Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 09)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

گاڑی میں بیک سیٹ پہ بیٹھی انزل باہر شیشے سے گاؤں کے کچے مکانات کو گزرتے دیکھ رہی تھی ۔۔

دل اچاٹ ہونے پہ آنکھیں موندھ لیں

کیا آپکو شاذل ولد مکرم حیدر بمع حق مہر چالیس لاکھ سقہ رائج الوقت قبول ہے۔۔

کانوں کو ابھی بھی یقین نہ آیا آخر وہ کر کیا رہی ہے انتقام کی آگ یا اپنے وجود کے ساتھ کھلوار ۔۔

انزل شاذل نے تمہاری بہن مہ پارہ کو مارا کو مارا تھا ۔۔ اس نے مہ پارہ کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہا تھا جو ماویٰ نے تمہارے ساتھ کیا انزل

جھکے سر لیے افنان نے ایک تلخ حقیقت اپنے اندر سموئے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ انزل کے کانوں میں سیسہ کی طرح ڈالی

انزل امان ولد محمد امان کیا آپکو ۔۔۔۔۔۔

مسجد میں آواز کی بازگشت دوہرائی گئی وقت ٹہرسا گیا ۔۔

مکرم امان سنٹر اسکے باپ کا ہی سنٹر تھا۔۔ جہاں تمہارے چچا کو پیسے دے کر تمہیں وہاں بھیجنے کا پلان کیا گیا ہے۔

اب کی بار افنان اسے اسکی زندگی میں رونما ہونے والا دوسرا سچ بتا رہا تھا۔۔

اور ماویٰ شاذل کا بھائی ہے ۔۔تکون کے تین نقطے پورے ہوئےانزل کی زندگی کو تباہ کر دینے والے یہ تین لوگ ۔۔

مولوی نے تیسری دفعہ پوچھا وہاں ہنوز خاموشی۔۔ انزل کی خاموشی سے شاذل کی طرف دیکھا جہاں وہ بھی بےچینی سے اسی طرف متوجہ تھا

تم کیا کرنا چاہتی ہو؟

غمگین سا افنان اب اسے اس سب سے دود رکھنا چاہتا تھا

میں کیا چاہتی ہوں ۔۔ اس سب کے بعد آخر میں کیا چاہتی ہوں گی افنان صاحب مجھ سے میری بہن چھین لی گئی ۔۔ میری عزت پہ حرف آئے مجھے بیچنے کی تاب میں بیٹھے یہ درندے ان سب کو کیسے معاف کروں گی ۔۔ میں کیا چاہتی ہوں ۔۔ وہ میزپہ ہاتھ دھرے اٹھتی چیخ رہی تھی ۔۔

تو سن لیں میں چاہتی

اپنی بہن کا بدلہ ۔۔

قبول ہے۔۔۔۔

اسکے ایجاب و قبول کے انتظار سے مضطرب شاذل کو کچھ راحت ملی

اپنے جذبات اپنے وجود کے ساتھ ہوئی نانصافی کا بدلہ۔۔

قبول ہے ۔۔ وہ مکینکی کی سی انداز میں بولی ۔۔

اور مجھ جیسی اور حدیقہ جیسی اور کتنی ہی لڑکیوں کے ساتھ ہوئے گناہ کا بدلہ ۔۔

قبول ہے ۔۔ تکون کے تین نقطے مکمل ہوئے ۔۔

انزل شاذل کے نکاح میں آچکی تھی اور شاذل انزل کی چال میں آنے والا پہلا مہرہ۔۔

گاڑی عالشان حویلی کے دروازے کے سامنے رکی سوچ کو تسلسل ختم ہوا۔۔ وہ اب وہاں جا رہی تھی

جہاں اسکی تکون منتظر تھی۔۔

اندر ملازم نے تیزی سے گیٹ کھولا ۔۔شاذل نے گاڑی اندر پورچ تک لے گیا خلاف معمول تین اور گاڑیاں وہاں موجود تھی ۔۔ وہ رک گیا جانتا تھا اندر کون آیا ہے ۔۔

دروازہ کھولتی باہر نکلتی انزل کو روکا ۔۔

چلو ۔۔ اور صرف میری بات ماننا وہ اسے حکم دیتا اندر لے گیا ۔۔

اندر لاؤنج عین توقع کے مطابق آفندی بیٹھا خلاف معمول آج گاڑدز بھی زیادہ تھے ۔۔تنفر سی نگاہوں سے اسے دیکھتا۔۔

وہیں رک جاؤ لڑکی ۔۔

مکرم نے تنے ابرو کے ساتھ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے حکمیہ لہجے میں کہا

لاؤنج کی سیڑھیاں چڑھتی انزل رک گئی تذبذب کا شکار شاذل کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔

ضرور۔۔۔ انزل نیچے آو ۔۔ اسکا ہاتھ تھامے دھیمی مسکراہٹ کے چلتا خالی صوفے تک لے آیا۔۔

مکرم چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ سجائے آفندی کو دیکھا ۔۔ ۔۔

پہلے ذرا تعارف کروا دوں ۔۔ نظریں آفندی پہ مرکوز۔۔

میٹ مائی وائف ۔۔ مسسز شاذل مکرم حیدر ۔۔

انزل کو کندھوں سے تھامے سب کی طرف دیکھتا پرسکون لہجے میں گویا بم پھوڑا ۔۔۔۔

سب بے یقینی سے شاذل کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔

ماویٰ کھا جانے والی نظروں سے انزل کو دیکھ رہا گویا کہہ رہا ہو کہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔

سب سے زیادہ آفندی کی انا کو ٹھیس پہنچی ۔۔

ہوش میں تو ہو شاذل ۔۔ کیا کہہ رہے ہو ۔۔ مکرم بارعب لہجے سے بولے اندر ہی اندر وہ شاذل کی اس حرکت پہ نالاں تھے۔۔

جی ۔۔میں اپنے پورے ہوش حواس میں ہوں اور نکاح ہی کیا ہے کوئی انہونی تو نہیں ہوئی ۔۔ خیر انزل تم اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔وہ لاپروائی سے کہتا انزل کی طرف متوجہ ہوا۔

شاذل ایسے نکاح نہیں ہوا کرتے یہ شریفوں کا شیوا نہیں ۔۔یہ لڑکی کا کردار تو اور بھی مشکوک ہو گیا کل تلک یہ ماویٰ پہ الزام لگا رہی تھی اب بلا چوں چراں کے تم سے شادی کر لی کیا تمہاری آنکھوں پہ پٹی بند گئی ہے کیا؟تم نے خود اسکے الزام کو جھوٹ ثابت کیا تھا اب یہ کیا سوجھی تمہیں ۔۔

وہ اٹھ کر انزل کو انگلی کئے اسکے کردار کے پر خچے اڑا گئے ۔۔ انزل اپنی جگہ کھڑی تلملا گئی

۔۔ ہونہہ ایسی لڑکیوں کا یہی تو پیشہ ہوتا ہے ۔۔ ماویٰ نے سر جھٹکے انزل پہ چوٹ لگائی

تو کیا نکاح ویسے کیا جاتا ہے جیسے آپ نے کیا ۔۔ ہاتھ باندھنے کاٹ دار لہجے میں بولا

شاذل ۔۔۔ مکرم اپنی ہتک برداشت نہ کر سکے

بس بہت ہوگیا ۔۔ آفندی اٹھ کھڑا ہوا ۔۔وہ ان سب باتوں سے اکتا چکا تھا ۔۔مکرم ویسے تو بہت بڑی باتیں کرتے ہو۔۔ آج میں اپنی پچھلی ہوئی بے عزتی اور آج۔۔۔۔۔۔ دونوں کااکٹھا بدلہ لوں گا ۔۔ ۔۔

آفندی ۔۔ ۔۔ مت بھولو اس وقت تم کس کہ گھر کھڑے ہو ۔۔ وہ تنبیہہ کیے اسے روک رہے تھے

مگر آفندی خون اتری آنکھوں سےانزل کو دیکھ رہا ۔۔۔۔

اپنے گاڑد کو اشارہ کیا وہ انزل کو لینے اسکے پاس چلا گیا۔۔

شاذل سیڑھیوں کے پاس کھڑا ۔۔ خاموش انزل اپنے وجود کے لیے فیصلہ ہوتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

شاذل بنا کچھ کہے آفندی کو ابرو اچکے دیکھ رہا تھا ۔۔ کیا واقعی؟

گارڈ گن کو لوڈ کیے اسکی طرف بڑھ چکا تھا ۔۔ انزل کو یقین تھا شاذل کچھ نہ بھی کئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔۔

گارڈ سیڑھیوں کے قریب پہنچا ۔۔شاذل نے اسکے پیچھے سے گردن کو دبوچ لیا۔۔ دوسرے گاڑد آگے بڑھے ۔۔ شاذل نے اسکی گردن تھامے اسکا سر سیڑھی کی نوک پہ پٹخنے لگا ۔۔ ایک ۔۔ دو ۔۔۔ تین وہ بار بار سر زمین پہ مار رہا تھا ۔۔ وہ گارڈ اپنی گن چھوڑے اسکی مظبوط پکڑ سے اپنا سر چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ مگر اسکے سر سے اب خون جاری ہونے لگا اور وہ بے سود ہوگیا شاید بے جان بھی پیچھے کھڑے گارڈ آگے بڑھ چکے تھے شاذل کا ہاتھ خون سے لبریز ہوچکا تھا۔۔ وہ ان دونوں گارڈز کی طرف مڑ گیا وہ کسی جانور کی طرح اسے مار رہا تھا انزل پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی شاذل کی آنکھیں سرد اور بے تاثر تھیں وہ کسی طور پہلے والا شاذل نہیں لگ رہا تھا۔۔ پہلا گارڈ نے آگے آنے کی کوشش کی ۔۔

اگر۔۔۔۔ اگر اس لڑکی کو کسی نے ذرا بھی چھونے کی کوشش کی تو وہ اپنے پیروں پہ واپس نہیں جائے گا ۔۔ ہمت ہے تو ابھی کوشش کر کے دیکھ لے

اسی خون سے لتھرے ہاتھوں سے سب کو خصوصی آفندی کو تنبیہہ کی ۔۔

وہ لڑکی اب میری ہے مطلب صرف میری میرے علاوہ کوئی اس کے قریب بھی گیا تو اسکا حشر بگاڑ دوں گا ۔۔

شاذل اپنے آپے میں نہیں تھا آفندی غصے سے مکرم کو دیکھ رہا تھا۔۔ اب جان چکا تھا ۔۔ کہ مکرم اور ماویٰ شاذل کی طرف سے اسے کیوں وارن کر رہے تھے ۔۔

نکلو یہاں سے ۔۔ وہ اسی سرد سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔وہ ہانپ رہا تھا ۔۔ انزل کی طرف ایک نظر دیکھی۔۔

ایک سائکوپیٹھ یہ لفظ میرے لیے مناسب ہوگا ۔۔ ایک جملے کی بازگشت اسکے کانوں میں گونجی ۔۔

اسکا وجود ٹھنڈا پر گیا کانپتی ٹانگوں کے ساتھ اوپربھاگی جہاں وشمہ اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی ۔۔

وہ دوازہ بند کئے لٹے کی مانند سفید ہوگئ ۔۔ وشمہ اسکو تھاما مگر انزل کانپ رہی تھی۔۔

کیا ہوا انزل ؟

میں نے بہت بڑی غلطی کر لی ۔۔ شاذل سے نکاح ۔۔ او خدایا ۔۔ وہ سر پکڑے بیٹھ گئی ۔۔وشمہ کوکچھ سمجھ میں نہ آیا ۔۔ مگر باہر شور وہ سن چکی تھی۔۔

قسمت نے ایک بڑا امتحان اسکے لیے تیار رکھا تھا۔۔ ماویٰ سے اور آفندی سے بچ گئی ۔۔ مگر شاذل۔۔۔ اس سے بچنا مشکل تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

سرافنان کچھ چھپا رہے ہیں شاید۔۔

بیگ کو کاندھے پہ ڈالے وہ آفس روم سے باہر نکل رہی تھی

سر جھکا ئے اپنی ہی سوچوں میں گم سامنے والا نفوس جو اسی کی طرف تیز رفتاری سے بڑھ رہا تھا اس سے ٹکرا گئی۔۔

شخص کی مانوس اور مخصوص سی خوشبو ۔۔

وہ کیسے ماویٰ کی خوشبو کو بھلا سکتی تھی

ماویٰ۔۔۔ اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کہ دیکھا سامنے کھڑا وہ چھبتی نظروں سے دیکھ کہ مسکرا رہا تھا۔۔

یہ راہداری منحوس ہے شاید ماویٰ ہمیشہ یہاں ہی ملتا ہے دل میں سوچتی اسکی طرف دیکھ رہی تھی

ایک دن ۔۔۔ صرف ایک دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھ سکا تمہارا وہ افنان ۔۔۔ انگشت دکھاتے وہ فخر سے بولا۔۔

مگر اب ۔۔۔ انزل بی بی ۔۔ تمہارے ہر دن جہنم کے دن سے بھی بدتر ہوگا ہر روز مجھے یاد کر کے موت مانگا کرو گی تم ۔۔ مخصوص بدلی ہوئی ٹون میں بولا وہ دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اپنے تئیں اسے ڈرا دھمکا چکا تھا۔۔ انزل کی آنکھوں میں اسے اپنے لیے ڈر نظر آیا وہ مسرور ہوگیا مگر اگلے ہی لمحے وہ نارمل ہو گئی

ہو گیا کہ اور بھی بولنا ہے ؟ انزل نے ابرو اچکا کہ سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔۔

وہ دانت پیستا اپنی دھمکی کی دھجیاں اڑنے پہ مزید سیخ پا ہو گیا۔۔

ہٹو ۔۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے پیچھے کرتی چلی گئی۔۔

انتظار کرو انزل تمہاری یہ اکڑ بھی ٹوٹ جائے گی

اور وہ افنان کے کمرے کی طرف چلا گیا اب اسے بھی ڈرانے دھمکانے چلا گیا ۔۔

انزل اندر تک ڈر گئی تھی مگر ماویٰ کے سامنے اپنے ڈر کا اظہار مطلب شکست تھا ۔۔ جب تلک اس کے پاس سارے ثبوت تھے ماویٰ اسے کچھ نہیں کر سکتا اسی وجہ سے آج سارے ثبوت سر افنان کے ہاتھ دے آئی تھی ۔۔ مگر ماویٰ بند کمرے میں اسکے ساتھ کیا سلوک کرتا یہ وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔

ماویٰ کے لیے جیل سے نکلنا کوئی عام بات نہیں تھی وہ حدیقہ کے معاملے میں بھی اپنے آپ کو نکال لایا تھا ۔۔ مگر انزل کو اب صرف افنان کا ہی سہارا تھا۔۔

افنان نے ٹھیک کہا اسے کہیں چلا جانا چاہیے کچھ دنوں کے لیے۔۔ وہ لمبا سانس لیے دوبارہ چل دی

داہنی طرف کمرے میں موجود اسرا کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔

انزل نے اسے دیکھتے ہی منہ موڑ لیا سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ انجان بنی رہی ماویٰ کے ساتھ اسکا بھی اتنا ہی قصور تھا۔۔

انزل ۔۔ اسے جانے سے روکتی اس کے قریب آئی ۔۔ اسرا بہت باتونی اپنے حال میں مست رہنے والی لڑکی آج اداس نگاہیں لیے اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔

میرا کیا قصور ہے ؟ وہ رو دینے کو تھی آنکھوں میں نمی پھیل چکی تھی۔۔

تم جانتی تھی ۔۔۔۔ تمہیں سب پتہ تھا ۔۔ ماویٰ کے بارے میں حدیقہ کے بارے میں۔۔ انزل شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی بولی ۔۔

مجھے الزام مت دو انزل ۔۔ تم اور حدیقہ مجھے الزام مت دو ۔۔ میں ماویٰ کے بارے میں فقط اتنا جانتی تھی وہ اوباش بگڑا امیر زادہ ہے بس اتنا سا ۔۔ مجھے مت مارو ایسے ۔۔ حدیقہ نے بھی جاتے وقت مجھے اس سب کا ذمہ دار ٹہرایا ۔۔ انزل اسکی آخری نظروں میں بھی مجھ سے شکوے تھے ۔۔ وہ مر کہ میرے لیے پچھتا وا چھوڑ گئی ہے ۔۔

کیا کہہ رہی ہو اسرا ۔۔ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔۔وہ بے یقینی سی پوچھ رہی تھی ۔۔

کیا تمہیں نہیں پتہ وہ ۔۔ نمی لیے افسوس سے سر ہلاتی پوچھ رہی تھی ۔۔ انزل تمہیں نہیں پتہ ۔۔حدیقہ نے خودکشی کر لی ۔۔ حدیقہ مر گئی ۔۔

وہ انزل کو تھامے رو رہی تھی ۔۔ آس پاس گزرتے لوگ ٹہر گئے اسے روتے ہوئے دیکھ رہے تھے

بکواس ہے یہ سب ۔۔ حدیقہ سے وہ تین دن پہلے ہی تو مل چکی تھی ۔۔اسے یقین نہیں آریا تھا ۔۔

اسرا اسکے گلے لگ کہ رونے لگی ۔۔ انزل خود ٹرانس کی سی کفیت میں تھی ۔۔

کل اسکا جنازہ اٹھایا جا رہا تھا ۔۔ انزل میں اس سے ملنے گئی ۔۔ اس نے کہا وہ آخری دفعہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔۔ انزل میں نہیں جانتی تھی وہ آخری وقت اسکی زندگی کا آخری وقت ہوگا ۔۔ اس نے کہا میں بھی اتنی ہی ذمہ دار ہوں جتنا کہ ماویٰ ۔۔

میں تکلیف میں ہوں مجھے سکون نہیں مل رہا ۔۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے ۔۔ مجھے ماویٰ کے بارے میں تم لوگوں کو بتانا چاہیے تھا ۔۔

انزل اسے خود سے الگ کیے وہاں سے جانے لگی ۔۔

میں تم سے آخری دفعہ ملنا چاہتی ہوں ۔۔ خالی نگاہوں سے دیکھتی حدیقہ اتنی بڑی بات کہہ رہی تھی۔۔

اوہ حدیقہ یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ موت ۔۔۔ موت کو گلے لگا لیا ۔۔حدیقہ میری پیاری دوست ۔۔ وہ دل میں کہتی آنسو چھپائے جا رہی تھی تیز قدم اور تیز ۔۔

جان تو اسکی بھی نکل رہی تھی ۔۔ وہ آخری وقت میں بھی اسے بچانا چاہتی تھی ۔۔ ہاں اس نے ہمیشہ ماویٰ سے دور رکھا ۔۔ کچھ دوست ہمارے گارڈینئل اینجل ہوتے ہیں ہمیں کئی نقصانات پہ نہ چاہتے ہوئے بھی بچا لیتے ہیں ۔۔ حدیقہ نے کئی دفعہ ماویٰ سے دور رکھا اسے ۔۔ اور کچھ اسرا جیسے جو جہنم میں جھونک کہ خود علحیدگی اختیار کر لیتے ہیں ۔۔ اسرا کی سزا اسکا پچھتاوا رہ چکی تھی ۔۔

انزل اپنے وجود کو گھسیٹتے گھر لے جا رہی تھی ۔۔

اسے اب یونیورسٹی نہیں آنا تھا ۔۔ ہر جگہ حدیقہ یاد آتی ۔۔ وہ حدیقہ کو کیا سمجھتی تھی اور حدیقہ کیا نکلی ۔۔ اگلے ایک ماہ اس نے اپنے اسے ماتم کہ پیش نظر کر دئیے ۔۔

اب اسے وہاں نہیں جانا تھا ۔۔ مگر قسمت اسے منتخب کر چکی تھی ۔۔ ہر ماویٰ کا حساب ہوتا ہے ۔۔

ہر اوباش کا مکافات ہوتا ہے قسمت بدلہ لیتی ہے لڑکی کے روپ میں بیٹی بنا کہ بیوی بنا کہ بہن ۔۔۔ یا دشمن

اس جہاں میں ہر ماویٰ کے لیے انزل موجود ہے

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کیا ہوا ہے تمہیں کیوں بولائی بولائی سی پھر رہی ہو تم ۔۔۔ آم کے گھنے درخت سے ٹیک لگائے مہ پارہ بیٹھی تھی ۔۔ ہنزہ اسے گھر سے یہاں تک لے آئی میلاد کے لیے انتظام ہنزہ پہلے ہی کر چکی تھی ۔۔اسکے ماتھے پہ آتا پسینہ بات بے بات پہ اڑ جانا وہ پریشان تھی ۔۔مہ پارہ سے چھپ نہ سکی ۔۔

کیا ہوا ہے ہنزہ کوئی بات ہے کیا ۔۔ مہ پارہ نے ازلی نرم لہجے میں پوچھا ۔۔

ہنزہ کا دل کیا سارا راز کھول کہ رکھ دے مگر وہ ایسا چاہتے ہوئے بھی نہ کر سکی ۔۔ چپ ہوگئی ۔۔

کچھ نہیں ۔۔ ہنزہ بتانے اور نہ بتانے کے درمیاں پھنس چکی تھی۔۔

اچھا بتایا تھا خالہ نے ۔۔ تمہارے رشتے کی بات چل رہی ہے ۔۔ اور تم نے مجھے بتایا ہی نہیں ۔۔ مگر میں انتظار کر رہی تھی کب تم مجھے بتاؤ ۔۔

مہ پارہ آنکھیں مٹکائے اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔

ہنزہ کو کچھ راحت ہوئی اس نے پھیکی سی مسکراہٹ سے مہ پارہ کی طرف دیکھا۔۔

کیا ہوا کیا تم راضی نہیں ؟ مہ پارہ کو تشویش ہوئی۔۔

نہیں میں شادی نہیں کرنا چاہتی مہ پارہ ۔۔ اسنے بیٹھے بٹھائے بات بنائی

کیوں؟

اب ہر کسی کو تمہارے جیسا تو نصیب نہیں ملتا ۔۔ کہتے کہتے چپ ہوگئی۔۔ اس نے شاذل کو یہ نہیں بتایا تھا کہ مہ پارہ شادی شدہ ہے۔ اس نے ادھر نظر دوڑائی صد شکر وہ وہاں ابھی آیا نہیں تھا

کسی کا نصیب اسکی پسند کا نہیں ہوتا ہنزہ ۔۔ہم سمجھتے ہیں جو ہم سے اوپر ہے وہ خوش ہوگا ۔۔ جس کے پاس پیسہ گاڑی محل جیسے مکان سب کچھ موجود ہے وہی خوش ہوگا ۔۔ مگر ایسا نہیں ہے جس کے پاس پیسہ نہیں اسے کمانے کی فکر جس کہ پاس پیسہ اسے بچانے کی فکر ۔۔ کوئی خوش نہیں یہاں ۔۔

مہ۔پارہ کچھ اور بات کرو ۔۔ ہنزہ دور سے آتے شاذل کو دیکھ چکی تھی جو مہ پارہ کو میٹھی نگاہوں سے دیکھتا بائیں طرف لگے ایک قطار میں درخت کی ایک اوٹ کے پیچھے بیٹھ چکا تھا یعنی اسکا موڈ یہاں بیٹھ کہ مہ پارہ کو سننے کا تھا ۔۔

مہ پارہ خاموش ہوگئی ۔۔ آج سے پہلے تمہیں اس طرح نہیں دیکھا ہنزہ ۔۔

کچھ سناؤ کچھ ایسا جو دل سکون دے۔۔ ہنزہ نے بے چینی سے فرمائش کی وہ زیادہ نہ بول دے یا افنان کے متعلق نہ بول دے وہ جان چکی تھی شاذل مہ پارہ کو پسند کرتا ہے شاذل کو اس گاؤں کا ہر بندہ جانتا تھا ۔۔ وہ الٹی کھوپڑی کا انسان ہے اگر غصے میں مہ پارہ کو کوئی نقصان پہنچا دیتا تو ؟؟وہ اسکی پہلی اور آخری دفعہ بات مان رہی تھی ۔

اچھا جی ۔۔ ہنزہ کی اسطرح فرمائش عجیب تھی مگر افنان کی جدائی اس پہ بھی طاری ہو چکی تھی ۔۔وہ اپنی سریلی آواز میں حضرت شاہ نیازی کا کلام پڑھنے لگی ۔۔ افنان کو کلام بہت پسند تھے وہ ہمیشہ گانے پہ کلام۔کو ترجیح دیتا یہی پسند مہ پارہ کو کئی خوبصورت کلام حفظ کرا گئی

وہ آنکھیں بندکئے دیوار سے ٹیک لگائے ۔۔ پڑھنے لگی آواز اپنی طرف سے کم مگر شاذل کے کان میں بھی یہ رس انڈلنے لگا۔۔

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا ۔۔۔۔افنان کا کلام پڑھتا چہرہ نظروں میں آیا ۔۔ مہ پارہ پہ سوز چھانے لگا آواز اونچی ہو چکی اب وہ اپنے حال سے بے خبر پڑھنے لگی

کبھی ظاہر کبھی چھپا دیکھا ۔۔۔

یار کو ہم نے جابجا دیکھا ۔۔

کبھی وہ بادشاہ تخت نشین

کہیں کاسہ لیے گدا دیکھا۔۔

یار کو ہم نے جابجا دیکھا۔۔

وہ اپنے اطراف سے بیگانی پڑھتی چلی جا رہی تھی ۔۔

شاذل مٹی پہ بیٹھ گیا ۔۔ ایسا سوز ایسی آواز ایسے جذبات اس نے پہلے کبھی نہ سنے وہ آواز کو پہلے اونچا کرتی پھر آہستگی سے مسکراہٹ کے ساتھ اگلا جملہ ادا کرتی جیسے ہنڈولہ میں جھولا جھولا جاتا ہے

باغ میں ہلکی ہلکی ہوا اسکی آواز کو چاروں طرف لے جا رہی تھی۔۔

محل نما حویلی میں دبیز قالین کے اوپر بچھے تخت پہ۔بیٹھنے والا شاذل مٹی پہ مٹی ہوچکا تھا ۔۔

مہ پارہ آج شاہ تھی اور وہ گدا بن کہ اسکی آواز کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھے بیٹھا تھا ۔۔

وہ نہیں جانتا کیسے مگر سکون اسکے دل پہ اتر گیا ۔۔ کئ سالوں کی مسافت کی تھی ۔۔ بابا اور ماویٰ سب اسکے غصے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے وہ سب میں اکیلا تھا اسکی ماں کا مرتا چہرہ اسے ابھی تک خوفزدہ کیے ہوئے تھا وہ مینٹل ہاسپیٹل کے چکر بھی لگا چکا تھا ۔۔ ۔۔ مہ پارہ کی آواز اسے ہر غم سے دور کیے ایک الگ ہی دنیا میں لے آئی عشق کی۔دنیا وہ آنکھیں موندے سن رہا تھا یہاں تک کہ مہ پارہ نے کلام مکمل۔پڑھ لیا ۔۔مگر شاذل کو اسکا کلامساری زندگی تلک یاد رہ چکا تھا۔۔ اور بار بار سنائی دیتا تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ماویٰ اور مکرم اکیلے رہ گئے شاذل باہر چلا گیا ۔۔

انزل اوپر کمرے میں ۔۔

بابا اس پاگل کا کوئی علاج کرنا ہوگا ۔۔ماویٰ کا اشارہ شاذل کی طرف تھا۔۔

ہوں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔۔مگر تم مجھے یہ بتاؤ کیا یہ وہی لڑکی ہے جس نے تمہیں جیل پہنچایا تھا ۔۔

ماویٰ کو وہ تلخ قصہ یاد آگیا ۔۔۔

ہاں ۔۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اقرار کر گیا ۔۔ تو تم نے اسے وہیں ختم کیوں نہیں کیا ماویٰ ۔۔

بابا اسے اس سے بھی اچھی سزا دی تھی ۔۔ یہ امان سنٹر میں تھی ۔۔ پتہ نہیں کیسے وہاں سےآگئی ۔۔

وہ مکرم پہ ہولناک انکشاف کر گیا ۔۔

تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے کیا ۔۔۔ یہ لڑکی وہاں سےکیسے نکلی۔۔ وہاں اتنی سخت سیکورٹی کی تھی تم نے ۔۔ تم سے ایک لڑکی نہیں سنبھالی گئی ۔۔ تو یہ سنٹر کیسے سنبھالوں گے ۔۔۔ یہاں صغراں اک عرصے سے سنبھال رہی ہے کبھی کسی لڑکی کی بات نکلی کیا ۔۔ وہ سیخ پا ہو چکے تھے ۔۔

بابا میں اس لڑکی کا کچھ نہ کچھ کر لوں گا ۔۔

اور وہ ساتھ والی جس کو بھاگا کہ ساتھ لائی ہے اسکا بھی ۔۔ دوسری بات دل میں سوچی مبادا اسکے بابا مزید غصہ کرتے ۔۔

میں نہیں جانتا کیسے مگر وہاں سے معلوم کرو یہ لڑکی شبنم کی قید سے کیسے نکلی اور اس نے مجھے آگاہ کیوں نہیں کیا ۔۔ اس لیے نہیں پال رہا ان حرام خوروں کو میں ۔۔ ایک گئی مطلب اور بھی جا سکتی ہیں ۔۔ وہاں جا کہ معاملہ سیٹل کرو شاذل اور آفندی کو میں دیکھ لوں گا ۔۔ اور اس لڑکی کو بھی ۔۔

وہ تحمکانہ لہجے میں بولتے ماویٰ کو سخت سست بھی سنا رہے تھے ۔۔

شاذل کو پہلے ہی انجام پہ پہنچا دیتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔۔ ماویٰ نے احتیاط سے پہلے کے تمام واقعات کے پیش نظر کہا ۔۔

ابھی نہیں ۔۔ ابھی کچھ سال باقی ہیں اور مت بھولو اس نے کتنا فائدہ دیا ہے ہمیں۔۔

اب بھی دے گا ۔۔ بس تمہیں جتنا کہا ہے اتنا کرو ۔۔ وہ وہاں جا کہ شبنم کو اطلاع دے دو وہ یہاں سے نکالی جا سکتی ہے ۔۔وہ ماویٰ کو وہاں جانے کا کہہ کہ خود ڈیرے پہ چلے گئے ۔۔ آفندی کو ابھی دام میں لانا تھا۔۔ اور شاذل انزل کے بارے میں لائحہ عمل کرنا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *