No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
رات روتے روتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی گئی۔کئی راتوں کی بے سکونی اور بے آرامی کی وجہ سے وہ کافی گہری نیند میں تھی۔ کسی کے جھنجھوڑنے پر اس نے اپنی أنکھیں کھولیں تو سامنے مستقیم کو پریشان صورت لئے کھڑا دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی ۔
” حریم جلدی اٹھیں پلیز! ہمیں جانا ہے کہیں۔” وہ اسے آنکھیں کھولتا دیکھ کر بولا۔
” پپ ۔۔۔۔پر کہاں جانا ہے وہ بھی اتنی صبح۔!” وہ چہرے پر حیرانی لئے بولی۔
“میری گرینڈ ماں کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے ہمیں اسلامآباد جانا ہے. اب پلیز جلدی سے اٹھ کر فریش ہو جائیں اور اپنا کچھ ضروری سامان بھی پیک کر لیں پتا نہیں کتنا وقت لگ جاۓ وہاں ہمیں۔”
وہ جلدی میں اسے بتاتا کوئی اور سوال کا موقع دیے بغیر کمرے سے نکل گیا ۔
اس کے جانے کے بعد حریم بھی جلدی سے اٹھی اور فریش ہونے کی نیت سے باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔
پندرہ منٹ میں فریش ہونے اور اپنا تھوڑا سا ضرورت کا سامان پیک کرنے کے بعد جب وہ باہر لاؤنج میں آئ تو لاؤنج خالی تھا اور کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں۔ شاید مستقیم تھا کچن میں۔ وہ بیگ صوفے پر رکھ کر کچن کی میں آ گئی۔
سامنے ہی مستقیم کالی پینٹ پر سفید رنگ کی شرٹ پہنے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگا رہا تھا۔
آہٹ پر سامنے دیکھا تو ہ حریم کھڑی انگلیاں مڑوڑ رہی ہے تھی۔
“ہو گئی ہیں ریڈی آپ؟” وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“جی ۔” وہ جواب دے کر پھر سر جھکا گئی۔
” چلیں جلدی سے آ جائیں پھر ناشتہ کر کے نکلتے ہیں دو گھنٹے بعد کی فلائٹ ہے ہماری اسلام آباد کی۔”
وہ کہنے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے کرسی نکال گیا تو وہ بھی جھجکتی ہوئی بیٹھ گئی۔اس کے بیٹھنے کے بعد دونوں نے ناشتہ شروع کیا۔ وہ بریڈ کا ایک سلائس پکرے تب سے چھوٹے چھوٹے نوالے لے رہی تھی۔ جوس کا گلاس بھی جوں کا توں پڑا تھا۔
” آئ ایم سوری آج اپ کا فرسٹ ڈے تھا اور آج ہی یہ سب ہو گیا اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ ناشتے میں کیا پسند کرتی ہیں تو جلدی جلدی میں یہی بنا سکا۔ آپ تھوڑا سا ہی کھا لیں پلیز اور یہ جوس کا گلاس ختم کریں جلدی۔”
اسے لگا کہ شاید وہ ناشتے میں یہ سب پسند نہیں کرتی اسی لئے سہی سے نہیں کھا رہی تبھی وضاحت دینے لگا۔
“نہیں ایسا ۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں میں کھا رہی ہوں۔” وہ کہتی جلدی سے ناشتہ ختم کرنے لگی تو وہ بھی اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوا۔
فارغ ہو کر وہ ڈرائیور کے ساتھ ایئرپورٹ روانہ ہو گئے۔ حریم ریليكس نظر آنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی پر اندر سے بہت ڈری ہوئی تھی۔نہ جانے مستقیم کی فیملی کا کیا ری ایکشن ہو۔ ظاہر ہے ان کے بیٹے نے ان کی مرضی اور ان کو بتاۓ بغیر اپنے سے انتہائی نچلے درجے کی لڑکی سے شادی کر لی تھی تو ظاہر ہے اب وہ اس لڑکی کو پھولوں کے ہار تو نہیں پہنایں گے نا۔ شادی جن حالات میں بھی ہوئی اور کس بنیاد پر ہوئی یہ تو بس وہ دونوں ہی جانتے تھے مستقیم کی فیملی نہیں۔
وہ ٹھہری ایک مڈل کلاس لڑکی اور ان امیر لوگوں کے مطابق مڈل کلاس لڑکیاں ہی امیر لڑکوں کو پھنساتی ہیں۔ ان کا اپنا لڑکا تو جیسے کاکا تھا نا۔ لڑکی نے پهنسايا اور وہ پھنس بھی گیا۔ عجیب!
ابھی وہ ان سوچوں میں ہی گم تھی جب مستقیم نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اس نے چونک کر مستقیم کی جانب دیکھا۔ ان کی فلائٹ کی انائونسمنٹ ہو رہی تھی۔ مستقیم ایک ہاتھ میں سامان اور ایک ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا تو وہ بھی ایک گہرا سانس بھر کر اسکے ساتھ چل دی۔
جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اچانک اسکا پاؤں پھسلہ اور وہ پیچھے کی جانب گرنے لگی جب وہ اپنا مضبوط بازو اسکی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے اپنی جانب کھینچ گیا۔ وہ اس کے سینے پر ہاتھ جما کر اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ قائم کر گئی۔
“دیہان سے حریم ۔”
وہ اسے اس کے پاؤں پر کھڑا کرتا بازو سے تھام گیا۔
سیٹ بیلٹ باندھنے کی باری آئ تو وہ بے بسی سے مستقیم کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ تو اپنی زندگی میں پہلی دفع جہاز میں سفر کر رہی تھی۔ اسے کیا پتہ ان سب چیزوں کا۔ وہ اس کا مطلب سمجھتا جھک کر بیلٹ باندھنے لگا تو وہ سانس روک کر آنکھیں بند کر گئی۔ اسے یوں دیکھ کر اس پریشانی میں بھی مستقیم کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔ جہاز اڑان بھرنے لگا تو مستقیم نے پھر سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسکا مقصد سمجھتی جہاز اڑان بھر گیا تو وہ ڈر کے مارے چیخ کر اس کے بازو کو زور سے دونوں ہاتھوں میں دبوچ کر اس پہ سر ٹکا گئی۔
حالت نارمل ہوئی تو وہ اپنے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ پیچھے ہو گئی۔ شرمندگی ہی شرمندگی تھی۔پہلے پاؤں پھسلا پھر سیٹ بیلٹ بھی نہ باندهنا آیا اور اس پہ مزید یہ حرکت۔ اف! کیا سوچ رہے ہوں گے وہ کہ ایسی چھیچوری چھچوری لڑکی ہوں میں۔
شرمندگی سے وہ آنکھیں بند کر گئی اور پھر پورے سفر کے دوران ایک بار بھی نظر اٹھا کر مستقیم کی طرف نہ دیکھا۔ مستقیم جانتا تھا کے وہ پریشان ہے بہت ۔ پہلے ماں کی وفات اور پھر اچانک نکاح اور اب ایسے اس کی فیملی میں جانا۔ یہ سب اس کے لئے پریشان کن تھا۔ مستقیم نے کچھ دیر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تا کہ اپنا دماغ پر سکون کر سکے ۔
الارم کی آواز پر دعا نے اپنی آنکھیں کھولیں اور نظر گھما کر ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ اتنے میں الارم پھر سے بج اٹھا تو اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی جہاں فاتح کے موبائل کا الارم زور و شور سے بج رہا تھا۔ اس نے گردن گھما کر گھڑی پر نظر ڈالی تو سات بج رہے تھے۔ فاتح نے رات اسے بتایا تھا کہ اسے صبح کالج جانا ہے۔ وہ منہ بنا کر کسلمندی سے دوبارہ بستر میں گھس گئی۔اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ نیند کی وادی میں گم ہوتی دروازہ کھلنے کی آواز اور قدموں کی چاپ سے اسے اندازہ ہو گیا کہ ضرور وہ کھڑوس ہی اسے کالج جانے کے لئے اٹھانے آئے ہوں گے۔اس سے پہلے کہ فاتح اسے جگاتا وہ خود ہی اٹھ کر بیٹھ گئی۔
رات ناجانے کب وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر نیند میں چلی گئی۔ فاتح تب تک کمرے میں نہیں آیا تھا۔ اس فلیٹ میں ایک ہی بیڈروم تھا اور اخھا خاصہ بڑا بھی ۔ دوسرا روم ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ فاتح رات کمرے میں آیا تھا کہ نہیں۔ اگر آیا بھی تھا تو کہاں سویا تھا؟ کیا یہیں بیڈ پر؟ یہ سوچ کر ہی اس کا دل دھڑک اٹھا اور پیشانی نم ہو گئی۔
“گڈ مارننگ!” وہ اسے جاگتا دیکھ چلتا ہوا بیڈ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور مارننگ وش کرنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ بڑھا کر اسکے ماتھے سے اسکا بخار چیک کرنے لگا۔
“گگ۔۔۔گڈ مارننگ۔”
وہ اسکے بھاری ہاتھ کا لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرتی كپكپا اٹھی۔
“همم۔ بخار تو نہیں ہے بلکل بھی اب ۔ آپ اٹھ کے فریش ہو جائیں میں ناشتہ ریڈی کر رہا ہوں۔ آپکے کپڑے الماری میں رکھے ہیں اور بیگ سٹڈی ٹیبل پر۔ جلدی سے ریڈی ہو کر آ جائیں پھر میں آفس جاتے وقت آپکو چھوڑ دوں گا کالج۔”
وہ گہری نظر اس پہ ڈالتا ہوا بولا۔ کتنا خوش کن احساس تھا اسے یوں حق سے اپنی ملکیت میں دیکھنا۔ کتنا سکون تھا محرم کی محبت میں۔ اس نے کب سوچا تھا کے وہ کسی قیمتی دعا کی طرح اس کی قسمت میں لکھ دی جاۓ گی۔ اس نے تو کبھی اسے حاصل کرنے کی تمنا ہی نہ کی تھی۔ وہ تو اس کے لئے اس چاند کی طرح تھی جسے دور سے دیکھ کر ہی وہ اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک اور قلب کو سکون پہنچاتا۔ وہ چاند آج اس کی دسترس میں تھا تو وہ کتنا بے یقین تھا۔ وہ کیسے اپنے رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کر پاتا۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے حاصل نہیں کر سکتا تھا ۔ پر اس نے کبھی ایسی خواہش ہی نہیں کی تھی۔ اس کی نظر میں یہ غلط تھا دعا کے ساتھ کیوں کے وہ اس سے بہت زیادہ چھوٹی تھی۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پر اس سے محبت کرنا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا کیوں کے یہ اس کے بس میں ہی نہ تھا۔ اور محبت کہاں خود کی جاتی ہے۔ یہ تو بس خود بخود ہو جاتی ہے۔ آپ کو لگ جاتی ہے کسی لا علاج مرض کی طرح۔ اور پھر اپ کو زندہ رہنے کے لئے دوا بھی کرنی پڑتی ہے۔ اور کیا ہوتی ہے محبت کے مریض کی دوا؟ دیدار محبوب! ہاں محبوب کا دیدار ہی فقط اس مرض کی دوا ہے پر پھر بھی یہ مرض بڑھتا ہی چلا جاتا تھا اور ہماری روح سے چپک جاتا ہے عشق پیچا کی بیل کی طرح!۔ اس کا محبوب اس کے سامنے تھا۔ اس کے پاس۔ اور محبوب بھی وہ جسے اس کا محرم بنا دیا گیا تھا۔ بھلا اور کیا چاہیے تھا اسے؟ اور کس چیز کی کمی رہ گئی تھی زندگی میں؟ پر پھر بھی کچھ توتھا جو ادھورا تھا۔ کون سا ادھورا پن رہ گیا تھا زندگی میں؟ ہاں! ماں باپ کی محبت! یہی اس کی زندگی کا وہ خلا تھا جو کبھی پر نہ ہوا تھا اور نہ ہی آگے کوئی امکان تھے اس خلا کے پر ہونے کے۔
نکاح کے وقت وہ ناچاہتے ہوئے بھی اپنے باپ کو شامل کر گیا تھا۔ چاہے وہ جتنا مرضی نفرت کا پرچار کرتا پر وہ آس کا باپ تھا جس سے اس نے بے پناہ محبت کی تھی۔ وہ آئے اس کے نکاح میں شامل ہوئے آور خوشحال زندگی کی دعائیں دیتے رخصت ہو گئے۔ اور جس ایک پل کے لیے اس کے سینے سے لگے کتنا سکون تھا اس ایک پل میں! فاتح نے اپنا سر جھٹکا۔
“آپ کالج نہیں جائیں گے کیا؟” وہ خوفزدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتی پوچھنے لگی۔
وہ بہت ڈر رہی تھی۔ اگر کالج میں کسی کو پتا چل گیا تو؟
“آپ شاید بھول رہی ہیں تو میں یاد دلا دیتا ہوں کہ میں پہلے دو لیکچرز کے بعد کالج آتا ہوں!”
اس کے کہنے پر وہ سر ہلا گئی اور ساتھ تھوڑا حوصلہ بھی ہوا کہ وہ آے گا کالج۔
فاتح نےاسکے حسین چہرے پر نظریں گاڑ لیں۔ وہ اس کی نظروں سے پریشان ہوتی اب تک وہیں بیٹھی تھی۔ فاتح نے تھوڑا جھک کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا اور اس کا رخ باتھ روم کی طرف کیا۔وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی تیزی سے باتھ روم میں داخل ہو کر دروازہ زور سے بند کر گئی تو وہ بھی مسکرا کر سر جھٹکتا کچن کی طرف بڑھ گیا۔
وہ اس کے ساتھ جانے پر ڈر رہی تھی کہ کسی نے دیکھ لیا تو شک کرے گا کہ وہ فاتح سر کے ساتھ کیوں آئ۔اس نے سوچا کہ فاتح کو کہہ دے اسے ڈرائیور کے ساتھ بھجوا دے پر اسے مخاطب کرنے کے لئے بھی کافی ہمت درکار تھی جس کا دعا میں فقدان تھا۔ ناشتے کے دوران بھی وہ پریشان سی بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھی پر جب بھی فاتح کی نظر اس پر اٹھتی تو وہ جلدی سے اپنا سر جھکا کر ناشتے میں مگن نظر آنے کی کوشش کرنے لگتی۔
اس کی یہ حرکتیں فاتح دیکھ بھی رہا تھا اور سمجھ بھی رہا تھا پر چپ رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ خود اسے مخاطب کرے اور اس کی یہ جھجھک ختم ہو۔ پر وہ ایک لفظ بھی نہ بولی۔
فاتح نے اس کے لئے فرنٹ دروازہ کھولا تو وہ جو پیچھے بیٹھنے کا سوچ رہی تھی نا چار آگے ہی بیٹھ گئی پر اس کی ہمت بس یہاں تک ہی تھی۔ فاتح کی بیٹھتے ہی دعا نے رونا شروع کر دیا۔
وہ اسے یوں ایک دم روتا دیکھ پریشان ہو گیا۔
“واٹ ہیپنڈ دعا؟”
وہ اسکی طرف رخ کرتا بولا تو وہ اور رونے لگی۔
“سب مجھے آپ کے ساتھ ایسے آتا دیکھیں گے تو ان کو سب کچھ پتا چل جاۓ گا۔” وہ آنکھیں رگڑتی بولی تو فاتح گہرا سانس بھر کے رہ گیا۔اس کی کانچ سی ہری آنکھوں کو سرخ پڑتا دیکھ وہ بے چین ہو اٹھا۔ اس کی آنکھوں سے ہی تو شروع ہوئی تھی فاتح ابراھیم کے عشق کی داستان!
“لسن دعا کسی کو کچھ بھی نہیں پتا اور نہ ہی پتا چلے گا۔ اس گاڑی کی کھڑکیاں ایسی ہیں کہ باہر سے کوئی اندر کا منظر نہیں دیکھ سکتا۔ اور دوسری بات! میں آپ کا اور اپنا رشتہ دنیا کی نظر سے چھپا کر نہیں رکھنا چاہتا پر میں چاہتا ہوں کے پہلے آپ سکون سے اپنا یہ سال پورا کر لیں۔ میں نہیں چاہتا پڑھائی کے دوران آپکو کوئی بھی ایسی بات سننے کو ملے جس سے آپ پریشان ہوں اور اپ کا دیہان پڑھائی سےہٹے۔ سمجھ رہی ہیں آپ ؟” اس کی بات پر وہ مشکور نظروں سے اس کی طرف دیکھتی سر ہلا گئی تو اس کی آنکھوں کو دیکھ کر فاتح کا دل پھر سے ڈولنے لگا۔ اس نے آنکھوں پر گلاسز چڑھائیں اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
