Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 12)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 12)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
آنکھیں کھولی تو اسکی نظر نفیس وائٹ کی راؤنڈ شیپ ڈیزائن کی چھت پہ پڑی ۔۔۔ آنکھیں کھولتے ہی اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اور ساتھ ہوتی کھٹر پٹر ۔۔ وہ سیدھی ہو بیٹھی کل کا عروسی جوڑا ابھی بھی زیب تن کیا ہوا تھا ہاں آرائش کے لیے لوازمات ندارد تھے۔۔
سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا شاذل بلیو کوٹ کے ساتھ سفید شلوار قمیض میں کھڑا تیار ہو رہا تھا ۔۔ اسکے زیور ہئیر پنز انگوٹھیاں ایک سائیڈ پہ رکھ دی ۔۔
مجھے اپنے کمرے میں بے ترتیبی نہیں پسند ۔۔ وہ شیشے میں دیکھتے انزل کے عکس کو دیکھ کہ بولا ۔۔
تم چاہو اپنی دوست کے ساتھ اسی کے کمرے میں رہ سکتی ہو ۔۔
کلون کو اپنی دائیں طرف اور پھر بائیں طرف چھڑکتے ہوئے بولا ۔۔ کمرے میں دھیمی سی کلیوں کے جیسی خوشبو پھیل گئی ۔۔۔
وہ اب رویلکس کی گھڑی بند کرتا اسکی طرف آیا ۔۔
انزل ابھی تک بستر میں ہی تھی ۔۔ کندھے اچکا کے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا لی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو
یہاں مجھے تم سے کوئی لگاؤ نہیں ہے انزل ۔۔ اور نہ ہی میں ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہوں ۔۔ تم جب چاہو یہاں سے جا سکتی ہو ۔۔مگر جانے سے پہلے مجھے بتا جانا ۔۔ کل جو ہوا ۔۔ میں نہیں چاہتا دوبارہ ہو ۔۔۔
اس لیے خود ہی احتیاط سے کام لو انزل ۔۔
شاذل سنجیدگی سے کہتا اسکے زیور اسے کے پاس پڑے ٹیبل پہ رکھ گیا ۔۔
ہوں ۔۔ وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی ۔۔ شاذل سے دوری میں ہی امان تھا ۔۔ اب بھی لاتعلق سی
ایک اور بات اگلے ہفتے مجھے زمین کے کچھ کام سے پنڈی جانا ہے ۔۔اس دوران میرا ملازم خیرو یہاں ہوگا ۔۔ ویسے تو مجھے کوئی خطرہ نہیں لیکن تم اس حویلی سے میری اجازت کے بنا نہیں جا سکتی ۔۔
وہ وہی لیے دئے سے انداز میں اسے ہدایات دے رہا تھا ۔۔
شاذل ۔۔وہ دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھتی اسے پکارہ
شکریہ ۔۔۔۔ میری حفاظت کرنے کے لیے ۔۔
انزل مسکرا کہ بولی اور اٹھ کہ فریش ہونے چلی گئی ۔۔
شاذل کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔۔ کل تلک انجان سی بنی رہنے والی انزل کے لہجے میں اتنی مٹھاس ۔۔۔۔
کچھ دیر بے یقین سا کھڑا رہا پھر سر جھٹک کہ چلا گیا۔۔















ارے آپ بھی گئے اتنی جلدی آپ نے تو کہا تھا شام کو آنا ہے۔۔مہ پارہ کسی معصوم بچے جیسی خوشی لیے بیڈ پہ بیٹھے افنان کو جوتے اتارتا دیکھا ۔۔
ہاں ابھی آنا ضروری تھا ۔۔بعد میں آتا تو دیر ہو جاتی ۔۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ لیے انزل کو ذومعنی سا جواب دے گیا ۔۔
ہاں دیر تو ہو ہی جانی تھی ۔۔پیپرز کیسے ہوئے وہ افنان کو دیکھتے الماری کے نیچے سے جوتے اٹھائے اسکے نزدیک آئی ۔۔
اچھے ۔۔مختصر سا جواب
تھک گئے ہیں کافی ہیں نا ۔۔
وہ فکرمندی سے بولی ۔۔
ہاں بہت زیادہ ۔۔ تم کہاں گئی تھی ۔۔ افنان نے گہری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
مہ پارہ کو کچھ دیر کا واقعہ یاد آگیا ۔۔
وہ تذبذب سی ہوگئی کیا کرے وہ سچائی نہیں بتا سکتی۔۔غیرت کے نام پہ مار دھاڑ شروع ہوجانی تھی۔۔
ادھر افنان بےقرار سا ۔۔ ہرمومن مرد کو اسی کہ جیسی مومن عورت ملےگی ۔۔
اور وہ کہاں کا مومن تھا بلکہ مسلمان تھا۔۔ مہ پارہ بھی تو ویسی ہی بے وفا ہو سکتی ہے
افنان لاکھ کوشش کرتا مگر ان رنگینیوں میں اسکا دل ایسا لگ چکا تھا کہ پیچھا چھڑانا مشکل تھا ۔۔۔
مگر اکثر مرد اپنے لیے جو چیز پسند کرتے ہیں نہیں چاہتے انکے گھر عورتیں بھی ویسا ہی کریں
ہنزہ کے پا س گئی تھی بیمار تھی نہ وہ ۔۔
مہ پارہ نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا ۔۔اور وہاں پہ وڈیروں کا شاذل سائیں بھی آگیا ۔۔ شاید کوئی کام تھا اسے اسلئے میں گھر آگئی آدھا سچ آدھا جھوٹ کی آمیزش سے بات مکمل کی۔۔
افنان کے لبوں کو مسکراہٹ نے آلیا ۔۔ وہ جانتا تھا مہ پارہ اس سے جھوٹ نہیں بولے گی خوامخواہ وہ اتنے وسوسے پالے ہوئے تھا۔۔
شک کے بادل چھٹے تو محبت کا سورج اپنی آب و تاب سے چمک اٹھا ۔۔ افنان کو یاد آیا وہ ایک ماہ سے دور تھا مہ پارہ سے ۔۔
وہ اسے اپنے حصار میں قید کر گیا ۔۔ تمہیں یاد کیا میں نے بہت زیادہ ۔۔ افنان مسحور سا ہوتا اسے سینے لگا گیا ۔۔
شرم و حیا میں سمٹی مہ پارہ کے لیے یہی ساری دنیا تھی ۔۔ محبت اور محبوب یہ دو لازم وملزوم ہیں ۔۔ ۔۔
افنان کی محبت اسے سرشار کر گئی .















بھوری شال کو اپنے گرد لپیٹے مسجد کے ایک کونے میں جہاں روشنی کم پہنچتی تھی وہاں وہ بیٹھا تھا آتے جاتے لوگ وضو کیے جماعت کے لیے جا رہے تھے
وہ ہنوز مسجد کے ایک کونے سے لگے بیٹھا ہو تھا ۔۔
جماعت میں اکا دکا لوگ ۔۔ مسجد کی تزئین و آرائش مکمل تھی مگر نمازی کم۔۔
امام صاحب نے تکبیر کہی اور نیت باندھ لی ۔۔۔
نماز میں امام صاحب تکبیر پڑھتے سجود قیام کرتے نماز کو تکمیل تک پہنچا رہے تھے ۔۔
وہ دل مسوس کہ رہ گیا ۔۔ نماز کے اتنے قریب ہو کہ بھی نماز پڑھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔
پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے گئے ۔۔ دعا کرتے کرتے امام صاحب پہ رقت طاری ہوگیا ۔۔وہ زارو قطار روتے اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی لوگوں کی مغفرت صحت تندرستی لوگوں کے لیے اولاد غرض کے اپنی دعا میں ہر ایک کو سیمٹ گئے ۔۔
کاش بے چینی کے لیے سکون بھی مانگ لیتے وہ دل میں آتے مہ پارہ کے کسی اورکے ہوجانے کے خیال سے دل کو بے قرار کیے ہوا تھا ۔۔
نماز ختم ہو چکی ۔۔ لوگ بیٹھے مسلہ مسائل پہ امام صاحب کی رائےمانگ رہے تھے۔۔وہ اٹھ کہ جانے لگا ۔۔ اے رب عظیم کیا تیری عبادت میں بھی سکون نہیں ۔۔
کہتا وہ چل پڑا ۔۔ امام صاحب نے اسے جانے سے روک لیا ۔۔ نا جانے کب سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
وہ رک گیا ۔۔ آگے بڑھ کے ان لوگوں میں بیٹھ گیا ۔۔ سب لوگوں کے جانے کے بعد امام صاحب نے اسے اپنے پاس بٹھایا کیوں شاذل سائیں مسجد میں آکہ بھی نماز سے محروم رہے آپ ۔۔
خدارا یہ آپ نہ کہیں مجھے ۔۔ مزید گنہگار نہیں ہونا چاہتا ۔۔باقی نماز کی توفیق ہوگی تو پڑھ لوں گا۔۔
یوں امام صاحب کی نظروں میں آنے پہ اسے شدید ندامت ہوئی۔۔
تمہیں نماز کے لیے ہی مسجد میں لایا گیا ہے شاذل ۔۔
امام صاحب مسکرا کہتے اسے ساتھ لیے مسجد سے باہر جانے لگے کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے ۔۔ اس لیے تھوڑی دیر باہر لے گئے ۔۔
جانتے ہو نصیحت سب کو بری لگتی ہے ۔۔ میں اس لیے نصیحت نہیں کرتا۔۔ بس مخلص مشورہ دیتا ہوں ۔۔تم یہاں تک آئے ہوظاہر سی بات ہے پریشان ہوگے ۔۔ نماز نہیں پڑھی مطلب مایوس بھی ہو ۔۔
امام صاحب اسے تسبیح پکڑے مگر پڑھ وہ شاذل کو رہے تھے۔۔
ہاں نماز نہیں پڑھی جاتی۔
وہ تھکا تھکا سا کہنے لگا
کیوں ۔۔ وجہ معلوم ہے کیا؟
جی ۔۔ نماز پڑھ کہ بھی سکون نہیں ملتا ۔۔ مجھے دنیا پاگل کہتی ہے قاتل سمجھتی ہے ظالم جابر کے ناموں سے پکارا جانے والا شاذل پہ واقعی اثر نہیں ہوتا ۔۔ ۔۔ دل پہ کچھ محسوس نہیں کرتا ۔۔۔
مگر تنہائی میں اپنی ماں کا خون سے لتھرا چہرہ۔۔اپنے استاد کا بے تاثر ٹھنڈا وجود ۔۔ ماویٰ کے دوست کےجسم پہ مار کی وجہ سے نیلا پڑنے والا وجود اور پاگل خانے میں گزرے دو سال یاد آتے ہیں تب ۔۔۔ تب مجھے لگتا ہے کہ میں شیطان ہوں ۔۔ مجھے سکون نہیں ملنا چاہیے ۔۔
مگر میں بھی سکون چاہتا ہوں ۔۔مجھے بھی نارمل زندگی چاہیے ۔۔وہ روہانسا ہوگیا ۔۔
اللہ نے میرے لیے سکون نہیں رکھا کیا ۔۔ مجھے جو چاہیے ہوتا ہے وہ ملنے سے پہلے ہی چھن جاتا ہے ۔۔
میں اپنے باپ کا پیار نہیں محسوس کرسکا اپنے بھائی کو گلے نہیں لگا سکتا ۔ڈرتا ہوں انہیں بھی نہ کھو دوں ۔۔ وہ رونے لگا زمین پہ بیٹھ گیا چلتے چلتے وہ دونوں امام صاحب کے گھر کے باہر پہنچ چکے تھے۔۔
اسےخیال آیا وہ بہت ذیادہ بول چکا ہے ۔۔
اسکا سائکا ٹرسٹ بھی ایسے ہی اس سے باتیں کرواتا ۔۔ مگر ایک عام سے امام صاحب نے کتنی آسانی سے اسکے دل کی بھڑاس نکلوا لی تھی۔۔
امام صاحب مسکرا گئے نورانی چہرہ پہ ایسی مسکراہٹ ۔۔کچھ لوگ دلوں کے حال پہلے سے ہی جانتے ہیں مگر وہ سامنے والے سے سننا چاہتے ہیں۔۔
شاذل دنیا میں بڑے سے بڑا گنہگار گزرا ہے ۔۔ ایسی ایسے لوگ کہ روح کانپ جائے ۔۔ ہم لوگ خود پہ نیکوکار کا ٹیگ لگوا لیتے ہیں مگر ہمیں شیطان کے کتنے وسوسے سے لڑنا پڑتا ہے ۔۔
قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتے ہیں ۔۔
بے شک نماز گراں(بھاری) ہے مگر وہ جو خشیعت رکھتے ہیں
سارا معاملہ ہی اس محبت کا ہے ۔۔ ڈر کا ہے۔۔
جب اللہ پاک اپنی محبت کی ڈوڑیں کھنچیتا ہے تو لوگ خود بخود اسکے در پہ آجاتے ہیں ۔۔ نہیں تو اللہ پھر ڈرا کے لے آتیں ہیں تم بھی لائے گئے ہو ۔۔ اب تمہیں بھی یہیں سے شروعات کرنی ہے ۔۔
امام صاحب ۔۔ اگر انسان کو وہ نہ ملے جس کی وہ چاہت کرتا ہے تو؟
وہ مہ پارہ کے خیال سے بولا۔۔
دعا سے سب کچھ مل جاتا ہے ۔۔ دعا رد نہیں ہوتی ۔۔۔ اگر دعا سے بھی نہ ملے تو
تو انسان کو اس کی چاہت کرے جو ملنا ہے ۔۔۔
امام صاحب نے بڑی خوبصورتی سے جواب دیا ۔۔
کیا مطلب وہ ناسمجھی میں بولا ۔۔
دیکھو شاذل ۔۔ وہ سامنے والی زمین تمہاری ہے نا ۔۔
سامنے کھیتوں کے درمیان بنی چاردیواری کے اندر احاطے کی اشارہ کیا۔۔
جی میری ہے ۔۔ اثبات میں سر ہلایا ۔۔
تو اگر اس زمین پہ کوئی قبضہ کر لے ۔۔ اپنا مکان بنا لے تو؟
انہوں نے سوال داغا ۔۔
ظاہر ہے اپنی زمین واپس لوں گا ۔۔ اپنا حق لوں گا ۔۔
اس نے سیدھا جواب دیا ۔۔
تو بتاؤ اگر تم اپنی زمین پہ کسی کا قبضہ برداشت نہیں کر سکتے تو کیسے کسی اور کے حق پہ ڈاکہ ڈال سکتے ہو ۔۔ میں نے اکثر سنا ہے دعائیں نہیں قبول ہوتی ۔۔ تو اپنی دعا کو دیکھو کیا کسی کا نقصان تو نہیں ہو رہا اس میں کسی اور کا حق تو نہیں مانگ رہے ۔۔ امام صاحب نے بڑی سہولت سے جواب دیا ۔۔
اللہ پاک نے اس دنیا میں تمہاری زمین کی طرح ہر ایک کے لیے اسکی زمین رکھی ہے اب یہ اسکی مرضی اس زمین کا انتظار کرے یا کسی اور کی زمین پہ قبضہ کر لے ۔۔۔
وہ مزید گویا ہوئے۔۔
تمہیں سکون چاہیے نا۔۔ تو سکون کی تلاش کرو ۔۔ جو نہیں ملنا اس کی چاہت چھوڑ دو
شاذل کے دل پہ اثر ہونے لگا ۔۔ دل پہ لگی کائی دھلنے لگی ۔۔۔
اب اسکی زندگی میں سکون آچکا تھا ۔۔
مگر اللہ پاک کی آزمائش وہیں سے شروع ہوتی جہاں سے اس کے راستے کا انتخاب کر لیا جائے














کیسی ہو؟
انزل کمرے سے نکلتے ہی سیدھا وشمہ کے پاس گئ ۔۔وشمہ بے چین سی بیٹھی تھی انزل کو دیکھتے ہی بولی ۔۔
ٹھیک ہوں ۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا انزل ۔۔ تم کر کیا رہی ہو ۔۔
وشمہ انزل کو اپنی بہنوں کے جیسی سمجھتی تھی۔۔ مگر انزل کی کچڑی کو سمجھنا مشکل تھا
سمجھ جاؤ گی وشمہ ۔۔ ۔۔ میں ضرور سمجھاؤں گی تمہیں ۔۔۔
ایک فاتحانہ مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئ
انزل بی بی ۔۔۔۔۔۔
باہر ایک ملازم کھڑا اسے پکار رہا تھا
شاذل سائیں آپکو بلا رہیں ہیں ۔۔ وہ باہر ہی سے صدا لگائے انتظار کر رہا تھا ۔۔
ہوں۔۔۔۔ صاحب کوبولو انزل بی بی آتی ہیں ۔۔
وہ وشمہ کو سوچتا چھوڑ کے شاذل کے کمرے کی طرف چلی دی
شاذل کاکمرہ سامنے سے دائیں جانب موجود تھا ۔۔وہ کمرے کے دروازے پہ کھڑی ہو گئی جیسے اجازت مانگ رہی ہو مگر اسے اجازت کی کیا ضرورت ۔۔یونہی کمرے کی دہلیز پہ کھڑے ہونا اسے عجیب لگا۔۔
شاذل نے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔۔
وہ صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھا کچھ کاغذات کو دیکھ رہا تھا
میں آج روالپنڈی جا رہا ہوں۔۔ ایک ہفتے تک وہیں رہوں گا جانا تو ایک ہفتے بعد مگر آج ضروری کام تھا۔۔ خیرو شام تک تمہیں فون لا دے گا ۔۔۔
تم یہاں احتیاط سے رہنا ۔۔ کسی رٹے کی طرف وہ ہدایات دے رہا تھا۔۔
ہنوز کاغذات دیکھنے میں مصروف۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔انزل نے مودبانہ لہجے میں بولا ۔۔
اس بھنویں اچکائے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
صرف تم ہی عجیب نہیں ہو دنیا میں شاذل نے دل ہی دل میں کہا ۔۔
وہ اپنی ساری چیزیں اٹھائے وہاں سےچلا گیا ۔۔انزل کمرے میں رہ گئی۔۔
کچھ دیر شاذل وہاں سے روانہ ہوچکا تھا ۔۔پیچھے انزل کمرے میں ٹہلنے لگی ۔۔۔














انزل بیڈ پہ نیم دراز تھی تبھی ایک ملازم گھبراتا اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔۔
انزل نے اسے اجازت دے دی ۔۔۔
وہ جی ۔۔۔ وہ کچھ کہتے ہوئے ہچکچا رہا تھا ۔
کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔
وہ جی ایک آدمی آپ کے لیے یہ دے کر گیا ہے ۔۔
ڈیجیٹل موبائل انزل کی طرف بڑھا یا۔۔
انزل نے آگے بڑھ کہ موبائل پکڑا ۔۔۔
کس نےدیا ہے۔۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھتی پوچھ رہی تھی
مجھے نہیں پتہ ۔۔ بس آپ کال سن کہ ٹوڑ دینا ورنہ میں مارا جاؤں گا۔۔ وہ خوفزدہ سا بولا
انزل نے موبائل کان سے لگایا۔۔
ہیلو۔۔ دوسری طرف افنان۔۔
ہیلو انزل میرے پاس وقت نہیں ہے ۔۔
سنو میری بات تم ۔۔ ایک ایڈریس دیتا ہوں تمہیں تم چلی آنا کسی بھی طرح اور آج شام تک آجاؤ ۔۔ افنان کا مصروف سا لہجہ وہ بہت محتاط لگ ریا تھا کہتے ہی فون بند ۔۔
تو افنان کو میری یاد آہی گئی ۔۔
موبائل کی سکرین پھر سے جگمگائی ۔۔ ایک میسج اور اس میں لکھا ایڈریس ۔۔۔
انزل ۔۔ نے سائیڈ ٹیبل سے نوٹ پیڈ نکالا ایڈریس نوٹ کیا اور موبائل بیڈ کے میٹریس کے نیچے چھپا دیا ۔۔
اب اسے وشمہ کی ضرورت تھی ۔۔
وہ۔وشمہ کو آج اپنے مقصد میں شامل کرنا چاہتی تھی
