Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

وہ کالج سے آنے کے بعد گھوڑے گدھے بیچ کر سو چکی تھی۔ اس کا پیپر بہت اچھا ہو گیا تھا اس لئے وہ پر سکون نیند سو رہی تھی۔ فاتح شام کو آفس سے گھر آیا تو پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے لاؤنج کی لائٹ آن کی تو لاؤنج خالی پڑا تھا۔ اسے اچنبا ہوا کیوں کہ اس کے مطابق اس وقت دعا کو پڑھائی میں مصروف ہونا چاہیے تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا ہے تو وہاں بھی اندھیرے نے اس کا استقبال کیا۔ اس نے آگے بڑھ کر لائٹ جلای تو کمرہ روشنی میں نہا گیا۔ اس کی نظر بیڈ پر گئی تو وہاں وہ محترمہ ایک ہاتھ سینے پر رکھے اور دوسرا بازو بیڈ سے نیچے لٹکائے خواب خرگوش کے مزے لینے میں گم تھیں۔ اسے یوں حق سے اپنے بستر پر لیٹا دیکھ کر ہر دفعہ کی طرح اب بھی فاتح کے ہونٹوں پر ایک جان دار مسکراہٹ چھا گئی۔ دل میں ٹھنڈک اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
فاتح نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور کوٹ اتار کر صوفے پر اچھالتا بیڈ کی طرف قدم بڑھا گیا۔ وہ اس کے قریب ہی کہنی کے بل دراز ہو گیا۔
وه اس وقت ہلکے گلابی رنگ کی سادہ مگر نفیس سی شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ گلابی دوپٹہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا تھا۔ کالے بال جوڑے میں مقید تھے جن سے کچھ آوارہ لٹیں نکل کر اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ ہری آنکھیں جن سے فاتح ابراھیم کو عشق تھا، اس وقت بند تھیں۔ تیکھی ناک کے نیچے بھرے بھرے گلابی لبوں پر نظر پڑتے فاتح کا دل بے ایمان ہونے لگا ۔فاتح کی نظر اس کی گردن پر پوری شان سے چمکتے تل پر پڑی تو وہ بے ساختہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس تل کی چھو گیا۔ نظریں پھسلتی ہوئی اس کے خوبصورت جسم میں الجھنے لگیں تو فاتح نظریں چرا گیا۔
وہ پیچھے ہوتا بیڈ پر دراز ہو گیا اور ہاتھ بڑھا کر دعا کو اپنی طرف کھینچ گیا۔ وہ نیند میں کسمسائی اور خود ہی اس کے مزید قریب ہو کر اس کے سینے پر سر رکھ گئی۔ فاتح سرشاری سے اس کے چہرے کو تکنے لگا۔ وہ اس کے نقوش کو تکتا اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا۔ یوں ہی نا جانے کتنا وقت بیت گیا۔ ہوش تو اسے تب آیا جب وہ اسی کے حصار میں پڑی بھر پور انگڑائی لیتی نیند سے بیدار ہوئی تھی۔ فاتح کا سانس سینے میں اٹکنے لگا۔ وہ تو پہلے ہی اس کا اسیر تھا۔ اب اسے یوں اپنی قربت میں جان لیوا انگڑائی لیتا دیکھ کر اس کا کمبخت دل پھر سے اس کی قربت پانے کے لئے ہمکنے لگا تھا جسے فاتح بڑی مشکل سے صبر کرنے پر آمادہ کر پایا تھا۔
دعا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے قریب ترین موجود فاتح کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بنا دوپٹے کے لیٹی ہوئی تھی اوپر سے اس کے اتنا قریب ہو کر وہ بے دھیانی میں جو حرکت کر گئی تھی اس پر فاتح کی خود پر گڑھی گہری نظریں دیکھ کر وہ مر جانے کو ہوئی تھی۔
فاتح اس کی مشکل سمجھتا اسے خود سے اور بھی قریب کر کے اسکی کمر کی گرد اپنا بازو مضبوطی سے لپیٹ گیا۔
” کیسی ہیں آپ؟ پیپر کیسا ہوا آپ کا؟”
وہ اس کے چہرے پر موجود لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑستا نرمی سے اس سے پوچھ رہا تھا۔
“ٹھ۔۔ٹھیک۔” وہ نظریں جھکاتی ہوئی اس کی قربت سے گھبراتی ہوئی بولی۔
“کیا ٹھیک؟ میں نے دو سوال کیے ہیں آپ سے اب مجھے کیا پتا کہ آپ نے کس سوال کا جواب دیا ہے۔”
وہ اس کی آنکھوں پہ جھکتا دونوں سبز نگینے چوم گا۔
“فاتح ابراھیم خاں کو عشق ہے ان سبز نگینوں سے۔ یہ ہر دفعہ نئے سرے سے فاتح ابراھیم کو تسخیر کر لیتے ہیں۔”
وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہتا پھر سے اس کی آنکھوں کو اپنے ہونٹوں کے لمس سے معتبر کر گیا۔ وہ بھی اس کے لمس سے سکون محسوس کرتی آنکھیں موندے پڑی تھی۔
“آپ نے جواب نہیں دیا اب تک میرے سوالوں کا۔”
اس کی دوبارہ پوچھنے پر وہ آنکھیں دھیرے سے کھولتی اس کی طرف دیکھنے لگی۔نظروں کے اچانک تصادم پر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکاتی اس کے مضبوط سینے پر ٹکا گئی۔
“میں ٹھیک ہوں اور پیپر بھی بہت زیادہ اچھا ہو گیا۔”
اس کے الفاظ اور قربت پر وہ سرخ پڑ گئی تھی۔
“گڈ! چلیں بہت سو لیا اٹھ کر فریش ہو جائیں آپ میں کھانا گرم کرتا ہوں کچن میں ہی آ جائیے گا آپ۔ “
وہ اس کا ماتھا چومتا اٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھا کر اسے بھی اٹھایا۔ وہ فریش ہونے کے لئے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی تو وہ بھی دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجائے چینج کرنے کے لئے ڈریسنگ روم کی طرح بڑھ گیا۔

مستقیم آج میٹنگ کے سلسلے میں دو ہفتوں کے لئے دبئی جا رہا تھا اور حریم کل سے یہ سوچ سوچ کر بے حال ہو رہی تھی کہ وہ یہ دو ہفتے مستقیم کے بغیر کیسے گزارے گی۔ ان گزرے دو مہینوں میں وہ اسے اپنی اس قدر عادت ڈال چکا تھا کہ اس کی بغیر اتنے دن گزارنا بھی حریم کے لئے محال تھا۔
عجیب رشتہ تھا ان کا بھی۔ نہ ایک دوسرے کے بغیر رہ پاتے تھے نا ایک دوسرے کی اہمیت کا اقرار کرتے تھے۔ دونوں اپنی اس زندگی سے بہت خوش تھے۔ ایک محبت بھری پر سکون زندگی۔پر کنٹریکٹ نامی کانٹا اس طرح سے ان کے رشتے میں موجود تھا کہ وہ نہ ہی اپنا رشتہ اگے بڑھا پا رہے تھے اور نہ ہی دل میں موجود ایک دوسرے کی محبت کا اظہار کر پا رہے تھے۔
مستقیم کو حریم سے پہلی نظر کی محبت ہوئی تھی۔ وہ اسے پورے دل سے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ حریم کو اسکی ماں کے انتقال کے بعد اپنے اپارٹمنٹ لانے کے بعد جب اس نے حریم کے آگے شادی کی بات رکھی تب اسکا کنٹریکٹ میرج کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس کے خواب و خیال میں بھی پہلے یہ بات نہ تھی۔ وہ اسے اپنی ہمسفر بنانا چاہتا تھا پر اس طرح سے نہیں جس طرح سے بات ہو گئی۔ وه حریم سے نکاح کی بات کر رہا تھا پر اس کے شاک تاثرات دیکھ کر اس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ وہ اس کے بارے میں کیا سوچے گی کے وہ موقعے کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ایک مجبور اور بےسہارا لڑکی کی بے بسی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی خیال کے باعث وہ حریم کی آگے کنٹریکٹ میرج کی شرط رکھ گیا کہ اس طرح بات بھی رہ جاۓ گی کیوں کہ دی جان کافی دیر سے اس کی شادی کے پیچھے پڑی تھیں۔
وہ اس کی محبت تھی اور اب محرم بھی۔ پر وہ مکمل اختیار رکھتے ہوئے بھی اسکی قربت سے کوسوں دور تھا جسے کنویں کے پاس کھڑا پیاسا!
اس کے لئے حریم کی قربت پانا مشکل نہ تھا پر اس کی غیرت گوارا نہ کرتی تھی کہ یوں حریم کی نظر میں بنے ایک معاہدے کے رشتے میں اسکی قربت حاصل کر کے حریم کو یہ احساس دلاتا کہ وہ اس سے صرف اپنی ضرورت پوری کر رہا تھا یا وعدہ خلاف تھا۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ دبئی سے آتے ہی وہ حریم کو ساری سچائی سے آگاہ کر دے گا اور اپنی محبت کا اظہار کر کے اسے ہمیشہ کے لئے خود کی قریب کر لے گا کیوں کہ وہ جان چکا تھا کہ حریم بھی اس سے محبت کرنے لگی ہے۔ اس کی آنکھوں میں موجود چاہت کے رنگوں سے مستقیم لا علم نہ تھا۔
وہ کمرے میں آیا تو حریم اس کی پیکنگ کر رہی تھی۔مستقیم کی طرف اس کو پشت تھی پر پھر بھی مستقیم جانتا تھا کہ اس کی آنکھیں نم ہیں۔
مستقیم حریم کے این پیچھے جا کھڑا ہوا اور اس کی کمر کی گرد اپنے دونوں بازو باندھے اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا گیا۔
“يي۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ مستقیم؟ پیچھے ہٹیں مجھے سکون سے پیکنگ کرنے دیں۔”
وہ اس کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی پر وہ اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر گیا۔
“بیوی یار ہر وقت چھوڑنے کا ہی کیوں بولتی رہتی ہیں آپ ۔ مستقیم چھوڑیں۔۔۔۔مستقیم پیچھے ہٹیں! یہ دونوں تو آپ کے پسندیده ڈائلاگز بن چکے ہیں۔ کبھی یہ بھی بول دیا کریں کہ مستقیم ذرا پاس آئیں یا پھر یہ کہ مستقیم مت چھوڑیے گا۔ همم!۔”
اس کے یوں بے باکی سے بولنے پر وہ سرخ پڑ گئی۔
“شرم کر لیں مستقیم!”
اس کہ یوں شرم سے سرخ پڑنے اور دھیمی آواز میں بولنے پر مستقیم قہقہہ لگا اٹھا۔
“ارے میں تو بھول ہی گیا تھا کہ آپ کا ایک پسندیده ڈائلاگ یہ بھی ہے۔” وہ اس کےقہقہے پر شرمندہ ہوتی اس کا حصار توڑنے لگی تو وہ بھی اپنی گرفت ڈھیلی کر گیا۔
وہ اس کا رخ اپنی طرف موڑ کے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے نزدیک کر گیا۔
“مس کریں گی مجھے آپ؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا اس سے سوال کرنے لگا تو وہ نظریں چرا گئی۔
“نہیں تو میں کیوں مس کروں گی آپ کو”
اس کے کہنے پر وہ ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“آہاں واقعی؟”
اس کے پوچھنے پر وہ مسکراہٹ دباتی اثبات میں سر ہلا گئی تو مستقیم نے داد میں سر ہلایا۔
“بیوی!” اس کی جذبوں سے بھرپور گھمبیر آواز پر اس کا دل دھڑک اٹھا۔
“جی۔”
وہ ابھی تک اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔
” مجھے آپ کو ایک بہت اہم بات بتانی ہے دبئی سے واپسی پر۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سج سنور کر میرے دل کو بہلانے کا سامان کر کے میرا انتظار کریں۔ کریں گی نا؟”
وہ جذبات سے بھر پور آواز میں کہتا آخر میں لہجہ سوالیہ بنا گیا تو وہ سرخ ہوتی بے اختیار سر ہلا گئی۔ وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا چینج کرنے کے لئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا کہ کچھ دیر بعد اسے ایئرپورٹ کے لئے نکلنا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ اس سے ملتا گھر سے روانہ ہو گیا تو حریم ایک اداس نظر اس کی دور جاتی گاڑی پر ڈال کر دروازہ بند کر گئی۔