Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 04)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

پرنسپل روم میں پھٹے کالر منہ سے نکلتے خون چشمہ ہاتھ میں پکڑے سنجیدہ سے پروفیسر بیٹھے ہوئے تھے انکے ساتھ والی کرسی پہ ماویٰ منہ موڑے بیٹھا تھا۔۔ بار بار کروٹ بدل کہ بیٹھتا ۔۔۔

جی پروفیسر صاحب آپ پہ الزام ہے کہ آپ نے انزل کو ہراساں کیا جس کی وجہ سے ماویٰ نے آپکو روکنے کی کوشش کی ۔۔۔

کیا آپکو میری حالت سے لگتا یے کہ میں نے ہراساں کیا ہوگا اور ماویٰ نے مجھے روکا ہوگا ؟ اچنبھے سے پوچھا ۔۔۔

جو بھی ہے آپکو پہلے بھی وارننگ دی گئی تھی اس بار آپ پہ لگائے الی گیشن پہ اگر انزل نے گواہی دے دی تو آپ کو یونیورسٹی سے ریزائن کرنا ہوگا اور ماویٰ سے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔

پرنسپل نے کسی رٹے رٹائے طوطا کی طرح بولا ۔۔

جی میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔ وہ طنزیہ انداز میں بولے ۔۔۔

چلیں آپ انزل کو بلائے تاکہ وہ گواہی دے ۔۔۔

ہاں ہاں کیوں نہیں مگر وہ اتنی اپ سیٹ ہے کہ کہیں چلی گئی ہے موبائل بھی بند ہے ۔۔

ماویٰ جلدی سے بولا ۔۔

چلیں اس کے گھر فون کر لیتے ہیں ۔۔یا آپ کمیٹی بیٹھائیں تاک مجھ پہ لگے الزامات کی تحقیق ہو سکے ۔۔۔

پروفیسر بھی جان گئے تھے یہاں کرپٹد لوگ بیٹھے ہیں ماویٰ جیسے لوگوں کے اشاروں پہ چلنے والے ۔۔

ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا ۔۔ پرنسپل صاحب نے بولا ۔۔

وہ ان دونوں کو وہاں کچھ دیر میں آنے کا کہا ۔۔۔

ماویٰ وہاں سے چلا گیا ۔۔

پروفیسر کچھ دیر پرنسپل سے بات کرنے رک گئے ۔۔

_____________________________________

انزل ڈرائنگ روم میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی ۔۔ سولی پہ لٹکنا کے جیسا انتظار ۔۔ وہ بار بار گھڑی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ حدیقہ کی ماں ایک عام سے گھریلو عورت تھی انہوں نے جوس آ کہ انزل کہ پاس ٹیبل پہ رکھا ۔۔ وہ چادر لئے عام سے لباس میں ملبوس تھیں ۔

حدیقہ کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا وہ اس عام سے گھر میں رہتی ہے۔۔

کچھ دیر بعد حدیقہ آئی ۔۔۔ وہ کہیں سے بھی حدیقہ نہیں لگ رہی تھی ۔۔ رویا رویا سا چہرہ ۔۔ تاثرات سے محروم آنکھیں مڑیل سا وجود اور وجود کو ایک بڑی سی چادر میں چھپائے وہ حدیقہ نہیں ہو سکتی تھی ۔۔ ایک ماہ میں وہ اتنی کمزور ۔۔

وہ پاس پرے صوفے پہ آک بیٹھ گئی ۔۔

جانتی تھی تم آؤ گی ۔۔۔اس نے کہا انزل کو یقین ہی نہیں تھا کہ یہ۔وہی انزل ہے جس کا چہرہ کبھی میک اپ سے محروم نہیں رہتا

مجھے نہیں یقین تھا میں آؤں گیں

تم بہت خوبصورت ہو گئی ہو ۔۔

یا تم جیسی ہو رہی۔ہوں۔۔

یہ۔محبت خوبصورت کر دیتی ہے پہلے پہل ایسا ہی لگتا ہے انزل مگر پھر یہ اپنا بھیانک روپ دکھاتی ہے ۔۔

نوچنے والے نوچ کھاتے ہیی وجود پہ ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جو ناسور بن کہ ہمیں پھر کہیں کا نہیں چھوڑتا ۔۔وہ کسی غیرمرئی نقطے کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

ملنا کیوں چاہتی تم ۔۔ انزل کو اسکی باتوں سے خوف آرہا تھا۔۔

ماویٰ سے دور ۔۔۔کوئی ثبوت ۔۔ انزل اسکی بات کاٹتی بولی ۔۔

حدیقہ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا ۔۔ اس عرصہ میں وہ پہلی دفعہ مسکرائی ۔۔۔

تم پہ نصیحت اثر نہیں کرے گی محبت کے راستے میں ناصح ہمیشہ برا لگتا ہے ۔۔۔مگر پھر تجربہ ۔۔ ایک دفعہ وہاں سے دھوکہ کھانے کہ بعد سب سمجھ میں آجاتا ہے ۔۔۔

حدیقہ کی باتیں حدیقہ کی نہیں تھی ۔۔

خیر میں تم سے آخری بار ملنا چا ہتی تھی آؤ ثبوت بھی دکھا دوں وہ اسے کمرے میں لے گئی۔۔

ادھر پرنسپل صاحب پروفیسر سے کچھ ڈیل کرنے میں مصروف تھے مگر پروفیسر کسی طور نہیں مان رہے تھے ۔۔ بالآخر بات انزل کی گواہی پہ ہی طے پا گئی ۔۔

وہ پرنسپل روم سے باہر نکلے سامنے راہداری کے بینچ پہ ماویٰ کو پایا۔۔

وہ ان کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔۔۔

ادھر انزل کو حدیقہ موبائل میں ایک ویڈیو دکھا رہی تھی۔۔

کیا ہوا حدیقہ بی بی ۔۔۔ پہلی دفعہ ہے نا اس لئے خوفزدہ ہو ۔۔ ویڈیو میں فق چہرہ لئے حدیقہ اور اسکی طرف بڑھتا ماویٰ ۔۔۔

ماویٰ مجھے جانے دو ۔۔۔ ماویٰ ۔۔ کچھ دیر میں وہ رونے ترلے منتوں پہ آگئی ۔۔ ماویٰ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا وہ پیچھے ہو جاتی وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا چہرے پہ حوس چھائی وہ پھر سے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتا اسکے ڈر کے پیچھے ہٹنے پہ وہ زور سے ہنستا اس کھیل کے مزے لے رہا تھا۔۔ اس سے مزید نہیں دیکھا گیا وہ کھڑی نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔

حدیقہ زرد سا چہرہ لئے موبائل کو اسکی طرف بڑھا دیا ۔۔

میں نے اسے محبت کی تھی ۔۔۔

وہ زارو قطار رونے لگی ۔۔

حدیقہ چھپ چاپ موبائل کو اسک گود میے رکھ دیا ۔۔

وہ جس کرب سے گزر رہی تھی ۔۔ انزل کی تکلیف سے زیادہ تھا ۔۔ اب تم جا سکتی ہو حدیقہ نے کمرے کا دروازہ کھول دیا ۔۔۔ مجھے معاف کر دو وہ اسکے گلے لگ گئی ۔۔حدیقہ کا وجود ٹھنڈا پر گیا تھا ۔۔۔ ۔۔

وہ نہ کچھ کہنے نہ بولنے کی حالت میں

ماویٰ اب چہرے پہ کمینی سی مسکراہٹ سجائے پروفیسر کی جانب بڑھا

۔۔۔۔۔۔۔کیا بنا پھر ۔۔ مجھ پہ الزام لگا ئے گا کیا ۔۔

وہ ایک زوردار قہقہہ کے بعد مکمل انکی طرف متوجہ ہوا ان کے کان کے قریب آیا ۔۔

انزل خوب صورت ہے نا ۔۔۔ بلکل مہ پارہ کی طرح ۔۔۔۔افنان صاحب ۔۔

بس یہ آخیر الفاظ تھے وہ ماویٰ نیچے فرش پہ گرا اور افنان اس کو مارتا نظر آیا ۔۔۔ یہ منظر پرنسپل آفس کے باہر لگے کیمرے میں محفوظ ہوگیا ۔۔ اور وہ مار کھاتا ہنستے جا رہا تھا پرنسپل صاحب باہر آئے اور اس کے بعد افنان کو سمجھ میں آیا اس نے کتنا بڑا کھیل کھیلا ۔۔۔

اور وہ یونیورسٹی سے نکالا جا چکا تھا۔۔۔

________________________________

___

ٹیور پہ اس نے مجھے چھونے کی کوشش کی میں نے اس اسی وقت اس کی سزا دی اسکے چہرے پہ لگے تھپڑ کا انتقام میری ساری زندگی کو برباد کر کے لیا ۔۔۔

صرف میرے ساتھ نہیں ہمارے پہلے سمسٹر میں آئی امبر کے ساتھ بھی یہی کیا وہ ہم۔جیسی مڈل کلاس لڑکیوں کو ٹارگٹ کرتا ہے اور پھر منہ بند کرنے کے لئے ہر حربہ اپناتا ہے ۔۔۔

حدیقہ سارے راز سے پردہ اٹھا رہی تھی

میں نے پرنسپل کو شکایت کی اٹھارتی کو بھی درخواست دی مگر بدلے میں میرا کردار ہی مسخ ہوا ۔۔ ۔۔۔

اب اسکی خشک آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی آگئی۔۔

اس سلسلے میں سر افنان نے میری مدد کی مگر وہ بھی اپنی بساط سے ذیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے انزل صم بکم کے مصداق بیٹھی اسے سنے جا رہی تھی ۔۔

انزل اس سے دور رہو ۔۔ حدیقہ نے ایک التجا کی ۔۔۔

وہ خاموش ہو گئ ۔۔۔

ہم یہاں سے جا رہیں ہیں ۔۔ یہ موبائل اپنے پاس رکھ لو شاید تمہارے کسی کام آجائے وہ خشک لہجے میں بولتی وہاں سے چلی گئی انزل نے موبائل اپنے بیگ میں ڈالا اور اپنا موبائل آن کیا ۔۔۔ ماویٰ کی پچیس مسکڈ کال اور سر افنان کی کالز اس نے سر افنان کو بیک کال کی ۔۔۔

کچھ دیر بعد اٹھا لی گئی ۔۔

سر میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں ۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

شاذل ماویٰ دونوں سوتیلے بھائی تھے ۔۔ ان کا باپ گاؤں کا وڈیرہ ہونے کہ ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن بھی تھا کہیں کسی کی مدد کرنی ہو سیلاب ہو کسی جگہ فنڈ ریزنگ کرنی ہو اسکا باپ وہاں پایا جاتا مگر گھر کے اعتبار سے اچھا نہیں تھا ۔۔اس نے تین شادیاں کیں پہلی بیوی میں شاذل ہوا اس نے اپنے بیٹے کے لاڈ تو کیے مگر اپنے بیٹے کی ماں کو کبھی عزت نہ بخشی وہ جب چاہتا اسکی ماں کو مارتا یہ سب دیکھ کہ شاذل کو اپنے باپ سے نفرت ہو چلی ۔۔ ایک دن اسکے باپ نے اسکی۔آنکھوں کے سامنے اسکی ماں کو مار مار کہ ہلاک کر دیا ۔۔۔

اس بات نے شاذل کو دماغی طور پہ ہلا دیا دوسری شادیپاس والے گاؤں کے جاگیردار سے ہوگئ مگر وہاں بھی اسکی ازدواجی زندگی نہ چل سکی ۔۔۔ طلاق کے بعد اس نے ایک رقاصہ سے شادی کر لی جس سے ماویٰ ہوا ۔۔ مگر وہ عورت نہایت چالاک

نکلی ماویٰ کے ہوتے ہی وہاں سے اسکی آدھی جائیداد لے چلی گئی یوں اس کا یہ بیٹا گھر کی ہرانی ملازمہ صغراں نے پالا ۔۔ شاذل دماغی طور پہ بہت عجیب صرتحال میں تھا اسے عورت ذات ہمیشہ کمزور محسوس ہوتی وہ انکے پاس جانے سے ڈرتا ۔۔

ایک دفعہ کلاس میں ایک لڑکی کو اسکے استاد نے بری طرح مارا اسے اپنی ماں یاد آگئی کچھ لمحے وہ برداشت کرتا رہا پھر اس نے اٹھ کے پین کی نب استاد کے گلے میں دے ماری ۔۔۔ اور وہ وہیں مر گیا ۔۔۔

اسکے استاد کی موت نے اسے مزید دھچکا دیا اور اسے سائیکالوجسٹ کے پاس جانا پڑا کچھ عرصہ بعد وہ ٹھیک ہوگیا ۔۔۔ مگر اہنے باپ سے نفرت کرتا وہ جوان ہو گیا ۔۔ وہ ماویٰ کو بھی پسند نہیں کرتا تھا ۔۔ ماویٰ یہ بات جانتا تھا ۔۔ مگر اس کے بعد ان کے درمیان قدرے اچھا رشتہ تھا۔۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

انکے جانے کے بعد مکرم صاحب نے صغراں کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا ۔۔۔

انزل ابھی بھی بے ہوش پڑی تھی وشمہ اس کے سرہانے بیٹھے اسکے اٹھ جانے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ ۔۔

اسکا موبائل بھی ماویٰ سے ہاتھا پائی میں گر چکا تھا ۔۔

دروازہ کھلا صغراں اندر آئی ۔۔۔

اے لڑکی اس کو ہوش آیا کہ نہیں ۔۔۔

نہایت نخوت سے بولا ۔۔۔

وہ حیران تھی کہ ایک ملازمہ کا اتنا رعب سے بات کرنا ۔۔۔

نہیں دیکھ نہیں رہی اسکا کیا حال ہے ۔۔۔

اچھا اچھا بس ۔۔۔ مکرم صاحب نے تمہیں بلایا ہے ۔۔۔

وہ کرنٹ کھا کہ سیدھی ہوئی دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگی ۔۔۔

کون مکرم صاحب ۔۔۔ وشمہ حیرت کی انتہا گہرائیوں میں تھی ۔۔

واہ شکل سے ہی فراڈ لگتی ہو تم دونوں جس کے بچے کی یہ ماں بننے والی ہے ۔۔

اس شخص کا باپ ہے ۔۔۔

تم لوگوں کو یہ ہی نہیں پتہ ۔۔۔

وشمہ بس یہی الفاظ دہرا رہی تھی ۔۔ مکرم ۔۔۔مکرم امان سنٹر ۔۔۔

تمہارے صاحب کا کوئی امان سنٹر بھی ہے ۔۔۔

وشمہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

ہاں اور کیا ۔۔۔ اتنے اچھے ہیں ہمارے صاحب اتنے فلاحی کام۔کرتے ہیں ۔۔ اور تم جیسی آئے دن انکو بدنام۔کرنے کے لئے تیار رہتی ہو ۔۔۔

ہونہہ ۔۔ چلو جلدی کرو صاحب کو دیر نہیں پسند وہ اور بھی ناجانے کیا کیا بول رہی تھی مگر

وشمہ کی تو دنیا ہی گھوم گئی ۔۔۔بی بی انزل تم کہاں ہو یہ تمہارے وہم گمان میں بھی نہیں ہوگا وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ وہ دونوں واپس اس جہنم میں جا سکتی تھی جس سے بھاگنے کے لئے اتنے پاپڑ بیلے تھے ۔۔

وہ ڈرتے ڈرتے نیچے جا رہی تھی

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ریسٹورنٹ کے آخری کونے پہ میز پہ وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔ صبح کی چوٹ کی وجہ سے اسکے ہوٹ پہ زخم تازہ تھا ۔۔ آنکھوں پہ چشمہ لگائے ازل کی سنجیدگی سے وہ انزل کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے ابزلسپاٹ چہرہ لئے بیٹھی تھی ۔۔ انزل دیکھو میں تمہاری مدد ۔۔۔۔ آپکا مقصد کیا ہے ۔۔۔

جی اسے شاید سننے میں غلطی ہوئی تھی ۔۔

سر آپ میری مدد کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔۔ جیسے مجھے آگاہ کیا ویسے حدیقہ کا کیوں نہیں ۔۔۔

انسانیت کا نام نہ لیجئے گا ۔۔ مطلب کیاس دنیا میں یہ جان چکی ہوں کوئی بھی کام بلا معاوضہ نہیں ہوتا ہر ایک کو اپنی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔۔ ۔۔

وہ خاموش رہے ۔۔۔میری ماویٰ کے ساتھ ذاتی دشمنی ہے ۔۔۔ بالآخر سچ بولا۔۔

گڈ ۔۔ یہ وجہ قابل قبول ہے ۔۔ وہ حد درجہ اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی کوشش میں تھی

انزل تمہیں کرنا یہ ہے کہ ۔۔۔ ساری بات اسے سمجھا دی ۔۔۔

ٹھیک ہے میں کروں گی ۔

اس نے ہاں تو کہہ دی مگر اسکا دل نفی پہ تھا ۔۔ آپ کا محبوب کافر بھی ہو تب بھی آپکو اس سے محبت نہ کرنا مشکل لگتا ہے اگرچہ نفرت بھی شامل ہو جائے

ان سب کہ باوجود بھی افنان کی باتوں پہ عمل کرنے سے پہلے وہ ماویٰ کو ایک آخری موقع دینا چاہتی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *