Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Last updated: 28 March 2026
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 01)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 02)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 03)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 04)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 05)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 06)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 07)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 08)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 09)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 10)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 11)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 12)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 13)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 14)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 15)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 16)Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Last Episode)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
وہ سامان کے ساتھ تیار کھڑی تھیں۔۔ آج کی رات انکی آزادی کا دن تھا ۔۔ ابھی صبح کا منظر اسکی نگاہوں کے سامنے لہرا گیا میڈم شبنم ۔۔ ہاتھ میں پٹہ پکڑے اسکی طرف بڑھی وہ اکڑوں بیٹھی ۔۔ نہیں کا ورد کیے جا رہی تھی۔۔ اسے یہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ وشمہ جو یہاں دو ہفتے پہلے آئی تھی اس حقیقت سے آگاہ کر چکی تھی کہ یہاں کونسا گندا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔۔۔ انزل اپنے چچا کہ گھر سے یہاں سکون کی غرض سے آئی ۔۔ مگر وہ درندوں کی آماجگاہ میں آچکی تھی۔ ۔
میڈم شبنم نے ہوا میں پٹہ لہرا کہ اسکی کمر پہ ایک درہ رسید کیا ۔۔ اس نے پہلے جلن سی محسوس ہوئی پھر ماس کے اندر تک درد محسوس ہوا وہ بلبلا اٹھی پھر اسکے بعد میڈم شبنم کا ہات نہ رکا وہ زمین پہ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔ اسکے بازو سے ایک حصے سے گوشت شاید پھٹ چکا تھا اسکی قمیض خون سے رنگنا شروع ہوئی وہ چیخ رہی تھی ۔۔ اسکے چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا مگر میڈم شبنم کو ترس نہ آیا ۔۔ ۔تھوڑی دیر میڈم رکی پٹہ پیھنکا اسکی طرف بڑھی ۔۔بتا اب انکار کرے گی ۔۔ وہ اسکے منہ کو نوچے کھڑی پوچھ رہی تھی۔۔ بتا نہیں تو عبرت کا نشان بنا دوں گی ۔۔ انکے ناخن اسکی چہرے کی جلد کو زخمی کر رہے تھے ۔۔ انزل کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔۔۔۔ اس نے واپس میڈم شبنم کی گردن کو دبوچ لیا پاس کھڑا انکا ملازم میڈم کی طرف چھڑانے کی لئے بڑھا میڈم شبنم اسکے بازو پہ ہاتھ مار رہی تھی مگر وہ جیسے آج قصہ تمام کرنے پہ تلی تھی ۔۔ بالآخر انکے ملازم نے انہیں چھڑا ہی لیا ۔۔ وہ سانس بحال کرتی دوبارہ پٹے کی طرف بڑھی ۔۔۔
میڈم رک جائیں ۔۔۔ میڈم رکیں ۔۔ رات تک مان جائے گی یہ ۔۔ آپ کیوں اپنا خون پسینہ اس پہ لگا رہی ہیں ۔۔ پاس کھڑی وشمہ میں آخر جان پڑ ہی گئی ۔۔ ۔
اسکو سمجھا لو لڑکی ورنہ میرے ہاتھوں ضائع ہو جائے گی اپنی گردن پہ ہاتھ پھیرتے وہ وہاں سے جانے لگی مبادا انزل کوئی اور قدم نہ اٹھا لے ۔۔
انکے جاتے ہی وشمہ نے کمرہ بند کیا بت بنی آنسوؤں سے تر ہوتے فق چہرے لئے انزل آج پہلی دفعہ ایسا درد محسوس کر رہی تھی ۔۔ ہاتھوں میں منہ چھپائے رونے لگی ۔۔۔
بی بی رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہاں اگر تم یہاں سے جانا چاہتی ہو تو بتاؤ انزل۔کو ایک امید نظر آئی۔۔ وشمہ اسے سب سمجھاتی اسے دلاسہ دے رہی تھی ۔۔
اسے امید تھی وہ یہاں سے نکل۔جائے گی ۔۔ وہ دونوں دروازے کی طرف بڑھیں۔ کسی کی قدموں کی چاپ سے دونوں چونک گئی انزل کو اپنا آپ کسی اندیکھے پھندے میں پھنستا محسوس ہوا آواز قریب آنے لگی ۔۔ دونوں لٹے کی مانند سفید ۔۔ ۔۔
دروازہ کے قریب اس شخص نے چابی لگانی چاہی کہ ایک دھماکے سے پورا امان سنٹر بجلی سے محروم ہوگیا وہ جو بھی تھا واپس جانے لگا بھکڈر سی مچ گئی ۔۔ میڈم شبنم بھی معذرت کرتی ایمرجنسی جنریٹر کے لئے اپنے ملازم پہ چیخ رہی تھی ۔۔ بس ہو جاتا ہے۔۔۔
سردار احسان کا منہ بگڑ گیا موبائل کی ٹارچ میں سب کام ہو نے لگا ۔۔
انزل اور وشمہ روشنی کہ بغیر کمروں کی ایک قطار میں ہونے کا فائدہ اٹھاتے آگے چل رہی تھیں انہیں پچھلے دروازے کی طرف پہنچنا تھا دس منٹ میں یہاں سے باہر نکلنا تھا ۔۔ بلآخر وہ پچھلے دروازے تک پہنچ گئی ۔۔دروازے کا تالا رحیم نے پہلے ہی کھول دیا تھا وہ آہستہ سے دروازہ کھولتی باہر آگئی عمارت کی۔پچھلی طرف کاٹ کباڑ تھا انہی میں ایک ٹوٹا ہوا میز تھا جس کے اوپر پرانا ڈرم رکھا اور اوپر چڑھنے لگی اوپر خاردار وائر کو پیچھے ہٹانے لگی ۔ پہلے انزل چڑھی پھر وشمہ ۔۔دونوں دیوار پہ ٹانگیں لٹکائے بیٹھ چکی تھیں اب بس وہاں سے کودنا تھا۔۔ اب بس دو منٹ رہ گئے تھے ۔۔ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔۔۔۔ تین اور دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ۔۔نیچے کودی ۔۔۔ زمین پہ گرتے گرتے سنبھل گئی اب وہاں سے سر پٹ دوڑنے لگی ۔۔ یہ علاقہ کم۔آبادی والا تھا تو انکا اس علاقے سے نکلنا ذیادہ ضروری تھا بھاگتے بھاگتے سانس پھولنے لگی انزل کے زخمی وجود میں صبح کے لگی پین کلر کےانجکشن کا اثر کم ہو رہا تھا اور درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی ۔۔ وشمہ اسے سہارا دیتے ساتھ میں مدد کر رہی تھی ۔۔ وہ مین سڑک پہ چل دی ۔۔ اب وہاں سے کوئی بھی بس پکڑنا تھی او ر اپنی منزل کا تعین کرنا تھا ۔
ادھر امان سنٹر میں لائٹ آچکی تھی مگر وشمہ اور انزل جا چکی تھی ۔۔ میڈم شبنم ہر ایک پہ۔چلا رہیں تھیں اور سردار احسان اپنی بے عزتی کا بدلا لینے کی دھمکی دئے وہاں سے روانہ ہو چکا تھا ۔۔
رحیم ڈرم کو واپس اسکی جگہ رکھتا دروازے کو تالا لگا رہا تھا خاردار تاریں واپس جڑ چکی تھیں اب کسی کو کبھی پتہ نہ چلتا وہ وہاں سے کیسے گئی ۔۔
وشمہ جی ۔۔ آج ایک اور خطرہ مول لیا تمہارے لئے ۔۔وہ مسکراتا ۔۔ شبنم میڈم کو پچھلی سائیڈ کی رپورٹ دینے چل دیا
