Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 01)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

آگ برستا سورج جسم کو جھلساتی مئی کی گرمی ہونے کہ باوجود سڑک پہ ٹریفک رواں دواں تھی ۔۔ اتنے۔میں وہ بیگ سنبھالے ہاتھ میں فائل پکڑے لمبے لمبے ڈگ بھرتی آگے بڑھ رہی تھی بار بار کلائی پہ باندھی سیاہ رنگ کی گھڑی پہ نظر دوراتی ۔۔

سڑک کے ایک کنارے پہ بنے چھوٹے سے بس اسٹینڈ پہ آکھڑی ہوئی سرخ دوپٹے کو سر پہ جمائے گھٹنوں تک آتے سکن اور سرخ کے امتزاج کا پرنٹد کرتا ساتھ جینز کی ٹائٹ پہنے وہ یونیورسٹی کے لئے تیار کھڑی تھی ۔۔ رکشے والے اپنی سواری کی غرض سے اس اور پاس کھڑی سواریوں سے پوچھ رہے تھے وہ ناں میں سر ہلاتی اپنی وین کا انتظار کررہی تھی۔۔

یہ آج بھی مجھے لیٹ کر دیں گیں ۔۔ خود سے باتیں کرتی اس دن کو کوس رہی تھی جب آئمہ کے کہنے پہ اسکے وین والے کے ساتھ جانا شروع کیا روز کا یہی معمول تھا وہ گرمی میں پسینہ پسینہ ہو چکی تھی چہرے پہ لگی فاؤنڈیشن پہ پسینے کی لہریں اور بلش آن کے بہہ جانے کا خطرہ اسکا میک اپ کسی حد تک خراب کر چکی تھی ۔۔ ۔۔

ٹشو سے اپنا پسینہ صاف کرتی ۔۔ کیا مصیبت ہے کیا فائدہ یہ سب لگانے کا جب بہہ ہی جانا ہے ۔۔ آج حد سے ذیادہ اکتا چکی تھی اسے پہلے دن یاد تھا جب وہ بنا میک اپ کے یونیورسٹی آئی تھی اسے تو اچھی ڈریسنگ بھی نہیں کرنے آتی تھی وہ خود کو عام سے خدو خال والی دبے سے نین نقوش والی لڑکی سمجھتی تھی ارد گرد کے ماحول میں وہ خود کو ان فٹ سمجھتی تھی یونیورسٹی کہ وہ دو تین دن بعد اب اسے دوست بنانے تھے گو کہ اسکے جیسی بھی کئی لڑکیاں موجود تھی مگر اسے موجودہ زمانے کے ساتھ چلنا تھا اسی بات نے اسے حدیقہ تک پہنچا دیا حدیقہ خوش مزاج لڑکی ہونے کہ ساتھ موڈی لڑکی بھی تھی پہلے پہل اسکا مزاج اسکی سمجھ سے بالا تر تھا مگر بعد میں وہ بھی اسکے عادی ہوگئ حدیقہ نے اسے ان چھ سمسٹر میں میک اپ کا اچھا خاصا نالج دے دیا تھا اسکی کافی حد تک گرومنگ کر دی تھی چونکہ حدیقہ کا اٹھنا بیٹھنا ہر کلاس کے لوگوں سے تھا تو وہ اور حدیقہ اچھے دوست بن چکےتھے وہ انہی خیالات میں کھو ئی تھی کہ اتنے میں اسکی وین آکے اسکے قریب روکی ۔

وہ وین میں آکہ خاموشی سے بیٹھ گئی اس نے وین والے کو کچھ کہتی اس پہلے ہی وین کے ٹھنڈے ماحول اور لگے سوفٹ سونگ اسکا مزاج تبدیل کر گئے باقی سفر وین میں موجود لڑکیوں کی باتیں سنتے اور گانے سنتے گز گیا

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

وین سے نکلنے کے بعد یونیورسٹی میں داخل ہوئی سامنے راہداری اور راہداری کے ساتھ لگے مختلف اقسام کے پودے۔۔

لوگ ٹولیوں کی شکل میں یا کچھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے عاشوں کا جوڑے وہاں ہر قسم پائی جا سکتی تھی وہ سامنے کی بلڈنگ کے ساتھ بنی سڑک پہ چلتے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چلدی ۔۔

محترمہ آگئی کیا ۔۔۔ حدیقہ جو اپنے دوستوں کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ کی سڑھیوں پہ بیٹھی تھی اسے دیکھ کہ بولی ۔۔

حدیقہ یار ۔۔ حدیقہ نے ہاتھ کے اشارے سے اس چپ کرنے کو کہا ۔۔ آج تمہاری کوئی بھی کہانی سننے کا موڈ نہیں اک شان سے اس نے اپنے کندھوں تک کٹے بال پیچھے کئے ۔۔

اور وہ چپ ہوگئی ۔۔ حدیقہ تھی ہی ایسی ۔۔۔ براؤن ڈائی بال جو کہ جدید تراش خراش کے ساتھ تھے واضح نین نکوش آنکھوں میں لینز اسکا گول چہرہ اور اسکا نو میک اپ لک اسے سب سے مختلف بناتا وہ معصوم سی لگتی تھی مگر بولنے سے ہی اندازہ ہو پاتا وہ کیسی ہے وہ ہر نئے آنے والے برانڈ کے کپڑے پہنتی تھی ۔۔وہ اسکے پیچھے چلنے لگی پہلا لیکچر شروع ہو چکا تھا ۔۔ وہ آج بیزاری سے لیکچر لے رہی تھی ۔۔ آج حدیقہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی اور اسکے دشمن جان کی بار بار نظریں حدیقہ کا طواف کررہی تھیں۔۔ اس نے کن آکھیوں سے دوسری قطار میں بیٹھے ماویٰ کو دیکھا ۔۔۔ جو بہت دلچسپی سے حدیقہ کو دیکھ رہا تھا

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

یار کیا بورنگ لیکچر تھا ۔۔ حدیقہ سامنے بیٹھی پرس پہ کہنی رکھے نیم دراز لیٹے بول رہی تھی پاس انزل بیٹھی بے دلی سے نوٹس لکھ رہی تھی ۔۔ ہائے ۔۔ سامنے آتے ماویٰ کودیکھ کہ ہاتھ ہلایا ۔۔ ساتھ میں ساتھ میں اسرا اور مجتبیٰ بھی ۔۔۔ پہلے سمسٹر میں ساتھ لوگوں کا گروپ بنا تھا اسائنمنٹ کے لئے تب سے یہ لوگ ساتھ ہی رہ گئے حدیقہ انزل اسرا مجتبیٰ ماویٰ حسن اور انزا ۔۔۔ حسن اور انزا کی شادی ہو جانے کے بعد وہ دونوں چھوڑ گئے مگر یہ پانچ لوگ رہ گئے ا

زل پہلے پہل صرف حدیقہ کے ساتھ ہی رہتی لڑکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اسے پسند نہ تھا اور نہ ہی اس بات کی اجازت مگر دو سالگزر جانے کے بعد وہ بھی اس کی عادی ہوگئ مگر ان سب کے پیچھے اک خاص وجہ ماویٰ بھی تھا ۔۔ کہیں چلتے ہیں اگلا لیکچر لینے کو دل نہیں کرتا ماویٰ نے بیٹھتے ہی کہا ۔۔

ہاں قسمے یار ۔۔ اسرا بھی راضی اگلا لیکچر ہے کسکا ویسے مجتبیٰ نے پوچھا ۔۔ سوشل سائیکالوجی کا ۔۔۔

انزل نوٹس بناتی مصروف انداز میں بولی ۔۔۔

افففف وہ سب جی بھر کے بیزار ہوئے ۔۔ رہنے دو اس پاگل پروفیسر کا لیکچر ہونہہ ۔۔ ماویٰ اس سب سے ذیادہ اس سے چڑتا تھا پہلی ہی کلاس میں اسے باہر نکال دیا تھا اسے تو ماویٰ نے صحیح سے دیکھا بھی نہیں تھا۔۔

آخر برائی ہی کیا ہے ۔۔انزل کے وہ فیورٹ تھے اس کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ۔۔ انزل کے کافی حد تک انکی وجہ سے خود کو کانفیڈنٹ محسوس کرتی تھی ۔۔

ہاں کیوں نہیں تمہیں ہی تو اسپیشل قسم کا پروٹوکول دیتے ہیں ۔۔ حدیقہ نے چڑ کہ کہا ۔۔

کیوں ۔۔ ماویٰ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا ۔۔

تم نے کلاس لی ہو توپتہ چلے پہلے دن کے علاوہ کوئی کلاس نہیں لی ۔۔

ارے یہ کیوں کلاس لے امیر باپ کی اولاد ہے شہزادہ ہے اپنا اس نے بس پیسہ پھینکنا اور تماشہ دیکھنا ہے ۔۔۔ مجتبیٰ نے لقمہ دیا ۔۔ اور ہاتھ پہ ہاتھ مار کہ ہنس دیا ۔۔وہ بھی فخر سے مسکرایا یہ واقعی اس کے بس میں تھا کہ وہ بنا پڑھے ہی ڈگری لے جائے مگر یونیورسٹی کی دنیا سے کون جانا چاہتا ہے ۔۔

چلو کہیں چلتے ہیں حدیقہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔

نہیں یار میں نہیں آؤں گی تم لوگ چلے جاؤ ۔۔

اوکے ایز یو وش ۔۔ حدیقہ اسے وہاں چھوڑ ے سب کے ساتھ چلی گئی ۔۔

میں وہاں کرتی بھی کیا تمہیں اور ماویٰ کا ایک ساتھ دیکھنے کے علاوہ ۔۔ ایک لمبی سانس لے کہ رہ گئی ۔۔ اب کلاس لینی تھی اسے ۔۔۔۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

رات کہ دوسرے پہر میں سکوت کہ اس عالم میں سارا جہاں سو یا ہوا تھا ۔۔ رات اپنے خاموش سناٹے میں کئی لوگوں کہ بھرم رکھے آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔۔ یہ پرسکون خاموشی وحشت کا روپ دھارے ان کے کمرے میں چھائی خوف میں اضافہ کر رہی تھی ۔۔

کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک سناٹے کا سینہ چیرے تین کا عندسہ عبور کر نے کے سفر میں تھیں ۔۔

یہ رات ان کے نصیب کو صبح کی سفیدی عطا کرتی یا ہمیشہ کے لئے ان رنگین راتوں والے امان سنٹر کے نقاب میں موجود قبحہ خانے میں سیاہ کر دیتی ۔۔

انزل اس انتظار سے اکتا چکی تھی اس ایک سال میں وہ قدرے بدل چکی تھی کروٹ بدل کہ خیال بدلنے کی ناکام کوشش ۔۔ مگر کل کا دن اس کے دل و دماغ میں چھاپ چھوڑ چکا تھا ۔۔

وو سخت کوفت کا شکار تھی۔۔ گھڑی میں بالآخر تین بجنے کا عندیہ دیا ۔۔ وشمہ ۔۔ انزل اٹھ کہ اسے آواز دی جاگ رہی ہوں وہ موبائل کی ٹارچ لئے الماری کی طرف بڑھ گئی ۔۔ اسکے پاس موبائل دیکھ کہ ذرا دیر کو ٹھٹکی ۔۔ مگر یہ وقت ان سب سو چنے کا نہیں تھا سو وہ نظر انداز کئےدو تکیوں کو ایک سیدھ میں رکھے بستر پہ لیٹا کر ان پہ چادر کچھ اس انداز سے دی کہ وہ واقعی کسی سویا ہوا وجود لگا ۔۔

انزل میری بات سنو رحیم پا نچ منٹ میں لائیٹ آف کر دے گا اگلے دس منٹ میں ہمیں یہاں سے نکلنا ہے ورنہ ۔۔۔

انزل ورنہ کہ آگے جانتی تھی اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

_______________________________________

شبنم میڈم کے آفس روم میں جنٹس پرفیوم کی خوشبو ہر طرف چھائی ہوئی تھی ۔۔ شہر کہ سابق فوڈ اتھارٹی کے چئیر مین سردار احسان ان کے سامنے سگار سلگائے بیٹھے تھے ۔۔ ساتھ دو ملازمین اور دوگاڑد باہر مستعدی کھڑے تھے ۔۔ آفس روم میں میرون کلر کی ساڑھی ساتھ گولڈن جیولری نیم عریاں بلاؤز پہنے اڈھیر عمر کی میڈم شبنم میک اپ سے عمر کو چھپائے اندر داخل ہوئی ۔۔

ارے احسان صاحب زہے نصیب آخر ادھر کا راستہ بھول ہی گئے آپ ۔۔ نہایت خوش دلی سے ملی واپس آکر ریولونگ چئیر پہ بیٹھ گئی ۔۔

کیا کریں آپ جیسے حسیناؤں کو دیکھنے کہ کے لئے خود ہی آنا پڑتا ہے ۔۔ نظریں بار بار پھسل رہیں تھیں ۔۔

میڈم شبنم دلچسپی سے دیکھنے لگی ۔۔

آپ کاکام ہو گیا ہے احسان صاحب وہ لڑکی ۔۔۔ نا محسوس سے انداز میں اپنی گردن کو چھوا جہاں صبح انزل نے دبوچنے کی غرض سے زخمی کر دیا تھا

اب آپکی ۔۔ مزید گہرے انداز میں بولا ۔۔

کیا واقعی ۔۔ احسان صاحب کو جٹھکا لگا ۔۔ خوش کر دیا میڈم آپ نے ۔۔ وہ کھسیانی ہنسی ہنسے ۔۔۔ آج کی رات خوبصورت گزرے گی ۔۔۔ بولو کیا چاہئے اسکے بدلے ۔۔ اسکی بتیسی ہی نہیں ابدر جا رہی تھی۔۔

کیوں نہیں مگر کل۔۔۔

آج رات صرف لڑکی آپکے گھر جائے گی ۔۔ کل حساب کتاب ہوگا ۔۔

حماد ۔۔میڈم نے ایک نظر اپنے ملازم کو دیکھا اور وہ اپنی مالکن کی بات سمجھ کہ انزل کہ کمرے کی جانب بڑھنے لگا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ سامان کے ساتھ تیار کھڑی تھیں۔۔ آج کی رات انکی آزادی کا دن تھا ۔۔ ابھی صبح کا منظر اسکی نگاہوں کے سامنے لہرا گیا میڈم شبنم ۔۔ ہاتھ میں پٹہ پکڑے اسکی طرف بڑھی وہ اکڑوں بیٹھی ۔۔ نہیں کا ورد کیے جا رہی تھی۔۔ اسے یہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ وشمہ جو یہاں دو ہفتے پہلے آئی تھی اس حقیقت سے آگاہ کر چکی تھی کہ یہاں کونسا گندا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔۔۔ انزل اپنے چچا کہ گھر سے یہاں سکون کی غرض سے آئی ۔۔ مگر وہ درندوں کی آماجگاہ میں آچکی تھی۔ ۔

میڈم شبنم نے ہوا میں پٹہ لہرا کہ اسکی کمر پہ ایک درہ رسید کیا ۔۔ اس نے پہلے جلن سی محسوس ہوئی پھر ماس کے اندر تک درد محسوس ہوا وہ بلبلا اٹھی پھر اسکے بعد میڈم شبنم کا ہات نہ رکا وہ زمین پہ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔ اسکے بازو سے ایک حصے سے گوشت شاید پھٹ چکا تھا اسکی قمیض خون سے رنگنا شروع ہوئی وہ چیخ رہی تھی ۔۔ اسکے چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا مگر میڈم شبنم کو ترس نہ آیا ۔۔ ۔تھوڑی دیر میڈم رکی پٹہ پیھنکا اسکی طرف بڑھی ۔۔بتا اب انکار کرے گی ۔۔ وہ اسکے منہ کو نوچے کھڑی پوچھ رہی تھی۔۔ بتا نہیں تو عبرت کا نشان بنا دوں گی ۔۔ انکے ناخن اسکی چہرے کی جلد کو زخمی کر رہے تھے ۔۔ انزل کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔۔۔۔ اس نے واپس میڈم شبنم کی گردن کو دبوچ لیا پاس کھڑا انکا ملازم میڈم کی طرف چھڑانے کی لئے بڑھا میڈم شبنم اسکے بازو پہ ہاتھ مار رہی تھی مگر وہ جیسے آج قصہ تمام کرنے پہ تلی تھی ۔۔ بالآخر انکے ملازم نے انہیں چھڑا ہی لیا ۔۔ وہ سانس بحال کرتی دوبارہ پٹے کی طرف بڑھی ۔۔۔

میڈم رک جائیں ۔۔۔ میڈم رکیں ۔۔ رات تک مان جائے گی یہ ۔۔ آپ کیوں اپنا خون پسینہ اس پہ لگا رہی ہیں ۔۔ پاس کھڑی وشمہ میں آخر جان پڑ ہی گئی ۔۔ ۔

اسکو سمجھا لو لڑکی ورنہ میرے ہاتھوں ضائع ہو جائے گی اپنی گردن پہ ہاتھ پھیرتے وہ وہاں سے جانے لگی مبادا انزل کوئی اور قدم نہ اٹھا لے ۔۔

انکے جاتے ہی وشمہ نے کمرہ بند کیا بت بنی آنسوؤں سے تر ہوتے فق چہرے لئے انزل آج پہلی دفعہ ایسا درد محسوس کر رہی تھی ۔۔ ہاتھوں میں منہ چھپائے رونے لگی ۔۔۔

بی بی رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہاں اگر تم یہاں سے جانا چاہتی ہو تو بتاؤ انزل۔کو ایک امید نظر آئی۔۔ وشمہ اسے سب سمجھاتی اسے دلاسہ دے رہی تھی ۔۔

اسے امید تھی وہ یہاں سے نکل۔جائے گی ۔۔ وہ دونوں دروازے کی طرف بڑھیں۔ کسی کی قدموں کی چاپ سے دونوں چونک گئی انزل کو اپنا آپ کسی اندیکھے پھندے میں پھنستا محسوس ہوا آواز قریب آنے لگی ۔۔ دونوں لٹے کی مانند سفید ۔۔ ۔۔

دروازہ کے قریب اس شخص نے چابی لگانی چاہی کہ ایک دھماکے سے پورا امان سنٹر بجلی سے محروم ہوگیا وہ جو بھی تھا واپس جانے لگا بھکڈر سی مچ گئی ۔۔ میڈم شبنم بھی معذرت کرتی ایمرجنسی جنریٹر کے لئے اپنے ملازم پہ چیخ رہی تھی ۔۔ بس ہو جاتا ہے۔۔۔

سردار احسان کا منہ بگڑ گیا موبائل کی ٹارچ میں سب کام ہو نے لگا ۔۔

انزل اور وشمہ روشنی کہ بغیر کمروں کی ایک قطار میں ہونے کا فائدہ اٹھاتے آگے چل رہی تھیں انہیں پچھلے دروازے کی طرف پہنچنا تھا دس منٹ میں یہاں سے باہر نکلنا تھا ۔۔ بلآخر وہ پچھلے دروازے تک پہنچ گئی ۔۔دروازے کا تالا رحیم نے پہلے ہی کھول دیا تھا وہ آہستہ سے دروازہ کھولتی باہر آگئی عمارت کی۔پچھلی طرف کاٹ کباڑ تھا انہی میں ایک ٹوٹا ہوا میز تھا جس کے اوپر پرانا ڈرم رکھا اور اوپر چڑھنے لگی اوپر خاردار وائر کو پیچھے ہٹانے لگی ۔ پہلے انزل چڑھی پھر وشمہ ۔۔دونوں دیوار پہ ٹانگیں لٹکائے بیٹھ چکی تھیں اب بس وہاں سے کودنا تھا۔۔ اب بس دو منٹ رہ گئے تھے ۔۔ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔۔۔۔ تین اور دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ۔۔نیچے کودی ۔۔۔ زمین پہ گرتے گرتے سنبھل گئی اب وہاں سے سر پٹ دوڑنے لگی ۔۔ یہ علاقہ کم۔آبادی والا تھا تو انکا اس علاقے سے نکلنا ذیادہ ضروری تھا بھاگتے بھاگتے سانس پھولنے لگی انزل کے زخمی وجود میں صبح کے لگی پین کلر کےانجکشن کا اثر کم ہو رہا تھا اور درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی ۔۔ وشمہ اسے سہارا دیتے ساتھ میں مدد کر رہی تھی ۔۔ وہ مین سڑک پہ چل دی ۔۔ اب وہاں سے کوئی بھی بس پکڑنا تھی او ر اپنی منزل کا تعین کرنا تھا ۔

ادھر امان سنٹر میں لائٹ آچکی تھی مگر وشمہ اور انزل جا چکی تھی ۔۔ میڈم شبنم ہر ایک پہ۔چلا رہیں تھیں اور سردار احسان اپنی بے عزتی کا بدلا لینے کی دھمکی دئے وہاں سے روانہ ہو چکا تھا ۔۔

رحیم ڈرم کو واپس اسکی جگہ رکھتا دروازے کو تالا لگا رہا تھا خاردار تاریں واپس جڑ چکی تھیں اب کسی کو کبھی پتہ نہ چلتا وہ وہاں سے کیسے گئی ۔۔

وشمہ جی ۔۔ آج ایک اور خطرہ مول لیا تمہارے لئے ۔۔وہ مسکراتا ۔۔ شبنم میڈم کو پچھلی سائیڈ کی رپورٹ دینے چل دیا

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

گاؤں کی کچی پگنڈی پہ چلتا راستے کی مٹی اسکے پالش ہوئے جوتوں کا بیڑہ غرق کر چکے تھے اسکے چہرے پہ مسکان ابھرنے لگی ۔۔ آخر وہ اتنے سالوں بعد گھر آرہا تھا ۔۔ مگر گاؤں میں زیادہ کچھ نہ تبدیل ہو سکا ۔۔ سوائے یہاں کے وڈیرے کے ۔۔ وہ آس پاس نظر دوڑاتے آگے بڑھ رہا تھا

اسے دور سے مٹی کے گھروں میں موجود اپنا گھر نمایاں نظر آیا مٹی سے بنے اس خوبصورت گھر کی سامنے دیوار پہ رکھی کالے پنیدے والی مٹکی اسکی بچپن کی یاد کو تازہ کر گئی وہ اور اسکا دوست حیدر پانی کہ۔یہ۔نجانے کتنے گھڑے توڑ چکے تھے مگر الزام لگا دیتے ماہی پہ ۔۔ ماہی کا نام آتے ہی مسکراہٹ سمٹ گئی وہ گھر کہ دروازے تک پہنچ گیا ۔۔ خوشی اسکے چہرے سے نمایاں تھی بچپن کی یادیں دل و دماغ پہ سوار ہوگئی کیسے ان گلیوں میں کھیل کو د کی تھی ۔۔ دروازے کی زنگ زدہ کنڈی کو زور سے بجایا ایک بار پھر دو بار ۔۔ ۔۔ آئی ۔۔۔۔ آواز کے ساتھ کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔ اماں ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں مسکرایا ۔۔۔ دروازہ کھولا ۔۔

سامنے نظر آنے والا چہرہ سارا فسوں لے اڑا ۔۔

اب چہرے پہ بے یقینی اور پھر بے زاری ۔۔ اماں کہاں ہے درشتی سے پوچھا گیا ۔۔۔

وہ جو آنکھوں میں شناسائی لئے کھڑی اپنے دل کی۔ہوتی بے قابو دھڑکن کو لئے بے ہوش ہونے پہ آی تھی۔۔

اس دشمن جان کا اتنا سنگدل لہجہ سن کہ اپنی جون میں واپس آئی ۔۔ کس سے ملنا ہے ۔۔ اجنبی سا لہجہ اختیار کیا

ماہی ہٹو ۔ اندر جانے دو مجھے ۔۔۔ میں پہلے سے ہی تھکا ہوں ۔۔

وہ لب بینچے کھڑی راستہ چھوڑ کے باہر نکل گئ ۔۔

ہونہہ بےوقوف ۔۔

اتنا اونچا کہا گیا کہ وہ سن پائی وہ بھی منہ موڑ ے چلی گئی ۔۔

کون ہے باہر ۔۔ اندر آواز لگاتی صاف مگر مٹے رنگ کے کپڑے پہنی وہ عورت اسکا شناسا چہرہ پہچان اسکی طرف لپکی ۔۔

اسکا ماتھا چوما بڑھاپے کی وجہ سی سفید ہوتی آنکھ میر میں نمی در آئی

میرا پتر ۔۔ میرا شیر جوان پتر ۔۔۔

وے تجھے یاد نہ آئی ماں کی

۔بتا کر تو آتا اور کچھ کھایا کہ نہیں ۔۔ لہ کہاں سے کھایا ہوگا ۔۔ سر پہ۔ہاتھ مارتی وہ ایک ہی باری میں محبت اور شکوے دونوں کر ڈالے ۔۔۔

ارے پہلے آرام تو کرنے دو اتنا لمبا راستہ اوپر سے خراب سڑک ۔۔

۔۔ اچھا اچھا زیادہ ناشکری نہ کیا کر چل تو آرام کر تب تک تیرا ابا بھی آجائے گا ۔۔۔ وہ اندر کی طرف چل پڑا ۔۔ اسکی۔ماں کچھ یاد آنے پہ پوچھنے لگی

تو مہ پارہ سے ملا ۔۔ اماں نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا

اماں ۔ میں بہت تھک چکا ہوں ۔۔ اسکے انداز سے ظاہر کر دیا تھا اب اس بات کے بارے میں نہیں سننا چاہتا ۔۔

اچھا اچھا اندر جا کہ آرام کرلے

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

فلاح دین گاؤں کے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتا اپنے زمانے میں اس نے آٹھ جماعتیں پاس کی اپنے آٹھ بھائیوں میں وہ اکلوتا ایسا بندہ تھا اور اسکے برعکس گاؤں کے وڈیرے نے تین ہی بمشکل کر پایا ۔۔

وہ ہمیشہ گاؤں کے وڈیرے سے چڑتا بچپن سے ہی سے یہ وڈیرے لوگ پنسد نہیں تھے یہی وجہ تھی اس نے اتنا پڑھ کہ ب بھی ان کے ہاں ملازمت نہ کی بلکہ گاؤں کے منشی کے طور پر کام شروع کیا مگر شیادہ نہ کام چل سکنے کہ بعد کھیتی باڑی میں میں ہی دل لگا لیافلاح دین اپنے بیٹے کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتا تھا۔۔ ایک گھر کے حالات اور دوسرا گاؤں کے وڈیرے سے اسکی نہ بن پانے سے وہ اس خواہش کی تکمیل نہ کر سکا یہ مسئلہ اسکے دور کے کزن امجد نے سنبھالی ۔۔ وہ ایکٹر بننے لاہور گیا اور لاہور انڈسٹری کا ہو کے رہ گیا فلاح دین کو اپنے بیٹے کی فکر تھی کہ وہ بھی کہیں ان ناچ گانوں میں شامل۔ ہو کہ اپنا آپ نہ برباد کر دے ۔۔ اور کہیں اور دل نہ لگا بیٹھے امجد کی خود ببیٹی تھی اور اسکی ناکام شادی کہ پیچھے اسکی چھچھوری طبیعت تھی ۔۔ ۔۔۔ یہ رسک تھا امجد ایسے ہی اتنی بڑی آفر نہیں کر رہا تھا اسکا اپنا ذاتی فاد بھی تھا ۔۔ اس مسلے کا حل یہ نکلا کہ چودہ سال کے افنان فلاح۔ کا نکاح اسکی چچا زاد دس سالہ سالا مہ پارہ سے کروا دیا جائے تاکہ افنان دور جا کہ بھی واپس ادھر ہی آئے مگر چودہ سالا افنان واپس جب اٹھارہ سال بمع میٹرک کے سند کے واپس آیا تو اسے گاؤں میں رہنے والی مہ پارہ سے گھن اور کراہیت ہونے لگی ۔وہ لاہور میں بسنے والیوں پہ دل ہار آیا تھا وہ نرمنازک اداؤں والی جست لباس میں موجود خوشبو میں رچی ماڈلز کا کہیں بھی لمبے بال۔کی چٹیا کرنے وای آنکھوں میں کاجل کی دھار لگائے عام سے کپڑے پہنے مہ پارہ سے ہوہی نہیں سکتا تھا ۔۔وہ اس سے چڑنے لگا ۔۔ جب اسے محسوس ہوا مہ پارہ اسے چھپ ک دیکھتی رہتی ہے منا محسوس طریقے سے اسکی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے وہ اور چڑنے لگا تھا۔۔ وہ اس پہ چلاتا اسے گنوار بولتا

ازکی تذلیل کرتا یہ سب فلاح دین اور اسکی ماں کی آنکھ سے اوجھل نہ۔تھا جبکہ مہ پارہ کبھی اپنی ماں کو بھی اسکی بھنک نہ لگنے دیتی مگر کوئی کتنا برداشت کرتا اس کی بھی بدلے میں زبان کھل گئی وہ بھی تمیز کو بلائے طاق رکھ کے دوبدو جواب دیتی ۔۔سب کی نظر میں یہ نوک جھونک تھی مگر وہ اس سے تنگ آکر وہ واپس لاہور کا پروگرام بنائے چل پڑا ۔۔ اور پھر پانچ سال بعد بمع کتنی ہی خوبرو حسیناؤں سے دلگی اور ایم اے کے آخری مراحل کے ساتھ آیا ..

اب تو مہ پارہ کے نام سے ہی اسے اپنا آپ قید سا محسوس ہوتا وہ اس رشتے کے خاتمے کے لئے آیا تھا

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

ابا سے ملنے کے بعد رات کا کھانا کھایا اور چھت پہ چارپائی لگا کر لیٹ گیا ۔۔ سو گیا پتر ۔۔ وہ اپنی ہی سوچو میں گم جب ابا پہلی سیڑھی پہ کھڑے آواز لگائی ۔۔ نہیں ابا جاگ رہا ہوں آجائیں ۔۔ ارد گرد کی باتوں کہ بعد اسکے ابا مطب کی بات کی طرف آئے ۔۔ کتنی تعلیم رہ گئی ۔۔ ابا بس آخری سال ۔۔ اور ایک کالج میں لیکچرر کے لئے اپلائی کیا انشاءاللہ جلد شنوائی ہوگی ۔۔ اچھا بہتر ۔۔ اب یعنی اب تیری شادی کا سوچنا چاہئے ۔۔ ۔۔

ابا۔۔ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔ وہ گبھرا رہا تھا ۔۔

ہاں کر پتر ۔۔ کیا بات ہے ۔۔۔

ابا میں۔۔۔ میں مہ پارہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ۔۔

اپنے تئیں اس نے دھماکا کیا ۔۔

اچھا ۔۔ تو یہ بات ہے ۔۔ ابا قدرے سکون سے بولے ۔۔ اسے یہ سکون طوفان کا پیش خیمہ لگا ۔۔

ابا ۔۔ وہ متانت سے اپنی بات سمجھانے لگا ۔۔۔

پھر کس سے شادی کرنی تم نے۔آمنہ سے یا حفصہ یا رانی سے ۔۔۔ ابا نے اصل اس کے ہوش اڑائے ۔۔۔

کیا سمجھتا تیرے باپ کچھ نہیں جانتا ۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں مجھے ۔۔۔ تو بیٹا جی باپ ہوں میں تمہارا اس عرصے میں تمہارے دن رات انگلیوں پہ بتا سکتا ہوں ۔۔۔ اپنے آپ کو یہاں لایا ہے تو مکمل یہاں والا افنان بن جا ۔۔ ورنہ مجھے بیٹے سے زیادہ بھتیجی عزیز ہے ۔۔ سمجھ گیا ۔۔ اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے پوچھا ۔۔ وہ مکنیکی سے انداز میں سر ہلایا ۔۔۔ اسکے ابا کے جانے کہ کچھ وقت تک وہ ہل نہ سکا ۔۔۔۔

امجد چچا ۔۔ یہ امجد چچا کو میں چھوڑو گا نہیں ۔۔۔ ہونہ اپنی بیٹی سے شادی کروائیں گیں میری میں بھی اپنا بدلہ لوں گا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

چارپائی پہ بیٹھا تکیہ سے ٹیک لگائے وہ کتاب پڑھنے میں منہمک ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح دنیا سے یکسر بیگانہ ۔

تسلسل وہاں سے ٹوٹا جب خود کو کسی کے نظروں کی قید میں پایا میں ۔۔ ارد گرد دیکھنے ک تردد نہیں کرنا پڑا وہ سامنے کھڑی نظر آئی اسے دیکھتے ہی افنان نے لب بینچ لئے ۔۔

وہ مجنوں کی سی کفیت میں اسے اپنی آنکھوں سے دل میں اتار رہی تھی کمرے کی دہلیز پہ کھڑی ہاں وہ تو ایسا ہی کرتی تھی جب بھی وہ کمرے میں موجود ہوتا دہلیز پہ رک جاتی

اسے جیسے اجازت کی ضرورت نہ تھی مگر وہ ایک حد میں مقید تھی افنان کی بنائی ہوئی حد ۔۔۔

آج سفید چادر سر پہ نہیں آنکھوں میں سرخ دوڑے خشک پڑے کانپتے ہونت وہ سراپا اجڑی ہوئی محسوس ہوئی

ماہی جاؤ مجھے تنگ نہ کرو ۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح اسے دیکھ کہ بیزار ہو جاتا ۔۔۔ دوبارہ اپنی کتاب کھول کر پڑھنے لگا مگر اب الفاظ صرف نظروں کے سامنے گزر رہے تھے مطلب نہیں سمجھ آرہا تھا۔۔

وہ سخت ڈسٹرب ہو رہا ۔۔ فی الحال وہ اسے یہاں نہیں دیکھنا چاہتا تھا

وہ جو اس امید سے کہ اس حالت میں اسکی ایک نظر پڑ ہی جاتی چاہے ترس کی ہوتی چاہے ہمدردی کی ہوتی ۔۔ مگر وہ تو پتھر سے سر پھوڑ رہی تھی اسے وہاں کیسے شنوائی ملتی ۔۔اسکا دل پیاسا تھا اور پیاسا ہی رہنا تھا

ماہی جاؤ ۔۔ میں ڈسٹرب ہو رہا ہوں سخت لہجے میں بولا

وہ اب بدل چکی تھی شاید عمر کا شعور تھا اب وہ اس رشتے کوسمجھ رہی تھی ۔ مگر وہ اپنے دل کہ ہاتھوں مجبور آج اسکے در پہ پھر خود روندنے کے لئے لے آئی ۔۔ اس تک یہ خبر پہنچ چکی تھی وہ اسے چھوڑ نے کے لئے آیا ہے ۔۔وہ جانتی تھی وہ اسکو ناپسند کرتا ہے مگر کسی نا کسی دن اسکا دل مہ پارہ کی طرف متوجہ ہو ہی جائے گا یہ امید اسکی محبت کو جوان رکھے ہوئے تھی

مہ پارہ کی کیا اوقات جو تمہارے کاموں میں خلل ڈالے ۔۔ وہ جو تمہیں تنگ کرے ۔۔ مہ پارہ کیا اوقات افنان صاحب؟؟ ماہ پارہ کو آپ دھتکار چکے ہیں ۔۔ مہ پارہ دھتکاری ہوئی ہے آپ کو کیا تنگ کرے گی ؟؟

۔۔ وہ اپنی طرف اشارہ کرتی کراہیت سے بولے جا رہی تھی روئے جا رہی تھی

چاہتی کیا ہو تم آخر ۔۔۔۔ کتاب میز پر مارنے کے انداز میں رکھی بالآخر وہ اسکی طرف متوجہ ہو ہی گیا

وہ ڈر کہ کچھ قدم پیچھے ہوئی مایوس ہو کہ واپس پلٹنے لگی ۔۔

کیا فرق پڑتا ہے ماہی۔۔۔ وہ سنگدل کو اس پہ ترس آ ہی گیا آخر اس مٹی کی مورت کا کیا قصور وہ تو اسکےنام پہ منسوب کر دی گئی تھی اس کو تو ہمیشہ اپنے نا کےساتھ افنان کا نام ہی سنائی دیا تھا وہ کیسے اسے جانے دیتی

وہ رک گئی ۔۔اسے سننے کے لئے

رخصت ہو کہ تم گھر آؤ یا نہ آؤ ابھی بھی تو دندانتی ہو پورے گھر میں ۔۔ کوئی روکتا ہے کیا تمہیں ؟ مگر اسکا بھی تو دل تھا

اور جہاں تک میری بات ہے میں کون ہوتا ہوں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے والا میرا تو دل نہیں میں تو خواہش اور خوابوں کا اختیار نہیں رکھتا۔۔

وہ جلے انداز میں طنز کررہا تھا ابھی کل ابا کی بات پہ مزید تاؤ آیا تھا ۔۔

وہ تڑپ اٹھی ۔۔ کیا ہی اچھا ہو مہ پارہ تو کہیں چلی جائے کیا ہی اچھا ہو افنان کی زندگی کو اسکی ہی زندگی رہنے دے ۔۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی

بولو اب الفاظ نہیں کیا تمہارے پاس ۔۔ اب کوئی تاویل نہیں اب کوئی دلیل نہیں ویسے تو ہر بات کا جواز ڈھونڈ لاتی ہو۔۔ کیا میرا میری زندگی پہ اتنا سا حق نہیں اپنی پسند کا ہمسفر منتخب کر سکوں ۔۔ وہ اب اسکے طرف آیا آج تلخ نہیں تھا ۔۔ آج حق کی بات پہ آیا تھا ۔۔اور وہ جو پچھلے دس سال سے اسکو دل و دماغ میں بسائے اسکا انتظار کرتی ہر بار افنان کے آ کہ اسے یوں تکیلف دے کہ چلا جاتا ۔۔ وہ آخر کچھ بھی تو نہیں چاہتی سوائے کہ وہ بس اسے چھوڑ ے نا محبت میں پا لینا تو نہیں سب کچھ پوتا مگر اس نے تو بچپن سے آج تک اسی کا نام ہی تو سنا تھا اور کسی کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔ وہ اور اسکی محبت کے ساتھ جوان ہوئی وہ دونوں ہم جولی کی طرح ایک دوسرے کی غمگسار تھیں اسے اب جدائی میں موت نظر آتی ۔۔

وہ۔چپ سب کچھ سہہ جانے کو تیار ۔۔

وہ اسکی چپ سے الجھ کہ واپس کتاب کی طرف پلٹ گیا ۔۔

تمہیں پتہ ہے افنان انسان دنیا میں سب سے زیادہ کس کی مانتا ہے ۔۔

وہ غیر مرئی نقطے کو دیکھے اس سے مخاطب تھی ۔۔ افنان کو وہ اس وقت اپنے ہوش و حواس میں نہ لگی ۔۔

ماہی گھر جاؤ اسے اس پر ترس آرہا تھا ۔۔۔

دنیا میں انسان سب سے زیادہ اللہ کی مانتا ہے ۔۔۔ طوہا” یا کراہا” اسے اللہ کی ماننی پڑتی ہے لوگ غلط کہتے ہیں کہ وہ غافل رہے وہ اللہ کی نہیں مان سکتے ۔۔ غلط ۔۔ بلکل غلط ۔۔

وہ واقعی عجیب حالت میں تھی

بھلا لوگوں کی کیا مجال وہ اسکی نا مانے انکا خیال ہی ہے بس

انسان اس خالق کائنات کی نا مانے اتنا اس کے بس میں ہے ہی نہیں ۔۔ مگر انسان نہیں جانتا اسے شاید شیطان کی طرح ڈھیل اور مہلت ملی ہو

پتہ ہے جب ہماری وجود کی برداشت کی آخری حد ہو جاتی ہے ظلم۔کی انتہا ہو جائے تو ہم خدا کا واسطہ دیتے ہیں ۔۔ کہ شاید سامنے والے کے دل میں خدا کا ہی خوف آجائے ۔۔ ہم۔جانتے ہیں دنیا خدا کی سب سے زیادہ مانتی ہے ۔۔

اور اللہ کے نام پہ بھیک مانگنے والے بھی بھوکے نہیں سوتے ۔۔ باوجود کہ ان کے پاس کوئی روزگار نہیں ۔۔ اللہ کا واسطہ اس لئے بھی کارگر ہے ۔۔ وہ اسکی طرف دیکھنے لگی مگر میں اللہ کا واسطہ دے کہ تم سے بھیک نہیں مانگوں گی ۔۔ میں نے اللہ سے تمہیں مانگا ہے ۔۔ وہ بھیک نہیں دیتا ۔۔ اور پتہ ہے کیا جس دن رانی ہمارے گھر میں یہ انکشاف کرنے آئی تھی کہ تم اسکے ساتھ جنسی تعلقات بھی قائم کر چکے ہو ۔۔ مگر میں نہیں مانی کیوں ک میں نے انسان سے نہیں اللہ سے تمہیں مانگا ہے ۔۔

بعد میں سچ بھلا کیانکلا ۔۔ امجد چچا نے بتایا کہ تم نے تو اسے غیر اخلاقی حرکت کرنے سے روکا ہے ۔۔۔ ایک دلچسپ مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی ۔

ادھر افنان کا دماغ بھک سے اڑ گیا وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے سن رہا تھا۔

وہ اندر آگئی آج دہلیز پار کر کے وہ اس کے قریب آپہنچی تو افنان صاحب ۔۔ میں مہ پارہ آپ کو اجازت دیتی ہوں کہ دنیا کی ہر عورت سے دلگی کر کہ دیکھ لیجئے ۔۔۔

اسکا لہجہ سراپا مسرور کن وہ خود ادب کے دائرے میں سمٹ چکی تھی آج وہ اپنے عشق کہ اتنے قریب تھی

آپکا سکون ادھر ہے وہ اپنی طرف اشارہ کر کے بتایا ۔۔میں نے آپکو مانگا ہے ۔۔ جس نے مجھے آپ کے سکون کے لئے بنایا ہے ۔۔ میں ہی آپکی ساری محبت کی حقدار ہوں ۔۔ وہ۔مسکرائے بت بنے افنان کو اسکی حالت پہ چھوڑ ے وہاں سے جا چکی تھی ۔۔ مگر وہ مزید ہل بھی نہ سکا اسکے الفاظ کی بازگشت پورے کمرے میں گونج رہیں تھی ۔۔ اب وہ۔اسکا سکون برباد کئےجا چکی تھی ۔۔

اوہ مہ پارہ ۔۔ کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ میں تمہارے قابل نہیں ۔۔۔اوہ مہ پارہ میرے دل میں تمہارے عشق کا بیج نہیں ڈالا گیا ۔۔ میں کیوں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہو پاتا ۔۔ وہ سر ہاتھوں میں گرائے سوچ رہا تھا ۔۔ ادھر مہ پارہ افنان کے اتنے قریب ہو کہ آئی تھی وہ کتنا چاہتی مگر یہ منظر بھول نہ پائی اسکی دھڑکن بے قابو ہو چکی تھی نیند آج دونوں کی آنکھوں سے روٹھ چکی تھی

منعم محو جمال او نمی دا نم کجا رفتم۔

شدّم غرق وصال او نمی دانم کجا رفتم

میں اسکے جمال میں محو ہوں اور نہیں معلوم کہاں جا رہا ہوں ۔۔

میں اسکے وصال میں غرق ہوں اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *