No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
انھیں ائیرپورٹ سے لینے ڈرائیور کو بھیجا گیا تھا یا شاید مستقیم نے بلوایا تھا۔ وہ خفت کے مارے اب تک اس سے نظریں نہ ملا پائی تھی تو مستقیم نے بھی اسے مخاطب نہیں کیا تھا۔ اسلام آباد کے دلکش نظارے دل موہ لینے کی حد تک حسین تھے۔ کتنی حسین وادی تھی۔ پر اس وقت وہ جس پریشانی میں مبتلا تھی یہ دلکش سماں اور حسین نظارے اس کی طبیعت پر زیادہ خوشگوار اثرات مرتب نہیں کر پا رہے تھے۔ گاڑی ایک گھر کے باہر رکی تو اپنے خیالات کی دنیا سے نکل کر باہر کے منظر کو دیکھنے لگی۔ مستقیم باہر نکل کر اس کی طرف آیا اور اس کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ دروازہ کھولے ہاتھ اس کی طرف بڑھائے اس کا منتظر تھا۔ حریم نے جھجک کر اپنا ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں دیا اور گاڑی سے باہر نکل آئ۔ وہ یونہی اس کا سرد پڑتا ہاتھ اپنے بھاری گرم ہاتھوں میں تھامے گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
یہ ایک چھوٹا مگر نہایت ہی خوبصورت گھر تھا جس کی چھت ڈھلوان دار تھی۔ لکڑی اور شیشے کا بنا یہ خوبصورت ترین گھر حریم کو کسی خواب جیسا ہی لگا۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتا جا رہا تھا جب کہ وہ ادھر ادھر نظریں گھماتی گھر کی خوبصورتی دیکھنے میں مگن تھی۔ ہوش تو تب آیا جب وہ اسے لئے ایک کمرے کے سامنے رکا۔
حوش قائم ہوئے تو وہ اب حقیقی معنی میں سخت پریشان اور خوفزدہ ہوئی تھی مستقیم کے گھر والوں کے ری ایکشن کا سوچ کر۔مستقیم نے اسکا ہاتھ دبا کر گویا اسے تسلی دی تو وہ نظریں پهير کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا خوف وہ باآسانی دیکھ اور پڑھ سکتا تھا۔
“پریشان مت ہوں آپ اور مجھ پر یقین رکھیں۔”
وہ اسے تسلی دیتا ہوا بولا تو وہ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ مستقیم نے دروازہ نوک کیا اور اسے لئے کمرے کے اندر داخل ہوا۔
“دی جان” وہ اندر داخل ہوتا ایک دم بولا تو کمرے میں بستر پر پرے وجود کی بند آنکھیں خوشی سے پوری وا ہوئیں ۔
“مستقیم میرا بچہ!” وہ اسے دیکھتیں خوشی سے نم آنکھیں لئے بولیں اور اپنی باہیں اس کے لئے وا کر گئیں۔ وہ آگے بڑھتا ان کی نحیف باہوں میں سما گیا۔ وہ اسے اتنے ہفتوں بعد سامنے دیکھتی آبدیدہ ہو گئیں۔
” اتنے دن بعد کیسے خیال آ گیا تمہیں اس بوڑھی جان کا۔ اب بھی نہ آتے۔” وہ روتی ہوئی بولیں تو وہ شرمندہ ہو کر رہ گیا۔ اس دفع واقعی بہت لاپرواہی کر گیا تھا وہ۔
“ارے میری پیاری دی جان میں آ گیا ہوں نا اب یہ پورا ہفتہ آپ کے نام ۔” وہ انہیں اپنے ساتھ لگاتا اپنا پروگرام بتانے لگا تو وہ اس کے سر پر تھپڑ لگا گئیں۔
“چل ہٹ شریر! دیکھ لیتے ہیں کتنا اپنی بات پر قائم رہتے ہو تم۔ ارے یہ پیاری سی لڑکی کون ہے مستقیم؟”
مستم کے پیچھے کھڑی گھبرائی بوکھلائی خوبصورت سی لڑکی دیکھ کر دی جان چونک اٹھیں۔
ان کی توجہ خود پر پڑتی دیکھ کر حریم کا رنگ فق ہو گیا۔مستقیم دی جان کے پاس سے اٹھ کر حریم کی طرف بڑھا اور اپنا مضبوط توانا بازو اس کے کندھے کے گرد لپیٹ کر اس کی ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔حریم اپنی جگہ جامد ہو چکی تھی۔ اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔ وہ آنکھیں سختی سے میچے اور دوپٹے کا پلو ہاتھوں میں دبوچے متوقع ڈانٹ پھٹکار سنے کے لئے تیار کھڑی تھی جب مستقیم کی بھاری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
