Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 03)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

کسی کے گرنے کی آواز سے ہنزہ اور مہ پارہ چونکی ۔۔ تایا جی کے گھر سے آواز آئی ۔۔ وہ دل میں آئے وہموں کی نفی کرتی دوسرے گھر کی طرف بھاگی ۔۔ افنان کا باپ اسے اٹھانے کی تک ودود کررہا اس کے ماتھے پہ خون بھل بھل کرتا نکل رہا تھا ۔۔ مہ پارہ بت بنی کھڑی اسکی تکلیف ایسے وجود سے جان جیسے کسی نے ململ کے کپڑے کو کانٹوں پہ ڈال کے کھینچ لیا ہو ۔۔۔ اسکے کمزور باپ سے افنان کا صحتمند وجود اٹھائے نہیں جا رہا تھا ۔۔ مہ پارہ بھاگم بھاگ اپنے گھر آئی ابا ابا ۔۔۔ اپنے باپ کو جگاتی روئے جا رہی تھی ۔۔۔ کیاہوا وہ اسے لئے افنان کے گھر گئی ۔۔ یا اللّٰہ خیر افنان کو زمین پہ پڑے اسے اٹھانے آے ساتھ والے محمد علی کے رکشے میں ڈالتے وہ افنان کو ہسپتال لے جا رہے تھے مہ پارہ کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی ۔۔

یا اللّٰہ جی افنان کے بدلے میر ا وجود حاضر ہے ۔۔ اسکی تکلیف کے بدلے میری راحت حاضر ہے ۔۔

میں تیری گنہگار بندی اپنے سر کے سائیں کی زندگی مانگتی ہوں ۔۔۔

میری جان قربان ۔۔۔ یا اللہ اس نبی کے صدقے میرے افنان کو بچا لینا جس کے واسطے تو نے یہ دنیا بنائی ۔۔۔

تو اپنے محبوب کے صدقے میرے محبوب کی تکلیف کو آسان کردے ۔۔۔

وہ دروازے کی دہلیز پہ بیٹھی آسمان کی طرف منہ کئے دعاؤں میں مشغول ادھر محلے کی عورتیں اور اسکی ماں افنان کی ماں کو دلاسے دے رہی تھیں

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

انزل ۔۔۔ تم پہلے سے ہی خوبصورت تھی یا میں نے تمہیں اب دیکھا ہے ۔۔

انزل سیڑھیوں پہ بیٹھی جلدی جلدی نوٹس بنا رہی تھی ۔۔ اسکی پونی ٹیل بھی ساتھ ساتھ ہلتی اور چہرے پہ آتی اسکی لٹیں اور معصومیت سب میں نمایاں کر تی ۔۔

مانوس سی آواز سن کہ مسکرا تی جھکے سر کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ۔۔

ماویٰ دلکش نگاہوں سے اسے دیکھتا اس کے قریب جا کہ بیٹھ گیا ۔۔ وہ ذرا فا صلہ پہ ہٹ کہ بیٹھ گئی ۔۔۔

ہاں جی اب ہم اس قابل کہاں کہ ساتھ بیٹھ سکیں۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ۔۔۔۔۔ایسے اچھا نہیں لگتا ۔۔ انزل تھوڑا ججکتے ہوئے بولی ۔۔

ماویٰ حدیقہ کے جانے کے بعد انزل کے ساتھ ہی پایا جاتا اب ڈھکے چھپے الفاظ میں اس سے محبت کا اظہار بھی کر چکا تھا ۔۔

ہمم ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔ وہ اٹھ کہ جانے لگا ۔۔۔

اچھا اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے ۔۔۔

وہ اسکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔

انزل دیکھو تم اگر ظاہری طور پہ ماڈرن ہو گئی ہو تو اپنے اندر یہ پرانی پردہ دار لڑکی کو بھی ماڈرن بنا لو ایسے تو منافقت اختیار کر رہی ہو ۔۔

نہیں تو ۔۔۔وہ۔اب کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔ ۔۔ میں تو صرف ۔۔

اچھا چھوڑ و چلو کہیں چلتے ہیں ۔۔ نہیں میری پہلے ہی حاضری کم ہے اب فائنل بھی آنے والے ہیں ۔۔ تو مجھے یہ لیکچر لینا پڑے گا ۔۔۔اس نے عذر پیش کیا ۔۔

ٹھیک ہے جاؤ ۔۔ وہ فون نکالے واپس جانے لگا

تم نہیں آرہے کیا۔

نہیں۔۔۔ مجھے یہ پاگل پروفیسر نہیں پسند ۔۔

وہ ہمیشہ سے سوشل سائیکالوجی کے پروفیسر سے عناد رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔

انزل مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئ اب اسکا ذہن بدلنا بہت ہی مشکل کام تھا ۔۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کلاس میں بیٹھی وہ ماویٰ کے خیالوں میں کھوئی تھی ۔۔۔ کیا پڑھایا جا رہا ہے کلاس میں کون ہے اسے کچھ خبر نہیں تھی ۔۔وہ اکثر غائب دماغ ہی پائی جاتی نہی جانتی تھی ماویٰ کی محبت اسے یوں بن مانگے مل جائے گی ۔۔ حدیقہ کے ہوتے ہوئے اس نے ہمیشہ ماویٰ سے فاصلہ رکھا وہ کبھی ان دونوں کے درمیان نہیں آنا چاہتی تھی ۔۔ مگر حدیقہ کا جانا ہی تھا ماویٰ کی الفتیں انزل پہ مرکوز ہوگئ ۔۔ یا شاید حدیقہ ہی ماویٰ کو انزل کی طرف پیش قدمی نہیں کرنے دیتی تھی ۔۔۔

وہ دونوں انزل لاماویٰ تھے ۔۔

انزل لاماویٰ اس نے دل ہی دل میں دہرایا۔۔۔۔

آسمان سے اترا ۔۔ ہماری محبت آسمان سے اتری ہوئی ہے وہ خود سے ہی مفروضے بنا رہی تھی

پروفیسر نے ایک دو بار اسکو دماغی طور پر غیر حاضر پایا ۔۔ بالآخر کلاس کا اختتام ہو ا ۔۔

سارے سٹوڈنٹ باہر جانے لگے انزل ۔۔۔

سر نے اسے پکارا ۔۔۔ انزل

میرے ساتھ آؤ ۔۔ سر فائلز اٹھاتے اسے مخاطب کر کے بولے ۔۔

وہ ارد گرد دیکھنے لگی ۔۔ میں سر ۔۔۔ وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی۔۔۔

جی آپ میں نے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔

وہ ڈرتی ڈرتی ساتھ چلنے لگی ۔۔۔ کلاس میں کیا ہوا ۔۔ کہیں میں نے تو نہیں کچھ ایسا کہا ۔۔۔ اوہ خدایا میری حاضری کا مسئلہ بن گیا کیا ۔۔۔وہ ہر ممکن خیال سوچتے ڈرتی ساتھ چل رہی تھی ۔۔

انزل اندر بیٹھو آؤ وہ اپنے آفس روم تک لے آئے اسے ۔۔۔

وہ اندر آکہ کرسی کہ پاس کھڑی ہو گئی اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھی ۔۔۔

بیٹھو ۔۔۔ سر نے اسے اشارا کرتے خود کرسی پہ بیٹھ گئے ۔۔

اسٹدی کیسی جا رہی ہے ۔۔۔ انہوں نے میز کے دراز سے کچھ فائلز نکالتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

اچھی سر ۔۔

ہمم گڈ ۔۔ وہ کچھ ارد گرد کے سوال کرتے آخر بنیادی سوال پہ آئے

اور بتاؤ تمہاری یونیورسٹی میں کس کس کے ساتھ دوستی ہے ؟؟

ایکسکیوز می سر !!

ٹھیک ہے میں اصل بات پہ آتا ہوں ۔۔

کچھ عرصہ سے یونیورسٹی میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں ۔۔ پہلے حدیقہ تھی اب تم۔۔۔

لوگوں سے کچھ نہیں چھپتا انزل ۔۔ اور ماویٰ جیسا انسان کے ساتھ تعلق تمہارے کردار کو بھی مشکوک کر دے گا ۔۔۔

پہلے اسکا منہ کھولا بعد میے اس نے سر کی بات سمجھ آنے پہ تاؤ آیا

بہت ہو گیا سر ۔۔۔ بھاڑ میں گئی اٹیندس مگر اپنے کردار کی دھجیاں اڑتے برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔

آپ اب مجھے ہیراس کر رہیں ہیں ۔۔۔

انزل نے اپنی طرف سے سخت لہجہ اپنائے وارننگ دی ۔۔۔

ہمم میں تمہارے بھلے کے لئے کہہ رہا ہوں ۔۔

سر پوری یونیورسٹی بھری پڑی ہے ایسے لوگوں سے جن کا آپ بھلا کر سکتے ہیی مگر مجھے آپ معاف ہی رکھئے وہ ٹیبل سے رجسٹر اٹھائے وہاں سے جانے کے لئے تیار ۔۔

تم نے حدیقہ سے بات کی یا تم نے ماویٰ سے پوچھا آخر کیا مسئلہ ہوا تھا ۔۔

وہ رک گئی ۔۔ مگر وہ ان دونوں کا آپس کا معاملہ تھا وہ کچھ نہیں پوچھ سکتی تھی ۔۔۔

انزل ماویٰ نے اس کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ حدیقہ کے روکنے پہ ماویٰ نے اسکے ساتھ زبردستی کی اور اسکی ویڈیو بنا کہ بلیک میل بھی کیا ۔۔۔

سر ۔۔ بس بہت ہو گیا سر ۔۔۔ مجھے اور نہیں سننا یو نو واٹ؟؟ ماویٰ آپ کے بارے میں ٹھیک ہی کہتا ہے ۔۔۔ آئندو آپ نے ایسی کوئی بات کی تو میں اتھارٹی کو کمپلین کر دوں گی آپ کے خلاف۔۔۔

وہ وارننگ دیتے ہوئے جانے لگی ۔۔۔ حدیقہ تم سے ملنا چاہتی ہے ۔۔ وہ اسکی باتوں کو نظر انداز کیے اسے اطلاع دی

وہ ہونہہ کرتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔

پاگل نہ ہو تو ۔۔ ماویٰ صحیح ہی کہتا ہے اس کہ بارے میں ۔۔۔

مجھے ماویٰ کو بتانا چاہئے ۔۔وہ شدید غصے میں تھی ۔۔ سامنے ماویٰ اسکی طرف آیا ۔۔۔

ماویٰ۔وہ خود کو نارمل رکھنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

تمہیں اس پروفیسر نے اپنے آفس میں بلایا تھا گیا ۔۔۔

ماویٰ جو آنکھوں میں انگارے لئے اس سے ایک الگ ہی لہجے میں بات کر رہا تھا ۔۔

ماویٰ وہ۔۔ وہ اسکی حالت سے ڈر رہی تھی ۔۔۔

ہاں یا ناں ۔۔

ہاں ۔۔۔ وہ کسی حد درجہ خوفزدہ تھی ۔۔

اسکے بعد ماویٰ آفس روم میں لات مار کر داخل ہوا اور دروازے کی اوٹ سے اس نے ماویٰ کو سر کے کالر سے پکڑے دیکھا ماویٰ ساتھ ساتھ مغلظات بھی بک رہا تھا ۔۔وہ بت بنی اس بھیانک منظر کو دیکھ رہی تھی ۔۔ آفس روم کے پاس گزرتے کچھ لڑکوں نے شور سن کر اندر گئے دروازےاور دونوں کو چھڑایا ۔۔۔

وہ دیوانہ وار سر کے چہرے پہ مکے برسا رہا تھا اور سر اپنے آپ کا دفاع کرتے اس سے پٹ رہے تھےسر کے ہونت کے قریب خون نکلنے لگا اور ماویٰ اپنا آپ چھڑاتے اسے دھمکی دے رہا تھا ۔۔

وہاں پڑی کرسی کو لات مارے وہ وہاں سے جانے لگا اک۔نگاہ غلط ٹرانس کی کفیت میں کھڑی انزل پہ ڈالی جو آنکھیں پھاڑ کے پانچ منٹ میں ہونے والے اس واقعے کو سمجھ رہی تھی ۔۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

جھوٹ بول رہیں ہیں یہ ۔۔۔ اس سے پوچھیں کوئی ثبوت ہے اسکے پاس ۔۔۔ماویٰ بھی دوبدو جواب دے رہا تھا ۔۔

وشمہ کو چپ لگ گئی ۔۔۔

ہاں بولو ۔۔ ماویٰ آگے کو بڑھا ۔۔۔

ہاں ہے ثبوت ۔۔پہلے انزل کو ہوش میں تو آنے دو ۔۔ تمہیں سب ثبوت مل۔جائیں گیں ۔۔۔

بھاڑ میں گیا سب کچھ اب انزل خود سنبھالے گی ۔۔ وہ اپنی تئیں بات کو ٹالنے کی کوشش کر رہی تھی

صغراں ڈاکٹر کو بلاؤ ۔۔ اور بڑے صاحب کو بھی ۔۔۔

ماویٰ کی ساس نے حکم دیا ۔۔

حنا یہاں اتنا سب کچھ برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔

انزل۔کو بیڈ پہ لٹایا گیا تھا ڈاکٹر صاحبہ اسکا چیک اپ کر رہی تھی ۔۔۔ اسکے جسم پہ لگے زخم تازہ تھے ۔۔ ڈاکٹر جو یہ سب گڑ بڑ لگ رہی تھی ۔۔۔ وہاں کمرے میں انکے علاوہ وشمہ۔اور صغراں بھی تھی ۔۔۔ جو مشکوک نظروں سے سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔

پانی دو ڈاکٹر صاحبہ نے پانی مانگا ۔۔۔

اتنے میں وشمہ نے ایک پرچی ڈاکٹر کی طرف بڑھا دی ۔۔ ڈاکٹر اب مزید چک میں پڑ گئی ۔۔۔ انہوں نے پرچی پڑھی اور ہاں میں سر ہلایا وشمہ کو۔کچھ سکون ملا ۔۔۔

اتنے میں صغراں بھی پانی لے آئی ۔۔

کیا ہوا ہے ڈاکٹر صاحبہ اسے ۔۔

صغراں کسی پولیس کی طرح پوچھ رہی تھی ۔۔۔ تشدد ہو ا ہےاس پہ خدا کا خوف کھاؤ ماں بننے والی ہے یہ ۔۔

اور پھر بھی تم مارتے ہو اسے ۔۔۔

لگ نہیں رہی کہ اسکا پیر بھاری ہے ۔۔

صغراں کو کسی طور یقین نہ آیا ڈاکٹر تم ہو یا میں ۔۔

ڈاکٹر صاحبہ نے اسے ڈانٹا ۔۔

ایک ملازم اوپر آیا وہ جی نیچے بلا رہیں ہیں آپکو۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحبہ نیچے چلی گئی ۔۔۔ اور یہ انکشاف پہ ماویٰ سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔۔ حنا اب مزید کچھ نہیں سننا چاہتی تھی ۔۔بڑے صاحب بھی آگئے تھے ۔۔

اور ثبوت چاہیے کیا آپکو ۔۔ حنا بولی ۔۔

کیا ثبوت ہے وہ بچہ ماویٰ کا ہی ہے ۔۔

بڑے صاحب پہ جوں تک نہ رینگی ۔۔

اگر یہ بات سچ نکلی ۔تو ؟؟

اسکی ساس بولی

اگر یہ بات جھوٹ نکلی تو؟؟

وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ ٹھیک ہے کل میرے بھائی آ کہ جرگہ رکھیں گیں اور اس لڑکی کا فیصلہ ہوگااگر تو واقعی وہ سچ بول رہی ہے تو ۔۔ اگلے الیکشن میں آپ ہماری سپورٹ سے محروم رہ سکتے ہیں ۔۔۔

اب کہ وہ پریشان ہوئے سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں ۔۔۔انہوں نے تنبیہ کی ۔۔

یہ میری بیٹی کی زندگی کا معاملہ ہے ۔۔۔

اگر وہ دونوں جھوٹی ہوئیں تو میری بیٹی اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر برباد کرنے والوں کی جان لے گی۔۔

تب تک آپ اسکی جان کی حفاظت کیجیے مکرم صاحب وہ انہیں کہتی وہاں سے اک شان بے نیازی سے چلی گئی ۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کسی کے گرنے کی آواز سے ہنزہ اور مہ پارہ چونکی ۔۔ تایا جی کے گھر سے آواز آئی ۔۔ وہ دل میں آئے وہموں کی نفی کرتی دوسرے گھر کی طرف بھاگی ۔۔ افنان کا باپ اسے اٹھانے کی تک ودود کررہا اس کے ماتھے پہ خون بھل بھل کرتا نکل رہا تھا ۔۔ مہ پارہ بت بنی کھڑی اسکی تکلیف ایسے وجود سے جان جیسے کسی نے ململ کے کپڑے کو کانٹوں پہ ڈال کے کھینچ لیا ہو ۔۔۔ اسکے کمزور باپ سے افنان کا صحتمند وجود اٹھائے نہیں جا رہا تھا ۔۔ مہ پارہ بھاگم بھاگ اپنے گھر آئی ابا ابا ۔۔۔ اپنے باپ کو جگاتی روئے جا رہی تھی ۔۔۔ کیاہوا وہ اسے لئے افنان کے گھر گئی ۔۔ یا اللّٰہ خیر افنان کو زمین پہ پڑے اسے اٹھانے آے ساتھ والے محمد علی کے رکشے میں ڈالتے وہ افنان کو ہسپتال لے جا رہے تھے مہ پارہ کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی ۔۔

یا اللّٰہ جی افنان کے بدلے میر ا وجود حاضر ہے ۔۔ اسکی تکلیف کے بدلے میری راحت حاضر ہے ۔۔

میں تیری گنہگار بندی اپنے سر کے سائیں کی زندگی مانگتی ہوں ۔۔۔

میری جان قربان ۔۔۔ یا اللہ اس نبی کے صدقے میرے افنان کو بچا لینا جس کے واسطے تو نے یہ دنیا بنائی ۔۔۔

تو اپنے محبوب کے صدقے میرے محبوب کی تکلیف کو آسان کردے ۔۔۔

وہ دروازے کی دہلیز پہ بیٹھی آسمان کی طرف منہ کئے دعاؤں میں مشغول ادھر محلے کی عورتیں اور اسکی ماں افنان کی ماں کو دلاسے دے رہی تھیں

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

باغ میں وہ آم کے گھنے درخت کے پاس بیٹھی آم کے پتے کو مڑوڑ رہی تھی ۔۔۔ اسکے وہاں آتے ہی وڈیرے ہنزہ کے گھر آگئے تو ہنزہ کو وہاں سے جانا پڑا ۔۔ وہ تھوڑی دیر کا کہتی وہاں سے چل دی ۔۔ مہ پارہ اکیلے وہاں بیٹھے آس پاس سے کٹ کر اپنی ہی یادوں میں مشغول ۔۔۔

وہاں دور کار میں بیٹھے ایک شخص کی نظریں اس پہ مرکوز ۔۔

وہ جو ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد اسی طرف کو ہو کہ رہ گیا ۔۔

سفید چادر کے ہالے میں اسکا اداس سا چہرہ آنکھوں میں آتی نمی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد منہ میں کچھ بڑا بڑا کے رونا شروع کر دینا اور پھر آنسو صاف کرنا اسکے بال ایک ایک عام سی پن میں باندھے اور کچھ بال آنکھ تک کٹے ہوئے تھے بار بار وہ آنکھ سے ہٹاتی سفید او براؤن کلر کے سادہ سے لباس میں ملبوس اسکی آنکھیں لمبی کاجل کی ہلکی سی تہہ جوکہ رونے کے باوجود رہ گئی تھی اور چھوٹے سے ہونٹ جو دانتن کے استعمال سے ڈارک براؤ ن ہو چکے تھے اسکی سرخ سفید چہرے پہ کسی لپ اسٹک کا کام کیا۔۔ وہ گاؤں کی عام سی لڑکی سوزو غم میں کسی شاعر کی اداس غزل کی طرح تھی ۔۔۔

شاذل نے ایک دفعہ اسے دیکھا بعد میں نظریں نہ ہٹائی جا سکیں اسکا وجود سفید چادر نے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا ۔۔۔

بڑے صاحب آپ بھی دیکھ لیں اس سال کا پھل ۔۔

ہنزہ کا باپ کار میں بیٹھے شاذل کو اسکے اس دنیا سے باہر لے آیا ۔۔۔ ہوں ۔۔۔ نہیں ماویٰ دیکھ لے گا ۔۔۔۔ وہ کہتے اسے جانے کا کہا اتنے میں وی وہاں سے چلی گئی ۔۔ شاذل کار سے نکل کہ اسے ڈھونڈنے لگا مگر وہ کہیں نہیں تھی ۔۔۔

کیا تھی وہ ۔۔۔ وہ بے قرار سا واپس کار میں آ بیٹھا ۔۔

ماویٰ اور اسکے ساتھ موجود گاڑد کار میں بیٹھے ۔۔۔

ویر جی آپ بھی دیکھ لیتے فصل ۔۔ ماویٰ اسے پکارے کہہ رہا تھا ۔۔

تم نے دیکھ لی کافی ہے ۔۔

اچھا اس نے کندھے اچکائے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *