوئی تھی، وہ چہرے پر معصومیت سجائے ، سینے تک کمفرٹر اوڑھے پرسکون ہو کر سو رہی تھی۔ نیلی کانچ سی آنکھوں پر لامبی پلکوں کی جھالڑ سایہ فگن تھی۔ سیاہ کالے بالوں کی پونی کی گئی تھی جس سے نکلی کچھ لٹیں گالوں سے ٹکرا کر ایک سہانا منظر پیش کر رہی تھیں۔ چہرے کی گلابی رنگت میں اس وقت زردیاں گھلی ہوئی تھیں۔ وہ پچھلے تین دن سے بخار میں مبتلا تھی جس کے باعث وہ کالج بھی نہیں جا رہی تھی۔ بلیک جینز اور بلیک ہے ہوڈی میں ملبوس ایک شخص کھڑکی کے ذریعے اسکے کمرے میں داخل ہو کر اسکے سرہانے آ بیٹھا تھا اور اب اسکا تفصیلی جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ اسکے حسین چہرے کو دیکھ کر اسکا دل بے اختیار ہوا تھا۔ وہ بے اختیار جھکا اور اسکے ماتھے کو ہونٹوں سے چھو لیا۔ ایک سکون رگ و پے میں سرایت کرتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
کچھ محسوس کرتے دعا نے آنکھیں کھولیں تو سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا اسکے سونے سے پہلے۔ اس نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں موند لیں اور پھر سے نیند کی وادی میں گم ہو گئی۔
“میری معصوم شہزادی!” پردے کے پاس کھڑا وجود اسے پیار بھرا نام دے کر اسی طرح غائب ہو گیا وہاں سے جس طرح آیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤
