Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 15)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

خیرو اسکے پاس آیا۔۔

شاذل سائیں وہ ماویٰ ۔۔مہ پارہ بی بی کو۔۔۔ بس اتناہی کہنا تھا۔۔شاذل لاکھڑا کہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔آنکھوں میں اترا خون ۔۔غصے سے ہانپتا وجود ۔۔ وہ اب تھک چکا تھا اس سارے درد سے ان ساری اذیتوں سے جو اسے سب پہنچا چکے تھے۔۔

سائیں ماویٰ کے ملازم ان دونوں باپ بیٹی کو پکڑنے گئے ہیں اور ماویٰ کے پاس لے جائیں گیں۔۔

شاذل نے اپنی چال پہ قابو پایا ۔۔لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ ڈیرے سے باہر نکل گیا۔۔ خیرو بھی اسکے پیچھے پیچھے ۔۔دونوں کارکے سامنے جاکہ رکے ۔۔ گاڑی چلاؤ خیرو ۔۔ وہ ہلکا سا غرایا۔۔

کار کچی سڑک پہ تیزی سے چلتی ۔۔ شام کااندھیرا گہرا ہونے لگا۔۔ چاند کی روشنی سے گاؤں کی کی وحشت ناک خاموشی میں اضافہ ہوگیا۔۔۔

خیرو کارچلاتا ۔ ۔۔ادھر ادھر نگاہیں دوڑاتا۔۔

کچھ دور فاصلے پہ خیرو کو کنویں کی منڈیر پہ ایک ہیولہ سانظر آیا۔۔۔۔ کار نزدیک آتی گئی ۔۔ کا ر کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں وہاں پہ موجود لوگوں کی تعداد واضح ہو گئی۔۔

مہ پارہ خوفزدہ سی کنویں کی منڈیر پہ کھڑی انہیں اپنی موت کی دھمکی دے رہی تھی اورہ لوگ ہنس رہے تھے جیسے انہیں اس بات سے بہت فرق پڑتا ۔۔ کرمو کی گردن ایک ہٹے کٹے ملازم نے دبوچی ہوئی تھی ۔۔

مہ پارہ کے چہرے پہ درد نمایاں تھا ۔۔

شاذل کے لیے یہ دلخراش منظر برداشت نہ ہوا۔۔ وہ دور سے خیرو کو کار روکنے کا کہنے لگا ۔خیرو نے یکدم بریک لگائی ۔۔ گاڑی کے رکنے کی آواز سے وہ سب متوجہ ہوئے ۔۔ اتنی زور سےبریک لگانے سے کار کے بونٹ سےدھواں سا اڑنے لگا۔۔ اور اس دھوئیں میں خون آشام نظروں ے دیکھتا ۔۔ شاذل ۔۔ وہ سب گڑ بڑا گئے

مہ پارہ پہ وحشت طاری ہوگئی۔۔

وہ تقریبا بھاگ رہا تھا۔۔

مہ پارہ رک جاؤ۔۔ مہ پارہ رکو ۔۔ وہ اسے کسی سنگین قدم اٹھانے سے روک رہا تھا۔۔

بابا اگر اس نے مجھے چھوا بھی ۔۔ تو میں اپنی جان دے دوں گی ۔۔ اس نے روتے ہوئے آخری الفاظ بولے

رکو تم سب۔۔ چھوڑو کرمو کو ۔۔ وہ دور سے چلارہا تھا ۔۔ اسکے ملازم نے کرمو کو چھوڑ دیا۔۔

وہ نزدیک آتا گیا۔۔ مہ پارہ ۔۔ میں قسم کھا کہ کہتا ہوں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔۔ نیچے آجاؤ ۔۔

وہ دھیما سا کہتا اسے منا رہا تھا ۔۔

مہ پارہ نے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔۔ جس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔ یعنی اسے ابھی بھی یقین نہیں تھا۔۔کرمو تمہارا مالک اتنا بھی بے غیرت نہیں ہے۔۔

ورنہ میں کبھی اسے اپنی۔دسترس میں ہوتے ہوئے جانے کیوں دیتا ۔۔ شاذل نے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔

وہ تذبذب کو شکار ۔۔مہ پارہ کو نیچے آنے کا کہنے ہی والا تھا

مگر اسکے چلتے قدم گولی کی آواز سے تھم گئے ۔۔ کسی نے شوٹ کیا۔۔ گولی مہ پارہ کے پیٹ میں جا لگی ۔۔ مہ پارہ اس جھٹکے کو سہار نہ سکی۔۔ اور کنویں کی منڈیر سے نیچے جاگری ۔۔ کنواں خون خون ہوگیا۔۔

شاذل چلایا۔۔ کرمو زمین پہ ڈھیر ہوگیا۔۔ شاذل نے نے کنویں میں کودنے کی کوشش کی پیچھے سے خیرو نے آکہ تھام لیا۔۔ وہ مر جائے گی۔۔ خیرو ۔۔وہ مر جائے گی ۔۔ جانے دو مجھے ۔۔ وہ خود کو چھڑاتا چیخ رہا تھا بلک رہا تھا۔۔

کسی ملازم نے کنویں میں چھلانگ لگائی۔۔ مہ پارہ کا گیلا۔۔ اور ٹھنڈا پڑا وجود نکالا۔۔ اسکے پیٹ پہ خون نمایاں تھا۔۔

وہ نیلی پڑ چکی تھی ۔۔ بال چہرے سے چپک گئے اسکا سفید جوڑا کفن جیسا تھا کرمو اپنے آپ کو گھیسٹا اپنی بیٹی کا سر کو اپنی گود میں رکھے رو رہا تھا ۔۔ اسکی اکلوتی اولاد اسکی نظروں کے سامنے مر گئی ۔۔ اسکی بوڑھی سفید پڑتی آنکھیں ۔۔ اپنےاندر کئی بد دعائیں سمیٹی ہوئی تھی۔۔ وہ سر کو پیٹ رہا تھا کوس رہا تھا شاذل کنویں کی منڈیرپہ چڑھا اور کود گیا۔۔ درد جب برداشت نہیں ہوتا تب فرار حاصل کرنی پڑتی ہے۔۔ موت ان فرار میں سے سب سے پہلا حل کہلاتی ہے۔۔ مگر اسے جینا تھا وہاں سےبچا لیا گیا کنواں ایک اور لاشے کو اپنے اندر نہیں سما سکتا تھا

اب وہاں پانی زہریلہ ہوچکا تھا کسی کہ وجود پہ ہونے والا ناحق قتل سے زہریلہ۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

شاذل کو کئی دن ہوش نہ آیا وہ کہاں گیا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں تھی پورے گاؤں میں مشہور پوچکا تھا شاذل نے ایک گاؤں کی لڑکی کی آبرو ریزی کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔ ہر طرف یہ سر گوشیاں ہو رہیں تھیں

۔۔ مہ پارہ کو دفنا دیا گیا۔۔افنان نے مہ پارہ کاجنازہ قل اسکےچا لیس دن بعد کے ختم خاموشی سے انجام دیئے اپنابیگ کندھے پہ۔ڈالا اور کبھی واپس نہ آیا۔۔ مہ پارہ کے قتل کے خلاف کوئی مقدمہ نہ درج کروایا گیاوہ مہ پارہ کی میت کی۔تذلیل نہیں چاہتا تھا۔۔ کرمو بھی خاموش سا ہوگیا ۔۔ انکے گھر سوگ نے آلیا ۔۔۔ ایک اولاد منوں مٹی تلے جا سوئی اور ایک جیتے جی مر گیا۔۔ شاذل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔۔ مگر سب اسے ہی مہ پارہ کی موت کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے

فلاح دین نے شاذل کی سر پرستی کی دیکھ بھال سے منہ۔موڑ لیا۔۔ مگر اپنے مرتے مالک کے آخری وعدے کو اس طرح پورا کیا شاذل کے نانا کی وصیت انکے وکیل کو تھما دی ۔۔

ایک ماہ بعد اجڑا ویران سا شاذل امام صاحب کے گھر کے باہر ملا۔۔ بال اسکے گچھا سے ۔۔ شیو بڑھی ہوئی ۔۔ آنکھیں دیکھ کہ لگتا تھا جیسے صدیوں رویا ہو۔۔ مہ پارہ کی موت کا غم اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا جہاں کہیں دیر کے لیے بیٹھتا ۔۔ مہ پارہ کو خون سے سنا وجود اسکی نظروں کے سامنے آجاتا۔۔۔ وہ کسی کونے کی طرف اشارہ کر کے مہ پارہ مہ پارہ چلاتا

امام صاحب اسے اپنے ساتھ حویلی لے جانے لگے ۔۔ مگر وہ بلکا رویا ۔۔ اسے سکون چاہیے تھا

امام صاحب پریشان ۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر پہلے ہسپتال لے گئے تاکہ بعد میں مکرم صاحب کو اطلاع کر سکے ۔۔ مگر وہاں معلوم ہونے والی بات نے انکے قدم روک دئے

میں ڈرگز نہیں لیتا۔ ٹیبل پہ۔مٹھی مارتے امام صاحب کے ساتھ بیٹھا شاذل ڈاکٹر خاور پہ چلایا

جنہوں نے اس کی رپورٹس سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا ۔۔ وہ ایک ہفتے سے ہسپتال میں تھا ۔۔ اسے عجیب بے چینی ہوتی بظاہر تو ٹھیک لگتا ۔۔۔ مگر اسکا وجود کانپتا رہتا ہر وقت۔۔ مہ پارہ کے واہمے میں اضافہ ہوگیا

۔۔ڈاکٹر کوشک گزرا اسکے ٹیسٹ کروائے تو شک یقین میں بدل گیا

وہ اپنے چشمے کو ناک پہ رکھے ۔۔ چشمے کے پیچھے سے شاذل کو گھورنے لگے

یہ میں نہیں کہہ رہا آپکی رپورٹس کہہ رہیں ہیں

وہ آرام سے بولے۔۔

میں آپکو نشئی لگتا ہوں کیا۔۔ شاذل کو تاؤآیا۔۔

بیٹا ۔۔ امام صاحب نے اسکے کندھے پہ۔ہاتھ رکھ کہ چپ رہنے کی درخواست کی۔۔

یہ میری آنکھوں کے سامنے پلا بڑھا بچہ ہے۔۔ یہ ان حرام چیزوں سے دور رہتا ہے ۔۔ اگر یہ ڈرگز لیتا تو سب سے پہلے اس کے گھر والوں کو معلوم ہونا چاہیے تھا

مگر اسکے جسم سے ڈرگز کے مقدار ملی ہے۔۔ اسی وجہ سے اسے ہیلوسینشن ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اس نے کہا اسے مہ پارہ کی روح نظر آتی ہے ۔۔ وہ روح نہیں ہے ۔۔ تمہیں ان ڈرگز کے زیر اثر ایسا محسوس ہوتاہے۔۔

وہ پریشان سا ہوگیا۔۔

مجھے اپنی ماں بھی نظرآتی تھی ۔۔ بہت دفعہ ان کا خون میں لتھڑا وجود میری نظروں کے احاطے میے رہتا۔۔ وہ مجھے ذمہ دار ٹھہراتی اپنی موت کا۔۔ کیا وہ بھی۔۔

ہوں۔۔ میں تمہیں ایک اچھے سائکاٹرسٹ ریفر کرتا ہوں ۔۔وہ کاغذ پہ پنسل سے آڑی ٹیڑھی لکھائی کچھ دوائیں اور ایک ڈاکٹر کا نام لکھ دیا۔۔

فلحال تو تم کسی بھی نشہ آور چیز سے دور رہو ۔۔ یا کوشش کرو یہ ڈھونڈنے کی کونسی چیز ایسی ہے تمہاری روٹین میں جس سے تمہیں یہ ڈرگز دی جا رہیں ہیں۔۔

وہ امام۔صاحب کے ساتھ نکل آیا ۔۔ وہ دونوں پریشان تھے۔۔

امام صاحب میں نشہ نہیں کرتا آپ جانتے ہیں ۔۔ مگر امام صاحب کچھ ہچکچائے۔۔ میں جانتا ہوں بیٹا۔۔ مگرشاید تمہیں کوئی اور یہ حرام چیز دے رہا ہو ۔۔ تاکہ تم پاگل ہو جاؤ۔۔ امام صاحب نے بہت آسانی سے اس بات تک پہنچ گئے جس تک وہ آج تک نہ پہنچ سکا۔۔

مطلب؟

وہ ذرا گڑبڑ ا گئے ۔۔ پورا گاؤں جانتا ہے ۔۔ کہ تم ساری جائیداد کے مالک ہو۔۔ تمہارے بابا نے تمہاری ماں سے جائیداد کے لیےشادی کی۔۔ مگر اگر تم ہی نا رہو تو یہ جائیداد کا مالک کون ہوگا ۔۔ یہ تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو۔۔

انہوں نے شاذل کے کندھے پہ ہاتھ رکھا بڑی احتیاط سے بات کی۔۔ مبادا وہ ہتھے سے اکڑ ہی نہ جائے ۔۔

وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔ باہر نکلتے ہی اس نے امام صاحب کو گاڑی میں بیٹھا دیا ۔۔ اور خود لگا اس گتھی کو سلجھانے کے لیے۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ایک مہینے کے بعد وہ گھر آیا۔۔ اس دفعہ وہ پہلے والا شاذل نہیں لگ رہا تھا اسکی سپاٹ ویران آنکھیں مہ پارہ کے مجرموں کی تلاش میں تھی وہاں موجود ہر ملاز م سے تفتیش کی گئ مگر کوئی نہ مانا کہ اس نے گولی چلائی ۔۔

ماویٰ کو یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے مکرم صاحب اسے شہر بھیج چکے تھے۔۔انہیں شک گزرا کے شاذل کو حقیقت معلوم ہو چکی ہے۔۔ مگر شاذل اب کوئی خطرہ نہیں مول لینا چاہتا تھا ۔۔ وہ انکے ساتھ ویسا پی پیش آنے لگا

اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ فلاح دین اور کرمو کے گھر جاتا اور انکے گھر جا کہ معافی مانگتا ۔۔ وہ کچھ عرصہ وہاں رہنے اسکے بعد گاؤں چھوڑ کہ چلے گئے ۔۔ شاذل کی حالت دن بدن اچھی ہوتی گئی اپنے کھانے سے لیکر پینے کے پانی تک وہ خیروکی بیوی کے ہاتھوں سے بنواتا ۔۔

اسےخبر ہو چکی تھی بچپن سے اسکے ساتھ ایسا سلوک کرنے والے کون لوگ تھے ۔۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتا گیا۔۔ آہستہ آہستہ ساری زمینوں ساری جائیداد کو اپنے ہاتھ میں لیتا گیا۔۔ بس اک آخری کیل ٹھونکنی تھی ۔۔ اسکے تیس سال ہونے میں چار سال باقی رہ گئے تھے ۔۔

مگر تین سال بعد انزل کا آنا ۔۔ اسے پھر سے پیچھے لے گیا۔۔ مہ پارہ کی یاد اسے جکڑ رہی تھی۔۔

اور ادھر انزل اسے پھر سے اسی زہر کے پیش نظر کرنے لگی تھی

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

انزل اور وشمہ بحفاظت حویلی پہنچ گئی۔۔ انزل کو دیکھ کہ ایک ملازم چونک گیا وہ ڈیرے کی طرف جانے لگا۔۔ وشمہ اور انزل اپنے کمرے کی طرف چل دی ۔۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی ان دونوں کو روک سکے۔۔

انزل اپنے کمرے میں موجود بیڈ پہ میٹرس کے نیچے چھپائے فون کو نکالا۔۔

اب زیادہ دیر تمہارا کھیل نہیں چلے گا ماویٰ۔۔

بازی پلٹ چکی ہے۔۔ ۔۔

اپنے چھوٹے سے پاؤچ سے ایک چھوٹی سفید سفوف سے بھری شیشی نکالی۔۔

شاذل کو بس یہ دوا کسی نہ کسی طرح دے دینا ۔۔ باقی کام یہ خودی تمام کر دے گی۔۔ افنان اسے ڈرگز تھما رہا تھا

مہ پارہ کا قاتل

کیا یہ ویڈیو ماویٰ کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں ۔۔ حدیقہ اور امبر کی ویڈیو وشمہ اور تراب کو دی۔۔

ہاں کیوں نہیں ۔۔ یہ پختہ ثبوت ہوگا ۔۔ ماویٰ کےخلاف

انزل کی ماں کا قاتل

اور مکرم اور شبنم ۔۔ انزل سب کا قلع قمع کرنا چاہتی تھی۔۔

انٹیلیجنس کے ادارے کو یہ اطلاع مل چکی ہے ۔۔ کہ مکرم امان سنٹر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہے ۔۔ ۔۔ وہ نہیں بچ سکتا ۔۔

انزل پہ ہوئے مکرم امان سنٹر میں ظلم ۔۔

تکون مکمل ہوئی ۔۔ اب آگ کے دہانے بس ان سب کو جلتے دیکھنا تھا۔۔

سب سے پہلے ماویٰ

۔۔۔۔

شاذل کمرے میں آیا ۔۔ انزل کیا تم ٹھیک ہو ۔۔ وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا

انزل کی پشت تھی شاذل کی طرف

اس نے گڑبڑ ا کے وہ شیشی پھرسے پاؤچ میں چھپا لی۔۔

کیا میں ٹھیک ہو سکتی ہوں ۔۔دھیان سے پاؤچ بیڈ کی سائیڈ پہ رکھے ٹیبل پہ رکھ دیا۔۔

۔۔وہ خیرو۔۔ اسے یاد آیا۔۔ اس سب کے دوران وہ غریب بچارہ پس رہا تھا ۔۔

کچھ نہیں ہوا۔۔میں راولپنڈی سے واپس آگیا تھا ۔۔مگر تب تک تم وہاں سے چلی گئی۔۔ماویٰ کی فکر نہ کرو ۔۔ اسکو کو میں سنبھال لوں گا۔۔ نس تم کچھ دن کے لیے میرے ساتھ پنڈی چلو۔۔ میرا وہاں کام بہت زیادہ ہے۔۔ وہ مصروف سے انداز میں صوفے پہ بیٹھا اسے آگاہ کر رہا تھا

۔۔ ٹھیک ہے۔۔ وشمہ کا انتظام ہو چکا ہے وہ دو دن بعد یہاں سے جانا چاہتی ہے۔۔ ۔انزل نے وشمہ کی کہی ہوئی بات دہرائی ۔۔

چکو ٹھیک ہے۔۔ وہ وہاں بیٹھا رہا ۔۔

تم پیکنگ کر لینا۔۔ میراسامان پیک ہے سارا۔۔

وہ ہنوز مصروف تھا۔۔

ٹھیک ہے۔۔ وہ کہتی پاؤچ کو لیے بڑی احتیاط سے الماری کی طرف بڑھی اور ہنیگ کیے ہوئے کپڑوں کے پیچھے موجود بنی ہوئی خالی جگہ میں رکھ دیا۔۔

میں ذرا وشمہ کو بتا دوں۔۔

وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔ شاذل نے سر کی جنبش سے ہاں کہا

اسکے جاتے ہی شاذل نے سر اٹھایا۔۔ انزل پاؤچ میں چھپا تے وقت یہ بھول گئ تھی اسکے سامنے آئینہ لگا ہوا ہے۔۔ جس سے صاف اسکی حرکت نظر آرہی تھی۔۔

شاذل نے آگے بڑھ کہ الماری کھولی اسے وہ پاؤچ اور شیشی مل گئی۔۔

وہ حیرانگی سے دیکھ رہا تھا ۔۔

وہ سفید رنگ کا دانے دار سا سفوف تھا۔۔ اسنے ڈھکن کھول کے اندر سونگھنے کی کوشش کی۔۔ عجیب بہکی سی خوشبو ۔۔سونگھنے کے بعد شاذل کو احساس ہوا یہ وہی ڈرگز تھی۔۔

ڈاکٹر احمرکے پاس وہ بیٹھا چڑھی ہوئی آنکھوں اور بار بار ہاتھوں اور بازؤں کو کرچتے ہوئے شاذل ۔۔

بے چین سا تھا۔۔ اسے اپنی بے قراری کا سبب معلوم نہ تھا ۔۔ اسکا وجود بازوں کی ہڈیوں تک میں درد ہو رہی تھی۔۔

تمہارے جسم میں واقعی ڈرگز کی بہت قلیل سی مقدار ملی ہے۔۔مگر وہ مقدار بھی جان لیوا ہے۔۔

دراصل یہ خاص قسم کی ڈرگز ہے۔۔ جس سے کہ تم کو ہلیوسینشن یا واہمے ہوں۔۔ تم وہ امجین کرو جو حقیقت میں ہے ہی نہیں ۔۔

مثال کے طور پہ اگر میں تمہیں کہوں تمہارے بازو کی جلد کے اندر کوئی کیڑا رینگ رہا ہے ۔۔ تو نارملی انسان اس بات کا یقین نہیں کرے گا۔۔ مگر ایک ایساانسان جو اس ڈرگز کا عادی ہو ۔۔ وہ اپنا بازو اس خوف سے کاٹ دے گا۔۔

تمہیں بھی ایسی ہی سوچ کا عادی بنایا گیا ہے۔۔ تمہاری قوت ارادی کو تمہارے شعور پہ حاوی کیا گیاہے ۔۔ ایک طرح سے کہوں تو یہ ہپناٹزم ہے۔۔

ہمارا شعور ہمیں ایک انسان کی طرح کام کاج کرنے صحیح اور غلط فیصلہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔۔ شعور کے بغیر دماغ ایک کمپیوٹر ہے۔۔

لیکن ہپناٹزم میں ہم انسان کے شعور کو سلا کہ اسکے دماغ کو حکم دیتے ہیں۔۔

تمہارے ساتھ بھی یہی کیا گیا ہے۔۔

وہ ششدر رہا گیا۔۔ اسکے ساتھ اتنا برا کھیل کھیلا گیا۔۔ مہ پارہ کا بار بار نظر آنا ہسپتال میں اسکی ماں کا ہر وقت اسکے قریب رہنا اسکا علاج نہیں کیا جا رہا تھا ۔۔ بلکہ اسے پاگل بنایا جا رہا تھا

وہ غصے سے دانت پیسنے لگا۔۔ میں ان سب کے ذمہ۔دار کو چھوڑ وں گا نہیں۔۔ وہ ہر ایک کے لیے قہر بننے کو تیا ر تھا۔۔

انزل کے پاس یہ کیسے ۔۔ وہ بری طرح چونکا تھا۔۔

تو یہ بھی میرے خلاف کھیل۔کھیلنے لگی ہے۔۔ تو انزل بی بی انتظار کرو تم پھر شاذل تمہارے ساتھ کرتا کیا ہے۔۔ شیشی کو ہاتھ میں دبائے وہ مسکرا رہا تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

لاہور سسے آپ کو خبردے رہیں ہیں انٹلیجنس ادراوں کی بڑی کامیابی

مکرم امان سنٹر سے لے جانے والی پچاس لڑکیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کو ناکام بنایا گیا ہے۔۔

اسکے خلاف ایک ویڈیو بھی موصول ہوئی جس میں صاف دیکھا جا رہا

یتیم بے سہارا لڑکیوں کو رہائش کی آڑ میں فحاشی اور جسم فروشی پہ مجبور جا رہا ہے

ویڈیو میں مکرم صاحب صوفے پہ بیٹھے خباثت سے ہنس رہے تھے اور ایک لڑکی کو پیٹا جا رہا تھا ۔۔باقی لڑکیوں کو اکٹھا کیا گیا ۔۔ تاکہ وہ اس لڑکی انجام کو دیکھ کہ کوئی جرات نہ کریں یہاں سے بھاگنے کی

نیوز پرسن بار بار اسکامیابی پہ بار بار اطلاع دیتا ۔۔

مکرم صاحب اپنےکمرے میں بیٹھے یہ نیوز سن رہے تھے ۔۔ انکے چہرے پہ پریشانی اور حیرانی نمایاں ۔۔ دفتاً دروازہ کھولا۔۔ میں نے کہا تھا میں نے کہا تھا بابا یہ انزل کا کام ہے ۔۔ یہ اسی کمینی کا کام ہے میں نے بولا تھا وہ ایسے ہی نہیں آئی ہمارے پاس ۔۔ وہ چیختا بول رہا تھا۔۔

صغراں اس لڑکی کو بلاؤ۔۔پاس کھڑی صغراں کو کہا

وہ تو شام کو چلی گئی۔۔ ہے شاذل اسے ساتھ لے کہ گیا ہے اپنے ساتھ۔۔

کیا؟؟ کب لے گیا۔۔ یہ پاگل بھی اس سب میں شامل تھا کیا

وہ ماتھے کو مسلنے لگے۔۔

اور وہ دوسری لڑکی ۔۔ ماویٰ کو یاد آتے ہی پوچھا

وہ بھی دوپہر کو نکل چکی تھی۔۔

انہیں محسوس ہوا وہ بری طرح پھنس چکے ہیں۔۔

ابھی کچھ دیر میں پولیس آجائے گی ۔۔ کیا کریں گیں بابا ۔۔ماویٰ سر ہاتھوں میں ڈھرے بیٹھ گیا۔۔

اس وقت تو کوئی ہمارا ساتھ دینے سے بھی کترائے گا۔۔ شبنم بھی پکڑی جا چکی ہے وہ شکستہ لہجے میں بول رہا تھا

مکرم کو اچانک دل کی سائیڈ پہ ہلکا سا درد محسوس ہوا تھا۔۔

اب یہی راہ فرار تھی وہ چلانے لگے ۔۔ تکلیف سے ۔۔ دل پہ ہاتھ رکھے۔۔ ماویٰ صغراں اسکی طرف دوڑے ۔۔

ابھی کے لیے بیماری کا بہانہ بلکل ٹھیک تھا۔۔ اور ہمارے ہاں ایسا ہی تو کرتے ہیں ملزم پہ سب کچھ جب ثابت یو جاتا ہے ۔۔تو وہ بیمار ہو جاتا ہے ۔۔

پھر کیس چاہے چلے یا نہ چلے انکی بلا سے

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

چائے۔۔ انزل شاذل کے لیے چائے لے کر آئی ٹرے میں رکھا سفید کپ پیش کیا۔۔

شکریہ ۔۔ وہ سامنے بیٹھا ٹی وی پہ کوئی فلم دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

تم نے اپنے لیے نہیں بنائی ۔۔ شاذل نے پوچھا ۔۔

نہیں میں چائے نہیں پیتی ۔۔ اس نے مسکرا کہ جواب دیا۔۔ آج وہ سفید رنگ کا ریشمی لباس زیب تن کیا۔۔ تنگ آستین اسکا اگلا اور پچھلا گلا ذرا سا گہرا ۔۔ جو اسنے سامنے ڈوپٹے سے کور کر لیا۔۔ مگر پیچھے مڑنے پہ اسکی دودھیا گردن نمایاں ہوتی اور اس پہ اسکے لمبے بالوں کی ڈھیلی سے چٹیا ۔۔ ساتھ تنگ پاجاما اس نےہو بہو مہ پارہ جیسی ڈریسنگ کی تھی۔۔ وہ بیڈ کی سائیڈ پہ رکھی کرسی پہ جا بیٹھی ٹرے ہاتھ میں پکڑے

شاذل گہری نظروں سے اسے دیکھتا گونٹ گونٹ چائے پی رہا تھا۔۔ پیاری لگ رہی ہو آج ۔۔ ان دونوں کے درمیان ایسی بات چیت کم ہی ہوتی۔۔

انزل کو برا لگا۔۔مگر وہ مسکرا گئ ۔۔ وہ اسکی چائے ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی

اس نے چائے پی لی۔۔ انزل وہاں سے کپ اٹھا کے جانے لگی اسکا کام ختم ہوگیا تھا۔۔ اب باقی اس پہ ڈرگز نے اثر کر دینا تھا۔۔

شاذل نے اسکے ہاتھ سے ٹرے پکڑ کہ ساتھ ٹیبل پہ رکھی ۔۔دروازے کی سمت چلا گیا۔۔ اور دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔۔چائے بہت میٹھی تھی۔۔ اس نے اپنی پاکٹ سے ایک سفید رنگ کی شیشی نکالی۔۔ جو تم نے چائے میں ملایا۔۔ وہ باریک پسی چینی تھی ۔۔تمہاری اصل چیز میرے پاس ہے۔۔

انزل کے چہرےپہ ہوائیاں اڑ گئی۔۔

وہ وہاں سے بھاگنے لگی۔۔ مگر بھاگ کہ جاتی کہاں۔۔ دلچسپ نگاہوں سے دیکھتا شاذل دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا

اسکا دوپٹہ ڈھلک گیا۔۔ جیسے شیشے کے گلاس میں بھرا ہوا جام چلکتا ہے۔۔

اسنے اسکے بازو سے تھامے دروازے سے لگا دیا۔۔ ایک ہاتھ سے اسکے دونوں کلائیوں کو جوڑ کے پکڑا دوسرے ہاتھ چیخنے کے لیے تیار انزل کہ منہ پہ رکھا

تم سے بہت سے سوال جواب کرنے ہیں۔۔ مگر آج کی رات میں ان سوالات میں ضائع نہیں کر سکتا۔۔ وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔۔

بن پیے ہی وہ نشے میں تھا۔۔

وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی انزل۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *