Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

آج امايا نہیں آئ تھی دعا کافی دیر اسکا انتظار کرتی رہی کہ شاید لیٹ ہو وہ آج پر وہ نہیں آئ تھی اور دعا کا موبائل بھی آج گھر ہی رہ گیا تھا۔ صبح جلدی جلدی میں وہ اپنا موبائل چارجنگ پہ ہی لگا چھوڑ آئ تھی اور کالج آ کر یاد آیا تھا اسے۔ آج کا دن بہت بورنگ گزرا تھا اسکا کیوں کہ امايا بھی نہیں تھی آئ اور فاتح سر سمیت دو اور ٹیچرز بھی غیر حاضر تھے۔ چھٹی ہوئی تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل آئ اور گیٹ کے پاس کھڑے ہو کر آٹو کا انتظار کرنے لگی۔ اسنے پیسے نکالنے کے لئے بیگ کھولا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیوں کہ بیگ میں والٹ موجود نہیں تھا۔ اس نے پریشانی سے سارا بیگ کھنگال لیا پر والٹ کا نام و نشاں بھی نہیں تھا۔ پریشانی سے اسکی آنکھوں میں آنسو آ گے۔ اب وہ کیا کرے گی۔ امايا بھی نہیں تھی جو ہیلپ کر دیتی اور اسکی کوئی اور دوست بھی نہیں تھی۔ کالج آہستہ آہستہ خالی ہو رہا تھا۔ اس نے بیگ بند کیا اور کالج کے اندر آ کر گراؤنڈ میں بیٹھ گئی۔ وہ روتی ہوئی سوچ رہی تھی کہ اب کیا کرے ۔ وہ اپنی اسی پریشانی میں گم تھی جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسکے نزدیک آ کر کھڑا ہوا ہے۔ اسنے سر اٹھا کر دیکھا تو کمیل اپنے دو دوستوں کے ساتھ اسکے پاس آ کھڑا ہوا تھا۔وہ تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
“واٹ ہیپنڈ دعا اپ اس طرح اکیلی یہاں کیوں بیٹھی ہیں اور رو کیوں رہی ہیں؟” کمیل کے پوچھنے پر اسکے آنسوؤں میں تیزی آ گئی ۔
آج فاتح کی ایک ضروری میٹنگ تھی جس کی وجہ سے وہ جلدی کالج نہیں آ پایا تھا اور اسی وجہ سے دعا کی کلاس کا لیکچر بھی اٹینڈ نہیں کر پایا تھا۔ وہ انکل سے ایک بات کر کے ابھی ایڈمن سے نکلا تھا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسکی نظر دعا پر پڑی جو رونے میں مصروف تھی اور تین لڑکے اسکے پاس کھڑے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر اسکے قدموں میں رفتار آ گئی اور وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں اور رول نمبر ٹین کیا ہوا ہے اپ کیوں اس طرح رو رہیں ہیں؟” اس نے بمشکل خود پہ قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
“پتا نہیں سر یہ کیوں رو رہیں ہیں ابھی ہم یہاں سے گزر رہے تھے ان پر نظر پڑی تو ہم یہاں آگنے ہم ان سے پوچھ بھی رہے ہیں پر یہ کچھ بتا نہیں رہیں اور روئی جا رہیں ہیں بس۔” کمیل کا دوست فاتح کو بتانے لگا جب کہ کمیل کی نظریں دعا کے سراپے پر ٹکی ہوئی تھیں ۔ سفید یونیفارم پسینے سے بھیگ کر جسم سے چپک چکا تھا۔ چادر بے ترتیبی سے ایک کندھے پر پڑی ہوئی تھی۔ اپنی پریشانی اور رونے میں وہ اپنا حلیہ فراموش کر چکی تھی۔ کمیل کی نظریں دعا کے سراپے پر ٹکی دیکھ کر فاتح کا پارا ایک دم ہائی ہوا تھا۔
“نکلیں آپ تینوں یہاں سے میں خود پوچھ لیتا ہوں جو بھی مسئلہ ہے انھیں۔” خود پہ ضبط کرتے ہوئے فاتح نے ان تینوں کو وہاں سے بھگایا اور ان کے منظر سے غائب ہونے کے بعد اپنا رخ دعا کی جانب کیا۔
“کیا مسئلہ ہے کیوں رو رہی ہیں اور چھٹی کے بعد اب تک اکیلی بیٹھی کیا کر رہی ہیں آپ۔ کچھ خیال نہیں ہے اپنی عزت کا کیا؟ آپ نہیں جانتی اکیلی لڑکی کے ساتھ آئے دن کیسے واقعات ہوتے ہیں۔ اب چپ کیوں ہیں میرے سوال کا جواب دیں” وہ نہایت غصے سے اسکا بازو دبوچے اس سے استفسار کر کر رہا تھا۔
اسکے اتنے غصے سے پوچھنے پر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“پلیز کچھ تو بتائیں مجھے کہ کیا ہوا ہے۔” اب کہ وہ تھوڑی نرمی سے بولا تھا۔
” وہ مم۔۔۔میرے ۔۔۔پیسے ۔۔۔کس ۔۔کسی ۔۔نے ۔۔چوری کر ۔۔۔لئے ۔” وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی اسے بتا رہی تھی۔
“واٹ ؟ آپ پیسے چوری ہو جانے پر رو رہی ہیں۔آر یو سیریئس؟” اس کی بات سن کر فاتح کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ کیا وہ صرف پیسے چوری ہو جانے پر اس وقت یہاں اکیلی کھڑی اس طرح رو رہی تھی۔
” نن ۔۔۔نہیں ۔۔۔مم ۔۔میں ۔۔پیسوں کی وجہ ۔۔۔سے نن ۔۔نہیں رو رہی ۔۔۔بلکہ ۔۔اس وجہ سے رر ۔۔رو رہی تھی ۔۔کیوں کہ میں ۔۔۔اب گھر کیسے ۔۔۔جج ۔۔جاؤں گی۔ میں آٹو پہ ۔۔جاتی ہوں نا ۔۔اس ۔۔۔اس لئے۔”
اسکی بات پر فاتح کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے۔
“موبائل کہاں ہے اپکا؟ گھر میں کسی کو کال نہیں کر سکتی تھیں کیا آپ ؟”
وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
“آج گھر بھول آئ میں۔” وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔ اس سب کے دوران اس کی چادر اتر کر نیچے گر چکی تھی۔ فاتح نے اسکے حسین کمسن سراپے سے نظریں چرائیں اور جھک کر اسکی چادر اٹھاکر اس کی طرف بڑھائی۔
“کور کریں خود کو اورمیرے پیچھے آئیں جلدی کوئی سوال کیے بغیر۔”
اس نے جلدی سے چادر اوڑهی اور اسکے پیچھے چل دی۔ فاتح نے اسکے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گئی کیوں کہ اس وقت وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔ فاتح نے اسکے بیٹھنے کے بعد دروازہ بند کیا اور گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آ گیا۔ایک نظر اسکے جھکے ہوئے چہرے پر ڈال کر ڈیش بورڈ سے پانی کی بوتل اٹھا کر دعا کی طرف بڑھائی ۔ اسے سچ میں اس وقت بہت پیاس لگی تھی اس لئے چپ چاپ وہ بوتل تھام گئی۔ فاتح نے اسے پانی پیتا دیکھ گاڑی آگے بڑھا دی۔
🖤🖤🖤🖤🖤
اسے مستقیم کے آفس میں کام کرتے 2 مہینے ہو گنے تھے۔ وہ اپنی جاب سے بہت خوش تھی اسکی تنخواہ سے گھر کے اخراجات بھی بہت اچھے سے پورے ہو جاتے تھے، امی کی دوائیں بھی آ جاتی تھیں۔ ابھی وہ اپنے کیبن میں بیٹھی ایک فائل تیار کر رہی تھی جب انٹرکام بجا۔ مستقیم اسے اپنے آفس میں بلا رہا تھا۔ وہ پچھلے تین دن سے آفس نہیں آ رہا تھا اور آج آتے ہی سب سے پہلے اسکا بلاوا آ گیا تھا۔
اس نے دوپٹہ سر پر سہی سے جمايا اور اپنے کیبن سے نکل کر مستقیم کے آفس کی جانب بڑھ گئی۔
“مے آئ کم ان سر؟” حریم نے دروازہ نوک کرنے کے ساتھ اجازت طلب کی ۔
“یس کم ان مس حریم۔” اتنے دن بعد اسکی آواز سن کر اور اسے روبرو پا کر اسکی طبیعت پر خوشگوار اثر پڑا تھا۔ اجازت ملنے پر وہ اندر آئ اور نظریں جھکا کر سامنے پڑی کرسی کے پاس کھڑی ہو گئی۔
“بیٹھیں مس حریم آپ پلیز!”
مستقیم نے اپنی نظریں اس کے چہرے پے جما دیں۔ ہلکے پیلے رنگ کا کرتا اور سفید شلوار کے ساتھ سفید ہی دوپٹہ سر پر اوڑھے وہ مستقیم کو ایک کھلتا ہوا گلاب لگ رہی تھی۔
حریم نے جب اسے مسلسل چپ بیٹھے دیکھا تو اپنا سر اٹھا کر مستقیم کو مخاطب کیا۔
“سر آپ نے کسی کام کے لئے بلایا تھا مجھے؟”
اسکے بلانے پر وہ ہوش میں آیا۔
“جی میں نے آپ سے کچھ پوائنٹس ڈسکس کرنے تھے۔” اسکے بعد وہ اس سے بزنس کے متعلق باتیں سمجھانے میں مصروف ہو گیا ۔ابھی وہ بات کر رہے تھے جب مستقیم کے پرسنل نمبر پر کال آنے لگی ۔ اس نے حریم سے ایکسکیوز کیا اور کال پک کر لی۔
“السلام علیکم! ! کیسی ہیں آپ ؟ ارے نہیں میری جان آپکو کیسے بھول سکتا ہوں میں ۔ ہاہاہاہا چلیں اپکی یہ شکایت بھی دور کر دیتا ہوں آج۔ میں بس تھوڑی دیر تک نکلتا ہوں آفس سے۔ لنچ اکٹھے ہی کریں گے ہم دونوں آج۔ اوکے اللّه حافظ ۔”
اسکے منہ سے لفظ میری جان سن کر وہ گڑبڑا گئی۔وہ کال سے فارغ ہو کر اسکی طرف متوجہ ہوا جو پھر سے چہرہ جھکا چکی تھی۔
“مس حریم آپ میری میٹنگ کی ٹائمنگ فائنل کر کہ بتا دیجئے گا پھر۔”
“پر سر آپکو تو اپنی وائف کے پاس نہیں جانا؟” اسکے منہ سے بے ساختہ ہے پھسل گیا۔
“وائف ہاہاہا مس حریم میں آپکو میرڈ لگتا ہوں کیا؟ بائی دا وے میں اپنی دی جان سے بات کر رہا تھا۔” وہ شرارت سے مسکراتا حریم کی آگاہ کر رہا تھا۔
“اوہ اچھا! آئ ایم سوری سر!” وہ شرمندہ ہو گئی پر نا جانے کیوں اسکی بات سن کر اسکے دل میں سکون کی ایک لہر دوڑ گئی۔وہ مستقیم سے اجازت لے کر جلدی سے اسکے آفس سے نکل گئی۔
اسکے جانے کے بعد وہ اسکی حالت یاد کر کے بے ساختہ قہقہہ لگا اٹھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤
وہ تیزی سے گھر میں داخل ہوئی اور جلدی سے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا۔امی کے کمرے پہ نظر ڈالی تو وہ سو رہی تھیں۔ وہ دوسرے کمرے میں گئی دروازہ بند کیا اور چارپائی پر منہ کے بل گر کے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ باپ کا سایہ سر پر تھا تو کتنے عزت اور سکون کی زندگی تھی۔ جب سے باپ کا سایہ سر سے اٹھا تھا کتنی انسکیور ہو گئی تھی وہ۔ جگہ جگہ پر بھوکے بھیڑیے اکیلی جوان لڑکی کی تاک میں بیٹھے ہوتے تھے۔ وہ کہاں تک حوصلہ بلند رکھتی۔ آج بھی بشیر نے اسکا راستہ روک لیا تھا کتنی مشکل سے بچ کے نکلی تھی وہ۔ کچھ بھی ہوتا کردار تو اسکا ہی مشکوک ہوتا نا۔ماں پہلے ہی بستر پر پڑی بیماری سے لڑ رہی تھی۔ وہ کیسے اپنی ماں کو کسی پریشانی میں ڈالتی۔ کتنی اکیلی ہو گئی تھی وہ۔ انسان بعض اوقات کتنا اکیلا رہ جاتا ہے ۔ کہنے اور سننے کو بھی کوئی نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ ختم ہو جاتے ہیں دنیا میں پر کوئی سمجھنے والا نہیں ہوتا ۔خاموشی ،الجھن ،بیزاری ،اور مایوسی ذات کا حصہ بن جاتی ہے ۔ ایسا وقت انسان کو بہت تھکا دیتا ہے وہ بھی تھک چکی تھی۔امی کے کھانسنے کی آواز سن کر اسنے اپنے آنسو پونچھے اور انکے پاس کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
حاصل زندگی حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں
یہ کیا نہیں ،وہ ہوا نہیں ،یہ ملا نہیں ،وہ رہا نہیں