No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
وہ حسب معمول آج کالج کے بعد اکیڈمی آئ ہوئی تھی۔ فاتح کا ڈرائیور ہی اسے پک اینڈ ڈراپ دے رہا تھا۔ اس نے اعتراض کیا تھا اس بات پر لیکن سارا بیگم نے اسے چپ کروا دیا تھا۔
آج سے ٹھیک دو ہفتے کے بعد ایگزامز شروع ہو رہے تھے۔ آج کل وہ زیادہ وقت پڑھائی کو ہی دے رہی تھی۔
ابھی بھی پوری اکیڈمی تقریباً خالی ہو چکی تھی۔ وہ کیمسٹری اور بائیو کا سمجھ چکی تھی اب فزکس کی بک کھول کر بیٹھی تھی۔
آج فاتح کو دیر ہو گئی تھی آنے میں۔ وہ کسی ضروری کام سے گیا ہوا تھا۔ورنہ اس وقت تک دعا گھر پہنچ جاتی تھی۔
وہ سارا بیگم کو کال کر کے بتا چکی تھی اپنے دیر سے آنے کا۔
ابھی وہ ایک سوال حل کر رہی تھی جب فاتح نے اسے مخاطب کیا۔
“کتنا رہ گیا آپکا اب تو شام بھی ہو چکی ہے آپ ایسا کریں یہ سب جلدی سے وائنڈ اپ کریں باقی ہم کل کریں گے۔”
وہ اسے کہہ کر اپنے موبائل میں ای میل چیک کرنے لگا۔
“سر آپ بس مجھے یہ والا سوال سمجھا دیں مجھے گھر جا “کر اسکی پریکٹس کرنی ہے باقی پھر کل کر لوں گی۔”
وہ گال کو چھوتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی جھکی نظروں اور مدھم لہجے میں بولی تو وہ اسکے پاس آ کر اسے سوال سمجھانے لگا۔
دعا کرسی پر بیٹھی تھی ۔ آگے میز پڑا تھا جس پہ دعا کی کتاب کھلی پڑی تھی۔ دعا کتاب پر جھکی ہوئی تھی اور فاتح اسکی کرسی کے بلکل پاس کھڑا نظریں کتاب کی بجاے دعا کے چہرے پر جما کر اسے سوال سمجھا رہا تھا۔
دعا کے بالوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو اسے مدہوش کر رہی تھی ۔ وہ بے اختیاری میں اپنا دایاں ہاتھ دعا کے پیچھے کرسی کی پشت پر ٹکا گیا۔وہ دونوں اس بات کو بلکل فراموش کر چکے تھے کہ ساری اکیڈمی خالی ہو چکی ہے ۔
وہ دعا کی نشاندہی پر ایک پوانٹ کلیر کرنے کے لئے تھوڑا سا جھکا اسی وقت کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا۔
دعا ایک دم ڈر کے مارے اپنی جگہ سے اچھلی تو اس کا سر فاتح کے سینے سے ٹکرایا۔
اندر آنے والے کریم عباس تھے اور ان کے پیچھے کھڑی ان کی لاڈلی سونیا!
کریم عباس دہشت ناک تیور لئے آگے بڑھے۔
“اوہ تو یہاں یہ پڑھائیاں ہوتی ہیں بند کمرے میں۔بغیرت لڑکی شکل سے کسی معصوم اور پارسا نظر آتی ہے پر باپ کے آنکھیں موندتے ہی اپنی گھٹیا حرکتیں شروع کر دیں اور استاد کے ساتھ ہی منہ کالا کرنا شروع کر دیا۔ خدا جانے بند کمرے میں کون سے گلچھڑے اڑاے جاتے ہوں گے۔”
وہ آنکھوں میں آنسو لئے بے یقین سی کھڑی تھی۔ اسکے نام کے اپنے اس پر کتنی بڑی توہمت لگا رہے تھے۔جس انسان کے نام کو اس کے نام کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا وہ اس انسان کے لئے کتنا مقدس جذبہ رکھتی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے حق میں کچھ بولتی کریم عباس کے بھاری ہاتھ کا تھپڑ اس کے گال پر لگا تو اسکا گال سنا اٹھا۔تھپڑ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ دھان پان سی نازک لڑکی اوندهے منہ زمین پر جا گری۔اس کا ہونٹ پھٹ گیا۔اس کے گرنے پر وہ تڑپ کر آگے بڑھا۔
“دعا اٹھیں پلیز!”
فاتح نے آگے بڑھتے ہوئے اسے سہارا دینا چاہا۔
کریم عباس فاتح پر جهپٹے اور اس پر تھپڑوں اور مکوں کی برسات کرتے ہوئے گالیاں بکنے لگے۔ وہ مذاحمت کیے بغیر ان کی مار اور لان تن برداشت کرتا رہا۔
“تایا ابا پلیز آپ ان کے ساتھ ایسا نہ کریں انکا کوئی قصور نہیں۔”
وہ بمشکل ہمت کرتی اٹھی اور کریم عباس کی منت کرنے لگی۔
وہ غصے میں اسکی طرف بڑھے تو وہ ان کی ٹھوکروں کی زد میں آ گئی۔
اسکی سر کرسی کے کونے سے تكرايا تو وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔
“عشق و معشوقی کا بہت شوق تھا نا تمھیں اب رہنا ہمیشہ اپنی محبوبہ کے ساتھ۔آج سے یہ ہمارے لئے مر چکی ہے اب ہماری زندگی میں اسکی کوئی جگہ نہیں۔
وہ گسے میں فاتح سے بول کر وہاں سے نکل گئے۔
فاتح شرمندگی اور ذلت کی اتھاہ گہرائی میں ڈوب گیا۔
اپنی اسی حالت میں گم بغیر اس معصوم وجود پر ایک نگاہ بھی ڈالے وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
°°°°°°°
“وہ وہاں ہوگی یا نہیں؟” یہ سوال بار بار اس کے دماغ میں آرہا تھا۔ ٹھٹھرا دینے والی سردی میں وہ صرف ایک ٹراؤزر اور ہالف بازو والی سفید ٹی شرٹ میں ساکت و جامد بیٹھا تھا۔چہرے پر نیل واضح تھے۔ہوں معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے چہرے پر تشدد کیا ہو۔وہ بھول جانا چاہتا تھا جو کچھ بھی کچھ دیر پہلے ہوا پر پتا نہیں ایسی کیا بات تھی کہ اسے اپنے دل میں ٹیسییں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ پھر یکایک اسکے جامد وجود میں حرکت پیدا ہوئی۔وہ تیزی سے اٹھا،بیڈ کے پاس پڑے اپنے موزے اور جوگرز اٹھا کر پہنے اور دروازے کی طرف لپکا۔اسے دس منٹ لگے تھے مطلوبہ مقام تک پہنچنے کے لیے۔اس نے بیس منٹ کا سفر پیدل دس منٹ میں طے کیا۔دروازہ ویسے ہی کھلا ہوا تھا۔وہ تیزی سے اندر کی طرف لپکا۔وہ وہیں تھی جہاں وہ اسے جاتے ہوئے دیکھ کر گیا تھا۔وہ کرسی کے پاس اوندھے منہ پڑی ہوئی تھی۔وہ اسکے پاس گیا اور اسکا رخ پلٹا۔خون کی ایک لکیر اس کے ماتھے سے ہوتے ہوئے گردن تک آئی ہوئی تھی جو کہ سوکھ چکی تھی۔اس نے پاس پڑی اس کی چادر اٹھائی اور اسے اوڑھا دی۔وہ گھر سے لے کر یہاں آنے تک یہ سوچتا آیا تھا کہ وہ وہاں ہوگی یا نہیں پر یہ خیال اسے ایک دفعہ نہیں آیا تھا کہ اگر وہ وہاں ہوئی تو وہ کیا کرے گا۔اس نے آہستگی سے اسے باہوں میں بھرا اور وہاں سے نکل آیا۔گھر پہنچ کر اسے نرمی سے بستر پر لٹایا اور پھر موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔
