Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 11)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 11)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
ہنزہ چارپائی پہ لیٹے چھت کو دیکھ رہی تھی ۔۔ مٹی کے کمرے میں موجود واحد کھڑکی سے آتی سورج کی کرنیں اس ٹھنڈے کمرے کو روشن کر رہی تھی ۔۔
دروازے پہ آہٹ محسوس کرتے سامنے دیکھا ۔۔ ہلکے گلابی رنگ کی لمبی آستین والی قمیص شلوار پہنے چہرے پہ ناراضگی سجائے ہنزہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی مہ پارہ ۔۔
شکر ہے تم آئی تو سہی ۔۔ ہنزہ کہنی کے بل بیٹھتی اسکو دیکھ کہ خوش ہوئی
نا میں پوچھتی ہوں کونسے فرشتے تمہارے سر پہ منڈلا رہیں ہیں ہنزہ ۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں آج افنان بھی گھر آرہے ہیں اور میں یہاں تمہاری عیادت کرنے آئی ہوں ۔۔ اور مجال ہے جو تم کہیں سے بیمار لگو ۔۔
ہاں تو تم نے ویسے کونسا آنا تھا ۔۔ وہ ڈھٹائی سے بولتی پاؤں میں جلدی سے جوتا اڑستی اسکے پاس آئی
آو باہر چلیں ۔۔
ہنزہ تم نا اپنے دماغ کا علاج کروا لو کہیں کوئی پرزہ خراب ہوگیا ۔۔۔
مہ پارہ اب تک خفا تھی۔۔
تو کیا کروں ایک تم ہی تو سہیلی ہو میری ۔۔ اور وہ بھی پیا دیس سدار گئی گئی تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہوتا ہر بار منا کر دیتی ہو ۔۔۔ تو میں نے یہی کرنا تھا چادر لیپٹے باہر کی جانب چل دی ۔۔
وہ دونوں باتیں کرتی گھر کے باہر بنی کچی سڑک پہ چلتی باغ کی طرف چل دی
باغ میں اپنے معمول کی جگہ پہ بیٹھ گئی
دور پرے ایک شخص چلتا نظر آیا سفید شلوار قمیض ساتھ بھوری سی شال لیپٹے درخت کی اوٹ میں بیٹھ گیا ۔۔
ہنزہ کو کچھ سکون ہوا مہ پارہ کی پشت اسکی طرف ہونے کی وجہ سے اس نے نہیں دیکھا تھا ۔۔
ایک بات تو بتاؤ مہ پارہ ۔۔ کیا محبت میں اتنی طاقت ہے کہ کسی کو بن دام کہ غلام بنا لے ۔۔ انسان اپنا آپ بھول کہ اپنے محبوب کی پاؤں کی دھول بن جائے ۔۔ محبت کیا اتنی ظالم ہے مہ پارہ
تم اسے لے کہ آو گی ۔۔ میں چاہوں تو اسے اسکے گھر سے اٹھا کر لے آؤں ۔۔ اور مجھے کوئی روکے گا بھی نہیں اس لیے جو میں کہتا ہوں مان لو
صوفے پہ بیٹھا ہنزہ کو تنبیہ کر رہا تھا
شاذل سائیں ایسا نہ کرے مہ پارہ کوئی ایسی لڑکی نہیں ہے ۔۔ وہ دراصل ۔۔ کہتی کہتی رک گئی مگر آج اسے حقیقت بتانی تھی
میں کچھ نہیں سننا چاہتا اور اسکے بعد تمہیں کوئی زحمت نہیں ہوگی تمہیں ۔۔ جاؤ آج شام وہ باغ میں ہو ۔۔ شاذل حتمی لہجے میں بولتا اس سے کہہ رہا تھا ۔۔
اسکی آنکھوں سے رتجگے کے آثار نمایاں تھے ۔۔وہ چاہتا تو اسکی دسترس میں آجاتی مگر مہ پارہ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔۔اسکی بے قراری بے چینی اسکی انا پہ حاوی ہوچکی تھی
خیر سے کونسے سستے نشے شروع کر دئے ہیں ہنزہ ؟
مہ پارہ اس بے تکے سوال پہ پہلے چونکی پھر مخصوص لہجے میں بولی ۔۔
ہنزہ چونک کہ دیکھنے لگی پھر بات سمجھ آنے پہ ناک بھوں چڑھائی ۔۔ م
دور بیٹھے شاذل کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی ۔۔
ہنزہ کا منہ بن گیا ۔۔
رہنے دو ۔۔ ابھی تمہیں اس محبت کا کیا پتہ ۔۔
طنز کیا جانتی تھی مہ پارہ کو اسی کا ہی تو پتہ ہے
۔۔۔
محبت پانی کا دریا ہے جو اپنی مرضی سے نہیں بہتا اس دریا کا بہاؤ جذبات پہ منحصر ہوتا ہے ہنزہ ۔۔۔ جہاں دل ضد کر کے بیٹھ جائے وہاں دنیا کے کوئی بھی دلائل قابل قبول نہیں ۔۔ بس پھر اس کی ضد کو پورا کرنے کے لیے جی جان لگا دیتے ہیں تاکہ محبت کا دریا محبوب نامی سمندر میں گر جائے اور تکمیل کا سفر مکمل۔ہو ۔۔ مگر ایسا نہیں ہے محبت کرنے والے تشنہ ہی رہ جاتے ہیں بے آبرو ہو جاتے ہیں رات کو چھپ چھپ کہ روتے ہیں اور ساری عمر اپنے خالی ہو جانے والے دل کی بستی کو آباد کرنے کے لیے ناجانے کون کون سے حربے اپناتے ہیں۔۔
پھر محبت کی جگہ عشق آجاتا ہے ۔۔ پتہ ہے عشق کے لیے انسان کو ہمیشہ ٹوٹنا ہی۔پڑتا ہے ۔۔ رلنا بکھرنا راہ یار سے کوئی غم ہاتھ میں لینا ہی پڑتا ہے ۔۔ مہ پارہ اداس ہوتی شام کی طرح بولتی جارہی تھی۔۔
جانتی ہو اللہ پاک قرآن میں کیا فرماتے ہیں ۔۔
اور میرا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کے اسی کے ہو رہو المزمل آیت نمبر 8
اس میں اللہ پاک نے کتنی خوبصورتی سے کہا ۔۔ سب سے ٹوٹ کے میرے ہو رہو ۔۔ میں زیادہ تفسیر نہیں جانتی مگر اتنا معلوم ہے کہ اس کے دومعنی ہیں ایک یا تو اللہ کے لیے ٹوٹ جاؤ اسکی عبادت محبت میں ایسا کھو جاؤ کہ تکلیف راحت میں بھی اسے نہ بھولو یا کسی سے ٹوٹنے کے بعد اللہ کے ہو جاؤ
سب سے ٹوٹ کے اسی کہ ہو رہو ۔۔۔
دیکھو کتنی وسعت ہے اس جملے میں میں جب بھی افنان سے ٹوٹ جاتی یہ آیت میرا سہارا بنتی تھی ۔۔
مہ پارہ آنکھیں جھکائے بولتی گئی ۔۔ ہنزہ بھی یہی چاہتی تھی اسی کہ منہ سے شاذل سن لے کہ مہ پارہ پہلے ہی کسی کا نصیب ہے ۔۔
ہاں مگر تمہاری محبت نے افنان کا دل تو موڑ لیا اب تو وہ تمہیں بیاہ کے لے آئیں ہیں ۔۔آواز قدرے اونچی رکھی۔۔
بیاہ کہ مہ پارہ کی شادی ۔۔۔ چھناکے سے کچھ ٹوٹا ہاں دل ۔۔ دل میں درد کی لہر اٹھی ۔۔شاذل کی آنکھوں میں نمی اور غصے سے لال ڈراریں پڑنے لگی۔۔
ہاں بیاہ لیا مگر ہنزہ سب کو لگتا ہے کہ میں معصوم سی سادہ لوح سی لڑکی ہوں ۔۔
مگر مجھے نظر آتا ہے کون میرے ساتھ کیا کر رہا ہے۔۔ افنان آج بھی بہت سی لڑکیوں کے رابطے میں ہے ۔۔مگر میں انجان بن کہ بھی اس کے ساتھ ویسی ہی ولہانہ محبت کرتی ہوں ۔۔ظاہر نہیں ہونے دیتی ۔۔
مگر ہنزہ ۔۔ چبھتی ہوئی نظریں اس پہ گاڑھی ۔۔
مجھے سب محسوس ہوتا ہے سب معلوم ہے ۔۔
ہنزہ کےپیروں تلے زمین نکل گئی ۔۔
آج کے بعد میرے گھر نہ آنا ۔۔ ہنزہ اسکے بعد کبھی اسکا سامنا نہیں کر سکتی تھی ۔۔اسے خبر ہو گئی ہنزہ اسے یہاں کیوں لے کر آتی ہے ۔۔
رکو مہ پارہ ۔۔پیچھے سے شاذل نکل آیا ۔۔
رک جاؤ ۔۔ وہ خود کو سنبھالتا اسے روکے ہوئے تھا
تم۔سے بہتر محبت کو کون جان سکتا ہے ۔۔ مجھے بتا ؤ کیا میرا اس میں کوئی قصور ہے ۔۔ میں نہیں جانتا تھا تم شادی شدہ ہو ۔۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا ۔۔ میں فقط تمہیں اپنانا چاہتا ہوں ۔۔
تھا ۔۔ مہ پارہ نے الفاظ مستقبل کو صیغہ ماضی میں تبدیل کروا کہ درستگی کی ۔۔
وہ سیدھی ہو کہ اسے برہمگی سے دیکھنے لگی۔۔ اب تو آپ کو پتہ چل گیا ہےامید کرتی ہوں اب آپ ایسا کوئی حربہ نہیں اپنائےگیں۔۔
اور نہ ہی مجھے سوچیں گیں قطعیت سے بولا ۔۔ دل کی ضد کے آگے دنیا کے کوئی بھی دلائل کام۔نہیں آتے اس نے مسکرا کہ جواب دیا ۔۔ میں تم سے دور رہوں گا مگر جو میرے بس میں نہیں اسکا اقرار نہیں کروں گا ۔۔
مہ پارہ کو پیروں پہ لگی سر پہ بجھی وہ شادی شدہ سے کیسے محبت کر سکتا ہے ۔۔
وہ لب بھنچے وہاں سے جانے لگی مزید ٹہرا نہیں جا سکتا تھا ۔۔
ادھر ٹوٹا بکھر ا سا شاذل ہنزہ پہ۔نگاہ غلط ڈالے وہاں سے چلا گیا اور ہنزہ کا دل چاہا زمین پھٹ اور وہ اسکا اس دنیا میں کوئی نام و نشان نہ رہے ۔۔
مگر ان تینوں کی نظروں میں آئےبغیر اک چوتھا بھی وہاں موجود تھا افنان دور سے شاذل۔اور مہ پارہ کو دیکھ رہا تھا اور فق پڑی ہنزہ ۔۔ دور سے ہی اپنے ذہن میں اک کہانی مرتب ہوچکی تھی مگر مہ پارہ ایسی نہیں ہے ۔۔افنان نے سر جھٹک کہ بات جھٹکنے کی۔ کوشش کی















ماویٰ نے کنٹین میں بیٹھے مجتبیٰ کی طرف دیکھا مجتبیٰ کے قریب پہنچ کہ ساتھ بیٹھ گیا
کدھر گم ہو کل سے ۔۔۔۔ مسکرا کے مجتبیٰ کندھے کے گرد ہاتھ رکھا۔
مجتبیٰ انگاروں کی سی آنکھوں سے اسے گھورا
اور اگلے ہی لمحے مجتبیٰ کا مظبوط گھونسا اسکے جبڑے پہ پڑ چکا تھا ۔۔
ماویٰ دور لڑکھڑا کے سیدھا ہوا اس لمحے کے لیے وہ تیار نہ تھا ۔۔ وہ حیرانگی سے مجتبیٰ کی اس حرکت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
تو اپنے ہوش میں تو ہے جبڑا سہلاتا ماویٰ بھی غصے میں آگیا مگر اتنی دیر میں مجتبیٰ پھر سے اس پہ حملہ آور ہوا ۔۔
تو نے ۔۔ تو نے حدیقہ کو ذلیل کیا اسکی عزت کے ساتھ کھیلا تو نے کیا سب کچھ مجتبیٰ کا پہلوانی جسم اس پہ حاوی ہوچکا تھا ۔۔
کیا بکواس کر رہا ہے ماویٰ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش میں اس کے پیٹ پہ لات ماری وہ درد سے بلبلا کے دور جا گرا ماویٰ اب اٹھ کہ اسکی طرف آیا ۔۔ لوگ دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔
ماویٰ نے اسے گریبان سے پکڑا ۔۔ تیری اتنی ہمت میرے ہی ٹکڑوں پہ پلنے والا مجھ پہ ہی ہاتھ اٹھائے گا ۔۔ماویٰ اسے سیدھا کھڑا کر رہا تھا مجتبیٰ نے اپنا گریبان اس سے چھڑایا ۔۔ اور پینٹ کی جیب سے موبائل نکالا ۔۔ اسے دکھایا ۔۔ دیکھ یہ دیکھ ۔۔
ایک ویڈیو جس میں ماویٰ اور اسکے کے ساتھ لڑکی لڑکی کا چہرہ بلرر کیا گیا مگر آواز سے وہ حدیقہ ہی تھی ایک منٹ کی اس ویڈیو نے پوری یونیورسٹی میں ماویٰ کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع کرو دی تھیں اپنے تئیں صبح نہار منہ(گیارہ بجے) مکا کھانے اور اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اسے شدید تاؤ آیا
کیا کہے گا اس بارے میں ۔۔ تو نے ۔۔۔ اپنی اس جونی کی خاطر ایک لڑکی کا قتل کر ڈالا وہ تیری وجہ سے مری ۔۔ مجتبیٰ کی آنکھیں غصے سے لال ہو چکی تھی۔
توتم کیا اس کے بھائی ہو جو اتنا تاؤ آرہا ہے بکواس ہے سب۔۔۔۔۔ ایسی ویڈیو بنانا کوئی مشکل کام نہیں ۔۔ ماویٰ نارمل ہوتا ہوا کہ گیا ۔۔
تو ۔۔ تو ایک نمبر کا گھٹیا انسان ہے ۔۔۔ بہت پچھتائے گا اسکے لیے ۔۔ دیکھنا ۔۔ مجتبیٰ ماویٰ کے گارڈ کو اسکے قریب بڑھتا دیکھ چکا تھا ۔۔
ادھر ماویٰ موبائل کو آن کیے کتنے ہی میسیج اور کالز اور اسے یہ ویڈیو بھیج کے تصدیق کرتے لوگ ۔
ہونہہ پچھتاؤ گے تم اسکے لیے افنان اسے لگا تھا افنان نے مکمل ثبوت دے دئے۔۔
مگر اس نے یہ کام کیا ۔۔
مے آئی کم ان سر ۔۔ انزل سر احتسام سے اجازت مانگتی اندر داخل ہوئی ۔۔آج اس نے اپنےمڈ ایگزام کی اسائنمنٹ بھی جمع کروانی تھی جو پچھلے ایک ماہ سے پینڈنگ تھی ۔۔احتسام سے ملنے آئے افنان نے اسے دیکھا سر کی جنبش سے سلام کی ۔۔
آجاؤ انزل ۔۔ سر نے اجازت دے دی ۔۔
سر یہ اسائنمنٹ ساری لکھ لی ہیں۔۔ فائل سے خاکی کور نکالتی بولی۔۔
سر احتسام۔نے فائل لیتے ہی میز کی سائیڈ رکھ دی اور سر افنان کی طرف دوبارہ متوجہ ہوئے ۔۔
دیکھئے زیادہ سے زیادہ یونیورسٹی سے نکالا جا سکتا ہے وہ مصروف سے انداز میں کہا ۔۔
Okay you can go nowسر احتسام نے اسے
واپس جانے کی اجازت دی وہ واپس جانے لگی
رکو انزل تم سے بات کرنی ہے ۔۔
ٹھیک ہے احتسام صاحب شام کو ملتے ہیں
سر سے مصافحہ وہ کرتے افنان بھی اٹھ گئے۔۔
سر احتسام نے اوہ کہتے ہوئے اسے جانے دیا ۔۔نظریں مشکوک سی۔۔ یونیورسٹی میں پہلے ہی انزل ماویٰ اور افنان۔کے متعلق بہت سی باتیں ہو چکی تھیں انزل کو برا لگا
سر آپ اتنی بے تکلفی سے نہ بلایا کریں ۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔
اوہ ہاں آپکی اسائنمنٹ بھی بنا لی تھی ۔۔ وہ بیگ میں ہاتھ ڈالے ایک اور فائل نکالنے لگی ۔۔
تو تمہیں نہیں پتہ کیا؟ انزل کی باتوں کو نظر انداز کیے وہ اس سے پوچھ رہے تھے۔۔ ہاتھ ابھی بھی فائل کی طرف نہیں بڑھایا
کیا نہیں پتہ؟ سوالیہ نظروں سے دیکھتی فائل انکی طرف بڑھا دی ۔۔
یہی کہ ماویٰ اور حدیقہ کی ویڈیو لیک ہو گئی ہے ۔۔
کیا؟ حدیقہ کی ویڈیو ۔۔ مطلب ۔کہ۔۔
نہیں حدیقہ کا چہرہ واضح نہیں ۔۔۔ نہ ہی مکمل ویڈیو ہے کسی نے بلرر کر کے اپلوڈ کی ہے۔۔وہ انزل کی بات سمجھتے ہوئے اسے جواب دے رہے تھے ۔۔
شکر ہے ورنہ اسکے بارے میں سب کیا سوچتے ۔۔ انزل نے سکھ کی۔سانس لی ۔۔
ماویٰ کو لگتا ہے یہ سب میں نے کیا ہے اس نے مجھے دھمکی دی حالانکہ میں نے سارے ثبوت اسے تھما دئے تھے ۔۔
تو ؟ انزل نے پوچھا
تو یہ کہ انزل بی بی سچ سچ بتاؤ کہ یہ تم نے نہیں کیا تم نے ویڈیو کاپی کر کے اپنے پاس رکھی ہے ۔۔
جی بلکل میں نے ہی کیا ہے یہ ۔۔ ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا
افنان کو یقین نہیں تھا اتنی۔جلدی اقرار کر لے گی وہ
کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ اس سب کو چھوڑ دو ۔۔ تم اپنے مستقبل کی فکر کرو مگر تمہیں کیا ملا ایسا کر کے۔۔
ماویٰ سے دشمنی اچھی نہیں انزل مگر تمہارے سر پہ انتقام کی آگ سوار ہے ۔۔ وہ فکر مندی سے بولے
سر میں اس سب سے دور ہی ہوں۔۔ مجھے کیا ملا ۔۔تو عزت کے بدلے عزت ۔۔۔۔ قصاص صرف قتل کا ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔ آپ نے صحیح کہا تھا کہ ہم عدالت اور کیس کا چکر نہیں پال سکتے مگر میں اپنے طور پہ تو کچھ کر ہی سکتی ہوں۔۔
ماویٰ پتہ لگا لے گا تب تم کیا کرو گی ۔۔افنان ابھی بھی بے یقینی کہ انزل نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا ۔۔ نہیں کر سکتا ۔۔ آج تک کسی نے لیکڈ ویڈیو یا ڈوکومنٹ کا سورس پتہ چلایا ہے ۔۔ ہر گز نہیں ایسا نہیں ہوا آپ بے فکر رہیں ۔۔ میری اسائنمنٹ اس نے پھر سے فائل بڑھائی ۔۔افنان نے تھام لی ۔۔۔ انزل سنتی سب کی تھی کرتی وہ اپنے دل کی ۔۔
اور یہی چیز اسے بھاری پڑ گئی















گھر میں داخل ہوتے ہی انزل نے سلام کیا ۔۔ مگر گھر کے مکین وہاں نظر نہ آئے۔۔ وہ اندر لاؤنج کی طرف بڑھ ۔۔
امی ۔۔ اس نے اندر قدم رکھتے ہی پکارا مگر ندارد پورا گھر سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔ چھن کی آواز سے اسکے کمرے میں کچھ ٹوٹا ۔۔ وہ اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔
اسکا کمرہ اندر سے لاک وہ سامنے بنے امی کے کمرے تک گئی وہاں آواز دی وہ کمرہ بھی لاک کیا گیا تھا ۔۔
قسمت چچی امی کہاں ہو سب ۔۔ وہ اب پریشان ہوگی ۔۔ اسکے کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔ بوکھلائی سی فق چہرے لیے قسمت اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
کیا ہوا ؟ قسمت ۔۔ کیا ہوا ؟ وہ اسکی طرف بڑھی ۔۔
انزل وہ آئے ۔۔ انزل وہ لوگ آئے ۔۔ انہوں نے ڈرایا وہ اسکے گلے لگ کہ رو پڑی ۔۔ تائی امی کو ۔۔ تائی امی کو شوٹ کر دیا ۔۔ انزل ۔۔ تمہاری امی ۔۔۔ تائی امی ۔۔۔
وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں انزل کو ساری کہانی سنا گئی
پل بھر کے لیے انزل کے لیے یقین کرنا مشکل ہو گیا ۔۔ کیا کہہ رہی ہو ۔۔ انزل کا دل بند ہونے لگا ۔۔ اسکے کان میں جیسے صور پھونکا گیا تھا ۔۔
بابا تائی امی کو ہسپتال لے گئے ہیں ۔۔ ماما بھی ساتھ ہیں ۔۔اس نے روتے ہوئے اطلاع دی ۔۔ انزل کا وجود ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔ وہ سر پکڑے نیچے بیٹھ گئی ۔۔
انزل وہ لوگ ۔۔ انہوں نے کہا تم نے انہیں نقصان پہنچایا ہے اب تمہاری باری ۔۔ وہ رو رہی تھی ۔۔۔ بلک رہی تھی انزل آنکھوں میں آنسو لیے سمجھ گئی ماویٰ ۔۔ وہ آنکھیں بند کیے فرش پہ بیٹھ چکی تھی آنسوؤں کی لکیر اسکے چہرے پہ رواں تھی ۔۔
امی ۔۔۔ وہ بے جاں سی ہو گئی ۔۔۔ دعا ۔۔ ہاں وہ اس وقت دعا ہی تو کر سکتی ہے۔۔
مگر اسکے اٹھنے سے پہلے ہی ایمبولینس کی آواز نے اسکے قدم۔جکڑ لیے انجانے خدشات کو نظر انداز کیے وہ نیچے کی طرف بھاگی ۔۔لاؤنج سے باہر چچی اندر داخل ہوئی۔۔ افسوس ملال رنج ۔۔ کیا کچھ نہیں تھا انکی آنکھوں میں۔۔۔ وہ آکہ انزل کو گلے لگا گئ ۔۔
انزل بت بنی یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔۔ دل انکار کر رہا تھا ۔۔ دماغ ماؤف ہو چکا تھا ۔۔ اسٹریچر پہ سفید کفن کی مانند کپڑا اور کپڑے کے نیچے اس کی ماں کا بے جان وجود دولوگ اسٹریچر اٹھائے اندر لے آرہے تھے اسکے چچا سر جھکا ئے انزل کی طرف بڑھے محلے دار ایمبولینس کی آواز سے گھرداخل ہو چکے تھے ترحم ہمدردی ترس بھری نگاہوں سے انزل کو دیکھا جو بنا ہلے بنا کچھ بولے سامنے پڑے بے جان لاشے کو گھور رہی تھی ۔۔ جیسے اسکے دیکھنے سے اس میں جان پڑ جانی ۔۔ انزل میری بچی ۔۔ چچی نے اسے گلے لگایا ۔۔ مگر انزل بے یقین سی پھٹی آنکھیں لیے اس انہونی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ قسمت روتے ہوئے اس کے قریب آگئی انزل تائی امی ۔۔
مگر انزل کی آنکھوں میں آنسو تھے ہی نہیں وہ انجان نظروں سے سب کو دیکھ رہی۔تھی دفتا کسی نے اسکی ماں کے چہرے سے چادر اٹھائی اسکی ماں کا سفید مردہ چہرہ ۔۔ ایک دلخراش چیخ اور پھر اپنی ماں سے لیپٹی انزل کو وہاں کوئی نظر نہ آیا سوائے اپنی مردہ ماں ۔۔
وہ رو رہی تھی بلک رہی تھی ۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آیا چھ گھنٹے پہلے اپنی ماں کو زندہ چھوڑ کہ گئی اور ان مختصر دورانیہ نے اسکی زندگی کا سب سے بڑا غم دے دیا۔۔
وہ روئے جا رہی تھی یہاں تک کہ روتے ہوئے بے ہوش ہو گئی















اسکی ماں کو مرے ایک ماہ ہو چکا تھا چپ چاپ سی انزل اب اپنی ماں کے ساتھ ہی مرچکی تھی ۔۔اس نے ماویٰ کو واقعی نہیں سمجھا تھا ۔۔ یہی چیز اس کے وجود کے دو ٹکڑے کر گئی ۔۔۔
ماویٰ یونیورسٹی چھوڑ چکا تھا ۔۔ لوگوں کی طنزیہ چبھتی نظریں اور اسکے کردار پہ اٹھتے سوال اتنی ہتک اور تذلیل اس نے کبھی محسوس نہ کی تھی وہ بھی ایک لڑکی کی وجہ سے مگر انزل کے لیے بہت بڑا جال بنا چکا تھا ۔۔۔ نہ افنان کچھ کر سکا نہ انزل ۔۔ انزل بھی سب کچھ چھوڑ ے بیٹھی تھی ۔۔ چچا اور چچی کا رویہ اس کے ساتھ دن بدن خراب ہوتا چلا گیا ۔۔ وہ انزل کو اس بات کا قصوروار ٹہراتے ۔۔
کہیں نہ کہیں انزل بھی اس بات کا اقرار کر چکی تھی ۔۔ اس عرصے میں صرف قسمت ہی اسکا ساتھ دے رہی تھی ۔۔
وہ اک غیر مرئی نقطے کو تکتی اپنے کمرے میں ایک بڑی سی چادر کو خود سے لیپٹے ہوئے تھی جب قسمت نے دروازے پہ دستک دی ۔۔
انزل ۔۔ تم سے ملنے آیا ہے کوئی ۔۔ کہتے تمہارے سر ہیں
گھر میں اس وقت چچی ہی تھی جو سورہی تھی ورنہ آسمان سر پہ اٹھا لینا تھا ۔۔ وہ سب پہلے ہی انزل اور ماویٰ کے تعلق کی وجہ سے انزل کو بہت کچھ سنا چکی تھی ۔۔
ہوں ۔۔اس نے سر ہلایا قسمت چلی گئی ۔۔
انزل نیچے آئی ۔۔ آنکھوں کے گرد ہلکے زرد سا چہرہ وہ انزل کم ہڈیوں کا ڈھانچہ زیادہ لگ رہی تھی۔۔
سامنے بیٹھا افنان اٹھ کھڑا ہوا سکائی بلیو شرٹ اور جینز کی پینٹ آنکھوں پہ لگے گلاسز ۔۔ سنجیدہ سا چہرہ لیے وہ افسوس سے انزل کو دیکھ رہا تھا
دونوں میں خاموشی چھا گئی۔۔
قدرے توقف سے افنان نے بولنا شروع کیا ۔۔انزل ۔۔ تمہاری ماما کا سن کہ ۔۔۔ آپ کو۔یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔
ان لفاظی افسوس کو سن کہ وہ مزید تکلیف نہیں سہنا چاہتی تھی ۔۔
ہوں۔۔ لیکن میں آنا چاہتا تھا ۔۔ تمہیں اب زندگی کی طرف لوٹنا ہے ۔۔ انزل تمہارا دکھ تمہارے علاوہ کوئی نہیں محسوس کر سکتا ۔۔ تم نے اب تک بہت حوصلے سے کام لیا ہے اب مزید بھی تم سے اچھے کی امید رکھتا ہوں وہ ایک سائکاٹرسٹ تھے ۔۔انزل ہمیشہ انکی باتوں سے متاثر ہوتی تھی
اگلےایک ماہ تک میری شادی ہے سر ۔۔ اس نے بنا تاثر کہ کہا ۔۔
سر کچھ دیر بول نہ سکے ۔۔
کس سے ؟
نہیں جانتی۔ مگر چچا جان نے جو سوچا ہوگا وہ ہی بہترین ہوگا ۔۔ سرد لہجے میں بولی ۔۔
اور اگر میں کہوں کے تمہارے چچا نے تمہارے لیے اچھا نہیں سوچا تو؟
اب جو بھی ہے میرا نصیب ہے ۔۔ میں اب مزید اس بارے میں کچھ نہیں سوچنا چاہتی۔۔
وہ اٹھ کھڑی اب مزید بات نہیں کرنا چاہتی تھی ورنہ۔ آنکھیں نم۔ہوجاتی ۔۔
ماویٰ نے تمہارے چچا کو پیسے دئے ہیں تمہیں ایک جگہ لانے کے لیے ۔۔ مکرم امان سنٹر ۔۔تاکہ وہ تمہاری باقی کی زندگی کو اپنی انا کی تسکین کی غذا بنائے ۔۔
کچھ عرصہ تک یہ کام بھی پایا تکمیل ہو جانا ہے ۔۔
تمہاری وجہ سے اسکے باپ اور اسے بہت نقصان ہوا ہے اور اس نقصان کا بدلہ لیے بنا وہ نہیں رہ سکتا ۔۔
سر نے آہستگی سے انزل کے وجود کو کسی خاردار سڑک پہ گھسیٹ دیا ۔۔
وہ مڑی ۔۔۔ آنکھیں میں غم اور غصہ سے دہکنے لگی ۔۔ آخر ماویٰ کب اسکی زندگی سے نکلے گا ۔۔ وہ اسکو اور کتنی تکلیف دے سکتا ہے کیا اسے مزہ آتا ہے یوں ٹارچر کر کے
اس کے لیے یی بات ناقابل برداشت ہو چکی تھی ۔۔ اس نے سوچا تھا اب وہ مزید تکلیف نہیں سہنا چاہتی مگر اب اسکے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا تھا سوائے اس کے خود کہ وجودکہ ۔
میں تمہیں اپنا چاہتا ہوں ۔۔ انزل ۔۔۔ میں تمہیں اس سب سے بہت دور لے جاؤں گا ۔۔ تم اگر میرا ساتھ دو ۔۔تو وہ سنجیدگی سے بولے ۔۔
مہ پارہ ۔۔ مہ پارہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ انزل کو کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا انتقام کی آگ اسکے وجود کےگرد لیپٹ چکی تھی ۔۔ اب وہ جل رہی تھی ۔۔
کیا سننا چاہتی ہو ؟ افنان نے گلاسز اتار دئیے سر جھکا لیا ۔۔
میں سننا چاہتی ہوں ماویٰ نے میری بہن کے سا تھ کیا کیا ۔۔
میں اس سننا چاہتی ہوں ۔۔ میں چاہتی ہوں جب ماویٰ کو تکلیف اور درد کے آخری مراحل پہ دیکھوں تو مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی ترس نہ آئے ۔۔وہ واقعی ہوش میں نہیں تھی ۔۔ تکلیف درد نے اسکے وجود پتھر سا بنا دیا تھا۔۔
ماویٰ نے نہیں اسکے بھائی شاذل نے ۔۔وہ سر اٹھائے غمناک لہجے میں بولے ۔۔ اسکے بعد اس تکون کو مکمل کر دیا انزل سنتی جارہی تھی اور اب اسے اپنے لیے بھی فیصلہ کرنا تھا ۔۔
وہ کیا کرنا چاہتی ہے ۔۔
انزل اب تم۔کیا کرنا چاہتی ہو ۔۔ درد بھرے لہجے میں بولے وہ انزل کو اس سب اسے بچانا چاہتے تھے ۔۔
انتقام ۔۔۔۔ انزل نے یک لفظی جواب دیا ۔۔
اگلے ایک ماہ انزل نے بھی اسکی تیاری کر لی تھی ۔۔مکرم امان سنٹر وہ بنا چوں چرا کہ چلی گئی ۔۔
اسرا نے اسکی جیسے حدیقہ کی ویڈیو میں مدد کی ویسے ہی اس سنٹر کی معلومات میں بھی ۔۔
افنان اسکے اس فیصلے سے ناخوش تھے ۔۔ انزل کو وہاں بس کسی اور کا بھی انتظار تھا جو اس معاملے میں اسکو بہت مدد دیتی ۔۔ وشمہ
اور اسے وہاں وہ مل ہی گئی ۔۔
سب کچھ اچھا جا رہا تھا ۔۔ ماویٰ سے اس کا نکاح بھی ہو جاتا مگر ۔۔ شاذل سے نکاح پلان کی پہلی ناکامی تھی۔۔
اب اسے دوبارہ سے سب کچھ مرتب کرنا تھا
