No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ دعا حیدر تھی۔ لاکھوں منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہونے والی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد۔حیدد عباس ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے۔ان کی اہلیہ سارہ بیگم ان کی محبوب بیوی تھیں۔کالج کے زمانے سے دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔حیدر صاحب نے والدین کو اپنی پسند کے بارے میں بتایا تو وہ بغیر کسی اعتراض کے خوشی خوشی سارہ بیگم کا ہاتھ مانگنے چلے گئے اور وہاں سے بھی مثبت جواب ملا۔یوں بغیر کسی رکاوٹ کے انکی محبت کو منزل مل گئی۔حیدر عباس کے ایک ہی بڑے بھائی تھے کریم عباس۔ ان کی اہلیہ شگفتہ بیگم ایک تلخ مزاج خاتون تھیں اور سارہ بیگم سے شروع سے ہی خار کھاتی تھیں۔دعا کی پیدائش سے ایک سال قبل ہی انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا۔ دعا کی پیدائش کے بعد یہ نفرت اور بھی بڑھ گئی کیونکہ ان کی بیٹی سونیا،خوبصورتی میں دعا سے بہت کم تھی۔ دونوں بھائی ایک ہی گھر کے الگ الگ پورشنز میں رہتے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“خادم حسین فاتح اٹھا نہیں اب تک کیا؟” ابرہیم خان نے اپنے ملازم سے پوچھا۔ وہ جانتے بھی تھے کہ آگے سے کیا جواب ملنے والا ہے پر پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پوچھ بیٹھے۔
“ارے ابرہیم! آپ جانتے ہیں نا کہ وہ نہیں آئے گا۔وہ بہت نفرت کرتا ہے مجھ سے۔ ایم سوری ابرہیم! میری وجہ سے آپ کا بیٹا آپ سے دور ہو گیا۔” وہ آنکھوں میں آنسو لیے ان سے کہہ رہی تھیں۔
“پلیز فائقہ! ایسے مت پریشان ہوں آپ، مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا آپ کا ایک بے بنیاد بات پر پریشان ہونا۔ وہ آپ کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے لاپرواہیوں کی وجہ سے دور ہوا ہے مجھ سے۔وہ نادم نظر آتے تھے۔
اتنے میں وہ سیڑھیوں سے اترتا دکھائی دیا۔بلیک پینٹ شرٹ اور بلیک ہی ہڈ والی جیکٹ ،بلیک ہی شوز پہنے، ایک ہاتھ میں سن گلاسز اور گاڑی کی چابی پکڑے، چہرے پر سرد تاثرات سجائے،بغیر ان پر ایک نگاہ ڈالے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا۔ پیچھے ابرہیم خان ایک سرد آہ بھر کے رہ گئے۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“ماما!ماما! کہاں ہیں اپ؟ وہ سارہ بیگم کو آواز دیتی ہوئی نیچے آرہی تھی۔
“کیا ہوا دعا بیٹا رزلٹ شو ہو گیا کیا؟” وہ دعا سے پوچھنے لگیں۔
“جی ماما اور آپ کو پتا ہے میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی ہوں۔” وہ خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ انہیں بتانے لگی۔آج اس کا میٹرک کا رزلٹ تھا جس میں ہمیشہ کی طرح وہ شاندار کامیابی حاصل کر چکی تھی۔
“ماشاءاللہ! مجھے یقین تھا کہ میری بیٹی ہمیشہ کی طرح شاندار کامیابی حاصل کرے گی.”وہ دعا کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں اور اس کو اپنے ساتھ لگائے لاؤنج میں لے آئیں۔تبھی دروازے کی گھنٹی سنائی دی۔
“میں دیکھتی ہوں ماما آپ یہاں ہی رکیں.” وہ دروازہ کھولنے کے لیے بھاگی۔دروازہ کھولا تو سامنے ہی حیدر صاحب کو دیکھتے وہ خوشی سے چیختی ان کی باہوں میں سما گئی۔
“پاپا اپ کو پتا ہے میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی ہوں۔” وہ خوشی سے چہچہا رہی تھی۔
“میری گڑیا ہے ہی بہت جینیسٔ، مجھے پہلے ہی پتا تھا میری گڑیا کا رزلٹ بہت اچھا آئے گا۔ چلو اسی خوشی میں آج لنچ باہر کریں گے ہم جلدی سے ریڈی ہو جاؤ آپ۔” وہ پھر سے اس کا ماتھا چوم کر کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“آئی چکنی چمبیلی۔۔۔۔۔”منہ میں پان ڈالے اپنی پھٹے سپیکر جیسی آواز میں وہ گانے کا ستیاناس کرنے میں مصروف تھا جب اسکی نظر سامنے سے آتی اس حسینہ پر پڑی۔ وہ پان تھوکتا اسکی جانب بڑھا اور اپنی گندی نظریں اسکے وجود پر ٹکا دیں۔ حریم کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی اس نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کر لی۔
“ارے میری رانی اتنی جلدی کس بات کی ہے۔ اپنے اس حسین چہرے کا سہی طرح دیدار تو کرواتی جاؤ۔ ویسے اس گلابی لباس میں تو ستم ڈھا رہی ہو۔”اسکی ساری بکواس سن کر حریم کا چہرہ غصے اور ضبط سے سرخ پڑ گیا۔
“بشیر بھائی پلیز راستہ چھوڑیں میرا!” وہ نظریں نیچی رکھ کر بہت ضبط سے بولی۔
“ارے میری بلبل…..” ابھی وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر پایا تھا جب اسکا چھوٹا بیٹا اسے پکارتا اسکی طرف بھاگا چلا آرہا تھا۔ وہ اپنی ماں کا پیغام لے کر آیا تھا۔ بشیر بوکھلا کر تیزی سے اسکے ساتھ اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
حریم نے انگلیوں کی پوروں سے اپنی سنہری آنکھوں میں موجود نمی کو صاف کیا اور آسمان کی طرف منہ کر کے دل میں اپنے رب کا شکریہ ادا کیا جس نے اس مصیبت سے آج پھر اسکی جان چھڑا دی۔اس نے ایک بے بس سانس خارج کی اور گھر میں داخل ہو گئی۔
🖤🖤🖤🖤🖤
