No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
آج دعا کا کالج میں پہلا دن تھا اور وہ بہت نروس تھی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ گرلز اسکول میں پڑھی تھی میٹرک تک پر اب پری- میڈیکل کے لئے حیدر صاحب کو جو کالج پسند آیا تھا وہاں کو ایجوکیشن سسٹم تھا۔ دعا نے تو انکار کر دیا تھا کہ وہ اس کالج نہیں پڑھے گی بلکہ کسی گرلز کالج میں ہی ایڈمشن لے گی پر اپنے ماں باپ دونوں کے اصرار پر اسے اسی کالج میں ایڈمشن لینا پڑا۔ وو بہت چھوٹے اور نازک دل کی مالک تھی۔ وو بہت معصوم تھی۔بچپن سے صرف ماں باپ کے ساۓ میں ہی رہی تھی۔ نانيال تھا نہیں اور دادا دادی کے انتقال کے بعد دديال میں بھی صرف ایک تایا ہی رہ گئے تھے جن کو نہ تو چھوٹے بھائی سے پیار تھا نہ ہی اسکی اولاد سے۔ باپ کی وراثت سے حصہ لے کر الگ ہو گئے اور اب اپنے حال میں خوش تھے۔اس لئے دعا نے ہمیشہ اپنے ماں باپ کو ہی دیکھا اور انکا پیار ہی حاصل کیا۔وہ اکلوتی تھی اور بہت لاڈلی بھی۔اسکے لئے اسکے ماں باپ ہی اسکی کل کائنات تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤
وہ گراؤنڈ میں پریشان سی کھڑی تھی۔حیدر صاحب اسے کالج کے باہر ڈراپ کر کے گئے تھے ور بہت سمجھا کے بھی گئے تھے کہ وہ پریشان نہ ہو۔اگر کوئی مسلہ ہو تو انکو کال کر دے ۔ یہ موبائل بھی انہوں نے کچھ دن پہلے ہی دلوايا تھا کیوں کے اب اسے پڑھائی کے سلسلے میں اسکی ضرورت پڑنے والی تھی۔ وہ پریشان سی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب اسکے پاس ایک لڑکی آئی۔
“ہیلو پریٹی گرل کیا ہوا اتنی پریشان کیوں ہو اور یہاں کیوں کھڑی ہو؟” وہ دعا کی ہی ایج فیلو لڑکی تھی۔ اور بہت فرینکلی دعا سے بات کر رہی تھی۔ اسکا پوچھنا ہی تھا کہ دعا نے رونا سٹارٹ کر دیا۔
“ارے ارے کیا ہو گیا یار کیوں رو رہی ہو کسی نے کچھ کہا ہے کیا مجھے کچھ بتاؤ تو سہی۔” دعا کے رونے پہ وہ خود پریشان ہو گئی تھی۔
“نہیں میرا فرسٹ ڈے ہے ۔۔۔۔۔مجھے کلاس بھی نہیں مل رہی “وہ روتے ہوئے ہی اس لڑکی کو بتا رہی تھی۔
“اف پاگل لڑکی مجھے بھی ڈرا دیا میں سمجھی پتا نہیں کیا ہو گیا جو یہ پیاری سی لڑکی ایسے رو رہی ہے۔ میرا نام امايا ہے تم مجھے ایمي بھی بول سکتی ہو۔ چلو اب اپنا نام بتاؤ جلدی سے پھر تمہاری کلاس بھی ڈھونڈھتے ہیں۔” دعا کو بھی وہ لڑکی بہت اچھی لگی۔
“میرا نام دعا حیدر ہے اور میں نے FSc(pre-medical) میں ایڈمشن لیا ہے۔”
“ارے واہ تمہارا نام تو بہت پیارا ہے بالکل تمہاری طرح اور مزے کی بات بتاؤں میرا بھی یہی سیکشن اور بیج ہے۔ اسکا مطلب یہ کہ ہم دونوں کلاس فیلوز ہیں ۔” دعا کو بہت خوشی ہوئی یہ سن کے کہ وہ اس کی کلاس فیلو ہے۔ کم از کم کوئی تو ایسا ملا جو اس سے اچھے سے بات کر رہا تھا اور وہ بھی اس سے اپنی پرابلمس ڈسکس کر سکتی تھی۔ پھر امايا نے دعا کا ہاتھ تھاما اور اسے لیے کلاس کی جانب بڑھ گئی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ابراھیم خاں اپنے روم میں راکنگ چیئر پر بیٹھے ایک کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھیں اوپر سے شور سنائی دیا جیسے کوئی چیخ رہا ہو۔ انہوں نے کتاب رکھی اور جلدی سے اوپر کی طرف قدم بڑھاے۔ یہ آوازیں فاتح کے کمرے سے آ رہی تھیں۔ دروازہ کھلا ہوا تھا فائقہ بیگم فاتح کے پاس سر جھکا کر کھڑی تھیں اور وہ چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا اور چیخ رہا تھا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں ۔ فائقہ آپ کیوں رو رہی ہیں اور فاتح تم یہ کیا کر رہے ہو ۔یہ کمرے کا کیا حشر کیا ہے اور ایسے چیخ کیوں رہے ہو؟” وہ پہلے فائقہ بیگم اور پھر فاتح سے استفسار کرنے لگے۔
“میں نے کہا تھا نہ کہ اپنی بیوی سے کہیں ک میرے معاملات سے دور رہیں وہ اور ان کی ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آ کر میری ماں کی چیزوں کو ہاتھ لگانے کی۔ اٹس انف ڈیڈ میں اب ایک سیکنڈ بھی یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اپنی ماں کی یادوں کو لے کر جا رہا ہوں یہاں سے آپ اور اپ کی مسز یہاں پہ سکون سے رہیں۔” اس نے بیگ اٹھایا اور وہاں سے نکلنے لگا۔
“رک جاؤ فاتح بات تو سنو کہاں جاؤ گے تم کیسے سروائیو کرو گے ۔”
“میں جہاں بھی جاؤں آپکو اس بات سے کوئی کنسرن نہیں ہونا چاہیے اور جیسے تیسے میں اپنا بندوبست کر لوں گا آپکو میرے سامنے یہ فکر کا دکھاوا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔” وہ آخری نظر گھر پر ڈال کر اپنی گاڑی لے کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
