Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 05)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 05)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
قسمت نے کیسے ایک ہی دن میں اسکی محبت کا عروج دیکھایا اور سر شام زوال بھی آچکا تھا ۔۔
مگر ماویٰ ۔۔۔ ہو سکتا ہے سر جھوٹ بول رہیں ہوں ۔۔۔ اور وہ ویڈیو ۔۔۔
دل کسی طور ماننے پہ راضی نہیں تھا ۔۔
وہ خاموش سی بستر پہ لیٹی اپنے خیالوں میں مگن ۔۔
اسکی اماں نے اسکی یہ خاموشی نوٹ کر لی تھی ۔۔
جب جوان اولاد جاگتی آنکھوں سے راتیں گزارنے لگے تو ماؤں کو فکر کرنی شروع کر دینی چاہیے
بستر پہ بیٹھتے ہی بولیں ۔۔۔
نہیں اماں بس سونے والی تھی ۔۔اس نے کروٹ بدل لی سوچیں ابھی یقین اور بے یقینی میں اٹکی ۔۔۔
اگر یقین کر لیتی ۔۔۔ تو دل جینے نہیں دیتا شک و شبہ میں دماغ پڑنے کی اجازت نہ دیتا ۔۔۔
انزل ۔۔۔ اسکی اماں نے بھی سوچتے ہوئے اسے پکارا
جی اماں ۔۔
بیٹا ۔۔ روشنا رشتہ ڈال کہ گئی ہے ۔۔ وہ اپنے بیٹے ۔۔
اماں ۔۔ اس نے درشتی لہجے میں کہا ۔۔
اب اسکا دماغ پھٹ رہا تھا ۔۔۔ وہ اٹھ کہ اندر چلی گئی ۔۔۔
اب اس میں تاب نہیں تھی دل کی وکالت کمزور تھی ۔۔ ثبوت ماویٰ کے خلاف تھے ۔۔ مگر وہ ماویٰ کے سوا کسی کو نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
ماویٰ اگر ایسا ہے تو دنیا میں کون پارسا ہے ۔۔۔ وہ حدیقہ ۔۔ جسکا پہلے سے کردار مشکوک ہے ۔۔۔ یا،سر افنان ۔۔جنہوں نے خود اقرار کیا ہے وہ انکا دشمن ہے ۔۔۔۔
میں ماویٰ کو سب کچھ بتا دوں گی ۔۔۔ آخری کیل ٹھوک دی گئی ۔۔۔ انزل اپنا سب کچھ ماویٰ پہ لگانے کو تیار تھی ۔۔
محبت جوے کی طرح ہی تو ہوتی ہے عزت داؤ پہ لگانی پڑتی ہے ۔۔ قسمت نے ساتھ دیا تو محبوب عزت کے ساتھ واپس مل جائے نہیں تو عزت اور جان بھی انسان ہار دے وہ یہ جوا کھیلنے کو تیار تھی















یونیورسٹی جانے کی بجائے اسے افنان سے ملنا تھا ۔۔ مگر اس نے یونیورسٹی میں ماویٰ کو ڈھونڈ نا شروع کردیا ۔۔ وہ کنٹین میں دوستوں کے ساتھ نظر آیا ۔۔
انزل اسکے دوستوں کے سامنے نہیں جاتی تھی ۔۔
اس سے بات کرنے کو بے چین ۔۔ بے مطلب راہداری پہ گھومنے لگی ۔۔۔
ماویٰ اسے دیکھ چکا تھا ۔۔ دوست کے ساتھ چلتا اس کے پاس سے اجنبیوں کی طرح گزر گیا ۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ ماویٰ ناراض ہے ۔۔
ماویٰ اس نے اسے جاتے ہوئے پکارا اس سمیت اس کے دوستوں نے بھی مڑ کہ دیکھا ماویٰ دوستوں کچھ کہتا اسکی طرف آگیا ۔۔
جی کون ۔۔ لہجے میں اجنبیت ۔۔
ماویٰ ایسا نہ کرو میں پہلے ہی خود سے جنگ کرتے کرتے تھک چکی ہوں ۔۔
اور میں ؟؟ میرا کیا انزل ۔۔ تم بنا بتائے چلی گئی ۔۔ وہ سالا افنان کیا کیا الزام نہیں لگاتا مجھ پہ ۔۔۔ اینڈ ڈونٹ ٹیل می کہ تم نے اسکی باتوں پہ اعتبار کر لیا ہے ۔۔
اس نے سر جھکا لیا ۔۔ کیا کہتی کس کی بات مانتی نہ دل اختیار میں تھا نہ دماغ۔۔
اوکے ۔۔ انزل میں نے تو دل و جان سے تمہیں چاہا ہے مگر اٹس اوکے اگر تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ۔۔۔ میں اپنی صفائی نہیں دوں گا اور نہ مجھے ضرورت ہے ۔۔
وہ کٹیلے لہجے میں بولا ۔۔۔
ماویٰ ۔۔ مجھ سے شادی کرو گے کیا ۔۔ وہ جھکے سر کے ساتھ اپنی عزت نفس کو بلائے طاق رکھے محبت کہ سامنے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھی ۔۔۔
بری طرح چونکہ اس بات کی توقع نہیں تھی۔۔
انزل ۔۔ میں جانتا تھا تم میرا ہی یقین کرو گی ۔۔ انزل میں جانتا تھا ۔۔۔ خوشی نے اسکے لہجے کو بھی میٹھا کر دیا ۔۔
تمہیں بہت جلد اپنے دل کی رانی بناؤں گا ۔۔۔
یار خوش کر دیا تم نے ۔۔ چلو کہیں چلتے ہیں ۔۔
نہیں آج دل نہیں کر رہا ۔۔ وہ بجھے دل سے بولی ۔۔
انزل ۔۔ بھول جاؤ سب ۔۔۔ کل آئی ہی نہیں تھی آنے والے کل کے بارے میں سوچو ۔۔۔۔ ۔۔ خوبصورت خواب ۔۔۔
چلو چلتے ہیں۔۔
وہ تیار ہو گئی۔۔
کہاں جائیں گیں ہم وہ رہداری سے باہر جاتی اس سے پوچھ رہی تھی۔۔
ایک خاص جگہ ۔۔ بہت ہی خاص لہجے میں مٹھاس لئے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ بولتا چشمہ لگائے وہ دونوں ساتھ جا رہے تھے ۔۔
قسمت آج انزل کو بھیانک روپ دکھانے کے لئے تیار تھی















سیڑھیوں سے نیچے آئی ۔۔۔ سامنے صوفے پہ مکرم براجمان اور دوسری طرف ماویٰ کھا جانے والی نظروں سے وشمہ کو دیکھ رہا ۔۔
آؤ لڑکی ۔۔۔ رعب و دبدے سے پکارا ۔۔۔
تو کیا جانتی ہو تم اس معاملے کے بارے میں ؟
صرف اتنا کہ ماویٰ نے انزل کو دھوکہ دیا ہے اسکی عزت پہ داغ ۔۔۔۔۔۔ بس وہ جو الفاظ کا چناؤ کرتی مکرم سے خوفزدہ تھی اس کے ہاتھ کے اشارے سے چپ ہوگئی ۔۔۔
تم اور وہ جو بھی لڑکی ہے ۔۔۔ کتنے پیسے چاہئے لو اور نکلتے بنو ۔۔۔نخوت سے حکم دیا ۔۔
تم لوگ پیسے بھی نہ دو انزل کو لے کہ ویسے ہی نکل جاؤ گی ۔۔۔ صد شکر کہ مکرم کو نہیں پتہ تھا ۔۔۔ کہ وہ اسکے امان سنٹر نامی قبحہ خانے سے خطرہ مول لے بھاگی تھی ۔۔۔
انزل ہوش میں آجائے ہم یہاں سے چلے جائیں گیں ۔۔
کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔
کیا آپ واقعی اسے پیسے دیں گیں ۔۔
ماویٰ حیرت سے بولا وہ دونوں جھوٹ بول رہی ہیں ۔۔
تم کتنا سچ بول رہے ہو یہ میں بھی جانتا ہوں ۔۔ ۔۔۔وہ ذو معنی انداز میں بولے
شاذل سے اس بارے میں بات کرو ۔۔ وہ اس مسئلے کو سنبھال سکتا ہے ۔۔ اس ارسلا میڈم کے بھائی کے ساتھ کافی اچھی دوستی ہے اس کی ۔۔ وہ اس معاملے کو آسانی سے رفع دفع کر دے گا ۔۔۔
اپنا حکم سناتے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔
شاذل ۔۔۔ ہونہہ ۔۔۔
مر کہ بھی نہ بات کروں گا اس سے















اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ۔۔ سامنے منفردسفید رنگ پتھر سے مزین سیلنگ ارد گرد نظریں دوڑائی ۔۔ اٹھنے کوشش میں سر بری طرح چکرایا وہ سر پکڑ کہ کہنی کے بل بیٹھ گئی ۔۔۔
انزل ۔۔۔۔ اسے ہوش میں آتا دیکھ وشمہ کے جان میں جان آئی ۔۔۔
کہاں ہیں ہم ؟
جنت میں تو بلکل نہیں ہاں البتہ جہنم بول دو تو زیادہ مناسب لگے گا ۔۔۔
ماویٰ ۔۔۔ کہاں لے آیا ہے وہ ہمیں ۔۔۔ اسکے چہرے پہ پریشانی نمایاں ہوئی ۔۔ ۔۔۔
اس کے بعد وشمہ کا بتایا گیا حرف حرف انزل کے گلے کا پھندا بنتا گیا ۔۔
ماویٰ اسکی منگیتر ۔۔ اسکا باپ مکرم ہے اففف ۔۔۔ ۔۔ اور بچہ والی اسٹوری
وہ اصل معنوں میں آسمان سے گری اور کجھور میں اٹکی ۔۔۔
وہ کس پہ حیران ہو کس پہ پریشان و گلے تک اس ماویٰ کے دلدل میں پھنس چکی تھی ۔۔۔
انزل ۔۔۔
وشمہ یہ کیا تک بنی تمہاری ۔۔۔ تم نے میرے کردار پہ اتنا بڑا الزام کیسے لگا دیا ۔۔۔وہ روہانسی ہوئی ۔۔۔
وہ تمہیں مار مار کہ تمہاری جان لے لیتے انزل اس وقت مجھے جو ٹھیک لگا وہ میں نے کیا۔۔۔۔۔
انزل دیکھو یار ہمارے پاس اور بھی بہت سے راستے ہیں ۔۔۔
اچھا مثال کے طور پہ کیا ۔۔۔ اس نے امید سے پوچھا
مکرم ہمیں یہاں سے چپ چاپ جانے کے پیسے دے گا ۔۔۔ ہمارے لیے فائدہ مند سوداہے ۔۔۔
وہ بے یقینی سے وشمہ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وشمہ تم نے اس وجہ سے مجھ پہ الزام لگایا تاکہ تم ان سے پیسے ہتیا سکو ۔۔۔وشمہ کیا ہی نیچ حرکت کی تم نے ۔۔۔
وشمہ نے بولنے کے لئے لب کھولے نفی کرنا چاہی ۔۔۔ مگر وہ اتنی جلدی اپنا مقصد نہیں بتا سکتی تھی ۔۔
یا خدایا ۔۔۔ انزل کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔وہ دوہرے عذاب میں تھی ۔۔۔ اسکے ہی ساتھی نے پیٹھ پہ چھڑا گھونپا تھا ۔۔
وہ خودکو کسی شکستہ حال سپاہی کی طرح سمجھ رہی تھی ۔۔۔ سامنے بھی تلوار اور پیچھے بھی ۔۔۔
ماویٰ کا ہونا پہلے ہی اذیت تھا اس کے لیے ۔۔۔۔ اب ضود کو قسمت کے سہارے چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔۔۔
انزل ۔۔۔ وشمہ نے پکارا
وہ آنکھیں بند کیے لیٹ گئ کل جرگے میں جو بھی ہو وہ سہنے کے لیے تیار تھی ۔۔















ڈیرے پہ وہ ابق اور ایرانی نسل کے گھوڑوں کو دیکھتا فخر محسوس کر رہاتھا ۔۔ایک سفید رنگ کے ایرانی گھوڑے کی ایال کے بال سہلاتے اسے شاباشی دے رہا تھا ۔۔ آج اس نے ڈور جیتی تھی ۔۔
سادہ سی شلوار قمیض اوپر سکن کلر کی شال لئے بازو پہ باندھی ریسٹ واچ پہنے وہ اپنے اس محبوب گھوڑے کو پیار کر رہا تھا ۔۔۔ شاذل ۔۔۔۔ سردار آفندی اپنے ماتحت کے ساتھ ادھر اسکی طرف آیا ۔۔
شاذل اسکی طرف پورہ گھوم گیا اسکو گلے لگایا ۔۔
آج تو ڈیرے پہ شہزادے لوگ آئیں ہیں ۔۔وہ خوشدلی سے ملا۔۔
مگر وہاں سرد مہری تھی ۔۔۔
میں یہاں ملنے نہیں آیا
ہوں تو پھر کیا کرنے آئے ہو ہاتھ باندھے مسکراتا دیکھ رہا تھا ۔۔
کیا ہو شاذل اگر تمہاری بہن کا رشتہ طے پہ گیا ہو اور شادی سے کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی آ کے کہے کہ تمہارا ہونے والا شوہر پہلے سے ہی بد کردار ہے ۔۔۔ تو؟؟
تو میرے خیال میں اس لڑکے کے ساتھ اپنی بہن کا رشتہ کرنا نا مناسب ہے اور لڑکے کو اس لڑکی کے ساتھ سزا دینی چاہیے ۔۔
اسی مسکراہٹ کے ساتھ شاذل نے جواب دیا ۔۔۔
اگر وہ لڑکا تمہارا بھائی ہو تو کیا تم تب بھی اپنے اس خیال پہ قائم رہو گے ۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ تب بھی ۔۔
اسے خبر ہو چکی تھی کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ ۔۔۔
شاذل تمہارا باپ اور بھائی اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا ۔۔
وہ آخر کب تک غصے کو قابو رکھ سکتا تھا ۔۔۔
میں کہہ رہا ہوں نا تمہیں تم اس کو سزا دو ساتھ میں کیا نام ہے اس لڑکی کا ۔۔۔ جو بھی ہو ۔۔ وہ بھی برابر کی حقدار ہے ۔۔۔ جانتا ہوں جرگے میں تمہارے ہی لوگ ہوں گیں ۔۔ مجھے شامل کرنا بے کار ہے ۔۔۔ میں تو تمہارے ہی حق میں ہوں ۔۔۔
آفندی کچھ حد تک ٹھنڈا ہوا ۔۔۔
یہ تو ہو جائے گا مگر تمہارا باپ ایسا ہونے نہیں دے گا ۔۔۔
میرا تو بس نہیں چلتا ابھی جا کہ ماویٰ کی جان لے لوں اسے عبرت کا نشان بنا دوں ۔۔۔
ریلکس ۔۔۔ چلو آو اندر بیٹھتے ہیں وہ اسکے کندھے پہ بازو رکھے ساتھ لے جا رہا تھا ۔۔۔ ماویٰ کے ساتھ بھلائی کرنے کا کیا فائدہ ۔۔۔وہ اسکے انجام سے بے فکر تھا















لگژری رسٹورانٹ میں دونوں مقابل بیٹھے باتوں کرنے میں مصروف ۔۔۔
مجھے لگتا ہےتم یہاں کمفرٹیبل نہیں ہو ۔۔۔
گلاس کو ہونٹوں سے لگائے پوچھ رہا تھا ۔۔
نہیں ماویٰ میں گھر بتا کہ نہیں آئی ۔۔۔تو۔۔
تمہارا فون ۔۔ بات کاٹ کہ ہاتھ بڑھایا ۔۔۔
ماویٰ ۔۔۔۔
وہ تھوڑا ججکتے ہوئے بولی۔۔۔
ماویٰ نے اسکے سامنے ٹیبل سے موبائل اٹھا لیا ۔۔۔
کس کو فکر ہوتی ہے تمہاری ۔۔۔ کس کو بتانا ہے وہ اسکا موبائل پکڑے کانٹیکٹ لسٹ میں سرچ کر رہا تھا ۔۔
قسمت ۔۔
ماویٰ نے نے ایک ابرو اچکائے اسے دیکھا ۔۔
چلو آج قسمت کو میسج کرتے ہیں کہ انزل گھر دیر سے آئی گی انٹرویو ہے اور۔۔۔ موبائل پہ کالز کر کے ڈسٹرب نہ کریں اور یہ لو موبائل بند ۔۔۔
اسنے پاور آف کر کے موبائل اپنے پاس رکھ لیا ۔۔۔
ماویٰ ۔۔ایسے گھر والے پریشان ہو جائیں گیں ۔۔ وہ ممنائی ۔۔ مبادا کہیں پھر سے ماویٰ ناراض نہ ہو جائے ۔۔۔
انزل آج صرف تم اور میں ۔۔۔۔ زندگی کے ان حسین لمحوں کو ان بےکار کی سوچوں سے ضائع نہ ہونے دو پلیز ۔۔
اسکے ٹھنڈے پرتے ہاتھ پہ اپنے ہاتھ سے دبایا ۔۔۔ وہ کچھ بھی محسوس نہیں کر پا رہی تھی بس اک انجانا خوف اس کے سر پہ منڈلا رہا تھا
وہ خاموش اچھا بتاؤ کیا کھاؤ گی ۔۔
نہیں دل نہیں کر رہا چلو کہ اور چلتے ہیں ۔۔۔
وہ گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔۔
ہممم اچھا چلو میں تمہیں ہمارا ڈریم ہاؤس دکھاتا ہوں۔۔
ڈریم ہاؤس مطلب ۔۔۔
بڑی مطلبی لڑکی ہو چلو گی تو پتہ چلے گا
وہ وہاں سے والٹ جیب میں ڈالتے کی چین اٹھائے اسکو ساتھ لئے چل دیا ۔۔۔















وہ ایک دس منزلہ بلڈنگ کے سامنے کار روکے کھڑا تھا ۔۔۔
انزل آنے میں ہچکچا رہی تھی ۔۔۔
وہ زبردستی اسکا ہاتھ پکڑے اندر لے گیا لفٹ جا کے 6 کے بٹن پہ کلک کیا ۔۔ لفٹ اوپر کو اٹھنے لگی انزل ۔۔۔ ڈر رہی تھی ۔۔۔
میں نے غلطی تو نہیں کر دی ۔۔۔ اگر ماویٰ ۔۔۔وہ سوچتے ساتھ ہی ماویٰ کا ہاتھ تھا مے اسے واپس جانے کا کہنے لگی ماویٰ واپس چلتے ہیں ۔۔
کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔ نہ ریسٹورنٹ میں بیٹھی اب یہاں بھی ۔۔۔
نہیں ماویٰ چلو واپس چلتے ہیں ۔۔۔
تم مجھ پہ بھروسہ نہیں کرتی لفٹ 5 منزل پہ جا پہنچی ۔۔
ماویٰ جو بھی سمجھو اب باقاعدہ قہ رونے پہ آگئی ۔۔۔
انزل بی بی اب یہاں سے جانا تمہاری نہیں میری مرضی سے ہوگا لفٹ 6 فلور کا اعلان کرنے لگی ۔۔۔
ماویٰ بدلے ہوئی ٹون میں بولا ۔۔
ماویٰ اسکی آنکھوں آنسوؤں سے بھرنے لگی واقعی اس نے غلطی کر لی تھی
جاری ہے
