Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

اس نے دھیرے سے اپنی دکھتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور ایک اجنبی نظر ارد گرد کے اجنبی ماحول پر ڈالی۔ وہ بیڈ پہ موجود سفید چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔ دائیں طرف ایک دروازہ موجود تھا شاید باتھروم کا تھا وہ۔ اور اسکے آگے اسی طرف کونے میں ایک چیئر اور اس کے آگے رائٹنگ ٹیبل تھا جس پر ایک لیپ ٹوپ پڑا ہوا تھا اور ساتھ کچھ کاغذات اور ایک پنسل۔
اتنے سے معائنے کے بعد ہی اسکا سر چکرانا شروع ہو گیا تو اس نے سر واپس بستر پر پھینک کر آنکھیں بند کر لیں۔ ذہن کے پردوں پر آہستہ آہستہ گزرے ہوئے واقعات ایک ایک کر کے ابھرنے لگے تو وہ ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول گئی۔
وہ روٹین کے مطابق کالج سے آنے کے بعد اکیڈمی گئی تھی۔ فاتح سر فزکس کا ایک سوال اسے سمجھا رہے تھے اور تب ہی کریم تایا وہاں آ گئے اور انتہائی برے الزامات فاتح سر اور اس پر لگائے ۔ وه فاتح سر پر تشدد کر رہے تھے وہ انکو چھڑوانے کے لئے آگے بڑھی تھی پر خود ہی انکے عتاب کا نشانہ بن کر بیہوش ہو کر گر پڑی۔
اسکے بعد ؟ ہاں اس کے بعد کیا ہوا تھا؟ اور پھر اس کے دماغ میں اچانک سے کلک ہوا۔ ہاں ! اس کے بعد پتا نہیں کیسے وہ اس جگہ پہنچ گئی اور اس کی ماں کی موجودگی میں اسکا نکاح ہوا تھا۔
نکاح ؟؟؟ پر کس کے ساتھ ؟
پھر اس کے دماغ میں ایک جملہ گونجا ۔
“دعا حیدر بنت حیدر عبّاس آپکو فاتح ابراھیم ولد ابراھیم خان کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
یہ جملہ ذہن میں گردش کرتے ہی اسکا دماغ سنا اٹھا۔
یہ کیا ہو گیا تھا اس کے ساتھ ؟ اچانک یہ کیسا پلٹا کھایا تھا قسمت نے؟ اس کے مقدر میں یہ رسوائی کیوں آئ تھی؟ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی اسے گناہ گار کیوں ٹھہرایا گیا تھا ؟ اسے اس گناہ کی سزا کیوں دی گئی جو اس نے کیا ہی نہ تھا؟ آخر کیوں؟ تکلیف ده سوچوں سے تنگ ہو کر وہ چیخ پڑی۔ اس کی آواز سن کر کچن میں سوپ بناتی سارا بیگم سب چھوڑ چھاڑ تیزی سے اسکے پاس آئیں تو وہ بیڈ پہ بیٹھی اپنے بال نوچتی چیخ رہی تھی۔
“دعا ! میری بچی۔ کیا ہو گیا میری بچی کو۔” وہ اسے اپنے ساتھ لگاتی اسکی پیٹھ سہلاتی ہوئی بولیں.
“ماما ایسا کیوں ہوا ؟ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟ میں نے کچھ نہیں کیا ماما کچھ بھی نہیں۔ تایا ابا کو غلط فہمی ہوئی کوئی۔ میں ایسی نہیں ہوں ماما۔ اور فاتح سر نے بھی کچھ نہیں کیا۔ وہ تو بس ایک سوال سمجھا رہے تھے مجھے۔ اوپر سے تایا ابا آ گئے اور میری ایک بات بھی سنے بغیر مارنا شروع کر دیا۔ فاتح سر کو بہت مارا انہوں نے ماما اور بہت گالیاں بھی دی۔ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں تھا کیا۔”
وہ انکے ساتھ لگی روتی اور کانپتی ہوئی ساری بات بتانے لگی۔
” بس چپ میری جان! میں جانتی ہوں میری دعا بہت معصوم ہے ۔وہ کبھی بھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔”
وہ اسکے بال سلاتے ہوئے اسے حوصلہ دینے لگیں۔
” پر ماما میں تو تایا ابا سے بہت پیار کرتی ہوں انہوں نے ایسا کیوں کیا؟”
وہ سسکتی ہوئی سارا بیگم سے استفسار کر رہی تھی۔
“ان کو غلط فہمی ہوئی ہو گی بیٹا کوئی۔”
وہ تکلیف دہ لہجے میں بولیں۔ کتنی عزت کرتی تھیں وه اپنے جیٹھ کی۔ ہمیشہ بڑا بھائی ہی سمجھا۔ اور انہوں نے آگے سے کیا کیا؟ ان کی بیٹی کی ہی عزت پر حرف اٹھایا۔ اسے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی نہ سوچا ایک لمحے کے لئے بھی کہ جس کی عزت پر حرف اٹھا رہے ہیں اور اتنا گھٹیا الزام لگا رہے ہیں وہ ان کے مرحوم بھائی کی اکلوتی بیٹی ہے جسے شہزادی بنا کر رکھا ہمیشہ اور کبھی پھول سے بھی نہ مارا۔ اور انہوں نے کیا حشر کر دیا اس معصوم کا۔
“میری بات اب دیہان سے سنو دعا! جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا بیٹا ۔ قسمت کا لکھا کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔ پرانی باتوں کو بھول کر آگے بڑھنا سیکھو ۔ جو لوگ ماضی کے گرداب میں پھنس کر خود کو بے پرواہ کر لیتے ہیں نا وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں اپنے حال اور مستقبل کو تباہ و برباد کر لیتے ہیں۔اس لئے کہہ رہی ہوں کہ آگے بڑھنا سیکھو اور ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتی رہو۔ بیشک وہ پاک پروردگار شکر کرنے والوں کو اور زیادہ نوازتا ہے۔ تم میری بات سمجھ رہی ہو نہ۔”
انہوں نے ہچکیاں لیتی ہوئی دعا کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اپنا سر ہلا گئی۔
“دیکھو بیٹا جن حالات میں بھی تمہارا اور فاتح کا نکاح ہوا پر وہ تمہارا شوہر ہے اب اور اسکی ہر بات ماننا تمہارا فرض۔وہ ایک بہت سلجھا ہوا اور سمجهدار انسان ہے۔ خود کو اور تمہیں بہت جلد ان مسئلوں سے نکال لے گا اور مجھے امید ہے کہ اس سب میں میری بیٹی اسکا ساتھ دے گی۔ میں سہی کہ رہی ہوں نا ؟” ان کے پوچھنے پر وہ آنسو ضبط کرتی پھر سے سر ہلا گئی۔
سارا بیگم نے اسکا ماتھا چوما اور کچن کی طرف بڑھ گئیں ۔
°°°°°°°
وہ پریشان صورت لیے گھٹنوں میں سر دیے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی اسکی ماما اسے اکیلے یہاں چھوڑ کر اپنے گھر کو روانہ ہو چکیں تھی فاتح کے ڈرائیور کے ساتھ۔ کتنا بلکی اور تڑپی تھی وہ کہ اسے اپنے ساتھ لے جائیں پر وہ اسکی ایک بات بھی سنے بغیر ایک اچھی ساس کا کردار ادا کرتی اسے اپنے کھڑوس داماد کے پاس اکیلا چھوڑ گئی تھیں یہ نصیحت کر کے کہ یہ اسکا اصلی گھر ہے۔ اس کے شوہر کا گھر! اور اس کو اب ہمیشہ یہاں ھی رہنا ہے۔
وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ جس انسان کا ایک لیکچر وہ رو دھو کر گزارتی تھی اب اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں ایک ہی کمرے میں رہتے ہوئے اپنا سارا وقت کیسے گزارے گی۔
اسکی شخصیت میں ایسا رعب تھا کہ دعا سے اس کے سامنے نظریں بھی نہیں اٹھائی جاتی تھیں۔ اور جب وہ اپنی گہری آنکھیں دعا کی سبز آنکھوں میں گاڑتا تھا تو دعا کا سانس حلق میں اٹک جاتا تھا۔ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب وہ ایک گلاس اسکی آنکھوں کے سامنے کر گیا۔ وہ گڑبڑا کر حوش میں آئ تو وہ گلاس دودھ لئے اسکے سامنے کھڑا تھا۔
ایک پل کو دونوں کی نظریں ملیں ۔ اس ایک پل نے ہی فاتح کے دل کو شاد کر دیا تھا۔ دعا نے فوراپنی نظریں جھکا دیں۔
“یہ ہلدی والا دودھ ہے۔ اسے پی کر آپ بہت بہتر محسوس کریں گی۔ جلدی سے اسے ختم کریں شاباش۔”
وہ اسے پچکارتا ہوا بولا پر چہرے پر ہنوز سپاٹ تاثرات قائم تھے۔
وہ سخت بیماری کی حالت میں بھی کبھی ہلدی والا دودھ نہیں پیتی تھی۔ پر اس کے تاثرات دیکھ کر اسکی ہمت ہی نہ ہوئی انکار کرنے کی۔
اس نے اسکے ہاتھ سے گلاس پکڑا اور ایک ہی سانس میں خالی کر گئی۔وہ خالی گلاس اس کے ہاتھ سے لیتا اپنی مسکراہٹ چھپا گیا۔ جانتا تھا کہ وہ ڈر رہی تھی اس سے اور اسی ڈر سی پورا گلاس خالی کر گئی تھی حالاںکہ سارا بیگم نے اسے بتاتا تھا کہ وہ ہلدی والا دودھ نہیں پیتی چاہے جتنے مرضی جتن کر لو۔
” چلیں آپ اب ریسٹ کریں اور پرانی ساری باتیں اپنے اس ننھے سے دماغ سے نکال کر ایک لمبی اور پر سکون نیند لیں ۔ صبح کالج بھی جانا ہے آپکو۔ پیپر بہت نزدیک آ گئے ہیں آپ کے۔ مزید ایک بھی چھٹی آپ کے لئے نقصان ده ہے۔”
وہ چہرے پر ازلی سنجیدہ تاثرات لئے اس سے مخاطب تھا۔ اس کی بات پر دعا کا رنگ مزید زرد پڑ گیا۔
“مم ۔۔۔میں ۔۔۔میں کیسے جا سکتی ہوں کک . کالج ۔ مجھے نہیں جانا اب ۔۔۔بب ۔۔۔۔بلکل بھی نہیں جانا ۔۔۔میں کہیں نہیں جاؤں گی۔”
وہ خوفزدہ ہو کر گھٹنوں میں منہ چھپا گئی۔
“اچھا اور کیوں نہیں جائیں گی آپ؟ یہ بتانا پسند فرمائیں گی مجھے آپ۔”
وہ جانتا تھا کہ وہ کیوں انکار کر رہی ہے پر اس کے منہ سے سن کر اس کا خوف زائل کرنا چاہتا تھا۔
اس کے سوال پر اس نے سر اٹھایا اور نا سمجھی سے فاتح کی جانب دیکھنے لگی۔
“آ ۔۔۔آپ نہیں جانتے کیوں ؟؟ سس ۔۔۔سب میرا مذاق بنائیں گے ۔۔مجھ پر ہنسیں گے۔ . جج ۔۔۔۔جسے تایا ابا نے الزام لگایا وہ بھی الزام لگ۔۔لگایں گے ۔ اور ۔۔۔اور مجھے ایک بری لڑکی سمجھیں گے۔”
وہ کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
وہ گہرا سانس بھرتا اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“دیکھیں دعا یہ زندگی آپ کی اور میری ہے۔ لوگوں کی نہیں۔ ہمارا تعلق پہلے کیسا تھا وہ بھی ہم دونوں ہی جانتے ہیں اور اب کیسا ہے یہ بھی ہم دونوں ہی جانتے ہیں۔ ہم لوگوں کو جوابده نہیں اور نہ ہی ان کی سوچ کے پابند۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ہم غلط نہیں تو ہم کیوں لوگوں کو اپنی ذات کی صفایاں دیتے پھریں۔ یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں بلکہ یہ بات معنی رکھتی ہے کہ ہمارا اپنا کردار کیسا ہے۔ جب میں جانتا ہوں کہ آپ کا کردار پاک ہے اور میرا کردار بھی پاک ہے۔۔۔۔۔اور آپ بھی یہ جانتی ہیں کہ میرا کردار بھی پاک ہے اور آپ کا بھی۔۔۔۔ تو دنیا کی نظر میں اچھا بننے کی امید کیوں؟ ہم جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں یہ بات یا تو ہم جانتے ہیں یا ہمارا اللّه! لوگوں کی نظروں میں نہیں بلکہ اپنے اللّه کی نظر میں معتبر ہونا سب سے اہم ہے! سمجھ رہی ہیں نا آپ ؟”
وہ بہت نرمی سے اپنے خیالات سے اسکو آگاہ کر کے اس سے جواب طلبی کر رہا تھا۔
وہ جو اسکے میٹھے لہجے کی تاثیر میں گم اس کی نرم گفتگو سے فیض یاب ہو رہی تھی اس کے یوں پوچھنے پر اثبات میں سر ہلا گئی۔
“چلیں اب آنسو صاف کریں اپنے اور سب کچھ اللّه پر چھوڑ کر اپنے ذہن کو پر سکوں رکھ کر سو جائیں۔”
وہ اسے کندھے سے تھام کر پیچھے بستر پر لٹا کر اس پر لحاف اوڑها کر اس کی پیشانی پر نرم گرم لمس چھوڑتا لائٹ بند کر کے کمرے سے نکل گیا جب کہ وہ اس کے ہونٹوں کا لمس پیشانی پر محسوس کرتی اپنی دھڑکنیں شمار کرتی رہ گئی۔ شاید یہ نکاح کے تین بولوں کا ہی اثر تھا جو اس نازک جان پر اثر انداز ہونا شروع ہو چکا تھا۔وہ زور سے اپنی آنکھیں میچ گئی اور پھر تھوڑی ہی دیر میں اس پر نیند کی دیوی مہربان ہو گئی۔
°°°°°°°°