” دی جان یہ محترمہ ہیں وہ شاہکار جن کا تھا آپ کو سالوں سے انتظار! ان محترمہ کو آپ کے اس لاڈلے پوتے کے دل و جان کے ساتھ ساتھ اس گھر کی دوسری مالكن ہونے کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے۔ پہلا حق میرے دل و جان اور اس گھر بار پر چونکہ آپکا ہے اس لئے ان محترمہ کے لئے بقيه خالی حصّہ ہی میسر تھا جہاں پر اب یہ بڑی شان سے براجمان ہو چکی ہیں۔”
اس کی باتوں پر وہ اب آنکھیں پھاڑے اس کی شکل تک رہی تھی۔ کیا یہ مستقیم تھا ؟ کیا سچ میں یہ وہ سنجیدہ سا مستقیم تھا جو بات بھی شاید ناپ تول کر کرتا تھا اور اب اس کی زبان کیسے فراٹے بھر رہی تھی۔ وہ بے یقین سی اس کے چہرے پر نظریں جمائے کھڑی تھی۔ اسے یوں حیرت سے اپنی طرف تکتا پا کر وہ اس کی طرف دیکھتا بائیں آنکھ دبا گیا۔ اس کی اس بے باک حرکت پر وہ سٹپٹا کر آنکھیں پهير گئی۔
“مستقیم جیسا میں سمجھ رہی ہوں کیا واقعی ویسا ۔۔۔۔” فرت جذبات سے ان سے آگے کچھ بولا ہی نہ گیا۔
“جی بلکل میری جان جاں آپ سہی سمجھ رہی ہیں آپ کی بہو ہیں یہ۔”
وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا دی جان کے پاس لایا تو ان کے ہاتھ بڑھانے پر حریم بے ساختہ ان کی طرف جھک گئی اور وہ اسے اپنی کمزور باہوں کے حصار میں لے گئیں۔حریم کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔ اس نے کب ایسا مہربان استقبال سوچا تھا۔ وه تو ڈانٹ پھٹکار اور لعنت و ملامت کی منتظر تھی پر یہاں تو سب الٹ ہی ہوا تھا۔وہ آنکھیں موندے ان کا مہربان لمس محسوس کرنے لگی۔
“ماشاءالله میری بہو تو چاند کا ٹکرا ہے! اللّه نظر بد سے بچاے۔ آمیں!”
وہ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اس کا ماتھاچوم گئیں۔
مستقیم اب ان کے پاس بیٹھا ان سے خفا ہو رہا تھا جو بیماری کا بہانا کر کے اسے اپنے پاس بلا گئی تھیں پر وہ بھی جانتی تھیں کے ان کے اس طرح بلانے پر ہی وہ ایک ہفتے کا پروگرام بنا کر آیا تھا ورنہ ہر دفع یوں ہی ایک آدھ دن میں فرار ہو جاتا۔ اب وہ الٹا اس سے خفا ہو رہی تھیں کے انہیں بتاۓ اور شامل کے بغیر ہی شادی رچا بیٹھا پر وہ یہ کہہ کر ان کا غصہ ختم کر گیا کہ حریم کی والدہ کے انتقال کی وجہ سے انھیں اس طرح اچانک شادی کرنی پڑی ورنہ وہ کبھی ان کی شمولیت کے بغیر شادی نہ کرتا۔ اس کا تھا ہی کون اور ان کے سوا۔
“تم نہیں جانتے مستقیم تم نے میری کتنی بڑی خواہش پوری کر دی ہے۔ کتنا ارمان تھا مجھے تمہاری دلہن دیکھنے کا۔ قیامت کے دن تمھارے مرحوم ماں باپ کے سامنے سرخرو تو ہو سکوں گی نا اب کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی اکلوتی اولاد کا حق ادا کر دیا ۔ بس اب تمہاری اولاد دیکھنے کی خواہش باقی ہے۔ اللّه جلد تمہاری جھولی بھرے۔” وہ مستقیم کے مرحوم والدین کو یاد کرتی آبدیدہ ہو کر بولتی آخر میں حریم کا ماتھا چومتی جس دعا سے نواز گئیں حریم سنتی سرخ قندهاری ہو گئی۔ مستقیم دلچسپ نظروں سے اس کے سرخ چہرے پر اٹھتی گرتی پلکوں کا رقص دیکھنے لگا۔
“میں نے تمہارا کمرہ سیٹ کروا دیا ہے تم دونوں جا کر آرام کر لو کچھ دیر سفر کی تھکن اتر جاۓ گی۔”
ان کے کہنے پر مستقیم حریم کو لئے ان کے کمرے سے نکل آیا۔ واقعی آرام کی ضرورت تھی اسے۔ وہ اسے لئے اپنے کمرے میں آیا تو وہ لجائی گھبرائی سی کمرے کے وسط میں کھڑی ہو گئی۔ یہ دی جان کی اس بے باک دعا کا ہی اثر تھا جو اب تک اس کے حواس قائم نہیں ہوئے تھے۔ مستقیم لب دبائے اس کی یہ حالت دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا مسز اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں؟ یقین کریں دی جان کی دعا پر اتنی جلدی عمل کرنا کا ارادہ ہرگز نہیں ابھی میرا جو آپ اس قدر گھبرا رہی ہیں۔”
وہ ہونٹوں کے گوشوں سے پھوٹتی مسکراہٹ چھپاتا اسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تو وہ مزید بوکھلا گئی۔
“شش۔۔۔۔شرم کریں آپ ۔”
وہ بوکھلا کر کہتی جھپاک سے باتھ روم میں گھس کر دروازہ بند کر گئی تو پیچھے وہ اس کی حالت پر قہقہہ لگا اٹھا۔
دعا گھر میں اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی۔ رات ہونے کو آئ تھی اور اب تک فاتح کا کچھ اتا پتا نہ تھا۔ کالج میں اپنے لیکچرز اٹینڈ کرنے کے بعد وہ وہاں سے آفس چلا گیا تھا اور چھٹی کے وقت دعا کو گھر چھوڑنے کے لئے ڈرائیور کو بھیج دیا تھا۔ وہ گھر آئ تو سارا بیگم کو پہلے سے ہی وہاں موجود پا کر وو خوشی سے چیخ اٹھی۔ کتنا مس کرتی رہی تھی رات اور صبح وہ اپنی ماں کو۔ اسے کہاں عادت تھی اپنی ماما کے بغیر کہیں رہنے کی۔ پر اب تو مجبوری تھی کہ وہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھیں ۔ فاتح نے انھیں بہت اسرار کیا تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہی رھیں۔ دعا کی طرح فاتح بھی انکا بیٹا ہے ۔ اس کی بات پر وہ نہال ہو گئیں پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس گھر کو کیسے چھوڑ سکتی ہیں جہاں سے ان کے دلدار شوہر کو خوشبو آتی ہے اور ان کی شادی شدہ زندگی کا ایک ایک حسین پل قید ہے۔ فاتح نے ان کے لئے ایک قل وقتی ملاذمہ رکھ دی تھی ان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی۔ آج بھی وہ دعا کی چھٹی سے پہلے ہی ڈرائیور کو سارا بیگم کی طرف بھیج چکا تھا انھیں پک کرنے۔وہ جانتا تھا اچھی طرح کہ دعا کو عادت نہیں اپنی ماما کے بغیر اتنی دیر رہنے کی اسی لئے وہ انھیں بلا گیا تاکہ وہ بہل جاۓ۔
وہ کافی دیر دعا کے پاس رہی تھیں اور اسے پیار سے گھر سمبھالنے اور میاں بیوی کے رشتے کے متعلق دونوں کے حقوق و فرائض سے آگاہ کر کے گئی تھیں اور وہ فرمانبرداری سے سر ہلاتی ان کی گود میں سر چھپا گئی۔ اسے سب بھول کر زندگی میں آگے بڑھنا تھا اور ایک پر سکون اور خوشحال زندگی گزارنی تھی۔ یہ سب تھوڑا مشکل ضرور تھا پر نا ممکن ہرگز نہ تھا۔
وہ اسے بہت سی نصیحتیں کرتی اور دعائیں دیتی تھوڑی دیر پہلے ہی رخصت ہوئی تھیں اور وہ اب اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی۔ پڑھنے کا ذرا بھی دل نہ کر رہا تھا۔
تبھی داخلی دروازہ کھلنے کی آواز آئ تو وہ چونک گئی۔ اس وقت کون ہو سکتا تھا کیوں کہ سارا بیگم کے جانے کے بعد اس نے خود دروازہ بند کیا تھا۔ پھر اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا کہ شاید فاتح سر کے پاس چابی موجود ہو۔ بھلا ان کے علاوہ کون آ سکتا تھا یہاں۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی جب فاتح لاؤنج میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر وہ جلدی سے کھڑی ہوتی سلام جھاڑ گئی۔
اسے ایسے ایک گھبراۓ ہوئے طالب علم کی طرح سلام جھاڑتے دیکھ کر فاتح کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی جس پر وہ جلد ہی قابو پا گیا۔ اسے سر سے سلام کا جواب دیتا وہ کوٹ اتار کر بازو پر ڈالتا کمرے کی طرف بڑھا تو وہ بھی دھیمے قدموں سے اس کے پیچھے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ کمرے میں آ کر کوٹ ہینگ کرتا الماری کی طرف بڑھ گیا اور ایک آرامده سوٹ لے شوز اتارنے کے بعد فریش ہونے چلا گیا۔وہ اس کے باتھ روم میں بند ہونے کے بعد سوچنے لگی کہ اب کیا کرے ؟ ماما نے اسے کہا تھا کہ اچھی بیویاں شوہر کے گھر آنے کے بعد ان کی ضرورت کی چیزیں انھیں پیش کرتی ہیں اور کھانے پینے کا پوچھتی ہیں۔ وہ یہ سب باتیں پھر سے یاد کرتی سوچ میں پڑ گئی کہ کپڑے تو وہ خود نکل کر لے گئے اپنے اب وہ کیا کرے۔ کھانا اسے تھوڑا بہت بنانا تو آتا تھا پر اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بنائے اس لئے کچھ بنایا بھی نہ تھا۔ آخر وہ چاے لانے کا سوچتی کچن کی طرف بڑھ گئی۔ چاۓ بنا کر کمرے میں واپس آئ تو فاتح بھی فریش ہو کر آ چکا تھا اور اب شیشے کے سامنے کھڑا اپنے گیلے بالوں میں برش چلا رہا تھا۔ وہ اسے ایک نظر دیکھ کر اگے بڑھیاور چاۓ کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رخ دیا۔
” آپ کی چاۓ!”
اس کی میٹھی آواز پر وہ پیچھے مڑ کر اس کی جانب دیکھنے لگا جو چاۓ کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھے پاس کھڑی اپنے بالوں کی آوارہ لٹ کو کان کے پیچھے اڑس رہی تھی۔ اس کی اس بیویانہ قسم کی خدمات پر وہ متاثر ہوتا داد میں ابرو اچکا گیا۔ اسے کہاں اس چوٹی سی گڑیا سے اتنی عقلمندی کی امید تھی۔ وہ اپنے ننگے پاؤں قالین پر دھرتا بیڈ کے پاس آیا اور اس کے قریب جھکتا سائیڈ ٹیبل سے چاۓ کا کپ اٹھا گیا۔ اس کے پیچھے ہونے پر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی اور سائیڈ پر رکھے فاتح کے جوتے کے پاس گئی اور پکڑتے اس کا جوتا صاف کرنے لگی۔ بیڈ پر بیٹھ کر چاۓ پیتے فاتح کی نظر اس پر پڑی تو شدید حیران ہوا۔
“یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟”وہ سخت حیرت زدہ تھا اسکے اس عمل سے۔
“میں آپ کے جوتے صاف کر رہی ہوں”اس نے نظر جھکاتے ہوئے اپنی ازلی معصومیت سے جواب دیا۔
“پر کیوں اور آپ کو کس نے بولا ایسا کرنے کیلئے۔ خبردار آئندہ آپ نے اگر میرے جوتوں کو ہاتھ لگایا”اس نے سختی سے خبردار کیا۔
اس کی اونچی آواز پر اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے۔وہ ہاتھ دھو کر آئی اور کمرے سے نکلنے لگی۔
“اب کہاں جا رہی ہیں اپ؟” اس نے پیچھے سے آواز دے کر پوچھا۔
“وہ میں کھانا بنانے—” ابھی اس کی بات جاری تھی کہ وہ اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ گیا
“نہیں آپ رہنے دیں آپ آرام سے بیٹھ کر اپنے صبح ہونے والے ٹیسٹ کی تیاری کریں میں کھانا آرڈر کر دیتا ہوں تب تک۔”وہ اب کہ نرمی سے بولا۔
“اوکے سر!” وہ کہتی ہوئی سٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔جب کہ اس کے آخری الفاظ پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا.
