Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 10)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 10)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
عالیشان کمرے میں پلنگ کے پاس سربراہی کرسی پہ براجمان مکرم سگار کو ہاتھ کی انگلیوں میں دبائے بیٹھا ۔۔ہوا میں تحلیل ہوتا دھواں ۔۔
اس نے کمرے کی دروازے پہ آتے سر کی ہلکی سی جنبش سے اجازت مانگی
آجاؤ شاذل ۔۔۔وہ سگار کو کو سلگاتے شاذل کو اجازت دی
سیاہ کوٹ اور سفید شلوار قمیض اپنے معمول کے حلیے میں وہ ملبوس آج حد سے زیادہ سنجیدہ لگا ۔۔
مکرم کو اپنے اس بیٹے سے کبھی بلاوجہ کی خار اور نفرت محسوس ہوتی کالی سیاہ آنکھیں گھنے بال چہرے پہ ہمہ وقت چھائی سنجیدگی اور بے تاثر آنکھیں وہ اپنے ماں جیسا تھا ۔۔
آپ نے بلایا تھا ۔۔ اس نے آنکھیں ان پہ ٹہرائے بولا
بیٹھو ۔۔ پلنگ کی سیدھ پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔۔
بات کرنے سے پہلے تمہید باندھی ۔۔
اس لڑکی کے بارے کیا خیال ہے تمہارا کیا تم واقعی اس کے معاملے ۔۔
انزل ۔۔اس نے بات کاٹی اسکا نام انزل ہے ۔۔ اور وہ لڑکی میری بیوی ہے ۔۔ امید ہے اسے عزت کہ ساتھ پکارا جائے گا ۔۔دو ٹوک لہجہ
ہوں تو تم اس معاملے میں سیریس ہو ۔۔اچھی بات ہے ۔۔ مگر مجھے براداری میں بھی اپنی ناک نہیں کٹوانی ۔۔ چونکہ وہ لڑکی جسکا نام انزل ہے جو کہ تمہاری بیوی بھی ہے اب برداری اور خاندان والو کو اس کے بارے میں معلوم ہوجانا چاہیے ۔۔
لہجے کو حد درجہ نرم رکھنے کی کوشش کی ۔۔
شام کو میں نے تمہارے ولیمہ کی مختصر تقریب رکھی ہے کچھ قریبی دوست اور رشتےدار شامل ہوں گے۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا
انہیں حیرانگی ہوئی ۔۔وہاں ماویٰ کا سسرال بھی ہوگا ۔۔ آخر بلی تھیلے سے باہر آئی ۔۔
جیسے آپکو مناسب لگے ۔۔بنا کوئی تاثر جواب دیا ۔۔
وہ سراپا مکرم کو حیران کر گیا انہیں یقین نہ تھا شاذل بنا کوئی ہنگامے کہ اس بات کو مان لے گا۔۔
کیا اب میں جاؤں ۔۔ وہ کھڑا اجازت مانگ رہا تھا ۔۔
کام کے علاوہ کیا تم میرے پاس نہیں بیٹھ سکتے شاذل ۔۔سگار کو ایش ٹرے میں رکھتے اسکی طرف متوجہ ہوئے
وہ واپس سے بیٹھ گیا ۔۔
شاذل تمہیں مجھے معاف نہیں کر سکتے کیا؟
جذباتی سا وار ۔۔
کس لیے ؟ ابرو اچکائے ۔۔تمہاری ماں کے ساتھ جو سلوک۔۔
میری ماں کا نام نہ لیں بابا ۔۔ وہ انگشت سے منع کرتا کھڑا ہوا ۔۔
وہ بے وفا تھی۔۔
اپنے یار کے ساتھ ملتی تھی جانتا ہوں اسے مارنا نہیں چاہیے تھا اسے جانے دینا چاہیے تھا ۔۔ مگر میری غیرت ۔۔ میری غیرت آڑے آگئی وہ افسوس سے کہتے شاذل کے دل کو چیر گئے ۔۔ وہ نہیں سن سکتا تھا اسکی رگیں تن گئ ۔۔ بس بس بہت ہوگیا وہ بے وفا نہیں تھی ۔۔۔ میری ماں با کردار تھیں اور قیامت تک رہیں گیں وہ حلق کے بل چلایا ۔۔
شاذل ۔۔۔
وہ اسکے قریب آ کہ اسکا کاندھا تپتپایا
ہر اولاد کو اپنی ماں سب سے باکردار لگتی ہے مگر تب تمہاری عمر ہی کیا تھی ۔۔
مگر میرے بچے ۔۔ وہ آنکھوں میں مصنوعی نمی لیے اسکو گلے لگا لیا ۔۔
میں تم سے معافی چاہتا ہوں ۔۔ میں آج بھی اس واقعی کو یاد کر کے تکلیف میں رہتا ہوں کیسے تمہاری ماں تڑپ تڑپ کے مر گئی ۔۔
شاذل اب مزید نہیں سن سکتا تھا ۔۔ وہاں سے چلا گیا ۔۔ آنکھیں میں نمی سی در آئی وہ کب کیسے کہاں تک پہنچا اسے نہیں معلوم ۔۔
شاذل اپنے باپ جیسا نہ ہونا ۔۔ درد کی ٹھیسوں کو نظرانداز کیے وہ روتے شاذل کو گود میں لیے سر پہ ہاتھ پھیرتے بولی ۔۔
ادھر کمرے میں مکرم واپس دوبارہ سگار سلگا لیا ۔۔ بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری ماں وہ حقارت سے کہتا بیٹھ گیا















کیا ؟؟۔۔ وہ پھیلی آنکھوں لیے سر نفی میں ہلاتی افنان کو دیکھتی کہہ رہی تھی۔۔
ایک ماہ بعد وہ یونیورسٹی آہی گئی ۔۔ گھر والے علحیدو پریشان یونیورسٹی والے اسے وارننگ دیتے مگر اسے یونیورسٹی نہیں آنا تھا حدیقہ کی یادیں کسی بدروح کی طرح اسکی پیچھا کرتیں ۔۔افنان کو ٹالتی رہی ۔۔ افنان نے آج ماویٰ کے کیس کے متعلق بات کرنے پہ آمادہ کیا
آپ ایسا نہیں کر سکتے سر۔۔ کیا آپ جانتے نہیں حدیقہ نے خودکشی کر لی ۔ آخر کیوں ۔۔ اس لیے کے ماویٰ یونہی آزارد گھومے اور آپ نے اتنی آسانی سے اسے سارے ثبوت تھما دے ۔۔ وہ ابھی بھی بے یقین سی تھی۔۔
یہ میں نے تمہارے لیے کیا
کیوں؟ کیوں کیا میرے لیے؟
کیا میں نے کہا تھا ۔۔ میں آپ پہ بھروسہ کیا آپکو سارے ثبوت تھما دیے ۔۔۔مگر آپ نے یہ میرے لیے کیا ۔۔ کیا میں نے کہا تھا آپکو ایسا کرنے کا ۔۔
چبھتی نظروں سے افنان کو دیکھا
تو کیا کرتا ۔۔۔ انزل تمہیں کیوں نہیں سمجھ آرہا ۔۔وہ اکتا چکے تھے ۔۔
وہ سنگین نتائج کی دھمکی دے رہا تھا اگر فرض کرو۔۔ ہم کیس کر ہی لیتے تو کون کیس لڑتا ۔۔ ٹرائل تک یہ پہنچ ہی نہیں سکتا تھا اور وہ اپنے پیسے کے زور پہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔۔تمہارے یہ میرے میں اتنی ہمت نہیں یہ لمبی لمبی تاریخیں جھیلنے کی ۔۔ اور تمہاری ماما کیا وہ اسکی اجازت دیتی ۔۔ اور رہ گئی بات حدیقہ کی ۔۔۔ تو مجھے افسوس ہے جو اسکے ساتھ ہوا ۔۔ نہیں چاہتا تمہارے حوالے سے بھی مجھے ایسا افسوس کرنا پڑے ۔۔اسے سمجھانے کی آخری کوشش کی ۔۔ کن اکھیوں سے انزل کو دیکھا بات اسکی سمجھ میں آگئی ۔۔ وہ اپنی ماما کے نام پہ ٹھنڈی پڑ گئی
وہ ہشکت زدہ سی کرسی کے ہتھے پہ کہنی ٹکائے بیٹھ گئی۔۔
سر کیا اسکے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے
انزل اسکو اسکے حال پہ چھوڑ دو خدا پہ بھروسہ رکھو ماویٰ کو اپمے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔۔
اسے دلاسہ دلاتے ہوئے بولے ۔۔
تم یونیورسٹی کو جاری رکھو اپنی تعلیم کی طرف توجہ دو جو ہوا ایک خواب سمجھ کے بھول جاؤ ۔۔
افنان مخلص مشورہ دیا
ہوں ۔۔۔ وہ سمجھ چکی تھی














حویلی کے لان میں ہی ولیمے کی تقریب رکھی گئی ۔
حویلی کو دلہن کی طرح سجائے گیا ۔۔ لان میں موجود چند ایک مشہور شخصیات اور تقریب کے مرکز میں سیاہ شلوار قمیض اور پشاوری چپل پہنے شاذل اپنے اوپر بھوری رنگ کی شال لیپٹے ہوئے تھا ۔۔
مہمانوں سے ملتا اکتا چکا تھا آفندی اسکے قریب آیا ۔۔مبارک ہو بہت بہت ایک ایک لفظ چبا کہ بولا اسکے بغل گیر ہوا
خیر مبارک ۔۔ اسکے تلخ لہجے کے جواب میں وہ مسکرایا وہ اسکا دوست تھا اسے زیادہ دیر ناراض نہیں کر سکتا تھا
جو ہوا ۔۔ میں اسکے لیے معافی چاہتا ہوں آفندی ۔۔
آج شاذل قدرے نارمل تھا ۔۔ وہ پل میں تولہ پل میں ماشہ بن جاتا تھا۔۔
اب معافی کا کیا فائدہ تم نے جو ایک لڑکی کی خاطر میری عزت افزائی کی وہ معافی تلافی سے دور نہیں ہونے والی ۔۔
اب بس بھی کرو آفندی ۔۔ اب بھول جاؤ ۔۔
ہاں بھول تو چکا ہوں میں ۔۔ ہماری دوستی کو۔۔ آفندی بازو چھڑاتا جا رہا تھا ۔۔
شاذل نے ایک لمبی سانس بھری اسکا غصہ اسے پاگل کر دے گا ۔۔
دور ماویٰ تھری پیس رویل بلیو کلر کے سوٹ پہنے پاکٹ میں ہاتھ ڈالے جاذب نظر آرہا تھا دور سے آفندی کے تنے ابرو اور شاذل کو صلح جو رویہ دیکھ رہا تھا ۔۔
کوٹ کی جیب میں پڑا فون رنگ کرنے لگا ۔۔
نام پڑھ کہ ہونٹ بھینچ لیے ۔۔
کیا مسئلہ ہے ۔۔فون اٹھاتے ہی بیزاری سے بولا
وہ لڑکی بھاگ گئی ۔۔
دوسری طرف میڈم شبنم کی ڈری ڈری سی آواز
ہاں جانتا ہوں ۔۔
تمہیں کیسے پتہ؟ میڈم کو کسی انجانے خطرے کی گھنٹی سنائی دینے لگی ۔۔
کیوں کہ وہ میرے گھر میں موجود میرے ہی بھائی سے شادی کیے بیٹھی ہے ۔
کیا ؟؟ میڈم شبنم کے ہاتھوں فون گرتے گرتے رہ گیا ۔۔
ہاں ۔۔ تم سے ایک لڑکی نہیں سنبھالی گئی بابا سے کیا کچھ سنا میں نے مگر تم نے مجھے ایک دفعہ نہیں بتایا کس بات کا انتظار کر رہی تھی تم ۔۔ وہ تمیز بلائے طاق رکھے بولا
مم میں تمہیں بتا دیتی میں خود اسے ڈھونڈھ رہی تھی ۔۔
بند کرو اپنی بکواس ۔۔ اور میری بات غور سے سنو ۔۔
اب اپنا بوریا بستر باندھ لو تمہارے بس کی بات نہیں بوڑھی ہو چکی ہو تم ۔۔ وہ نخوت سے بولا
ارے ایسے کیسے ایک بالشت بھر کی لڑکی کو کیوں نہیں سنبھال سکتی ۔۔۔تم اسے حویلی سے باہر لے آؤ باقی کا کام میرا۔۔نکلنے کی بات پہ۔تاؤ آیا
کیا مطلب ؟؟
اس بار لڑکیوں سے بھرا ٹرک کراچی نہیں ۔۔ دبئ میں اسمگل ہوگا ۔۔ تو وہ لڑکی کہاں جائے گی کسی کو پتہ نہیں چلے گا ۔۔
ٹھیک ہے۔۔ اسی ماہ کرو جو کرنا ہے کہتا فون بند کر گیا ۔۔
چہرے پہ مسکراہٹ سجائے شاذل کی طرف بڑھ گیا ۔۔
مبارک ہو ویر جی ۔۔ اپنے بھائی کی سابقہ معشوقہ کے ساتھ شادی کرنے پہ ۔۔ اپنی نشتر سے تیر چلایا ۔۔
خیر مبارک اب اس لڑکی کو بھابی کہنے پہ جس نے تمہیں ناخن چنے چبوا دئے تھے۔۔
ماویٰ کا ہاتھ تھامے کندھا پہ ہاتھ رکھا ۔۔
وہ زور سے ہنسا اندر سے تلملا گیا ۔۔
ہونہہ پاگل کہیں کا ۔۔ ماویٰ بظاہر مسکراتے سائیڈ کرسی پہ بیٹھ گیا















کمرہ کلیوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا ۔۔ دھیمی سی روشنی میں میرون رنگ کی بیڈشیٹ پہ سرخ عروسی جوڑے میں بیٹھی آنکھوں پہ گولڈن آئشید کے ساتھ بلینڈ کی گئی ریڈ شیڈ نازک ہونٹوں پہ ہلکی براؤن کی لپ اسٹک اور چہرے پہ کرل کی ہوئی لٹیں بار بار رخسار کو چھو رہی تھی ۔۔
اس نے لہنگا اٹھائے بیڈ سے نیچے اتری ۔۔
بے چینی سے ٹہلنے لگی ۔۔
شاذل کے کمرے میں اسے پہنچا دیا گیا تھا ۔۔
شاذل کے ساتھ نکاح کے وقت ہی وہ اس متعلق فیصلہ کر چکی تھی ۔۔
دروازے کی ناب گھومی ۔۔
انزل کے ماتھے پہ پسینہ آنے لگا ۔۔
دروازے کے اندر آتے نسوانی پاؤں ۔۔ وہ صغراں تھی ۔۔ انزل نے گہری سانس لی ۔۔
ٹرے میں پھلوں کی ٹوکری اور دودھ کا گلاس لیے انزل کو تنقیدی نظروں سے دیکھتی داخل ہوئی۔۔
نئ ناویلی دلہنیں ایسے نہیں گھومتی ۔۔ صغراں کا حاکمانہ لہجہ انزل کو پسند نہ آیا ۔۔
میں خوب سمجھتی ہوں ۔۔ تم اپنی حد میں رہو تو بہتر ہے ۔۔ انزل کو اس نے بہت باتیں سنائی تھی۔۔
نہیں بی بی جی میں کہہ رہی تھی شاذل کمرے میں آرہے ہیں آپ بیٹھ جاتی ۔۔۔۔ صغراں ممناتی اپنی ٹون میں واپس آگئی اس حویلی کے باسیوں سے دشمنی اچھی نہیں تھی۔۔
شاذل ادھر آرہا ہے ۔۔ انزل کے دماغ میں یہی بات اٹک گئی ۔۔
خود کو پر اعتماد رکھتے ہوئے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا بیٹھی ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔
وہ شاذل کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتی ۔۔ لمبی سانس بھر کہ اپنے جھمکے اتارے وہ اپنے آرائش کو اتار رہہ تھی ۔۔یہاں کسی کی دلہن بننے نہیں آئی تھی ۔۔
صغراں کے جاتے ہی شاذل کمرے میں داخل ہوا ۔۔
انزل کو دیکھے بنا وہ سامنے الماری کی طرف بڑھ گیا ۔۔ انزل نے کن اکھیوں سے اسکی حرکات پہ نظر رکھی ساتھ اپنی گردن کے ساتھ لگے ہار کو اتارنے لگی۔۔ صد شکر شاذل اپنے کہے پہ قائم تھا ۔۔
وہ انزل کو حد درجہ نظر انداز کرتا الماری کے سیف سے کچھ کاغذات نکال رہا تھا ۔۔
بلیو کلر کی فائل نکالے وہ ڈریسنگ ٹیبل پہ اپنی ریسٹ واچ لینے کے لئے آگے بڑھا ۔۔
انزل نہ محسوس طریقے تھوڑا پیچھے ہٹی ۔۔
شاذل واچ اٹھائے اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔ مگر نظر یں اسکی طرف ہی جم گئی
وہ ٹٹکی باندھے اسے دیکھے گیا ۔۔ یہ نہیں کہ وہ بہت حسین تھی بلکہ یہ کہ وہ سراپا مہ پارہ تھی ۔۔ محبوب کے ہمنام پہ ہی پیار آجاتا ہے اور وہ تو ہو بہو اسکا عکس تھی ۔۔ ایک دبی دبی سی خواہش ابھرنے لگی ۔۔ مہ پارہ کو اپنی دلہن بنانے کی خواہش ۔۔
وہ واچ کو چھوڑے اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔ خمار اسکی آنکھوں میں اتر آیا وہ اسکے قریب آنے لگا انزل اٹھ کے پیچھے جانے لگی ۔۔ مگر شاذل کے بہکتے قدم اب اسکی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔
شاذل ۔۔۔ اس نے سختی سے اسے پکارا ۔۔ وہ بنا کچھ سنے اپنے دل کی سنے جا رہا۔تھا
شاذل ۔۔ اب وہ چیخی ۔۔
شاذل اپنے ہوش میں آیا ۔۔ وہ انزل کے ایک قدم کے فاصلے پہ تھا
وہ سختی سے لب بھنچے واپس دروازے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔ کیا فائل کیا واچ سب بھولے اس واقعے پہ نادم اور غصے میں
کوشش کرنا تم میرے سامنے نہ آؤ ۔۔
میں اپنی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں دوں گا انزل بی بی ۔۔ کیوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی مرد ہوں ۔۔
وہ مڑے بنا کہتا وہاں سے چلا گیا ۔۔
انزل واپس سے بیٹھ گئی ۔۔ گردن سے ہار نوچ کے نکالا ۔۔ ہونہہ یہ شکل تو دن رات تمہیں دیکھنی پڑے گی ۔۔ آج کے بعد اس شکل سے خوف آئے گا شاذل صاحب اب بیدردی سے وہ کامدار دوپٹہ کھنچتی نکال رہی تھی۔۔غصہ اسے سونے نہیں دے رہا تھا
