Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 06)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 06)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
لفٹ 6th فلور پہ آ رکی وہ اسے پکڑے اپنے ساتھ لئے جا رہا تھا سامنے ایک اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا تھا۔۔کوئی بھی نہیں تھا یہاں جو اسکی آہ بکا سنتا ۔۔۔
اس نے مکمل انتظام کیا تھا ۔۔۔
انزل اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ وہ روئے جا رہی تھی مگر ماویٰ پہ کوئی اثر نہ ہوا۔۔
ماویٰ خدا کا واسطہ ۔۔ ماویٰ چھوڑ دو وہ بلک بلک کے رونے لگی اپارٹمنٹ اندر سے خالی تھا وہ اسے اندر گھسیٹ کے لے جا رہا تھا اندر آکہ اسکا ہا چھوڑا وہ باہر کی طرف دوڑ ی مگر باہر سے کسی نے لاک کر دیا ۔۔۔مطب وہ اکیلا نہیں تھا۔۔۔
مجھے سننا چاہیے تھا ۔۔۔ مجھے سر کی بات سننی چاہیے تھی مگر میں نے تمہارا اعتبار کیا۔۔۔ ماویٰ ۔۔
کیوں ۔۔۔
ویسے تمہیں واقعی سن لینا چاہیے تھا انہیں ۔۔ مگر ماویٰ اتنا اچھا جال بنتا ہے کہ کوئی اس سے نکل نہیں سکتا ۔۔۔
یہاں کوئی نہیں ایسا جو اس روتی بلکتی لڑکی کو بچانے آئے ۔۔۔وہ اسکے بالوں سے پکڑے بول رہا تھا ۔۔۔
نہیں سر افنان ۔۔۔۔ سر افنان نے مجھے تمہاری حقیقت بتائی تھی ۔۔۔ وہ تمہیں۔ انجام تک پہنچائیں گیں۔۔
اس نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
اسکا علاج کر چکا ہوں میں وہ خود اپنی مدد کرتا پھر رہاہوگا یونیورسٹی سے نکلوا دیا ہے ۔۔
میری پیاری چڑیاآج کے دن کوئی نہیں ہے ۔۔
وہ روتے روتے چپ کر گئی اور مجھے کسی ضرورت بھی نہیں ۔۔۔
اسکا لہجہ مظبوط ہو چکا تھا ۔۔۔
ہم لڑکیاں ایک ہی جگہ سے دوبار دھوکہ نہیں کھاتی ماویٰ ۔۔
تم جیسوں کے لئے قہر بن سکتی ہیں۔۔
وہ بدلی ہوئی ٹون میں بولی ۔۔ باہر دروازے کو کوئی دھکا لگاتا دروازہ توڑ کے اندر داخل ہوا ۔۔ افنان اور اسکے ساتھ پولیس ۔۔
انزل نے اپنے کرتے کی بٹن پٹی سے ننھا سا کیمرہ اور میکروفون نکالا ۔۔ وہ حیران کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
ماتھے پہ پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہوئے ۔۔۔۔۔۔
ماویٰ کا اقبال جرم ہو چکا تھا ۔۔
مجھے اس دنیا میں ایک ہی شخص مشکل میں ڈال۔۔۔۔۔ اور نکال بھی سکتا ہے ۔۔ جانتے ہو وہ کون ہے ۔۔۔وہ میں خود اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتی انزل اک عام سی لڑکی نہیں لگی ۔۔۔
پولیس اسکو ہتھکڑی لگائے لے جا رہی تھی ۔۔۔ اور ماویٰ مغلظات بکتا دھمکی دیتا خود چھڑا رہا تھا ۔۔
انزل تم ٹھیک ہو کیا اسکی سرخ پڑتی آنکھوں میں دیکھ کے بولا ۔۔۔۔
بہترین ہوں میں ۔۔۔ وہ بولتی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔















بیڈ پر بیٹھے بیٹھے اکتا چکا تھا ۔۔ سیڑھیوں سے گرنے کے ایک ہفتے بعد اسے ہسپتال سے چھٹی ملی ۔۔۔ اس نے اٹھنا چاہا مگر ٹانگ پہ لگی چوٹ میں آج درد محسوس ہوا ۔۔دوائیوں اور انجیکشن کے زیر اثر رہنے کے باعث اتنا درد محسوس نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ مگر آج تکلیف کچھ زیادہ تھی ۔۔۔ بیڈ کے سہارے وہ کھڑا ہونے کی کوشش میں دوبارہ بیڈ پہ گرا ۔۔۔
ہائے میرا لال ۔۔۔ اسکی ماں آواز سن کے بھاگ کے آئی ۔۔
کیوں ہلکان ہوتا ہے ۔۔ کچھ دنوں میں ہی چنگا بھلا ہو جائے گا تب چل پھر لینا ۔۔۔ اسکی ماں واپس سے اسکی ٹانگ بیڈ پہ رکھتی اپنے اس شیر جوان کی اس حالت کو دیکھ کر اسکے کلیجے کو ہاتھ پڑتا ۔۔ماتھے پہ پٹی اور نیلی پڑی آنکھ ۔۔۔وہ دل ہی دل میں اسکی صحت مانگتی ۔۔۔ وہ گھر رہ رہ کہ چڑ گیا تھا ۔۔ مگر چڑنے کی اصل وجہ کچھ اور تھی
اماں وہ آئی نہیں ۔۔۔ افنان نے کل سے مہ پارہ کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ شاید جب وہ گھر آیا تو مہ پارہ آئی تھی۔۔
مگر افنان تب بھی نیم بے ہوشی میں تھا ۔۔
کون ؟ وہ لڑکی ۔۔۔ ارے ہاں جس دن تو گرا تھا نا تیرے کالج سے کوئی لڑکی آئی تھی ۔۔
میں مہ پارہ کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔
ویسے تو اپنے گھر سے زیادہ یہی پائی جاتی ہے مگر آج میری یہ حالت دیکھ کہ۔ بھی نہیں آئی ۔۔
پر شکوہ نگاہوں سے ماں کو دیکھا..
نہیں پتر کل آئی تھی تجھے دیکھنے ۔۔۔۔۔۔۔
بس کل اماں ۔۔۔!
اسے تو چاہیے میرے آگے پیچھے گھومے میری ہر ضرورت کا خیال رکھے اکیلابے کار سا محسوس کرتا ہوں میں ۔۔۔
وہ مہ پارہ کی کمی کو شدت سے محسوس کر رہا تھا پچھلے ایک ہفتے سے وہ نظر نہیں آئی تھی ۔۔
اسکی ماں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔۔۔ یہ وہی افنان ہے کیا
آجائے گی وہ بھی ۔۔۔ مہمان آرہیں ہیں تیرا پوچھنے ایسے میں وہ بنا رخصت ہوئے گھر آئے گی تو لوگ باتیں بنائیں گے ۔۔۔
تم لوگوں نے روکا ہے مہ پارہ کو ادھر آنے سے ۔۔۔
وہ بے یقینی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
ہاں تو کیا،ہوگیا تجھے کب سے مہ پارہ کی فکر ہونے لگی ۔۔ ہیں اب اسکی ماں اپنی جون میں آگئی ۔۔۔
وہ جانتا تھا اس کی کیا کفیت ہوگی مہ پارہ اسکی اس حالت کو دیکھ کہ کیسے سہہ پائے گی ۔۔۔
اماں ۔۔۔اب تو کوئی نہیں آرہا ۔۔ آنے دو نا اسے ۔۔۔کسی بچے کی طرح لاڈ سے کہتا ۔۔۔
اس کی ماں کے لئے یہ خوشی سے کسی بھی چیز کم نہیں تھی۔۔۔
واہ پہلے تو ۔۔تو اسکے نام سے بھی خار کھاتا تھا ۔۔ آج مہ پارہ مہ پارہ کہتا نہیں تھکتا ۔۔۔اب طنز کے وار وہ بری طرح تلملا اٹھا ۔۔۔
اماں ۔۔۔ وہ مچل رہا تھا۔۔
چل ہٹ اماں کاکچھ لگتا اب تواس دن اس گھر میں آئے گی جس دن تو رخصت کر کے لائے گا اسے۔۔۔
پہلے ہی تو نے سولی پہ چڑھایا ہوا تھا سب کو تمہاری وجہ سے مہ پارہ کو ادھر آنے دیتی ورنہ ہمارے ہاں تو لڑکیاں منگنی کے بعد رخصتی والے دن ہی سسرال والوں کو اپنا منہ دکھاتی۔۔
اماں مان سے کہتی اسکے قریب میز پہ گلاس اٹھائے لگی ۔۔۔
ٹھیک ہے میں نہیں لانے والا اسے ۔۔ خودی لے آنا ۔۔
وہ جل کہ بولا ۔۔۔
اماں کا ماتھا ٹنکا ۔۔
مگر وہ مسکرا دی ۔۔۔ مہ پارہ بہت اچھی لڑکی ہے ۔۔۔مجھے تیرے باپ کی اس دور اندیشی پہ فخر ہے ۔۔۔
اللّٰہ نے تم دونوں کے دلوں میں ایسے ہی محبت قائم رکھے وہ دعا دیتی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
مہ پارہ ۔۔۔ جب تم قریب ہوتی تو محسوس نہ ہوتی آج ایک دیوار پار ہو تو تمہارا ہجر برداشت نہیں ہو رہا یہ زخموں سے زیادہ تکلیف دہ ہے تمہارا ہجر۔۔
وہ بے چین تھا۔۔۔
تاب ہجراں ندرام اے جاں ۔۔۔
اے جان مجھ میں ہجر کی تاب نہیں۔۔۔
وہ آہیں بھرتا آج مہ پارہ کی محبت میں پور پور ڈوب چکا تھا














گھر آنے کے تیسرے روز وہ آ ہی گئی۔۔ گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ۔۔ایسے میں اسکی ماں بھی بیمار ہوگئ تو مہ پارہ کو بلا لیا ۔۔
مہ پارہ سامنے کچن میں موجود تھی ۔۔اسکی اماں برآمدے میں مہمانوں کے ساتھ مصروف تھی ۔۔
افنان کے کمرے میں جانے پہ۔اسے پابندی عائد تھی۔۔
مگر دل کا کیا تھا ۔۔وہ تو کسی پابندی کو نہیں مانتا ۔۔
وہ کن اکھیوں آتے جاتے سامنے بستر پہ پڑے افنان کو دیکھتی دل اسکی حالت پہ ۔۔ سوز میں تھا ۔۔
وہ دوائی لئے سو رہا تھا کچی نیند میں کروٹ بدلنے پہ ہائے کہتا مہ پارہ کے دل کو کوئی آرے سے چیر رہا تھا
وہ اس کے زخم بھی اپنے وجود پہ سجا لیتی کجا کہ اس کی تکلیف میں دیکھنا ۔۔۔
مہ پارہ چائے لے آؤ ۔۔ اماں اسے آواز دیتی ۔۔۔
اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی مہ پارہ چولہا بند کرتے چائے کپ میں ڈالتی مہمانوں کے سامنے لے جا رہی تھی ۔۔۔
مہ پارہ۔۔۔ افنان اٹھ چکا تھا ۔۔۔۔
اسکے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا ۔۔۔
وہ اسکے کمرے کے سامنے ٹرے لئے گزری آج ہلکے گلابی رنگ کا لان کا سوٹ پہنے ہوئے تھی۔
مہ پارہ ۔۔افنان نے آواز دی ۔۔
اسکا دل جانے کو مچل رہا مگر اماں کی تنبیہ یاد آگئی
وہ ججک رہی تھی
آجاؤ مہ پارہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ ہو ۔۔
وہاں بیٹھی ایک عورت بولی ۔۔۔
اسکا کہنا تھا مہ پارہ تیز تیز قدم اٹھاتی افنان کے کمرے تک پہنچی ۔۔
وہ۔دہلیز پہ رکی ۔۔۔
آؤ مہ پارہ ۔۔آگئی تم ۔۔۔ مجھے تو لگا تھا ۔۔کہ میرے جنازے کے دن ہی آؤ گی ۔۔۔ وہ بری طرح خفا تھا ۔۔
یا اللّٰہ اس شخص کے دل میں میرے لیے رحم ڈال دے نا ۔۔وہ اندر تک دہل گئی
افنان آج صرف آج کا دن ایسی کوئی بات نہ کرنا ۔۔۔
مجھ میں ہمت نہیں تمہاری کڑوی کسیلی باتیں سن سکوں ۔۔۔وہ اندر آتی التجا آمیز لہجے میں بھیگی آواز میں بولی پلکوں پہ رکے آنسو جاری ہو نے لگے ۔
تمہیں تکلیف دینے کا ارادہ نہیں ہے میرا۔۔۔
وہ۔نرم۔لہجے میں بولا
۔۔۔ مہ پارہ ادھر آؤ وہ اسے قریب بلا رہا تھا ۔۔۔
وہ کسی روبوٹ کی طرح حکم کی تعمیل کرتی اس کے پاس گئ
وہ اس کے ہاتھ تھامے اسے اپنے پاس بیٹھایا۔۔۔
وہ بے یقین انداز میں اسکو دیکھ رہی تھی۔۔
اتنی جلدی دعا قبول ہو گئی ۔۔۔وہ سوچتے اسکے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔
افنان کے پاس ہی رہو ۔۔ورنہ افنان واقعی مر جائے گا
بولنا شروع کیا ۔۔ مہ پارہ بے ہوش ہوتے بچی ۔۔
۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ لاشعوری میں مہ پارہ سے ہی محبت کرتا ہوں
تم نے اک دوڑ سے باندھا ہوا تھا مجھے ۔۔تمہاری محبت تمہاری باتیں میرے دل پہ اثر کر گئیں مہ پارہ تمہارے ساتھ میں قطرہ قطرہ پگھل جاتا ہوں ۔۔۔ تمہارے جتنا عشق تو نہیں مگر تم سے جدائی برداشت نہیں ہوتی اب
وہ اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھے اپنی لے میں بولا جا رہا تھا ۔۔
تم میری ہو ۔۔تم نے کہا تھا نا تم نے مجھے اللّٰہ سے مانگا ہے ۔۔۔ مہ پارہ تمہارا مانگنا بنتا تھا ہی نہیں میں تو ازل سے تمہارے نصیب کا ہوں وہ اسے اپنے حصار میں چھپائے تھا ۔۔ مہ پارہ تم میری ہو جاؤ نا کیا تم میری بن کہ رہنا پسند کرو گی گی ؟؟
مہ پارہ اسکے حصار میں بے یقینی کی کفیت میں تھی ۔۔۔
افنان چوٹ گہری لگی ہے کیا؟؟
وہ بولی بھی تو اتنا ۔۔۔سارا فسوں غائب ہو گیا ۔۔۔
افنان ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا ۔۔۔
وہ اسکے ماتھے پہ لگی پٹی کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اسے افنان کی ذہنی حالت پہ شبہ تھا ۔۔۔
مہ پارہ آجاؤ ۔۔ اماں اسے بلا رہی تھی۔۔ افنان کسی طور چپ نہ ہوا وہ ہنستا جا رہا تھا ۔۔اسے خود یقین نہیں تھا خوفزدہ سی چلی گئی ۔۔۔
کیا ہوا یہاں ۔۔ اسے کچھ بھی سمجھ میں نہ آیا ۔
کیا واقعی وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے ۔۔
یا وہ خواب دیکھ رہی ہے
یا اللّٰہ یہ جو بھی ہوا سچ ہی ہو ۔۔۔
وہ ابھی تک خواب کی سی کفییت میں تھی















حنا کے بھائی اور ماموں مکرم صاحب کے گھر آپہنچے ۔۔
اس کے ماموں نے بیچ کی راہ نکال لی وہ اتنا بڑا نقصان نہیں کر سکتے تھے جرگے کا مطلب ماویٰ کو بھی سزا دینا تھا اور مکرم ایسا نہیں چاہتا ۔۔۔شاذل پہلے ہی اس کے ماموں اورآفندی کا منا چکا تھا گو کہ اسے اس معاملے میں دلچسپی نہ تھی ۔۔ ۔۔ ۔۔۔
مگر اسکا باپ اس پہ زور دیتا اس معاملے میں شامل کر چکا تھا ۔۔ آفندی کسی طور نہیں مان رہا تھا ۔۔ آخر اسکی بہن کوئی گری پڑی نہیں تھی۔۔
بات اس پہ طے پا گئی ۔۔ ماویٰ مکھن میں بال کی طرح اس قصے سے نکل گیا۔۔اس لڑکی کو جھوٹے الزام جو کہ بعد میں اس ڈاکٹر نے شاذل کے اچھے طریقے سے پوچھنے پہ بتا دیا تھا۔۔۔
اب بس قصہ رہ گیا تھا تو انزل کا ۔۔۔
اسکا انجام حنا طے کر سکتی تھی یا آفندی ۔۔ انزل کے لگائے الزام بھی اس سے جھوٹے ثابت ہو گئے تھے۔۔
انزل کو بلایا گیا ۔۔
ماویٰ نا محسوس طریقے سے وہاں سے اٹھ کے چلا گیا ۔۔
وشمہ اور انزل اپنی قسمت کے فیصلہ سننے کے لئے بے چین تھی ۔۔ دروازہ کھولا ماویٰ اندر داخل ہوا ۔۔۔
انزل بی بی اب تمہیں کون بچائے گا ۔۔۔ یہاں کوئی نہیں آنے والا تمہیں پتہ ہے تمہارے بچے والی اسٹوری بھی فلاپ ہو گئی تم نہ کل میرا کچھ بگاڑ سکتی تھی نہ آج ۔۔۔
ماویٰ کھسیانی سی ہنسی ہنستا اسکے وجود کے چھترے اڑا گیا ۔۔
دفع ہو جاؤ ۔۔۔
دفع تو اب تم ہوگی یہ میرا گھر ہے ۔۔ انزل بی بی محر میں قسم کھاتا ہوں یہاں سے تمہاری اور اسکی لاش ہی نکلے گی۔۔۔
چٹاخ کی آواز انزل نے اس کے چہرے پہ زور دار تماچہ مارا ۔۔
تو سالی ۔۔وہ گالیاں دیتا اسکی طرف بڑھا ۔۔انزل نے وہاں پڑے سیب کی پلیٹ سے چھڑی اٹھا لی ۔۔
صغراں یہ منظر دیکھ کے نیچے کی طرف بھاگی ۔۔
بڑے صاحب بڑے صاحب ۔۔۔
وہ لڑکی چھوٹے صاحب کو مارنے والی ہے ۔۔۔ وہ ہانپتی کانپتی بتا رہی تھی ۔۔
کیا ۔۔۔ مکرم صاحب جانے لگے ۔۔
میں دیکھتا ہوں صغراں کو ہر بات بڑھا چڑھا کے بتانے کی عادت تھی تو وہ اٹھ کے جانے لگا ۔۔۔ تیزی سے سڑھیاں چڑھتا کمرے تک پہنچ گیا ۔۔۔
ماویٰ کی ہنسی اور اپنا بچاؤ کرتی انزل دروازے کی طرف پشت کئے کھڑی ۔۔۔انزل کے پیچھے اڑے ہوش کے وشمہ ۔۔شاذل اندر داخل ہوا ماویٰ ۔۔۔ وہ ماویٰ کو پکارتے رک گیا ۔۔
انزل نے پیچھے مڑ کہ دیکھنا چاہا ۔۔اسکا دھیان بھٹکا ماویٰ نے اسکا فائدہ اٹھاتے ہی اسکے ہاتھ سے چھڑی پکڑ لی۔۔۔
اور بدلے میں اسکے چہرے پہ زور دار تھپڑ مارا ۔۔۔
انزل نیچے جا گری ۔۔۔۔ وہ اسکو مزید مارتا کہ شاذل درمیان میں آگیا ۔۔۔
عورتوں کو مارنا میں کوئی مردانگی نہیں ہوتی ۔۔۔ وہ اسکو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
اور تم ۔۔۔
اب اس نے انزل کی طرف دیکھا ۔۔۔
ااور وہیں رک گیا۔ ۔۔ نہیں ۔۔۔ اسکا چہرہ ہو بہو ویسا آنکھیں وہیں اور۔چھوٹے۔ ہونٹ بس بالوں کا رنگ سنہری ۔۔۔۔
مہ پارہ ۔۔۔ وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گیا۔۔۔
وہ مہ پارہ کی ہمشکل تھی















شاذل انزل کو کمرے میں بند کیے نیچے چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔
ماویٰ غصے میں پاگل ہوتا باہر نکل گیا تھا۔۔
شاذل اسے لے کیوں نہیں آنے دیتے تم ۔۔۔
آفندی کی صبر حد ختم ہو رہی تھی ۔۔۔۔
شاذل خاموش سا صوفے بیٹھ گیا ۔۔۔
ٹھیک ہے صغراں لے آؤ اسے وہ ملازمہ کوحکم دیتا صوفے پہ بیٹھ گیا شاذل ٹانگ پہ ٹانگ رکھے صغراں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
نہیں صاحب ۔۔ شاذل مجھے ما ر دیں گیں ۔۔
صغراں کانپنے لگی ۔۔۔
وہ نفعے سے پستول نکا لے بولا ۔۔۔ ٹھیک ہے پھر میں ہی لے آتا ہوں ۔۔
وہ جانے لگا تم نہیں جاؤ گے ۔۔۔ شاذل نے سر اٹھا کے اسے دیکھا ۔۔۔
دیکھ لو پھر ۔۔وہ جانے لگا۔شاذل نے اٹھ کے اسکےایک ہا پیچھے موڑھے دوسرے ہاتھ سے پستول اس کے ہاتھ سے اسکی طرف ہی موڑ دی ۔۔۔
تم مجھے نہیں مارو گے ۔۔۔ وہ یقین سے بولا ۔۔ شاذل نے ٹریگر دبایا گولی چلی ۔۔ مگر آفندی کے پاس ہوتے ہوئے سامنے کی دیوار کو چیر گئی ۔۔ گولی کی آواز سے مکرم اور اسکے ماموں بھی وہاں آپہنچے
وہ بے یقین کی سے کیفیت میں تھا ۔۔۔
شاذل بنا تاثر چہرے کے اسکے ہاتھ سے پستول لے کر۔ تھامے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
چلتے بنو ۔۔
تمہیں اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا ۔۔۔ اسکو کب تک بچاؤ گے تم ۔۔ اس کا جادو تم پہ بھی چل گیا نا ۔۔۔
وہ چپ چاپ پھر سے صوفے پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
یہ۔ کیا تھا شاذل ۔۔۔ تم نے سارا معاملہ بگاڑ۔ دیا ۔۔۔۔
وہ غصے میں پاگل اور شاذل غم سے نڈھال ۔۔۔
مہ پارہ رکو میری بات سنو ۔۔۔۔
ماہ پارہ۔۔ وہ اسے پکار رہا تھا ۔۔ بنا چادر کے مہ پارہ کنویں کی منڈیر پہ کھڑی ۔۔ کانپتا وجود اسکا مہ پارہ سنو شاذل منتوں پہ آگیا اور۔۔۔۔۔
وہ بے چین سا ہو گیا
