Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 07)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

دروازے کوکھولنے کی کوشش کرتی وشمہ اب تھک چکی تھی وہ ان دونوں کو لاک کئے چلا گیا تھا۔۔۔

ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا وشمہ ۔۔۔وہ پریشان ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔

ہاں اور یہ جو درجن بھر کے دشمن تمہاری بوٹیاں نوچنے کو کھڑے ہیں ان کا کیا ؟؟

وشمہ اس دن کو رو رہی تھی جب اسے ساتھ لے کے نکلی ۔۔۔

مجھے اپنی نہیں تمہاری فکر ہے وشمہ ۔۔

وہ فکرمندی سے بولی ۔۔۔

بہت بہت شکریہ نظر آرہا ہے تبھی یہ سب راز رکھا ۔۔۔اب یہ بتاؤ یہاں سے نکلنا کیسے ہے ۔۔۔

وہ رازداری سے پوچھنے لگی۔۔

صغراں کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا۔۔ اس نے بے تکی سی تجویز دی ۔۔ او خدا کی بندی اسکو ملانے سے اچھا ہے شیطان کے کسی چیلے کو ملا لیں ۔۔۔وشمہ تنک کے بولی ۔۔۔

سنو تو سہی ۔۔۔۔وہ خاموشی سے پلان بنا رہی تھی۔ ۔۔۔

مگر وشمہ کو اس پلان سے کوئی خاص امید نہیں تھی۔۔۔

_________________________________

آفندی ٹھیک کہتا تھا وہ زیادہ دیر انزل کو بچا نہیں سکتا ۔۔ گھر میں رکھے گا تو ماویٰ اسے نوچ ڈالے گا باہر جانے دیا تو آفندی اس سے اپنی بہن کی خوشیوں کا بدلہ کے گا ۔۔۔ وہ اسے کسی محفوظ مقام پہ لے جائے گاہاں یہ صیح ہے

۔۔ اتنی مشکل آخر کیوں ۔۔صرف اس لئے کہ وہ ما پارہ کی طرح دکھائی دیتی ہے

وہ ماتھا مسلنے لگا ۔۔۔۔۔

شاذل یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ بنتی بات کو خراب کر دیا ۔۔۔

تجھے وہ لڑکی چاہیے تھی مجھے کہتا ۔۔ ایسی کئ لڑکیاں تجھ پہ وار دیتا ۔۔۔

وہ حقارت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا ۔۔

شاذل پہلے بھی تم نے اس نیچ لڑکی کے لئے کیا کچھ نہیں سہا اب یہ دوسری کون ۔۔۔

مہ پارہ نیچ نہیں ہے ۔۔۔۔نہیں تھی کبھی بھی۔ وہ نیچ

وہ اس غلام کی ملکہ ہے ۔۔۔ اور ہمیشہ رہے گی ۔۔۔ وہ چیختا اپنی طرف اشارہ کرتا اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

مکرم صاحب اپنے اس بڑے بیٹے کی حالت سے گھبرا گئے ۔۔۔۔

بچپن سے ہی اسکا ذہن بہت کچھ سہ چکا تھا ۔۔۔۔

پھر اب یہ لڑکی ۔۔۔ شاذل دوبارہ پہلے جیسا شاذل بن رہا تھا ۔۔۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ واقعی خواب نہیں دیکھ رہی تھی یہ سب حقیقت تھی ۔۔۔

سفید رنگ کی کامدار اور نفیس کڑھائی والی پیروں تک آتی فراک ۔۔۔ سر پہ ڈوپٹہ جمائے۔ پھولوں کی پتیوں سے سجی سیج پہ بیٹھی وہ افنان کی دلہن تھی آخرکار افنان کے دل میں اسی۔ محبت کے دئے جل اٹھے ۔۔

وہ اپنی فراک اٹھائے بیڈ سے نیچے آتی سامنے لگے شیشے کے سامنے اپنا سراپا دیکھنے لگی ۔۔

سفید رنگ کی فراک ۔۔۔

آئے ہائے کبھی دلہنیں بھی سفید جوڑا پہنتی ہیں کیا ؟

سرخ جوڑا ہی ٹھیک ہے بازار میں کھڑی ۔افنان کو ڈانٹتی تائی اماں ۔۔۔

نہیں سفید ہی ٹھیک ہے وہ ہڈ دھرمی سے کہتا ۔۔۔

واپس بازار سے۔ آتا چہک۔ رہا تھا

اماں خبر دار جو اسے میک اپ کی دکان بنوایا وہ اپنی اماں کو تنبیہ کرتے بول رہا تھا ۔۔۔

کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔ اسکی ماں اسکی فرمائشوں پہ تنگ آگئی ۔۔

اماں میری دلہن میری مرضی ۔۔ وہ دلکش نگاہوں سے مہ پارہ کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔

اور وہ تو ایسا ہی بن جاتی ۔۔ اسے یاد تھا سولہ سال کی عمر میں جب اسکی عربی والی باجی عمارہ

نے اسے سفید چادر دی تھی ۔۔ اسے دیکھ کہ پہلی دفعہ افنان نے اسکی تعریف کی ۔۔

اب وہ کیسے اسے سمجھا تی مہ پارہ ےو ہمیشہ سے ویسی بن جاتی تھی جیسا افنان چاہتا ۔۔

اسے فارسی پسند تھی مہ پارہ نے اپنی عربی والی باجی سے کچھ کچھ سیکھنا شروع ہوگئی ۔۔

اسے لڑکیوں کا بلا وجہ گھومنا نہیں پسند وہ گھر میں مقید ہو جاتی ۔۔ وہ تو سراپا عشق تھی ۔۔

دروازے کی ناب گھومی ۔۔ افنان اندر داخل ہوا وہ اپنی سوچوں میں مگن افنان کے یوں اندر آنے پہ سٹپٹا گئی۔۔

ڈریسنگ ٹیبل کی سیٹ سے اٹھ کے واپس جانے لگی

افنان کسی اور ہی دنیا میں کھویا آگے بڑھ رہا تھا وہ اسے وہیں رکنے کا اشارہ کرتا اپنی ترنم آواز میں

اپنی پسند کا کلام پڑھنے لگا…

زحال مسکین مکن تغافل مکن تغافل دُرائے نینان بنائے پیتیاں

(اس غریب کے دل سے تغافل نہ برت ۔۔آنکھیں نہ پھیر باتیں نہ بنا)

وہ قدم بڑھاتا اسکے قریب آرہا تھا

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں ۔ نہ لہیو کاہے لگائے چھتیاں

(میری جان کہ ہجر کی۔تاب نہیں ہے ۔اپنے سینے سے مجھے لگا کیوں نہیں لیتے)

اسکی آنکھوں میں دیکھتا مسحور ہوا پڑھ رہا تھا

شبان ہجراں دراز چوں زلف۔دراز وصلت چوں عمر کوتاہ۔۔

اس ہاتھ کو تھام کہ اپنے دل پہ رکھا

(جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز ۔۔ اور وصال کے دن عمر کی مانند کم)

سکھکی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری راتیاں۔۔۔

بس کلام کا ایک مصرعہ ہی مہ پارہ کو سحر میں جکڑ گیا۔۔۔

وہ خاموش ہواتو مہ پارہ کچھ بولنے کے قابل نہ رہی۔۔

دونوں کے درمیان حائل خاموشی بھی مسکرا رہی تھی ۔۔

مہ پارہ ۔۔ افنان مسحور ہوا اسے پکارے ہوئے تھا۔

مہ پارہ اس پکارنے والے پہ قربان۔۔۔

شکریہ مہ پارہ ۔۔۔ میرے لیے دعا کرنے کے لئے۔۔

مجھے گمراہ ہونے سے بچانے کے لئے ۔۔

میرے لیے پاک رہنے کے لئے

اتنے سال مجھ سے محبت کرنے کے لئے۔۔

مہ پارہ شکر یہ۔۔

شکر اللہ کا کی اس نے تمہیں مجھے عطا کیا ۔۔

شکرالحمدللہ آج یہ دن دکھانے کا۔۔

شکر الحمداللہ دنیا کی سب سے حسین ساتھی میرے نصیب میں لکھنے کا ۔۔۔

مہ پارہ کے آنکھوں میں آنسو ۔۔۔

ابھی تو اللہ کا شکر ادا کرنا تھا ۔۔۔ اس زندگی کے شروعات کے لئے۔۔

دور کہیں چاند اپنی روشنی بکھرے ہوا تھا ۔۔اور افنان کا گھر اس چاند کے ٹکڑے سے پر نور ہو چکا تھا۔۔۔

افنان کی امامت میں ادا کرتی شکرانے کے نفل ۔۔۔۔۔

اور اک حلال حسین زندگی کا آغاز ۔۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

ماویٰ کی گرفتاری کے بعد وہ بظاہر وہ خود کو نارمل رکھتی وہاں جانے لگی ۔۔۔

میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گا ۔۔۔افنان اسکی حالت کے پیش نظر بولا ۔۔

نہیں وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔۔

انزل میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔ تم ابھی ٹراما سے گزر رہی ہو اور تمہیں۔۔۔

اور مجھے کسی کی ضرورت نہیں ۔۔۔ افنان صاحب آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔۔۔

وہ کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔

بس سے گھر تک کا سفر مشکل تھا ۔۔ خوابوں کی نگری ٹوٹ گئی تھی۔۔ محبت ۔۔ ہائے دل میں پنجے گاڑھتی اس محبت سے اسے نفرت یو چلی تھی ۔۔

وہ سب خوبصورت لمحے اب کسی ڈراؤنے منظر میں تبدیل ہو چکے تھے جب بھی اسکی نظروں کے سامنے آتے اسکی آنکھوں میں چبھنے لگے تھے۔۔

بس سے اترتی گھر کے سامنے کھڑی ۔۔۔کال بیل بجائی

اگر وہ افنان کی حدیقہ پہ یقین نہ کرتی تو آج عزت کا موتی لٹا کہ آتی ۔۔ یہ سوچ کہ ہی کانپ اٹھی ۔۔

قسمت نے دروازہ کھولا ۔۔

آئیے وہ شرارت سے بولتی دروازہ کھول رہی تھی ۔۔

انزل کے فق اور رویا رویا سا چہرہ۔۔۔

کیا ہوا ؟؟

انزل کیا ہوا ۔۔ وہ اسے اس حالت می دیکھ کہ پریشان ہو گئی ۔۔ اور انزل کو کوئی غمگسار ہی تو چاہیے تھا ۔۔

وہ اسکے گلے لگ کہ رونے لگی ۔۔ ہکا بکا سی قسمت اس،صورتحال کو کیسے سنبھالے سمجھ نہیں رہی تھی ۔۔۔

تمہارا آج انٹرویو بھی تھا کیا ہوا اس وجہ ۔۔۔ اسے اور تو کچھ سمجھ نہ آیا

۔۔۔

انزل اسے نہیں بتا سکتی تھی ۔۔ وہ غم کو اپنے دل میں لئے چپ ہو گئی ۔۔ میں فیل ہوگئ محنت تو بہت کی تھی میں نے مگر میں پاس،نہ ہو سکی ۔۔ وہ سر جھکائے تھکی آواز میں بول رہی تھی ۔۔۔

پاگل ڈرا دیا مجھے ۔۔ اور نوکری مل جائے گی تمہیں ۔۔۔ ایسے کون روتا ہے ۔۔ چلو فریش ہو جاؤ کھانا کھاتے ہیں وہ اسکی سر پہ چیت لگائے بول رہی تھی ۔۔۔

نہیں ۔۔ ابھی مجھے سونا ہے بہت سارا ۔۔۔

وہ کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

دروازہ بند کئے آنسو ٹوٹے خوابوں کو بہا رہے تھے ۔۔ وہ سکون پانا چاہتی تھی ۔۔ مگر کہیں بھی سکون نہیں تھا ۔۔

وہ اپنے محبت کے بھرم کو ٹوٹا دیکھ بے جان سے بستر پہ لیٹ گئی مگر چین نہ ملا تو اذان کی آواز نے اتنا سکون دیا کہ آنسو خود بخود بہنے لگے وہ چپ چاپ اٹھی وضو کیا جاۓ نماز لے کر بچھایا

وہ کانپ رہی تھی اس نے ایک نظر بچھے جاۓ نماز کو دیکھا۔۔۔۔ آنسو رواں ہوۓ اور لڑیاں بن کر بہتی. گئ

اس نے ہاتھ باندھے اسے اپنے ہاتھ سرد لگ رہے تھے

اس نے نیت یاد کی ۔۔کیا نیت تھی؟

کیا میں بھول چکی ہے؟

میں اتنی گنہگار ھوں مگر کھڑی ہو خدا کے آگے

۔۔

کیا میری نماز قبول ہو گی

شیطان کی بہکانے کی کوشش۔۔۔

اس نے سوچا ۔۔۔۔۔

بسمہ اللہ اس نے پڑھنا شروع کیا۔۔

شروع اللہ کے نام سے اس کے دل نے ترجمہ کیا

وہ قیام میں کھڑی لرزنے لگی ۔۔اللہ ۔۔۔

کتنی بار نام کیا میں نے اپنے رب کا ؟

کتنی بات نماز پڑھی میں نے؟

خود کو کٹہرے میں لے آئ۔۔

شروع اللہ کے نام سے ۔۔اس کے دل نے پھر ترجمہ کیا

کیا میری زندگی اللہ کے نام سے نہیں شروع ہو ئ تھی؟

پھر میں کیوں بھٹکی؟

انساں کیوں بھٹکتا ؟

اس کے اندر سے سوال پوچھا گیا

کیوں کے وہ غافل ہو جاتا ہے

نہیں انساں نفس کی کشتی میں سوار دنیا کے دریا میں اترتا ہے ۔۔ اس کا نفس اس کشتی میں سوراخ کرنے کی کوشش کرتا ہے

اگر انسان اجازت دے دیتا ہے تو اس سوراخ سے پوری کشتی کو ڈبونے کی ذمہ داری شیطان کی ہوتی ہے لیکن یہ شروع انسان کی اپنی مرضی سے ہو تا ہے پھر نا خود کا رہتا ہے نا دنیا کا۔۔

اس کے اندر جنگ چھڑ گئ تھی ایسی جنگ جو ازل سے انسان کے اندر ہورہی ہے۔۔

بسمہ اللہ الرحمن ۔۔۔

وہ آگے بڑھی

سنا وہ رحمان ہے وہ تب روکتا جب انسان گناہ کرتا ہے وہ جو تمہارے اندر رہتا ہے جب انسان گناہ کی طرف جاتا ہے تو وہ روکتا ہے خبردار کرتا ہے مگر افسوس کے انسان وہی چاہتا ہے جو اس کا نفس چاہتا ہے۔۔۔۔

میں نے اس سے سچی محبت کی تھی۔۔ وہ اندر ہی اندر چیخی ۔۔

اچھا تو کیا تم نے گناہ نہیں کیا آواز آئی ۔۔

کیا محبت گناہ ہے۔۔ اس نے پوچھا

کیا کسی عورت کا نامحرم کے لئے جذبات رکھنا نیکی ہے ؟ کیا کسی نامحرم کو وہ حق دینا نیکی ہے حو کسی کی امانت ہو ؟ کیا بازاروں میں بنت حوا کا غیر کے ساتھ گھومنا ثواب ہے اگر ہاں تو محبت گناہ نہیں۔۔۔

محبت تو فطری ہے ہو جاتی ہے کیا کیا جائے

خاموش ہو جائے اپنے نفس کو قابو کرنے کی کوشش کرے خاموشی سے اللہ سے بات کیجا ئے بجائے اپنے جذبات کا اظہار کر کے خود کو تکلیف پہنچائے۔۔

🔥: تو اللہ نے نفس کو کیوں نہیں قابو میں کیا نا گناہ رہے نا گناہ کرنے کی ہمت ۔۔۔۔

اپنی عقل اور شعور کے مطابق مشورہ۔۔۔

واہ کیا کیا اسکی حکمت پہ یقین نہیں۔۔

انسان کی فطرت ہے شکوے کرنا اسے ہر چیز کو اپنی مرضی سے کرنا نفس اللہ نے فرشوں کے قابو میں کیۓ ہیں اس لۓ انسان اشرف لمخلوقات بنایا ہے

انسان کا نفس اس لۓ اس کے ہاتھ میں دیا ہے کی سے بندے تجھے قسمت اپنی زندگی اور وقت پر حکومت کرنے کا شوق ہے تو اس پے حکومت کر کے دکھا

مگر وہ تو اس کو ہی قابو نہیں کر پاتا

آنسؤں سے چیہرا تر ہو چکا اس کے اندر کا قاضی حق ہی تو کہ رہا رہا اسے بھول گیا وہ نماز پڑھ رہی ہے یاد رہا فقط اتنا ابھی بسمہ اللہ تک پہنچی تھی

بسم للہ الرحمن الرحیم وہ مہربان ہے دل نے آواز دی ۔۔ اس نے خود رحمان اور مہربان اس لۓ کہا کے وہ بندے کے گناہ نا صرف معاف کرتا ہے بلکہ اپنی رحمت کے سمندر کی طرف لے آتا ہے ۔۔

میں بھی اپنے رب کے پاس جانا چاہتی ہوں جو کر دیا اس پہ معافی چاہتی ہوں ۔۔۔۔ بلک بلک کے رونے لگی

آواز آئی جب انسان گناہوں کے سمندر میں ڈوب جا تا ہے ہاتھ پاؤں مارتا تب رب سوہنا اسے اپنی رحمت. سمندر میں لے آتا ہے اس کے آنسؤں کو ضائع ہو نے سے بچا لیتا ہے اور اس سمندر میں کسی کو اپنی بخشش کی کشتی میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی کو دوست کے رتبے کی کشتی میں ۔۔

اللہ تعا لی انسان کی فطرت کو جانتا ہے گناہ کرنا انسان کی فطرت اور معاف کرنا میرے رب کی محبت

۔۔ اور کسی کے پاس بیٹھ کر اس کا بے چین ہو نا سنتا ہے اس کے رونے کو اس کی معافی کی التجا کو

اللہ کو تو اپنے بندے سے لاڈ کرنا بہت پسند ہے

وہ اس آواز آور اس سرور اور بے چین ہوئی اور رونے لگی وہ بھول گئی کے وہ نماز پڑھ رہی ہے وہ سجدے میں گر گئی ایک دو آنسو گرے پھر آنسؤں کی لڑیاں نہیں یاد جب وہ روتے روتے سجدے میں سو گئی اور یہ پر سکوں نیند تھی

آئندہ کی زندگی میں ابھی سکوں باقی تھا اللہ نے اسے اس کی فطرت سے اپنی محبت تک کا سفر کروا دیا تھا اب عشق کا سفر اس نے خود کرنا تھا___

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *