Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 14)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

ایک کمرے میں کاٹ کباڑ موجود تھا اور اس کاٹ کباڑ میں رکھی دوکرسیاں

انزل اور وشمہ کو کرسی سے باندھ دیا گیا تھا ۔۔۔

وہ کوئی مزاحمت نہ کرسکی ۔۔۔وشمہ کو انزل پہ رہ رہ کے غصہ آیا ۔۔ بولا بھی تھا ۔۔ سوچ لو۔۔ مگر انزل تمہیں بس جذبات کی زبان ہی سمجھ آتی ہے ۔۔۔ وشمہ انزل کو ڈانٹا مگر وہ بھی کیا کر سکتی تھی

مگر وہ افنان تھا

۔۔وہ سر جھکائے بے یقینی سی بولی ۔۔۔

وہ فیک کال بھی تو ہوسکتی ہے۔۔۔ ماویٰ کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔۔۔۔وشمہ اب اتنا تو سمجھ چکی تھی ۔۔۔

اچانک کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔۔ ایک بلیو کلر کا سوٹ پہنے چہرے پہ ماسک لگائے آدمی اندر داخل ہوا ۔۔۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے وہاں کھڑے دونوں آدمیوں کو جانے کا کہا۔۔

دونوں آدمی چلے گئے ۔۔۔

اب وہاں تین لوگ رہ گئے۔۔۔۔۔ کون ہو تم ۔۔۔انزل۔چیخی ۔۔

مگر اس نے ایک نظر بھی انزل کی طرف نہیں دیکھا ۔۔ اپنے کوٹ کی اندرونی پاکٹ سے ایک گن نکالی ۔۔۔

وہ وشمہ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

اسے چھوڑ دو ماویٰ کی دشمنی میرے ساتھ ہے ۔۔۔ میں تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں اسے چھوڑ دو۔۔۔ انزل منتیں کر رہی تھی ۔ وشمہ حیرت کی مورت بنے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو گن لیے اس کی کرسی کے قریب آچکا تھا ۔۔۔ گن کی نال اسکے ماتھے پہ رکھی ۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔

انزل چلائی۔۔۔

وشمہ جیسے ٹرانس کی سی کیفیت میں تھی ۔۔۔

کچھ بھی نہیں بول سکی ۔۔۔ بلیک کلر کے ماسک نے اسکا پورہ چہرہ چھپایا ہوا تھا صرف آنکھیں ہی۔نظر آرہی تھی ۔۔ اور وہ وشمہ پہ نظریں گاڑھے کھڑا تھا

گن کی نال اسکے ماتھے سے سرکتا ہوئی کنپٹی پہ لے آیا۔۔

اور پھر رخسار پہ۔۔

وہ جیسے اپنے شکار سے کھیل رہا ہو

پھر ہونٹ تک لے آیا ۔۔۔ وشمہ کا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا

نچلے ہونٹ پہ گن کی ٹھنڈی نال رکھی ۔۔۔ انزل رو دینے کو تھی ۔۔۔

اسی وقت ٹریگر دبایا ۔۔ دونوں نے آنکھیں میچ لی ۔۔ گن سے پانی کی ٹھنڈی پھوار نکلی ۔۔۔

ہیلو وشمہ۔۔۔ وہ ماسک اتارے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑا تھا

وشمہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔جو وشمہ کے فق ہوئے چہرے کو دیکھ تے ہوئے فلک شگاف قہقہے لگا رہا تھا

وشمہ کا دل چاہا اسکا منہ نوچ لے۔۔۔

انزل کے دل زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔وہ ناسمجھی۔سے دونوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔ یہ وہی ہے نا جس نے ہماری مکرم امان سنٹر میں بھاگنے میں مدد کی تھی ۔۔ انزل نے پہچانا

ہاں یہ وہی ہے۔۔ رحیم نہ ہو تو۔۔

وشمہ کو حدد درجہ غصہ آیا ۔۔۔میں نے پہچان لیا تھا ۔۔ مگر تمہارے لینز کی وجہ سے کنفیوز ہوگئی تھی ۔۔

وشمہ مسکراتے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

وہ بھی واپس دلچسپ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔

انزل کی سانس میں سانس آئی تو ہمیں باندھا کیوں ۔۔کتنا ڈر گئے تھے ہم لوگ۔۔ انزل نے اپنے ہاتھوں کو کھولنے کا کہا

اور جیسے میری بیوی کو پتہ ہی نہیں بنا دیکھے کونسی ناٹ گھمانے سے رسی کھل۔جاتی ہے ۔۔وہ اس پہ جھکا

ہاتھوں کو پیچھے حرکت دیتی وہ مختلف سمت میں رسی کی گرہ کو کھولتی خود کو آزارد کر چکی تھی ۔۔۔تراب یہ دیکھ کے واپس اپنے صوفے پہ بیٹھنے کے لئے جانے لگا مگر

اگلے ہی لمحے وہ پھرتی سے کھڑی ہوتی تراب کی گردن کے گرد رسی لیپٹ کے اسے کرسی پہ بیٹھا چکی تھی ۔۔۔ صرف پلک جھپکنے کی دیر تھی ۔۔ وشمہ کرسی پہ جھکی رسی ذرا دھیلی کی تاکہ سانس نہ گھٹ جائے اسے انہی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔

انزل اس عجیب میاں بیوی کو دیکھ رہی تھی۔۔

ہیلو ۔۔۔میں ادھر ہی ہوں ۔۔ انزل نے بولا ۔۔

وہ دونوں چونک گئے وشمہ تراب کو چھوڑ ے اب انزل کے ہاتھ رسیوں سے آزاد کر رہی تھی۔۔

انزل کا وجود بھی جیسے انچاہی رسیوں سے آزاد ہوئی

اب قسمت اسکا ساتھ دے گی اسے یقین تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

پولیس کے زیر نگرانی اور مکرم کے سرپرستی میں چلتا امان سنٹر کو ساری دنیا کے سامنے لانے کے لیے میں نے یہ قدم اٹھایا ۔۔۔ وہ اب کراچی میں بھی امان سنٹر کھولنے کی کوششوں میں ہے۔۔ اسکا اصل مقصد ان امان سنٹر کی آڑ میں دلالی کرنا ہے ۔۔۔

وشمہ نخوت سے سارا کہانی سنا رہی تھی

پولیس کواس کے عوض اچھی خاصی موٹی رقم دی جاتی ہے تاکہ انکا منہ بند رہے ۔۔۔ میں اسکو ایکسپوز کرنا چاہتی ہوں۔۔ مگر اس کے خلاف ٹھوس ثبوت چاہیے تھے مکرم امان سنٹر میں ہونے والے اس مکروہ دھندے کی وڈیوز میں نے اور تراب نے بنا لی ہیں ۔۔ مگر اس میں شبنم ہی ملزمہ بنے گی ۔۔۔ مکرم کا دامن صاف رہے گا ۔۔۔ اس لیے میں تمہارے ساتھ یہاں تک آئی کیوں کہ مکرم کی اپنی حویلی میں ایک۔تہہ خانہ موجود ہے جہاں

ارد گرد کے گاؤں سے لڑکیاں اغوا کر کے لائی جاتی ہیں ۔۔ اور انہیں پھر لاہور کے امان سنٹر تک پہنچا یا جاتا ہے ۔۔۔ اس میں مکرم۔کا بیٹا ماویٰ بھی شامل ہے۔۔

وشمہ نے انزل کو اپنی حقیقت بتائی انزل کو لگتا تھا اس نے وشمہ کا استعمال کیا ہے ۔۔مگر وشمہ دوہرا کھیل کھیل رہی تھی۔۔

تراب اس سلسلے میں میری مدد کرتا ہے ۔۔ وہ شبنم کا خاص آدمی کا بھروسہ جیت چکا ہے ۔۔۔

ماویٰ نے آج شام جانے والے لڑکیوں کے ٹرک میں تم دونوں کو بھی لے جانا چاہتا تھا۔۔ مگر میرے آدمیوں نے تمہیں ان سے پہلے اغوا کرلیا۔۔ اب جب وہ لوگ وہاں پہنچے گیں تب پولیس انکا انتظار کر رہی ہوگی ۔۔ تراب مزے سے چپس کھاتا انہیں اپنے کارنامے بتا رہا تھا

کیا شاذل کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا

انزل کو اچھنبا ہوا ۔۔

نہیں فلحال تو نہیں ۔۔۔ ہمیں اس کے بارے میں ایسا کچھ نہیں ملا ۔۔سوائے اس کہ کہ وہ ایک ذہنی مریض ہے اور اس نے اپنے پاگل پن میں کئی لوگوں کی جان لی۔۔

تو وہ ایک قاتل ہوا ۔۔ ہے نا۔۔ انزل بات گھما پھرا کہ وہیں لے آئی۔۔

قانون کی نظر میں کوئی ذہنی مریض مجرم نہیں ہوتا۔۔مگر ویسے اس حوالے سے اسکا دامن صاف ہے۔۔ تراب کو شاذل بے قصور لگتا تھا ۔۔ یہ بات اس نے وشمہ سے بھی کہی تھی۔۔

مگر اس نے اپنے ہوش و حواس میں قتل کیا ہے ۔۔

انزل کی سوئی وہیں اٹکی تھی ۔۔

ہوں۔۔۔ اس کے بارے میں بھی دیکھیں گیں فلحال میری ساری توجہ مکرم کے اس تہہ خان

خانے کی تلاش میں ہے ۔۔ وشمہ پرسوچ لہجے میں بولی۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ مجھے کسی سے ملنے جانا ہے کیا تم مجھے پہنچا دو گی ۔۔ انزل کو افنان سے ملنے کی جلدی تھی۔۔میرا ایک آدمی تمہیں لے جائے گا ۔۔

تم ٹھیک ہو نہ وشمہ ۔۔ تراب اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا

وشمہ نے سفید شلوار قمیض اوپر کالے رنگ کی چادر جو کندھے پہ موجود اور بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا۔۔

اسکی گلابی اور گداز جلد اب پیلی رنگت میں بدل چکی تھی ۔۔

تراب کو فکر ہوئی۔۔ بہت کمزور ہو گئی ہو

ہاں میں ٹھیک بلکل ٹھیک ۔۔ وشمہ نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔

ھا یہ لو اپنے پاس رکھ لو وہ اسے ایک ننھا سا پسٹل دے رہا تھا ۔۔

میں اسکا کیا کروں گی ۔۔ میں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہوں۔۔ وشمہ اسکی فکر مندی سے چڑ گئی تھی..

وشمہ ایک وقت تھا جب ہم ٹین ایجرز تھے اور ایسی گنز رکھتے اور کھلے عام انکی نمائش کرتے ۔۔ تراب اپنی لے میں بولے جا رہا تھا ۔۔

ہاں اور پولیس سے مار کھاتے ۔۔ وشمہ ہنستی ہوئی بولی۔۔

خیر ہتھیار تو آج بھی رکھتے ہیں ۔۔مگر نمائش نہیں کرتے ۔۔ تراب نے وشمہ کو دیکھا وہ بھی کہاں ادھار رکھنے والوں میں تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

شاذل کی چائے میں کچھ ملا کہ صغراں اسکے کمرے تک لے آئی ۔۔

ہاں رکھ دو ۔۔ شاذل مصروف سے انداز میں موبائل پہ دیکھ رہا تھا۔۔

تمہیں پین کلر کا بھی کہا تھا شاذل نے ماتھے کو مسلتے بولا ۔۔

وہ جی ۔۔ بھول گئی۔۔۔ابھی لے آتی ہوں

کہتی وہ باہر چلی گئی۔۔

کافی دنوں سے اسکا سر درد ہورہا تھا ۔۔ وہ امام صاحب کے پاس بھی نہ جاسکا ہر وقت نیند سی طاری ہوتی شاذل کا دل بے قرار ہو رہا تھا ۔۔

کچھ دیر برداشت کرنے کہ بعد اس نے چائے پی ۔۔

اسکا سر بھاری ہونے لگا۔۔ وجود کسی پرندے کے پر کے مانند ہلکا ۔۔اسکی آنکھیں بند ہونے لگی ۔۔اور وہ بستر پہ گر گیا ۔۔

پھر ہوش اس وقت آیا جب کمر پہ آرام دہ بستر کی بجائے لکڑی کی سختی محسوس ہوئی

آوازیں ۔۔ بھنبناہٹ سی ۔۔ لوگوں کی آوازیں ۔۔ کسی کے رونے کی آواز ۔۔ وہ سر بھاری کے ساتھ اٹھ بیٹھا ۔۔

وہ کرسی پہ بیٹھا تھا ۔۔ سامنے میز اور آس پاس متصل کرسیاں۔۔۔ اس نے نظر دوڑائی دھندلا سا منظر ۔۔ جگہ جانی پہچانی سی ۔۔ وہ ڈیرے پہ تھا۔۔۔

کچھ ملازم اسکے خاص ملازم کرمو اور خیرو کو روک ریے تھے ۔۔

شاذل سائیں ۔۔ کرمونے روتے ہوئے اسے پکارا۔۔

وہ بھاری سر لیے انکی طرف آیا ۔۔

کیا ہو رہا ہے ۔۔ چھوڑو انہیں ۔۔ شاذل کی کانپٹی آواز ۔۔

شاذل سائیں آپ نے ہی کہا تھا انکو روکنے کا ۔۔

کیا۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔ شاذل کا سر ہنوز درد کررہا تھا۔۔

جی سائیں ایک ملازم حیرت سے اسے دیکھ کہ بولا

چھوڑو انہیں تم ۔۔

انہوں نے چھوڑ دیا ۔۔ کرمو شاذل کی طرف دیکھتا احتیاط سے اندر جانے لگا

اندر سے کسی عورت کی چلانے کی آواز وہ لڑکھڑا کے چلتا۔۔۔ کرمو اسکے پیچھے پیچھے چلتا برآمدے کے اندر موجود ایک مقفل کمرے کی طرف چلا گیا ۔۔لکڑی کا دروازہ بار بار پیٹا جا رہا تھا ۔۔ اندر سے نسوانی رونے کی آوازیں ۔۔

کھولو اسے ۔۔ شاذل سے آوازیں برداشت نہیں ہو رہیں تھیں۔۔ اندر ڈری سہمی پیسنے سے شرابور مہ پارہ ۔۔ اسکے سر سے چادر اتری ہوئی ۔۔ سفید جوڑے میں ملبوس ۔۔ وہ شاذل کو دیکھتے ہی پیچھے ہوئی۔۔مجھے جانے دو شاذل سائیں اللہ کا واسطہ تمہیں سوہنے نبی کا واسطہ وہ ہاتھ جوڑے رو رہی تھی ۔۔

کرمو بھاگتا اندر آیا ۔۔ اپنی بیٹی کو اپنے سینے میں چھپائے رو رہا تھا۔۔۔

شاذل سائیں میری ساری عمر کی خدمت کا یہ صلہ دیا آپ نے ۔۔ کرمو شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتا ۔۔اپنی بیٹی کے وجود کو چھپا رہا تھا ۔۔

شاذل سائیں میری ساری عمر کی خدمت کا یہ صلہ دیا آپ نے ۔۔ کرمو شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتا ۔۔اپنی بیٹی کے وجود کو چھپا رہا تھا ۔۔

شاذل۔نے اپنی شال اتار کے انہیں تھما دی اسے بلکل خبر نہیں تھی اس نےکیا کیا۔۔۔

مہ پارہ کی خوفزدہ نظریں شاذل کے دل کوچیر رہیں تھیں۔۔اسکا دماغ پھٹ رہا تھا کیاہو رہا ہے یہ۔۔

وہ پوچھ رہا تھا ۔۔اسکاسر پھر سے درد کرنے لگا۔۔۔

وہ سر پکڑے نیچے بیٹھ گیا ۔۔

دھندلے مناظر نظر آنے لگے۔۔

کرمو چلے جاؤ ۔۔۔اپنی بیٹی کو لے کہ یہاں سے چلےجاؤ۔۔

کرمو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔۔

چلے جاؤ ۔۔ اب وہ چیخا ۔۔ کرمو مہ پارہ کے گرد شاذل کی شال ڈالے اسے لی

تیز تیز قدموں سے چلنے لگا۔۔ جیسے پیچھے مڑ کہ دیکھے گا تو پتھر کا ہو جائے گا

وہ اپنے آپ میں نہیں لگ رہا تھا ۔۔شاذل کی آنکھوں جیسے فلم چلنے لگی۔۔ دھندلی سی زرد سی فلم۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

غصے میں کھڑا شاذل مہ پارہ کو پکڑے وہاں سے لے جا رہا۔تھا ۔۔ کسی نے روکنے کی۔کوشش کی فلاح دین افنان کا باپ ۔۔ اس نے دھکا دیا ۔۔ وہ دور فرش پہ جا لگا ۔۔ شاید کسی چیز پہ اسکا سر لگ گیا تھا۔۔۔

فلاح دین کہ سر پہ سے نکلتا خون ۔۔شاذل نظر انداز کیے مہ پارہ کو اپنی مظبوط گرفت میں لیے چل دیا۔ وہ رو رہی بلک رہی تھی۔۔شاذل کی آنکھیں چڑھی سرخ دوڑے نمایاں۔۔ وہ اسے گھسیٹا لےجاریا تھا۔۔اپنی کار کی طرف افنان کی ماں روتی اپنے شوہر کے لیے مدد مانگتی رہی ۔۔ مگر سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تماشائی صرف دیکھ رہے تھے۔۔۔

کار میں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا ماویٰ معنی خیز نظروں سے دیکھتا شاذل کو ایک قسم کی شاباشی دی ۔۔ویر جی اصلی مرد ہی وہ ہوتا ہے جو اپنی پسند کو حاصل کر لے نہیں تو چھین لے ۔۔۔ماویٰ مہ پارہ کے آنسوؤں سے بھرے چہرے کو دیکھتا ہنس رہا تھا۔۔

شاذل نے مہ پارہ کو کار کی بیک سیٹ پہ جا پھینکا کسی چیز کی طرح ۔۔ مہ پارہ کا دل چاہا وہ بھاگ نکلے ۔۔ کوئی تو آئے اسکی مدد کو

وہ بنا کچھ کہے کار ڈیرے کی طرف دوڑا رہا تھا۔۔

تیز اور تیز ۔۔مہ پارہ اسکی ہی تھی اور ہمیشہ رہے گی۔۔ اسکا دل و دماغ یہی الفاظ دہرا رہے تھے۔۔

وہ ڈیرے پہ پہنچا ۔۔وہاں کرمو گھوڑوں کی مالش کر رہا تھا ۔۔ انکی ایال کے بال سہلا رہا تھا۔۔

شاذل کو اوراپنی بیٹی کو دیکھتے ہی۔۔ اسکے چہرے کے رنگ اڑ گئے۔۔وہ اپنی بیٹی کو بچانے

کے لیے دوڑا۔۔

بابا ۔۔ وہ اپنے باپ کے پاس جانے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔ کرمو شاذل کے قدموں سے لپٹ گیا۔۔

شاذل سائیں ۔۔ یوں نہ کرو ۔۔میری بیٹی کو چھوڑ دو ۔۔ شاذل سائیں۔۔

مگر شاذل تو کسی آسیب کے زیر آثر تھا۔۔

ہٹو یہاں سے ماویٰ کرمو کو پکڑے ڈیرے سے باہر لے گیا۔۔ وہ چیختا روتا رہا۔۔مہ پارہ کو اپنا وجود کسی آگ کی نظر ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔

یا اللہ میری پاکیزگی قائم رکھنا روتے دل سے وہ دعا مانگ رہی تھی

اگر یہاں کل۔صبح تک کوئی بھی آیا ۔۔ تو بلاشبہ اسے ختم کر دینا ۔۔ ماویٰ سارے نوکروں کو حکم دیتا ایک خباثت بھری نگاہ مہ پارہ پہ ڈالی۔۔ اگر یہ لڑکی یہ سے بھاگی تو اسے میرے پاس لے آنا

وہ اشارہ کر رہا تھا ایک لائین میں لگے ملازموں نے سر جھکا لیا۔۔ ان میں سے ایک خیرو بھی تھا۔۔

شاذل نے مہ پارہ کو اندر کمرے میں لے گیا۔۔

اسکی آنکھیں ہنوز تپش سے بھری ہوئی۔۔ اور وحشت ٹپک رہی تھی۔۔

روتی مہ پارہ نے آنسو صاف کیے ۔۔ کمرے میں گھاس پوس اور ایک درانتی پڑی تھی۔۔

مہ پارہ آگے بڑھی اسے اٹھا یا۔۔ یہاں وہ اپنی جان کی نہ سہی عزت کی حفاظت تو کر سکتی تھی

تم میرے قریب بھی آئےتو خدا کی قسم میں اپنی جان لے لوں گی۔۔

میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔شاذل کے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے۔۔ وجود میں درد بڑھنے لگا۔۔

محبت نہیں ہے یہ۔۔ حوس ہے۔۔ تمہاری حوس کی نظر ہونےسے پہلےہی موت کو گلے لگا لوں گی میں۔

وہ کراہیت سے بولتی درانتی اپنے گردن تک لے آئی۔۔ تیز نوک دار دھار سے اسکے گلے پہ ہلکا سا کٹ لگ چکا تھا۔۔ خون کی پتلی سی لکیر اسکی گردن پہ ابھرنے لگی

مہ پارہ رک جاؤ۔۔ شاذل خود کو اپنے اختیار میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ مگر اسکا پور پور کسی اور کے اختیار میں تھا ۔۔ جیسے تیز آندھی اسے مخالف سمت لے جارہی تھی ۔۔ اور وہ اس آندھی کے بر خلاف آگے بڑھنا چاہتا تھا

شاذل نیچے بیٹھ گیا۔۔ آوازیں ۔۔ مہ پارہ میری ہے صرف میری۔۔۔نہیں ۔۔ نجانے کہاں سے اس میے اتنی طاقت آئی یا وہ مہ پارہ کی دھمکی تھی۔۔ اس نے خود پہ قابو پانے کی کوشش

وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ مہ پارہ کو

وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ مہ پارہ کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا۔۔ مگر جیسے کوئی اسے اپنے زیر آثر کر گیا تھا۔۔

وہ اٹھا ۔۔ مہ پارہ نے نوک کو مزید اپنی گردن کے قریب کر لیا۔۔ اور شاذل نے کمرے کو باہر سے کنڈی لگا دی۔۔ خود کرسی پہ ڈھ گیا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *