No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
وہ چور نظروں سے بار بار فاتح کی طرف دیکھ رہی تھی جو بیڈ پر نیم دراز ہوا موبائل میں مصروف تھا۔ اس کی نظریں محسوس کرتا فاتح سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا تو وہ ایک دم اسے اپنی طرف تكتا پا کر بوکھلا گئی اور جھٹ سے کتاب چہرے کے آگے کر گئی۔
وہ موبائل بیڈ پر ہی رکھتا اسٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ بیٹھ کر صبح ہونے والے فزکس کے پیپر کی تیاری کر رہی تھی۔ فاتح نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ سے کتاب لے لی تو وہ سوالیہ نظروں سے فاتح کی طرف دیکھنے لگی۔
“کوئی مسئلہ ہے کیا؟ کسی سوال کی سمجھ نہیں آ رہی تو مجھ سے بلا جھجک پوچھ سکتی ہیں آپ۔”
اس کے پوچھنے پر وہ جھٹ سے نفی میں سر ہلا گئی۔
“نن۔۔۔نہیں تو کچھ بھی نہیں سمجھنا۔ سب سمجھ تو لیا۔”
اس کے بولنے پر وہ کتاب واپس دعا کو پکڑا گیا جسے پکڑتے ہی وہ رٹا لگانا شروع ہو چکی تھی۔
فاتح ایک نظر پھر سے اس پر ڈالتا کمرے سے نکل گیا تو اس کے جاتے ہی دعا نے گہرا سانس لیا۔
“اف! شکر بچ گئی ورنہ کھڑوس نے تو پکڑ ہی لیا تھا بس۔”
وہ اپنا سانس بحال کرتی کتاب پر نظریں جما چکی تھی۔ پانچ منٹ کے بعد فاتح کمرے میں آیا تو اس کے ہاتھ میں جوس کا ایک گلاس تھا جسے وہ دعا کی طرف بڑھا گیا۔
“کتاب رکھ کر پہلے یہ جوس ختم کریں شاباش!”
اسے بولتا وہ خود ہی اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر سامنے اسٹڈی ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے جوس اس کے سامنے کر رکھا تھا جسے اس نے پکڑنے کی زحمت نہ کی تھی اب تک۔
“پر ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو کھانا کھایا! ابھی بلکل بھی دل نہیں کر رہا۔”
وہ منہ بنا کر بولتی فاتح کو اتنی پیاری لگی کہ وہ اچانک جھکتا اس کی پیشانی پر اپنے پیار کے پھول کھلاتا پیچھے ہٹتے ہی جوس کا گلاس اس کے منہ سے لگا گیا اور تب تک پیچھے نہ کیا جب تک وہ سارا جوس ختم نہ کر گئی۔
“صحت دیکھیں اپنی آپ! پڑھنے کے لئے انرجی چاہیے ہوتی ہے اور انرجی کھانے پینے سے ہی ملتی ہے اور ہمیں ویسے بھی پڑھنے کے دوران کچھ میٹھا ضرور لینا چاہیے۔ اس سے دماغ تیز ہوتا ہے اور دماغ کا گلوکوز لیول بھی کم نہیں ہوتا۔ اب پڑھیں دھیان سے شاباش!”
وہ خالی گلاس کچن میں رکھ کر واپس آیا اور دوبارہ بیڈ پر بیٹھ کر موبائل میں گم ہو گیا۔
کچھ دیر ہی گزری تھی جب وہ انگلیاں مڑوڑتی ہوئی اس کے نزدیک ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔فاتح نظریں اٹھا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“وہ۔۔۔میں یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ۔۔۔۔ ہمارا فزکس کا پیپر آپ نے بنایا ہے نا؟”
وہ یہ سوال پوچھتے ہوئے کافی گھبرا رہی تھی پر ہمت کر کے اگر پوچھ ہی لیا تھا تو اس کا جواب سن کر ہی یہاں سے اٹھ سکتی تھی اب ورنہ دل کر رہا تھا کہ اس کے سامنے سے غا ئب ہو جاۓ۔
اس کے سوال پر وہ اپنی بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ چھپا گا۔ وہ اب سمجھا تھا کہ کیوں وہ کافی دیر سے بار بار چور نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
“جی تو؟”
وہ ابرو ابکا کر اسے دیکھنے لگا۔
” وہ ایکچولی میں یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔”
وہ انگلیاں مڑوڑتی ہوئی بات ادھوری چھوڑ گئی۔
“کہ؟”
اس کے پوچھنے پر وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی تھوڑا اور اس کے نزدیک ہو گئی اور بات جاری رکھنے کے لئے اپنا حلق تر کرنے لگی۔
وہ میں کہہ رہی تھی کہ آپ نے پیپر بنایا ہے تو آپ کو تو پتا ہی ہوگا نا کے کل کون کون سے سوالات آنے ہیں۔توآپ ۔۔۔آپ وہ سوالات مجھے بھی بتا دیں۔”
وہ تیزی سے کہتی اپنی آنکھیں زور سے بند کر گئی۔
وہ اسے دیکھتا مسکراہٹ دبانے لگا۔ اب آئ تھی نا بلی تھیلے سے باہر!
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنی جانب کھینچ گیا تو وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی دونوں کے درمیان فاصلہ قائم کر گئی ۔ وہ اسے خود سے اور نزدیک کر گیا تو دعا کے ہونٹ فاتح کے سینے سے ٹکرانے لگے۔
“اچھا تو اگر میں آپ کو بتا دوں تو بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟”
اس کے بولنے پر وہ پر جوش ہوتی اپنا سر اٹھا گئی۔ اس کے چہرے پر موجود خوشی دیدنی تھی۔
“اف! آپ سچ کہہ رہے ہیں کہ آپ بتا دیں گے؟ آپ جو کہیں گے میں بلکل ویسا ہی کروں گی!”
لہجے کی خوشی چھپاے نہیں چھپ رہی تھی۔
“آہاں مسز! آر یو شیور ؟”
اس کے پوچھنے پر وہ تیزی سے سر ہلا گئی۔ ہری آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔
“اوکے ہگ می!”
وہ جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا تو وہ ہونق بنی اس کا چہرہ تکنے لگی۔
“جج۔۔جی؟” اس کی ہونق شکل پر فاتح سے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔
“ہاں جی! کچھ لینے کے بدلے کچھ دینا تو پڑے گا نا۔ ناؤ ہری اپ!”
وہ اس سے اپنی خواہش بیان کرتا اب اس کی پیش قدمی کے انتظار میں تھا۔ دعا نے اس کے سینے پر موجود اپنے ہاتھ آہستہ آہستہ اوپر اس کے کندھے کی طرف سرکانے شروع کر ديے۔ اب وہ اس کے کندھوں پر دونوں ہاتھ جما کر سر جھکا کر اس کے سامنے ایستاده تھی۔ اس کی جھجک کو محسوس کرتے فاتح نے خود ہی اسکی کمر کو جھٹکا دیا تو وہ اس کے ساتھ لگ گئی۔ فاتح نے اس کی کمر پر موجود بازوؤں کو اور بھی مضبوطی سے اس کے گرد باندھا تو اس کے تنگ حصار کی قید میں موجود دعا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا جیسے ابھی باہر آ جاۓ گا۔
تھوڑی دیر یوں ہی اس کے حصار میں پڑا رہنے کے بعد وہ ہلکا سا کسمسائی تو ایک دفع اسے زور سے خود میں بھینچ کر اسے اپنی گرفت سے آزاد کر گیا اور اس کے پیچھے ہونے سے پہلے جھک کر اس کی آنکھوں کو چوم گیا۔ اس کے پیچھے ہوتے ہی وہ جھجک کر تھوڑا دور ہو کر بیٹھی اور سرخ رنگت لئے ماتھے پر موجود بالوں کو پیچھے کرنے لگی۔ نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں اور کانچ سی ہری آنکھوں پر لمبی پلکوں کی جھالڑ پردہ کیے ہوئی تھی۔
“بتائیں اب!”
اس کے کہنے پر وہ اٹھ کر اسٹڈی ٹیبل سے اس کی کتاب اٹھا لایا اور واپس آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ کتاب کا پہلا صفحہ کھول گیا تو وہ پھر سے جوش میں آتی اس کے نزدیک ہو کر بک پر جھک کر دیکھنے لگی۔
وہ پنسل سے کچھ چیپٹرز پر نشان لگا کر اسے دکھانے لگا۔
“یہ جن چیپٹرز پر میں نے نشان لگائے ہیں نا پیپر ان میں سے ہی آے گا۔ اب اتنا بتا دیا اس کے آگے ایک لفظ نہیں بتاؤں گا۔ اگر اور کچھ پوچھنا ہے کہ تو اس کے الگ چارجز لگیں گے۔ ‘
وہ کتاب واپس اس کے ہاتھ میں پکڑا گیا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
اس کی حالت دیکھ کر فاتح کا دل چاہا کہ زور سے قہقہہ لگاے۔
“آپ بہت بڑے چیٹر ہیں۔ میں آیئندہ آپ سے کچھ بھی نہیں پوچھوں گی!”
وہ غصے سے لال پیلی ہوتی کتاب پکڑ کر کمرے سے نکل گئی۔ وہ اسے آوازیں دینے لگا پر وہ اس کی ایک بھی آواز سننے بغیر اپنے پیچھے زور سے دروازہ بند کرتی باہر لاؤنج میں چلی گئی تو فاتح قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
” ہاے میری معصوم محبت!”
وہ پیار سے بولتا اس کے تاثرات یاد کرتا پھر سے ہنس دیا۔
*******
ڈیڑھ ہفتہ ہو گا تھا مستقیم کو گئے ہوئے پر یہ ڈیڑھ ہفتہ حریم کو ڈیڑھ صدی کے برابر لگ رہا تھا۔ اس کی مستقیم سے بات بھی بہت کم ہو رہی تھی۔ وہ کال کر کے حال وغیرہ پوچھتا اور پھر مصروفیت کا کہہ کر دوبارہ کال کرنے کا وعدہ کرتا کال بند کر جاتا۔
آج جمعہ تھا اور سوموار کو مستقیم کی واپسی تھی۔ اس نے کچھ سوچ کر مستقیم کو کال ملائی پر اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔ اس نے غصے سے موبائل بیڈ پر پهينكا اور الماری سے ایک سوٹ نکالتی فریش ہونے کے لئے باتھروم میں چلی گئی۔ باہر آنے کے بعد اس نے موبائل چیک کیا تو مستقیم کی کوئی کال یا میسج نہیں تھا۔ اس نے مایوسی سے موبائل واپس رکھ دیا اور خود شیشے کے آگے کھڑی ہو کر بال سلجھانے لگی۔ وہ بال سلجھاتے مستقیم کے خیالوں میں گم تھی جب اپنے پیچھے آہٹ ہونے پر چونک ک کر پیچھے مڑی تو وہیں ساکت ہو گئی۔
نیلی پینٹ پر سفید شرٹ پہنے اور سفید ہی ٹائی لگائے وہ مستقیم ہی تھا۔ اسے دیکھتے مستقیم نے دھیرے سے اپنی باہیں وا کیں تو وہ پلک جھپکتے اس کی باہوں میں سما گئی۔ اس کے سینے سے لگتے ہی وہ سسکنا شروع ہو چکی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے اس کی پیٹھ سہلانے لگا۔
“بیوی!”
وہی جذبوں سے پر گھمبیر آواز حریم کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ آنکھوں موندے اسے محسوس کرنے لگی۔
آہ! کتنا مس کیا تھا اس نے اس آواز اور اس لفظ کو۔ مستقیم کو کیا پتا ہو کہ اس کی آواز میں کہا گیا یہ لفظ کیسے حریمکی دھڑکنوں میں تلاطم برپا کر دیا کرتا تھا۔
“بیوی یار بس بھی کر دیں یا پھر ان آنسوؤں کی ندی میں اپنے مظلوم شوہر کو بہانے کا خطرناک ارادہ کر بیٹھی ہیں۔ مجھے پتا ہوتا کہ میری بیوی مجھے اتنا مس کریں گی تو بخدا کبھی آپکو اس دوری سے نہ گزرنے دیتا۔”
وہ اسے خود سے دور کرتا اس کے آنسو پونچھنے لگا جو مہرون لباس میں دوپٹے کے بغیر اس کی باہوں میں سمٹی ہوئی قندھاری رنگ چہرے پر سجائے اس کے ہوش اڑا رہی تھی۔
اس کی گہری جسم میں اترتی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ اپنا دوپٹہ اٹھانے کے لئے بیڈ کی طرف لپكی تو وہ اس کی كلائی اپنی گرفت میں لیتا اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ ختم کرتا اسے جھک کر باہوں میں لئے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔
وہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ حریم نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ اس کے کندھے پر دباؤ ڈالتا اسے واپس بیڈ پر لٹا گیا اور اسے سر سے پاؤں تک اپنی نظروں کے حصار میں لے گیا۔
اس کی ایکسرے کرتی نظریں اپنے جسم پر پڑتی دیکھ کر وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا منہ چھپا گئی تو وہ گہرا مسکرا دیا۔
وہ اس کے ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹاتا اس کی پیشانی کو اپنے پیار بھرے لمس سے مہکا گیا۔
“جانتی ہیں حریم میرا سکون ہیں آپ! جب جب آپ کو دیکھتا ہوں تو یہ دل سجدہ شکر میں جھکنے لگتا ہے۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھ گیا تو وہ اپنی تیزدھڑکنوں سے اس کی دھڑکنیں محسوس کرنے لگی۔
” میں نے جب پہلی دفع ریسٹورنٹ میں آپ کو دیکھا تھا تو میرے دل نے تب ہی مجھے دھوکہ دے دیا اور میرا ہوتے ہوئے بھی یہ صرف اور صرف آپ کے لئے دھڑکنے لگا۔ اس دل کی اول و آخر مکیں ہیں آپ !”
اس کی بات سنتی حریم کی آنکھیں تحیر سے پهيلیں تو وہ جھکا اس کی آنکھوں کو اپنے لمس سے معتبر کر گیا۔
“آپ سے نکاح کی شرط وہ کنٹریکٹ محض ایک کاغز کا ٹکڑا تھا جس کی میری نظر میں کوئی اہمیت نہیں تھی اور میں اسی دن ہی وہ غیر ضروری ٹکڑا پھاڑ کر پھینک چکا تھا۔ میں آپ کی پوری رضامندی کے ساتھ آپ کو حاصل کر کے ہمارے خوبصورت رشتے کو اور بھی مضبوط کرنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو میرا ساتھ زندگی بھر کے لئے قبول ہے؟”
اس کے پوچھنے پر وہ آنکھیں بند کرتی اثبات میں سر ہلا گئی۔
“میں آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں حریم!”
اس کے کہنے پر وہ اپنی تیز ہوتی سانسوں میں اس کی محبت کو قبولیت کا شرف بخش گئی۔
“ق۔۔۔قبول ہے”
اس کے اقرار پر وہ سرشار ہوتا اس کے چہرے پر جھک گیا اور اپنی محبت کے پھول کھلانے لگا۔اس کی پیشانی پر مہر چھوڑتا وہ اس کی آنکھوں پر جھک گیا۔ اس کی تیکھی ناک کو ہونٹوں سے چھوتا وہ اسے دیکھنے لگا جو آنکھیں بند کیے پڑی تھی۔ اس کے گالوں پر بکھری لالی اسے مزید حسین بنا رہی تھی۔وہ جھک کر اس کے دونوں گال چوم گیا۔ نظریں بھٹک کر اس کے سختی سے آپس میں پیوست گلابی لبوں پر پڑیں تو وہ ان پر جھک گیا۔ وہ سختی سے اسکا گریبان اپنے ہاتھوں میں دبوچ گئی۔ محبت کا جام پی کر وہ پیچھے ہٹ کے اس کی جانب محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگاتو وہ شرماتی ہوئی اس کی گردن میں چہرہ چھپا گئی۔ مستقیم نے اسے اپنے حصار میں لیا اور اس پر محبت کی برسات کرنے لگا۔ آسمان پر موجود چاند اور ستارے بھی ان کے ملن پر سرشار خوب چمک رہے تھے۔
***
