Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 16)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

صوفے کے اوپر پاؤں چڑھائے ان پہ بازو لپیٹ کہ سر نیچے بیٹھی تھی۔۔

سر کی ہلکی ہلکی جنبش سے اندازہ ہو رہا تھا وہ رو رہی ہے۔۔ شاذل اسے نظر انداز کیے آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا ۔۔۔

میں جانتا ہوں تمہیں یہ سب کرنے پہ کس نے اکسایا ہوگا۔۔ وہ آئینے میں دیکھتا بولا۔۔

اس نے سر اٹھایا۔۔ رو رو کی سوجھی آنکھیں ۔۔ چہرے پہ نفرت لیے وہ اسے گھور رہی تھی۔۔

کل کا سفید لباس مگر شکن زدہ ۔۔ کھلے بال

شاذل نے نظریں چرائی۔۔

افنان نے ۔۔ ہیں نا۔۔ وہ مڑا بازو باندھے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔

وہ ہنوز اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔

خیر تمہارے اسطرح دیکھنے سے مجھے کچھ نہیں ہوگا ۔۔ الٹا تم پہ ہی بھاری پڑ جائے گا۔۔ وہ ذو معنی انداز میں بولا۔۔

تم ۔۔۔ شاذل تم قاتل ۔۔۔ہو۔ نہ صرف قاتل بلکہ ایک وحشی پاگل انسان۔۔ وہ لمبے سانس بھرتے چیخ رہی تھی۔۔

شاذل یکدم اسکے قریب آیا ۔۔ اسکی نظروں میں انگارے سے بھر گئے۔۔ وہ اسے بیڈ پہ گراتا ۔۔ اس پہ حاوی ہوا ۔۔ اسکےبازو تھامے ذرا جھکا۔۔ یہاں تک اسکی سانسوں کی گرمائش انزل کو محسوس ہونے لگی۔۔

مجھے قاتل کس نے بنایا۔۔ جانتی ہو ۔۔۔ تین لوگ۔۔

مکرم۔۔۔ ماویٰ اور افنان۔۔۔

اور میرے پاگل پن کے پیچھے بھی یہی تین لوگ تھے۔۔ ایک عرصہ نہیں۔۔ پورے پچیس برس۔۔۔ پچیس سال مجھے ذہنی ٹارچر کیا گیا۔۔ اگر اپنی امان چاہتی ہو۔۔ تو اپنی زبان بند رکھو ۔۔ ورنہ میں واقعی پاگل بن گیا۔۔ تو یہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوگا۔۔

وہ ہر لفظ چبا کہ کہتا ۔۔انزل کی آنکھوں میں پھر سے آنسو جاری ہوگئے۔۔

شاذل اٹھا باہر جانے لگا ۔۔ دروازے پہ پہنچ کہ رک گیا۔۔

یہاں سے باہر نہیں جا سکتی تم۔۔ وہ کہتا دروازے کو لاک کر کے چلا گیا۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

تین دن بعد شاذل گھر آیا۔۔ مکرم صاحب ہسپتال میں تھے انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔ یا کروایا گیا تھا۔۔

ویر ۔۔ آپ کہاں تھےجانتے ہیں لوگوں نے کسیے کیسے الزام لگائیں ہیں بابا ہسپتال میں پہنچ گئے۔۔

یہ سب اس دونوں لڑکیوں کی وجہ سے ہوا۔۔

اس انزل سے پوچھیں اس وشمہ کو تو میں ڈھونڈ کہ اسکا وہ حشر کروں گا ۔۔ساری زندگی یاد رکھے گی۔۔

وہ غصے سےبپھرا لاؤنج میں ٹہل رہا تھا ۔۔ شاذل خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

ویر آپ کچھ کہتے کیوں نہیں ۔۔ وہ شاذل کی خاموشی سے جھنجھلا چکا تھا

بابا نے جو بویا ہے وہی کاٹ رہے ہو۔۔مجھے کبھی خبر کی کہ کونسے کام میں ملوث ہو۔۔ وہ لاپرواہ سا بولا

تو تم ہماری مدد کرو گے یا نہیں۔۔ ماویٰ کا لہجہ بدل گیا۔۔

نہیں۔۔ شاذل کا دو ٹوک جواب۔۔

وہ کچھ دیر بے یقینی سے دیکھتا رہا ۔۔

بابا کے بارے میں ٹھوس شواہد ہیں ۔۔ انہیں جیل جانے سےکوئی نہیں روک سکتا۔۔ ہو سکتا ہے ان کا کوئی سیاست دان دوست کام آجائے اتنے برسوں میں کوئی تو ایسا ہمراز بنایا ہوگا۔۔شاذل نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

انہوں نے تو یہاں تک مدد کی ہے۔۔ بابا کی ضمانت ہوچکی ہے۔۔ باقی رہ گئی ٹرائل کی بات وہ ہم کھینچ سکتے ہیں ۔۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کیس چند اعلی عہدے دار افسران کی مدعیت میں درج ہوا ہے۔۔۔

وہ بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں ۔۔

اس نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔۔

ہوں یعنی بابا کا بچنا ناممکن ہے۔۔ شاذل نے وقت سے پہلے نتیجا نکالا۔۔

وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

کیا یہ کیس تمہاری طرف موڑ لے سکتا ہے کیا۔۔

شاذل نے استفسار کیا۔۔

جی نہیں سب کچھ بابا کے ۔۔۔ خلاف ہے ۔۔ اس نے کچھ حد تک سمجھتے ہوئے کہا۔

تو تم اس مسئلے سے با آسانی نکل سکتے ہو۔۔ اگر تم بابا کے مسائل میں نہ پڑو تو۔۔

شاذل اٹھ کے اسکے قریب آیا۔۔ وہ جو کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا۔۔وہ سمجھ گیا

شاذل ویر۔۔۔ ٹھیک ہے تو اب یہاں وہی ہوگا جو ہم چاہیں گیں گا۔۔ ویسے بھی بابا اب بوڑھے ہو چکے ہیں ۔۔ مکرم امان سنٹر سب کچھ پولیس کہ حوالے ہے۔۔ اس سب کہ بارے میں ٹھوس ثبوت ہیں۔۔ تو اب مجھے لگتا ہے بابا کسی کام کے نہیں رہے ۔۔یہ دھن دولت ہم دونوں کو ہی سنبھالنی پڑے گی ۔۔

اگر میری طرف بات آئی بھی تو۔۔ بابا ہسپتال میں دل کے مریض ہیں ۔۔ کب تک انکی زندگی انکا ساتھ دے گی

وہ آرام سے آکے صوفے پہ گردن رکھے بیٹھ گیا

شاذل مسکراتا دیکھ رہا تھا اسے۔۔

بھائی ایک بات اور بتانی تھی وہ ڈیرے پہ۔۔ وہ بولنا شروع ہوا

اسکا پہلا تیر نشانے پہ لگا۔۔ ماویٰ جیسا لالچی خودغرض انسان کب کسی کا ہوسکتا ہے۔۔

اب مکرم اپنے انجام تک پہنچے گا ۔۔ اسکا اپنا بیٹا اسے مکرم کو اپنے انجام تک پہنچائے گا۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کافی ایریا میں اپنی نشست سنبھالنے بھاپ اڑاتے مگ کو پکڑے اپنے کی خیال میں مگن تھا۔۔

انزل کے ساتھ کیے گئے اس سلوک پہ شرمندہ ۔۔ وہ جذباتی لڑکی تھی ۔۔ اسے بھی بے وقوف بنایا گیا تھا۔۔ مہ پارہ کی بہن تھی مگر مہ پارہ کے بر خلاف تھی

آنکھوں کے سامنےمنظر سے لہرانے لگے ۔۔

شاذل سائیں ۔۔خیرو ڈیرے پہ سر جھکائے شاذل کے قریب خیرو بڑی احتیاط سےا سے پکارا ۔۔

وہ ضرورر کوئی خبر لے آیا ہوگا۔۔

میرے ساتھ چلو۔۔ شاذل اسے ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔ خیرو گاڑی کی ڈرائیور نگ سیٹ سنبھالے بیٹھ گیا۔۔

شاذل سائیں اس لڑکی کا میں نے پتہ کروایا ہے ۔۔

وہ بلکل سچ بول رہی ہے۔۔ اسکی ماں مر گئی ایک چچا چاچی ہے ۔۔اور انکی بیٹی ۔۔

ہوں ۔۔اسکے چچا سے بات کرتے ہیں۔۔شاذل نے کچھ سوچ کہ کہا۔۔

شاذل سائیں وہ اسکا چچا پہلے بھی ماویٰ سے ملا تھا ۔۔

تم نے ان سے انزل کے بارے میں کوئی بات کی۔۔

جی ۔۔ سائیں ۔۔ انہیں آپکا پیغام دے دیا تھا۔۔ مگر اس وقت اسکی لڑکی ہی گھر پہ تھی ۔۔ وہ انزل سے ملنا چاہتی ہے۔۔

ٹھیک ہے اسے لے آؤ۔۔

لمبی چادر ڈھانپے کانپتی سی وہ نحیف سے لڑکی۔۔

میں قسمت ہوں ۔۔ انزل کی چچازارد بہن ۔۔ وہ اسکے کہنے پہ انزل سے ملنے تو آگئ ۔۔ مگر وہاں فلیٹ میں صرف شاذل اور اسکے ملازم کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔

انزل کہاں ہے۔۔ اس کی کانپتی آواز برآمد ہوئی۔۔

وہ جہاں بھی ہے ٹھیک ہے۔۔ تم سے مجھے سوال کرنے ہیں اور ان سوالات کے صیح جواب دینا۔۔

شاذل کا سرد لہجہ۔۔

تت تم لوگوں نے دھوکے سے مجھے یہاں بلایا ہے۔۔ انزل کہاں ہے۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

پہلے سوالوں کے جواب۔۔ وہ ہنوز اسے ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

انزل کیا واقعی تمہاری چچا زاد بہن ہے کیا۔۔

شاذل اپنے سوچ کو ظاہر کر ہی گیا۔۔

جج جی۔۔ اس نے ڈرتے ہوئے جواب دیا۔۔

مہ پارہ کو جانتی ہو؟؟

جی ۔۔ وہ انزل کی جڑواں بہن ہے۔۔ کسی گاؤں میں رہتی ہے۔۔ انزل کے بابا نے اپنے دوست کے گھر اولاد نہ ہونے پہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک ۔۔ اسے دے دی۔۔ اب وہ وہیں رہتی ہے۔۔

ماویٰ اور انزل کا کیا قصہ ہے۔۔ انزل کیا وہی لڑکی ہے جس کی وجہ سے ماویٰ جیل گیا۔۔ شاذل مزید جاننا چاہتا تھا

جی انزل نے اپنے سر افنان کی مدد سے یہ سب کیا

افنان۔۔ خیرو اور شاذل ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔

افنان جانتا ہے انزل کو۔۔ وہ مکمل طور پہ چونک گیا۔۔

جی وہ اسکے سر ہیں۔۔

ٹھیک ہے تم جاؤ یہاں سے۔۔ شاذل اسے کہتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔

یعنی انزل کو افنان استعمال کر رہا ہے۔۔ شاذل کواب سارا کھیل سمجھ میں آرہا تھا۔۔

مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو انزل بی بی ۔۔ تو ٹھیک ہے ۔۔ افنان اور تمہیں بھی دیکھ لوں گا۔۔

سب کہ کردار بے نقاب ہوگئے

شاذل سائیں یہ انزل بی بی ان کے ساتھ ملی ہے۔۔خیرو کو اپنے مالک کے خلاف اتنے دشمن دیکھ کہ خوف سا محسوس ہوا

نہیں ۔۔ وہ نہیں جانتی کہ افنان اسے استعمال کررہا ہے۔۔

تم مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہو۔۔ تو ہمارا نکاح ہی ہوگا۔۔ وہ مسکرا رہا تھا۔۔

لڑائی لڑنے سےپہلے اسے اپنے دوست اور دشمنوں کا پتہ ہونا چاہئے

شاذل ۔۔۔ کسی نے اسے پکارا۔۔

آؤ وشمہ بی بی ۔۔ بیٹھو۔۔

میں یہاں بیٹھنے نہیں آئی۔۔ انزل کہاں ہے۔۔ اور اگر اسے کچھ بھی ہوا تو۔۔ میں تمہارا وہ حشر کروں گی کہ۔۔۔

تمہیں پتہ ہے ہمارے ڈیرے کے اندر ایک تہہ خانہ ہے۔۔ جہاں لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور وہ وہاں سے اسمگل کیا جاتا ہے۔۔۔۔

مجھے اس بات کا اندازہ نہ تھا اتنی رازداری سے یہ کام ہورہا ہے۔۔یہ فوٹیج تمہرے کام آئے گی۔۔ وہ اسے موبائل تھمائے بولا۔۔۔

میں انزل کے بارے میں پوچھ رہی ہوں اور تم

انزل اس دن افنان سے ملنے کہاں گئ تھی۔۔ شاذل نے اسکی باتوں کو نظر انداز کیے پوچھا۔۔

وہ غصے میں وہاں سے جانے لگی۔۔

افنان اسکے ساتھ نہیں اسکے خلاف ہے۔۔ اگر اسکو انزل کی اتنی ہی پرواہ ہوتی تو وہ امان سنٹر جیسے دلالی والی جگہ پہ ایک عورت کو کیوں بھیجتا۔۔ یا حویلی میں آنے کہ بعد اسکی مدد کیوںنہ کرتا۔۔ وہ صرف اسے استعمال کر رہا تھا ۔۔ میرے خلاف ۔۔

شاذل نے اسے سمجھانا چاہا۔۔

تو تم نے اسکی بہن کو قتل کیا ہے افنان کی بیوی کو مارا ہے۔۔ تمہارے خلاف پولیس کوئی ایکشن نہیں لے سکتی تھی۔۔ افنان کو یہی طریقہ صحیح لگا۔۔

ہر گز نہیں ۔۔ پولیس کو کاروائی کے لیے ۔۔ میرے باپ نے اطلاع دی تھی ۔۔وہ تو خود مجھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے تھے۔۔ افنان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا تھا ۔۔ مگر اس نے سب کومنع کیا۔۔

کیوں ۔۔ اس کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی ۔۔ مہ پارہ کو قتل اسی نے کیا تھا۔۔

شاذل نے ایک انہونی کا انکشاف کیا۔۔

وشمہ وہاں بیٹھ چکی تھی

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ایک ہفتے سے وہ وہاں قید تھی وہ دروازہ پیٹتی روتی چلاتی۔۔ مگر کوئی اسکی آہ بکا نہیں سن رہا تھا۔۔

ایک ملازم اسے کھانا دے جاتا۔۔ مگر اسے شاذل کے حکم سے باہر نہیں جانے دیا جاتا۔۔

وہاں کسی قسم کا کوئی فون کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جس سے وہ کسی کو اپنے بارے میں بتا سکتی

وہ بیڈ پہ بیٹھی وہاں سے نکلنے کی ترکیب سوچ رہی تھی۔۔

دروازہ کھولا ۔ وہی معمول کا ملازم کھانے رکھنے آیا۔۔

تمہارا مالک کہاں ہے۔۔۔ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔۔

وہ ملازم ہنوز خاموشی سے بیڈ کے سامنے ٹیبل پہ کھانا رکھنے لگا۔۔

انزل بیڈ سے اتر آئی۔۔

پلیٹ سے دھکا ہوا کھانا اسکے ساتھ کانٹا چمچ ساتھ گلاس میں پانی اور دیگر لوازمات ۔۔۔

انزل نے اس میں سے کھانٹا اٹھا لیا۔۔

اور کچھ چاہے میڈم ۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح مودبانہ انداز میں کھڑا ہو کہ پوچھتا انزل خاموش رہتی ۔۔اور وہ چلا جاتا۔۔

ہاں ۔۔ آج انزل کچھ بولی۔۔ اسکے ساتھ ہی کانٹا اسکی کمر میں گھونپ دیا۔۔ وہ درد سے چلایا۔۔ انزل دروازے کے ساتھ جا کھڑی ہوئی۔

دو مسلحہ گارڈ اس ملازم کی چیخ سن کہ اندر آئے دروازے کے پیچھے چھپی انزل کو نہ دیکھ پائے۔۔ اور انزل انہیں لاک کرتی وہاں سے بھاگ نکلی۔۔ وہ کسی دو کمروں پہ مشتمل فلیٹ پہ تھی ۔۔ وہاں اس کے کمرے کے باہر گارڈ کے علاوہ اسکے گیٹ کے باہر بھی گارڈ موجود تھے ۔۔ انزل داہنی طرف چھت کی جانب جاتی سیڑھیوں پہ چڑھنے لگی۔۔ وہ گارڈ دروازے کو پیٹ رہے تھے۔۔

انزل چھت پہ پہنچ چکی تھی وہ گھر تین گھروں کے ساتھ منسلک تھا۔۔ انزل چھت کی مدد سے ایک دوسرے گھر کی چھت پہ چڑھ گئی۔۔ وہاں ایک لڑکی گیلے کپڑوں کو تار پہ ڈالتی ۔۔ انزل کو اپنی چھت پہ چڑھتا دیکھ بولنے لگی۔۔

اے لڑکی ۔۔ کہاں آرہی ہو۔۔

حواس باختہ ۔۔انزل اسکی طرف بڑھی ۔۔ اسکے سامنے ہاتھ جوڑے اور رونے لگی۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ لڑکی اور اسکی ماں روتی کانپٹتی انزل کو حوصلہ دے رہیں تھیں وہ انزل کو اپنے کمرے میں لے آئیں باہر کا دروازہ اچھے سے بند کر دیا ۔۔ اس لڑکی نے انزل کو پانی کا گلاس تھمایا ۔۔۔۔

توبہ توبہ کیسے کیسے لوگ ہیں اس دنیا ۔۔ تم فکر نہ کرو یہاں سے کوئی نہیں لے جائے گا۔۔ اسکی ماں انزل کے سر پہ ہاتھ پھیرے اسے حوصلہ دے رہی تھی۔۔

آپ مجھے بس کال کرنے دیں ۔۔میں اپنے بھائی کو فون کروں گی ۔۔ وہ مجھے یہاں سے لےجائے گا۔۔ انزل اسکا ہاتھ پکڑے روتے ہوئے بولی۔۔

میری مانو تو پولیس کو کال۔کر لو جیسا تم نے کہا یہ اغوا کار تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔ انہوں نے فکر مندی سے کہا۔۔

کچھ نہیں ہوگا۔۔بس میں اپنے بھائی کوفون کر دوں گی ۔۔ وہ مجھے لے جائیں گیں یہاں سے۔۔

انزل نے جھنجھلاہٹ سے کہا۔۔

اس لڑکی نےفونلا کہ دیا۔۔ انزل کو ایک ہی نمبریاد تھا اس دنیا میں ۔۔ اس نےجلد ہی افنان کو کال ملائی

۔۔۔ افنان ۔۔ انزل کال اٹھاتے ہی روتے ہوئے اسے پکارا

کیا ہوا۔۔ انزل کہاں ہو تم ۔۔ کیا تم نے دیکھا مکرم ۔۔

میں مصیبت میں پھنس چکی ہوں۔۔ تم جلدی آؤ۔۔

اس نے ان دونوں ماں بیٹی کی موجودگی میں جلد بات ختم کرنی چاہی

ٹھیک ہے ایڈریس بھیجو۔۔ میں آتا ہوں۔۔۔

وہان دونوں سے اس علاقے کا پتہ پوچھتی افنان کو سمجھا رہی تھی۔۔

اچانک دروازے پہ زور زور دستک ہونے لگی۔۔۔

وہ تینوں سہم ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

شاذل ڈیرے پہ بیٹھا تھا ۔۔ جب ماویٰ پریشانی سے اسکی طرف آیا۔۔

وہ اپنے ملازم کو وہاں سے جانے کا کہتا ماویٰ اسکے قریب آ بیٹھا

ویر جی۔۔ بابا کے خلاف کیس کا ٹرائل شروع ہوگیا ہے۔۔ تحقیقات شروع ہوئی تو میں بھی بری طرح پھنس جاؤں گا۔۔

وہ لوگ آئے تھے مجھ سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے ۔۔ میں نے ان سے ڈیل کرنے کی کوشش کی۔۔ الٹا یہ مجھ پہ ہی پڑ گیا۔۔

ہوں۔۔ آئے تو میرے پاس بھی تھے مگر میں اس معاملے میں تھا ہی نہیں تو مجھ کچھ نہ حاصل ہو سکا۔۔

اگر بابا پہ کیس چلا۔۔ تو ضرور وہ لوگ تمہیں بھی گھسیٹے گیں ۔۔ فیصلہ کر لو کیا کرنا ہے۔۔

جی ۔۔ فیصلہ جر چکا ہوں میں۔۔

بس مسئلہ یہ ہے کہ بابا کے روم کہ باہرپولیس گارڈ موجود رہتے ہیں ۔۔ یہ بھی الٹا مجھ پہ ہی الزام لگے گا۔۔

ایسا نہیں ہوگا۔۔ تم بس وہی کرتے جاؤ جو میں کہتا ہوں۔۔ شاذل اسے سب پلان۔سمجھا رہا تھا۔۔ اور وہ سر ہلاتا سمجھ رہا تھا۔۔۔ اپنی ہی بربادی اپنے ہی ہاتھوں انجام پانے لگا۔۔

وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اسکا فون رنگ ہوا ۔۔۔

ہاں بولو۔۔ اسکی گھمبیر آواز

سر وہ لڑکی ۔۔ وہ لڑکی بھاگ گئ دوسری طرف سے گارڈ پریشان سا بولا

کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔ کیسے بھاگی۔۔ تم پانچ لوگ کس لیے تھے۔۔ شاذل ماتھے کو انگشت سے مسلتا باہر چلا گیا۔۔

سر ہمیں شک ہے وہ پیچھے گھر میں گھس گئی ہوگی۔۔ لیکن اس گھر میں موجود عورت نے انکار کر دیا ہے۔۔

زبردستی جاؤ ۔۔ اور ڈھونڈو اسے ۔۔ نہیں تو میں پہنچتا ہوں وہاں۔۔

شاذل کہتا فون بند کر گیا۔۔ ڈیرے کہ باہر کار کہ ساتھ کھڑا خیرو۔۔

وہ اسے اشارہ کرتا کار میں بیٹھ گیا

خیرو کار چلانے لگا۔۔۔

ہیلو ۔ ہاں حمزہ ۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں ایک کام ہے۔۔۔۔ ایک لڑکی کو ڈھونڈنا ہے۔۔۔ ہاں میں ایڈریس تمہیں سینڈ کرتا ہوں۔۔ تو چند سپاہی بھیج دے ۔۔ نہیں یار۔۔ بس وہاں سے لڑکی نکلوانی ہے۔۔ میں وہاں پہنچ جاؤنگا۔۔ رات تک۔۔

فون بند کر کہ وہ کار کہ باہر دیکھنے لگا۔۔۔ تم مجھ سے دور نہیں بھاگ سکتی ۔۔انزل بی بی

وہ کہتا آگے کا لائحہ عمل سوچ رہا تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

بیٹا یہ لوگ تمہیں یہاں سے نکلوا ہی لیں گیں ابھی کے لیے تو میں نے منع کر دیا۔۔ مگر یہ دوبارہ بھی آئیں گیں۔۔ اور ایسا تھا بھی۔۔ ایک گارڈ ان کے گھر سے باہر کھڑا ہوگیا۔۔

رات تک میرا بھائی آجائے گا۔۔ بس مجھے رات تک کی مہلت دے دیں۔۔ وہ ہاتھ جوڑے ان کے سامنے التجا کرنے لگی۔۔۔ماں بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔

اسے کمرے میں چھوڑ وہ وہاں سے نکل گئی۔۔۔

انزل کے لیے مشکالات ابھی ختم نہ ہوئی تھی۔۔ افنان نے اسے واقعی ہر مشکل میں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔۔ اب وہ اسکی مدد کیسے کرتا۔۔ وہ جو مہ پارہ کو نہ بچا پایا اسے کیسے بچائے گا۔۔

دروازے پہ پھر سے دستک ہوئی۔۔ وہ چونک گئی۔۔ اس بار دستک پہلے سے زیادہ تیز تھی ۔۔

اس لڑکی کی ماں کمرے کی طرف دیکھتے دروازے تک گئی۔۔چند پولیس اہلکار اندر داخل۔ہوئے ایک لیڈی کانسٹیبل بھی۔۔

پولیس اس لڑکی کے ماں کے رنگ اڑ گئے۔۔۔

جج جی۔۔صاحب یہاں ۔۔

ہٹو بی بی۔۔ یہاں پہ تم لوگوں نے ایک لڑکی کو پناہ دی ہے۔۔ اسی کوبازیاب کروانے آئے ہیں۔۔

نن نہیں کوئی نہیں۔۔ وہ انہیں روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔ وہ لیڈی کانسٹیبل اندرجا پہنچی۔۔ انزل ڈری سہمی کھڑی۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی تصویر دیکھی اور انزل کو دیکھا ۔۔ وہ پہچان گئ ۔۔۔

وہ اسے پکڑتی باہر لے جا رہی تھی۔۔

ہاں تو یہاں کوئی لڑکی نہیں تھی ہے نا۔۔۔ وہ غصے سے تنے نقوش سے گھورتی انزل کو وہاں سے لے جا رہی تھی۔۔

انزل لب بھینچے چپ چاپ چل دی ۔۔ جانتی تھی۔ ۔۔ اب رونے دھونے شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔ وہ لیڈی کانسٹیبل اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کی بجائے۔۔ ایک دو منزلہ گھر تک لے گئ ۔۔

پولیس موبائل سے اترتی اسے گھر کہ اندر چھوڑ آئی

۔۔ سنو لڑکی ۔۔ یہاں سے بھاگنے کی کوشش بھی کی نا۔۔ تو کسی قتل میں مفرور مجرم کے طور پہ ہر جگہ پوسٹر لگوا دوں گی۔۔ سمجھی۔۔ وہ گھر کے صحن میں کھڑی اسے دھمکا رہی تھی۔۔

انزل چپ چاپ سننے پہ مجبور۔۔

وہ کانسٹیبل وہاں سے چلی گئی انزل ایک ملازم کی معیت میں چل رہی تھی۔۔

شاذل کسی طور بھی کہیں نہیں جانے دے گا۔۔ یہ وہ جانتی تھی۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ کمرے میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔ زور سے دروازہ کھولا۔۔ شاذل اندر آیا۔۔

انزل نے ایک تیکھی نگاہ اس پہ ڈالی۔۔ اور واپس سے منہ موڑ لیا۔۔

تمہیں کہا نا۔۔ انزل بی بی تم یہاں سے نہیں جا سکتی۔۔

مجھے اس وقت تمہاری شکل نہیں دیکھنی۔دفعہ ہوجاؤ۔۔

ہوہ اسکے قریب آیا۔۔ ایک ہفتے میں ہی اسکا چہرہ کملا گیا تھا۔۔ اسکے چہرے پہ جو نرمی رہتی تھی وہ اب ایک خونخوار نفرت میں بدل چکی تھی۔۔ وہ بھی بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔ انزل حد درجہ اس سے فاصلہ بنانے کی کوشش کی۔۔

مہ پارہ کو میں بہت چاہتا تھا۔۔ بہت محبت کرتا تھا۔۔ مگر کسی نے کہا۔۔ تم۔اپنے حق کے لیے اسے چھوڑ دو۔۔ میں نے چھوڑ بھی دیا۔۔۔ دستبردار ہو چکا تھا۔۔ مہ پارہ کو میں نے اپنے ہوش و حواس میں اغواہ نہیں کیا تھا یہ مجھ سے کروایا گیا۔۔

مگر یقین جانو۔۔ مہ پارہ کو میں نہیں مارا۔۔ تم یہ سب

تم شاذل۔۔ تم کیا سمجھتے ہو۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

میں تمہیں معاف کردوں گی۔۔

میں نے اتنا کچھ سہا۔۔ تکلیف برداشت کی۔۔ صرف اسلیے ۔۔اپنے گنہگاروں کو معاف کر دوں۔۔ تم نے میری بہن کو مارا ہے۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا

ہر گز نہیں ۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ میں ایسا نہیں کروں گی۔۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گی۔۔

وہ نفی میں سر ہلاتی ۔۔ اس سے کہہ رہی تھی۔۔

تو۔۔۔۔ تم سے معافی کس نے مانگی ہے۔۔ شاذل نے ابرو اچکائے پوچھا۔۔۔

انزل کو پیروں پہ لگی۔۔ سر پہ بجھی۔۔

شاذل نے اپنا فون اسکی بیڈ پہ پھینکا۔۔ کر لو جس کوفون کرنا ہے۔۔ اور چلی جاؤ جہاں جانا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں اس پہ گاڑھے بولا

ایک بات یاد رکھنا انزل جس دن تمہیں ساری دنیا کی حقیقت کا پتہ چلا نا۔۔ اس دن تم شاذل سے معافی مانگنے آؤ گی۔۔

پوچھنا اس افنان سے کیا مہ پارہ سے شادی کے باوجود اس کے کئی لڑکیوں سے تعلقات نہیں تھے۔۔

جس پہ پوچھنے پہ وہ مہ پارہ کو مارتا۔۔

اگر یہ بھی نہ پوچھ سکو۔۔ تو میں لے چلتا ہوں تمہیں ہنزہ کہ گھر مہ پارہ کی دوست یا۔۔ افنان کے گھر۔۔ اسکی ماں تمہیں حقیقت بتا دے گی۔۔ مہ پارہ کسیے اس کےلیے پاگل تھی۔۔ یہاں تک کہ اس کی بے وفائی سہہ گئی۔۔

یا اس سے پوچھنا وہ اس وقت کہاں تھا ۔۔ جب مہ پارہ کنویں کی منڈیر پہ کھڑی تھی۔۔ وہ خود موت کہ منہ دہانے کھڑی تھی۔۔ میں نے مارنا ہوتا تو اسے وہی سے دھکا دے دیتا۔۔ گولی کیوں چلاتا

یا اس سے یہ پوچھنا ۔۔۔۔ جن لڑکیوں کو ماویٰ نشانہ بناتا۔۔ ان کہ پاس افنان ہی کیوں پایا جاتا۔۔ اور وہ لڑکیاں بعد میں مر کیوں جاتی

اگر اس نے کسی سوال کاجواب نہ دیا۔۔ تو تم میرے پاس واپس لوٹ آنا

وہ کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔

انزل بے یقینی سی فون کو دیکھتی رہی۔۔۔

اس نےخاموشی سےفون اٹھائے اور نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔

ہیلو۔۔۔ نہیں اب وہاں نہیں ۔۔ اب میں آتی ہوں۔۔ تم ایڈریس بھیج دو۔۔

کچھ دیر میں انزل کار میں بیٹھی جا رہی تھی۔۔

شاذل ٹیرس پہ کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔

اور اسکے پیچھے لگا۔۔ ایک بائیک سوار۔۔ وہ خاموشی سے اپنے چائے کہ مگ کوتھامے ٹیرس پہ رکھی کرسی کی طرف آگیا۔۔

مکرم کہ بعد افنان

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کار رکی۔۔ ایک گھر کے سامنے ۔۔ جہاں افنان ٹھہرا ہوا تھا۔۔

وہ کار سے نکلی گیٹ کے ساتھ کال بیل بجائی

۔۔۔

آنکھوں پہ چشمہ لگائے۔۔ رف سے حلیے میں افنان باہر نکلا۔۔

اوہ انزل ۔۔۔ میں نے کہاں نہیں تمہیں ڈھونڈا۔۔

وہ اسے کہتا اندر لے آیا۔۔

انزل خاموشی سے اندر داخل ہو گئی۔۔

وہ اسے صوفے پہ بیٹھا کہ اسکے لیے پانی لے آیا

کیا ہوا۔۔ وہ شاذل ۔۔۔ اپنے تئیں اس نے اندازہ لگایا

چھوڑو گا نہیں میں اسے۔۔۔۔ افنان ہاتھ کی مکا سابنا کہ دوسرے ہاتھ پہ مارتا بولا۔۔

مکرم کہ بارے میں کچھ بتا رہے تھے۔۔

انزل کا سر ہنوز جھکا ہوا۔۔

مکرم کو جیل جانے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔۔ لیکن وہ ہسپتال میں ہے میں صبح اسے مل کہ آیا۔۔۔ لوگوں کے غرور اور برے کاموں کاآخر یہی انجام۔ ہوتا ہے۔۔

وہ اس سے کہہ رہا تھا۔۔ مگر انزل خاموش تماشائی اپنے ذہن میں ابھر رہے سارے سوالات کو رد کر رہی تھی۔۔

کیا ہوا ہے انزل تم کھوئی کھوئ سی ہو۔۔ فکر نہ کرو۔۔ میں نے سب انتظام کر لیا ہے۔۔ کل صبح یہاں سے نکل جائیں گیں

مہ پارہ کیسے مری۔۔ اس نے سر اٹھا کہ اس سے سوال کیا۔۔

وہ چونک کہ اس غیر متوقع سوال پہ دیکھنے لگا۔۔

بتایا تو تھا تمہیں شاذل نے اسے مارا تھا

کیسے؟

افنان کا سر جھک گیا۔۔ اسکا ریپ کر کے اسے گولی مار دی۔۔

مگر اسکی لاش تو کنویں سے ملی تھی۔۔ اور اسکا ریپ ہوا تھا کیا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہی لکھا ہے۔۔

اس نے پھر سے سوال داغا۔۔

میں اس وقت گھر نہیں تھا۔۔ اس کے جنازے کہ وقت۔۔

حویلی کہ ایک ملازم نے مجھے بتایا۔۔ کہ آپ اس وقت وہیں تھے۔۔ مہ پارہ کہ قتل کہ خلاف آپ نے کیس نہیں کیا تھا۔۔

انزل تفتیشی انداز میں پوچھ رہی تھی ۔۔

انزل۔کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔ یہ کیسے سوال کر رہی ہو۔۔

حدیقہ کی خودکشی کہ وقت آپ کہاں تھے۔۔

انُ نے ایک دوسرہ سوال کیا ۔۔۔ افنان کے ماتھے پہ۔پسینہ سا آگیا۔۔

انزل بس بہت ہوگیا۔۔ تم مجھ پہ الزام لگا رہی ہو۔۔

شاذل نے بہت خوب برین واشنگ کی۔۔

وہ تلملا اٹھا۔۔

ہاں شاید۔۔ انزل نےسر جھکا لیا۔۔

بی ریلکس۔۔ ایسی ویسی تمام سوچوں کو نکال دو۔۔

وہ اسے کہتا اٹھ گیا۔۔ وہ کچن کی طرف بڑھا اسکے لیے چائے بنانے لگا۔۔

مہ پارہ سے میں بہت محبت کرتا تھا ۔۔ وہ بھی مجھ محبت کرتی تھی۔۔ ہاں یہ۔صیح ہے۔۔ کہ۔میں اس سے شادی سے خوش نہیں تھا۔۔ مگر بعد میں مہ پارہ کہ معصوم دل نے میرا دل جیت لیا۔۔۔

مگر شاذل ہم۔دونوں کے بیچ آگیا۔۔

ایک دفعہ میں نے ہنزہ شاذل اور مہ پارہ کو دیکھا۔۔

مہ پارہ اپنی دوست ہنزہ کی مدد سے شاذل سے ملنے جاتی۔۔ وہ چائے کی ٹرے اسے لے آیا۔۔ ہنوز بولے جا رہا تھا

ایک دفعہ میں نے دیکھ لیا۔۔ مگر اگنور کیا۔۔ مجھے مہ پارہ پہ بھروسہ تھا۔۔

مگر ان دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگی۔۔۔

میں نے اسے ہنزہ سے ملنے پہ پابندی لگادی۔۔

مگر وہ میری غیر موجودگی میں ہنزہ سے ملنے چلی گئی۔۔

اس نے چائے انزل کو تھما دی۔۔۔

انزل چائے پینے لگی۔۔

انزل کے چائے پینے پہ وہ ذو معنی انداز میں مسکرایا

مجھے اس دن بہت غصہ آیا۔۔ آخر میں بھی مرد تھا کب تک اس کی بے وفائی بر داشت کرتا۔۔۔۔

ہاں یہ سچ تھا کہ میرے بھی کئ لڑکیوں سے تعلقات تھے ۔۔

ایک دفعہ پتہ ہے کیا ہوا۔۔ ایک لڑکی پریگننٹ ہو گئ اور میرے گھر تک پہنچ گئی۔۔ میں سیڑھیوں پہ کھڑا تھا مجھے اس ڈر کی وجہ سے سیڑھیوں سے نیچے گرنا پڑا۔۔ اور مہ پارہ کو اپنانا پڑا۔۔

کیوں کہ وہ پاکباز تھی باقیوں کی طرح نہیں تھی۔۔

انزل شاکڈ سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔

پھر یہ ہوا ۔۔ کہ لڑکی بازی کی میری عادت میں اضافہ ہونے لگا۔۔

مگر میں گھر میں یہ سب نہیں کر سکتا تھا۔۔

انزل کو ٹھنڈے پسنیے آنے لگے۔۔ اسکا حلق خشک ہونے لگا۔۔

مگر آجکل کی لڑکیاں بھی نا۔۔ بنا پیسے کہ ہاتھ نہیں آتی۔۔

میرے بابا نے شاذل کی دیکھ بھال کی زمہ داری سنبھالی تھی۔۔ جو انکے مرنے کہ بعد میں نے سنھالنی تھی۔۔ وہ بھی مفت میں۔۔ مگرمکرم صاحب نے۔۔ بھلا ہو انکا۔۔ انہوں نے مجھے آفر کی کہ میں انکا ساتھ دوں۔۔

وہ انزل کی طرف دیکھتے بول رہا تھا

میں نے یہی کیا۔۔ مہ پارہ کی موت سے پہلے۔۔ شاذل کو ذہنی طور پہ مریض بنانے میں انکی مدد کی وہ بچارے پہلے۔۔ کسی نیم حکیم ڈاکٹر کہ تحت شاذل کو مختلف قسم کی دوائیں دیتے ۔۔ مگر الٹا اثر۔۔ میں نے انہیں صحیح ترکیب بتائی۔۔ اور اسکا استعمال بھی وہ جان گئے۔۔

اور مجھے اچھے خاصے پیسے بھی ملتے یہاں تک کہ۔شاذل کی جائیداد میں سے تیس فی صد بھی

۔۔

انزل کی سانس رکنے لگی وہ صوفے پہ سائیڈ پہ گر چکی تھی۔۔ گلے کو تھامے زور زور سے سانس لینے لگی۔۔

وہ شاذل کے گھر تھی ۔۔ مہ پارہ۔ ۔۔ افنان اس کے اوپر جھکا۔۔چار گھنٹے ۔۔ میں نے سوچ لیا تھا یا تو اسے مار دوں گا۔۔ یا مہ پارہ کو۔۔

وہ افنان نہیں تھا کوئی درندہ تھا۔۔

پھر بس ۔۔ میں نے اسے ڈھونڈا ۔۔ وہ کنوئیں کی منڈیر پہ۔بنا چادر کہ۔۔ میرے ذہن نے جان لیا تھا۔۔ وہ شاذل کی بانہوں میں سے ہو کہ۔آئی تھی۔۔

میں کیسے کسی کا تھوکا ہوا چاٹ لیتا۔۔ وہ گندی ہو چکی ۔۔ تھی۔۔ ناپاک۔۔ میرے قابل نہیں رہی۔۔ میں نے اسے شوٹ کر دیا ۔۔ مار دیا اسے۔۔ وہ اسکے چہرے پہ جھکا مسکرا رہا تھا۔۔

سوچا تھا تمہیں بھی اپنا لوں گا۔۔ مگر تم نے اس شاذل سے شادی کر کے غلطی کر لی۔۔ اب تم بھی میرے قابل نہیں رہی۔۔

انزل کا دم گھٹ رہا تھا۔۔

اور جب حدیقہ مری ۔۔ میں ایسے ہی وہاں مو جود تھا۔۔

۔۔وہ کہتا پلٹ گیا۔۔۔ انزل کی آنکھیں بند ہونے لگی۔۔ وہ کھنچے کھنچے سے سانس لینے لگی۔۔

افنان سامنے کھڑا چائے کہ گھونٹ بھر رہا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *