Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Last Episode)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Last Episode)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
انزل کی آخری سانسیں چل رہی تھی۔۔ جسم میں تھوڑی سی رمق باقی تھی ۔۔ افنان اسکے مرنے کا نظارہ بڑے اشتیاق سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس نے انزل کے کپ کو بڑی صفائی سے باہر کی طرف سے صاف کیا۔۔ اور انزل کے ہاتھ تھما کہ اس کے فنگر پرنٹس لینے لگا۔۔۔ ایسے کہ یہ خودکشی لگے۔۔
گیٹ کہ باہر کھڑا وہ بائیک سوار انزل کہ باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔
کافی دیر گزر جانے کہ اس نے شاذل کو کال ملائی۔۔
دوسری طرف شاذل ایس پی حمزہ کے روم میں بیٹھا اسے ساری تفصیل بتا رہا تھا۔۔
شاذل کا فون رنگ ہوا۔۔
نمبر دیکھ کہ فوراً کال اٹھائی ۔۔ ہاں بولو ۔۔
سر وہ لڑکی ابھی تک باہر نہیں آئی۔۔
کیا؟؟ تو تم کیا کر رہے ہو لے کہ آؤ اسے ۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔
سر۔۔ میں اکیلا ہوں وہ ہچکچائے۔۔
تو اور کیا بارات لے کہ جاؤ گے۔۔اندرجاؤ۔۔ وہ بے چین ہوا۔۔
حمزہ چلو نکلتے ہیں ۔۔ وہ فون بند کرتا وہاں سے نکل رہا تھا۔
وہ آدمی ہیلمٹ اترے بائیک کے ہینڈل پہ اڑستا۔ اندر کی طرف چل دیا۔۔
انزل کی آنکھیں بند ہونے لگی۔۔ اسکے بازو ڈھیلے پر گئے۔۔
گیٹ کا دروازہ کھلا ہونے کہ باعث وہ شخص اندر داخل ہوا۔۔۔ گیٹ سے صحن کے پار برآمدہ میں وہ دونوں نفوس۔۔ انزل صوفے سے گری اور افنان اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
اوئے کون ہو تم۔۔ افنان اس پہ چلایا۔۔
اس نے اپنی بلیٹ کے پیچھے اڑسا ہوا ریوالور نکالا۔۔ میم آپ ٹھیک ہیں۔۔ وہ ریوالور اس پہ تانے انزل کی طرف آیا۔۔ اپنی جیب سے فون نکالے وہ ایمبولینس کو کال کرنے لگا۔۔
یہ اب نہیں بچے گی۔۔ مر جائے گی۔۔ وہ ہنس رہا تھا۔۔
جشن منا رہا تھا۔۔
اتنی دیر میں شاذل اور پولیس موبائل وہاں آپہنچی۔۔
افنان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔ ایک کو تو وہ سنبھال لیتا۔ مگر شاذل اس سے چند منٹ کی دوری پہ تھانے بیٹھا تھا۔۔ جو اسکے لیے اسکی موت کا کھیل تیار کر رہا تھا۔۔ مگر اسے یہ نہیں خبر تھی افنان یہاں تک بھی گر سکتا ہے
شاذل انزل کی طرف بڑھا ۔۔ اسکے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔۔ اور نبض کی ہلکی سی رفتار وہ اسے گود میں اٹھائے اپنی جیپ کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔
مسٹر افنان تمہیں مکرم کے قتل اور انزل پہ قاتلانہ حملے کہ جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے۔۔ ایس پی حمزہ نے ہتھکڑی اس کے سامنے دکھائی۔۔ جق آہستہ آہستہ جھول رہی تھی۔۔
مکرم مر گیا۔۔ ۔۔۔ میں نے نہیں اسے مارا۔۔ آپ لوگوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔۔ یہ لڑکی۔۔۔ اس نے خود چائے بنائی تھی۔۔ خود زہر لیا تھا۔۔ میرے تو فنگر پرنٹس بھی نہیں ہے کپ پہ۔۔۔ افنان اپنی طور پہ ساری تیاری کر چکا تھا۔۔
حمزہ نے ہاتھ میں دستانے پہنے انزل کا کپ اٹھا کہ زبردستی افنان کے ہاتھ میں پکڑایا۔۔
لو آگئے فنگر پرنٹس۔۔ ایس پی حمزہ کہتا۔۔اسے ہتھکڑی پہنائے لےجا رہے تھے۔۔ اور وہ نہیں نہیں کی گردان کر رہا تھا۔۔
مگر پاسہ پلٹ چکا تھا۔۔














شاذل کوریڈور میں بالوں کو ہاتھوں میں جکڑے بیٹھا۔۔ کچھ ٹوٹنے کا احساس ۔۔ چھین جانے کا۔۔ اسکا وجود اب جا سنبھالنا شروع ہوا تھا۔۔ مگر اسے دے کہ سب کچھ چھین لیا گیا تھا۔۔
انزل کا بچنا مشکل تھا۔۔ ڈاکٹر اسے بس دعا کا کہہ گئے تھے۔۔ یہ اچھے مسیحا تھے۔۔ امید چھین کہ دعا کا دامن پکڑا جاتے ہیں ۔۔
وہ شکستہ قدم اٹھائے باہر جا رہا تھا۔۔ ڈاکٹر اندر انزل کی زندگی کی ڈوریں کاٹنے سے بچا رہے تھے۔۔
وہ اندر تک ہل چکا تھا۔۔ اگر انزل بھی چلی گئی تو زندگی میں اسکا کون اپنا رہ جائے گا۔۔ باپ بھائی نے جائیداد کی خاطر اس کی زندگی کی بہاریں چھین لی۔۔ مہ پارہ کے لیے اپنے دل کہ دروازے تو بند کر لیے۔۔ مگر اسکی موت ۔۔ شاذل کی زندگی کا دوسرا صدمہ تھی۔۔ اب انزل بھی ۔۔ اسکا اندر تڑپ اٹھا۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا۔۔ ایسا نہ ہو۔۔۔
جب ہر جگہ سے امید ٹوٹ جاتی ہے۔۔ تو خدا ہی امید ہوتی ہے۔۔
وہ مسجد کی طرف روانہ ہوا۔۔ وضو کرتا لرز رہا تھا ۔۔ رو رہا تھا۔۔ آنسو وضو کے پانی میں چھپ رہ رہے تھے۔۔
شکر کہ پانی کا رنگ آنسو جیسا تھا۔۔ ورنہ ہر دکھے ۔۔ ٹوٹے دل کا پردہ کھل جاتا۔۔ کون چھپ کہ رو سکتا تھا پھر۔۔ کبھی کبھی آنسو چھپانے پڑتے ہیں۔۔
شاذل کی آنکھوں میں بار بار نمی آجاتی۔۔
ایک وقت تھا ۔۔ جب مسجد جا کہ بھی نماز نہیں پڑھ سکا تھا۔۔ سمجھتا تھا کہ توفیق نہیں ہوئی ۔
مگر انسان کو اللہ کی طرف آنا ہی پڑتا ہے۔۔ طوہا یا کراہا۔۔
وہ قیام میں کھڑا ہوا۔۔ مسجد کے امام کی خوبصورت آواز میں ادا کی جانے والی تکبیر۔۔ اسکا اندر تک دہل گیا۔۔ وہ خود پہ قابو نہ رکھ پایا۔۔
آنسو لڑیاں سی بن کہ بہنے لگے۔۔
الفاظ کی درستگی کرتا۔۔ مگر بندھی ہوئی ہچکی۔۔ الفاظ کو توڑ کے ادا کر رہے تھے۔۔
نماز کیسے ادا کی نہیں جانتا۔۔ مگر دعا تک پہنچتے ہی اس کا صبر جواب دے گیا۔۔ وہ رو رہا تھا۔۔ دعا کہ لیے اٹھائے ہاتھ میں لرزش ہونے لگی۔۔ اسکے ساتھ بیٹھے لوگ متوجہ ہو ئے مگر یہ اللہ اور اسکے بندے کا معاملہ تھا۔۔
امام صاحب نے دعا شروع کی۔۔ دورد پاک ۔۔ کئ دعائیہ کلمات ادا کرنے وہ دعا مانگنے لگے۔۔ یااللہ جو لوگ بیمار ہیں انہیں شفا عطا کر۔۔ امام صاحب کی پہلی دعا پہ اس نے بے اختیار سر اٹھا کہ انہیں دیکھا آمین ۔۔ شاذل کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔ مگر دل نے اتنی کہ بے تاب ہو کہ کہا ۔۔ جیسے اسکا پورہ وجود یہی مانگنے تو بیٹھا تھا۔۔ وہ ہمیشہ سوچتا دل کا سکون کہاں ہے۔۔
دل کا سکون اپنوں کے سکون میں ہے۔۔
ہم لوگ دعائیں مانگتے ہیں سکون مانگتے ہیں۔۔۔ مگر اپنے آس پاس اللہ کی مخلوق کا دل ٹوڑ کہ انہیں تکلیف پہنچا کہ ہم بھی سکون سے خالی ہو جاتے ہیں۔۔ انزل کی تکلیف آج وہ اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔۔ اسے محسوس ہو رہا تھا۔۔ کہ اپنے کتنی بڑی نعمت ہے۔۔ ہر پیسےسے زیادہ۔۔ ہر نعمت سے زیادہ وہ اسکا حق تھی اسکے لیے رکھی گئی تھی تو اسکی محبت کیسے نہ شاذل کے دل میں گھر کرتی
وہ رونے لگا۔۔ امام صاحب اسکے رونےسے متوجہ ہوگئے۔۔ اسکےپاس بیٹھے ایک آدمی نے اسکی کمر سہلائی۔۔
اللہ کے گھر آئے ہو۔۔ خالی نہیں جاؤ گے۔۔ وہ تکلیف دے تو راحت بھی بخشتا ہے۔۔
امام صاحب نے دعا مکمل کر کے اسکے لیے خصوصی دعا کروائی۔۔
لوگوں کی آمین سے اسے راحت ہونے لگی۔۔ کوئی تو بندہ خدا ہوگا جس کی آمین سے انزل ٹھیک ہو جائے گی۔۔
اور اللہ پاک اپنے ہربندے کی سنتا ہے۔۔ نیکو کار گنہگار منافق مشرک مسلمان ہر ایک کی۔۔ یہی تو خدا کی صفت ہے۔۔














انزل کو ہسپتال میں رہتے ہوئے تین دن ہو چکے تھے۔۔ آرسینک کے زہر نے اسکے لیور اور معدے کو بری طرح متاثر کیا تھا۔۔ ۔۔۔ وہ ابھی تک زندہ تھی یہی بہت تھا اسکے لیے۔۔ وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی۔۔
وہ گھر پہنچ گیا۔۔ مکرم کے قتل ہوئے تین دن ہو چکے تھے۔۔ افنان اسکے قتل کہ جرم میں پھنس چکا تھا۔۔ یہ بھی شاذل کی ہی پلاننگ میں شامل تھا۔۔ مگر اب اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا۔۔۔
یا شاید اب وہ سب کو معاف کر دینا چاہتا تھا۔۔
انزل کی زندگی سے اہم اب اسکے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔۔
صاحب۔۔ صغراں اندع داخل ہوئی۔۔
ہوں۔۔ وہ کمرے میں بیٹھا اپنے ہی خیالوں میں گم جب وہ اندر آئی۔۔
صاحب آپ نے جیسا کہا۔۔ ماویٰ کے کھانے میں وہ دوائیں ملا۔۔
رہنے دو صغراں۔۔ وہ بے زار ہوا۔۔ آج کہ بعد نہیں کچھ نہیں کرنا۔۔
صاحب۔۔ مگر ماویٰ نے مکرم صاحب کو۔۔
جیسا میں کہتا ہوں وہ کرو۔۔ اور یہاں سے جلدی نکلنے کی۔کوشش کرو۔۔پیسے تمہیں مل۔چکیں ہیں نا۔۔
وہ اپنی۔الماری کی طرف بڑھا اب اسے یہاں نہیں رہنا تھا اس حویلی میں جہاں اسکا بچپن بر باد ہوا۔۔
اسکی جوانی۔۔ اسکی ازدواجی زندگی بھی۔۔ شاید یہ حویلی ہی منحوس ہو۔۔ وہ الماری کے اوپر ایک بیگ نکالے۔۔ الماری سے ساری چیزیں نکال رہا تھا۔۔ صغراں یہ سب دیکھتی رہی اور باہر چلی گئی۔۔
حویلی کے مکین آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے تھے۔۔
کوئی مر رہا تھا ۔۔ کوئی مار رہا تھا۔۔
ماویٰ اپنے کمرے میں بیٹھا اپنے سر کہ درد سے جونجھ رہا تھا۔۔ اسکی کنپٹی پہ درد ہو رہا تھا۔۔
اس نے اپنے کمرے میں اندھیرا کیا ہوا تھا۔۔ پردے گلاس ونڈو کے کھلے ہونے کی وجہ سے ہوا سے لہرا رہے تھے۔۔ اور ان پردوں کی اوٹ سے اسے حدیقہ نظر آرہی تھی۔۔ وہ ہنس رہی تھی۔۔ ماویٰ نے پاس پڑے ٹیبل سے لیمپ اٹھا کہ اسکی طرف پھینکا۔۔
چلی جاؤ ۔۔ یہاں سے۔۔ دفع ہو جاؤ وہ چیخ رہا تھا۔۔
مگر حدیقہ کی ہنسی اسکے کانوں میں سیسیہ کی طرح تھی۔۔ جو تکلیف شاذل اتنے برسوں سے برداشت کر رہا تھا۔۔ ماویٰ سے کچھ دنوں سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔
صغراں کمرے میں داخل ہوئی۔۔ ماویٰ نے نیم چڑھی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔ وہ ماویٰ کی۔حالت سے ہنسنے لگی۔۔ ماویٰ نے مکرم کو مارا ہے۔۔ یہ بات جب شاذل نے اسے بتائی اس نے ماویٰ سے بدلہ لینا کا عہد کر لیا تھا۔۔ تبھی اسکے منع کرنے کہ باوجود وہ ماویٰ کو پھر سے ڈرگز دینے لگی۔۔
ماویٰ کچھ حد تک پاگل ہو چکا تھا۔۔
شاذل آج کی شام ان دونوں کو حویلی میں چھوڑے جا چکا تھا۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کہ لیے۔۔















ایک ماہ بعد انزل کی صحت ٹھیک ہونے لگی تھی۔۔ گو کہ اسکے اندورنی اعضا کو بہت نقصان پہنچا تھا۔۔ مگر شاذل اسکا مکمل علاج کروا رہا تھا ۔۔
وہ کمرے میں لیٹے رہنے سے تھک چکی تھی۔۔
آرام سے بیڈ سے اترتی گلاس ونڈو سے باہر دیکھنے لگی۔۔ جہاں شاذل لان میں بیٹھا اپنے چند دوستوں سے بات چیت کرتا مسکرا رہا تھا۔۔ پاس خیرو ایک ملازم کو حکم دیتا کھانے پینے کہ لوازمات اٹھوا رہا تھا۔۔
شاذل کے چہرے سے زمانے کی تھکن اتر چکی تھی۔۔ وہ بات بہ بات ہنستا خوش مزاج سا شاذل لگ رہا تھا۔۔ انزل نے اسکے چہرے پہ ایسی خوشی پہلے نہیں دیکھی تھی۔۔ وہ اسے دیکھنے میں مگن تھی۔۔
یہاں تک کہ خیرو نے اسے نوٹ کیا۔۔ خیرو مؤدب سا آگے بڑھتا شاذل کے کان میں کچھ سرگوشی سی کی۔۔ شاذل نے بے اختیار سر اٹھا کہ۔دیکھا۔۔ انزل اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ نظریں ملنے پہ اس نے پردہ برابر کر دیا۔۔ واپس بیڈ آبیٹھی
کچھ ہی دیر میں اسکے دوست وہاں سے چلے گئے ۔۔وہ اندر کی جانب بڑھا
لمبے لمبے ڈگ بھرتے وہ اندر کی طرف چلا گیا۔۔ ایسا ہی ہوتا۔۔
انزل اسے جب بھی بلانا چاہتی اسے پکارتی نہیں تھی۔۔ بس اسے دیکھتی رہتی۔۔ وہ خود شاذل سے شرمندہ تھی۔۔ مگر شاذل نے اپنے ہر عمل سے اس پہ واضح کر گیا تھا۔۔ وہ سب بھول چکا ہے۔۔ انزل سے محبت کا اظہار بھی کرنا چاہتا تھا۔۔ مگر انزل کی خاموشی اسے بھی۔خاموش کر گئی
دروازہ کھولا۔۔ انزل تب تک بیڈ پہ ٹانگیں پھیلائے لیٹ چکی تھی۔۔
جی ۔۔ کچھ کہنا تھا کیا؟
شاذل اندر آتے ہی بولا۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
میں ایسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ وہ نظریں چرائے بولی۔۔
ہوں۔۔ مجھے لگا کچھ کہنا ہے۔۔ وہ کہتا بیڈ پہ آبیٹھا
طبعیت ٹھیک ہے نا۔۔ وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا۔۔
انزل نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
وہ وہاں بیٹھا اپنے پاؤن کو گھورنے لگا۔۔
ماویٰ نے صغراں کو مار کہ خودکشی کر لی۔۔
ایک ہی لمحے میں سنائی خبر۔۔ انزل کچھ دیر کچھ بھی نہ بول سکی۔۔
اسکی زندگی کی خوشیوں اسکی ماں کے قاتل کی موت پہ وہ کیسا اظہار کرتی۔۔ زندگی نے اسے اسموڑ پہ لاکھڑا کیا تھا۔۔وہ ہنس سکتی تھی۔۔ جشن منا سکتی تھی۔۔مگر موت کے اتنے قریب جا کہ۔اسے پتہ چل گیا تھا کسی کی موت کسی کہ لیے خوشخبری نہیں ہو سکتی۔۔
سمجھ نہیں آتا انزل ان اپنوں کی موت پہ خوش ہوں یا روؤں ۔۔ وہ دونوں ایک کی سی کیفیت میں تھے۔۔
ایسا نہیں ہے شاذل۔۔ انہوں نے اپنے کیے کا انجام پایا ہے۔۔ وہ لوگ اپنے قصے کو ساتھ لیے قبروں میں سو گیے۔۔ اب ان کے بارے میں مزید سوچ کہ میں اپنی زندگی کو تکلیف دہ نہیں بنانا چاہتی۔۔
میں اب زندگی جینا چاہتی ہوں۔۔ کیا ہم وہ سب کچھ بھول جائیں ۔۔ جانتی ہوں مشکل ہے۔۔ مگر ہم دونوں ایک دوسرے کی خوشی کے لیے انہیں یاد نہ کریں۔۔ انزل کی ایک خواہش ۔۔ اور یہ خواہش اسکا حق تھی۔۔ ایک تکلیف دہ سفر کا انجام ہو چکا تھا۔۔
اب کوئی اور لقگ بھی تھے جنہوں نے بنمطلب کہ سزا پائی انہیں بھی زندگی سے خوشیوں کا حق تھا















ہیپی اینیورسری۔۔ سجے سنورے ہال میں شاذل اور انزل تین منزل کیک کو کاٹ رہے تھے۔۔ انزل نے سفید رنگ کی نفیس کڑھائی والی پیروں تک آتی فراک پہنی ہوئی تھی کرینکل کہ ڈوپٹے کو اپنے سینے پہ پھیلائے اور دودھیا گردن پہ گہرا گلا۔۔ جس پہ شاذل کی نظریں بار بار پھسل رہیں تھیں شاذل کی پسند پہ یہ ڈریس اس نے پہنا تھا۔ جسے بار بار ٹھیک کرتی خفگی سے شاذل کی طرف دیکھ رہی تھی
جو خود آف وائٹ قمیض شلوار میں ملبوس۔۔ بازو سے کف موڑے بالوں کو جمائے خود کای ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا
اماں جی۔۔ ہال کے دروازے پہ مہ پارہ کی اماں اور کرمو داخل ہوئے ساتھ فلاح دین اور انکی سادہ سی بیوی ۔۔ انہوں نے اپنی مہ پارہ کو کھو کہ انزل کوپا لیا تھا۔۔
انزل چہکتی انکی طرف جا رہی تھی۔۔ ان سے پیار دعا سمیٹتی انہیں اپنے ساتھ لے آئی۔۔
وشمہ اور تراب بھی اس پارٹی کا حصہ تھے۔۔
دور کہیں ایک ویٹر کو کسی نے پرچی تھمائی۔۔ وہ پرچی پہ نظر دوڑاتا انزل کی طرف دیکھ رہا تھا
وہ سر ہلاتا۔۔ آگے بڑھنے لگا۔۔
انزل کے قریب آتا۔۔ اسکے لمبے گاؤن نما فراک پہ ایک کولڈ ڈرنک کا گلاس انڈیل دیا۔۔ انزل اپنی فراک کو کو صاف کرتی اٹھی۔۔
سوری میڈم۔۔ ایم رئیلی سروریت
اچانک سے ہوا۔۔ میڈم وہ گڑبڑ ا کہ کہہ رہا تھا
آپ چینچنگ روم میں چلی جائیں۔۔ وہ اسے اشارہ کر رہا تھا۔۔
سوری میڈم ۔۔۔ وہ پھر سے معذرت کرنے لگا۔۔
وہ غصے کرتی ۔۔ اپنے ڈوپٹے کو سنبھالتی وہاں سے جانے لگی۔۔
دور کھڑا وہ بھی مسکرا اٹھا ۔۔
اسکے پیچھے جانے لگا۔۔ آس پاس سے محتاط ہوتا
انزل نے اس کمرے کی طرف چل دی ۔۔ کمرے میں آتے اپنا ڈوپٹہ اتارا۔۔ اور واشروم کی طرف جانے لگی۔۔
وہ اندر داخل۔ہوا۔۔ انزل کی اس کے طرف پشت تھی۔۔
اس نے انزل کے بازو سے پکڑ کے اسے پیچھے اپنی بانہوں میں پکڑ لیا۔۔ انزل اسے دیکھ نہ سکی مگر اسکے مخصوص خوشبو۔۔ انزل ہزاروں میں پہچان لیتی۔۔
میں جانتی تھی۔۔ یہ آپکا ہی کام ہے۔۔ وہ بازو چھڑا کہ اسکی طرف گھومی ۔۔ شاذل دل کھول کہ ہنسا۔۔
تو اور کیا بیگم صاحبہ جب آپ اتنی پٹاخہ بن کہ۔گھومے ۔۔ تو یہ دل کو کہاں سکون مل سکتا ہے۔۔
وہ ہنوز اسے بازؤں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔۔
اب جانے دیں مجھے ورنہ ۔۔ شاذل نے اس کے ماتھے کو چوم لیا۔
تاب ہجراں ندارم اے جاں
اے جاں تیرے ہجر کی اب تاب نہیں
نہ لیہیو کاہے لگائے چھتیاں
تو تم مجھے سینے سے لگا کیوں نہیں لیتے
انزل خاموشی سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔۔۔
جس کہ۔ حصار سے اب کبھی نہیں نکلنا تھا۔۔
ختم شد۔۔
