Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 08)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 08)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
دروازہ کھولا اندر شاذل داخل ہوا ۔۔
انزل بیڈ کے سرہانے نیم دراز لیٹی اسے دیکھ کہ سیدھی ہو کہ بیٹھ گئی ۔۔ وشمہ دروازے کے پاس پڑے صوفہ پہ بیٹھی
مجھے تم سے بات کرنی ہے شاذل انزل کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
میں سن رہی ہوں۔۔
جیسے اجازت دی ۔۔
تمہارا کوئی گھر کوئی رشتے دار ہوگا ۔۔میں تمہیں وہاں بحفاظت پہنچا دوں گا ۔۔
سیدھی سی بات کی
نہیں ۔۔ میری ماں مر چکی ہے ۔۔
اور رشتے دار کوئی رہا نہیں۔۔
یہ کہتے آنکھوں میں نمی سی در آئی۔۔۔۔
ہوں ۔۔ تو کوئی نہیں ہے ۔۔ اور تم کہیں جانا بھی نہیں چاہتی۔۔
سوچتے ہوئے بولا ۔۔
کس نے کہا میں جانا نہیں چاہتی؟
وہ بیڈ سے اتر کہ سامنے آکھڑی ہوئی ۔۔ اس بات پہ تاؤ آیا
میں اور وشمہ یہاں سے چلی جائیں گیں آپکا بہت شکریہ ۔۔
طنزیہ کہتی واپس جانے لگی ۔۔
آفندی تمہیں کہیں سے بھی ڈھونڈ نکالے گا ۔۔
یہ آپکا مسئلہ نہیں ۔۔
اور ہم خود جا سکتے ہیں مجھے نہ آپ پہ نہ ماویٰ پہ یقین ہے اسلئے آپ جا سکتے ہیں قطعیت سے جواب دیا۔۔
شاذل وہاں سے جانے لگا ۔۔۔۔
مگر کیا سوجھی کہ اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔ نیچے لے جانے لگا۔۔
انزل اس غیر متوقع حرکت کے لئے تیار نہ تھی چھوڑ و مجھے ۔۔ سمجھ نہیں آتی چھوڑو ۔۔۔
وہ برابر ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی ۔۔
شاذل اسے لئے سیڑھیوں سے اترتا حویلی کے ڈرائنگ روم کراس کرتا باہر پہنچ گیا اور سامنے ڈیرے پہ جانے لگا اسکے سامنے سے ملازم ہٹنے لگے ۔۔۔
مگر وہ اجنبی سا چہرہ لئے اسے ساتھ لے جا رہا تھا ۔۔
یہاں تک کہ ڈیرے میں پہنچ گیا ۔۔
ڈیرے کے برآمدے نما کمرے میں اس وقت ملازم اور ماویٰ تھے ماویٰ کرسی پہ بیٹھا فون پہ کچھ ٹائپ کر رہا تھا
ایک جھٹکے سے انزل کو ماویٰ کی طرف دھکیلا ۔۔
وہ گرتے گرتے بچی اپنا ہاتھ سہلانے لگی ۔۔۔
انزل کو۔سامنے پا کہ ماویٰ چونک گیا ساتھ شاذل
ماویٰ حیران و پریشان یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔
شاذل سامنے کی کرسی پہ جا بیٹھا وہ کیا کرنا چاہتا ہے یہ وہی جانتا تھا۔۔
ماویٰ کو کچھ سمجھ نہ آیا مگر انزل کو دیکھتے ہی اسکا غصہ بڑھ گیا ۔۔ مگر وہ بھی کسی حرکت سے خود کو باز رکھ ے ہوئے تھا شاذل unpredictable تھا اس سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی تھی ۔۔۔۔
تینوں کے درمیان خوفناک سی خاموشی چھائی تھی
انزل کو ماویٰ کی نظروں سے خوف آنے لگا ۔۔
ماویٰ اس خاموشی سے بےزار ہو چکا تھا ۔۔کیا چاہتے ہوشاذل تم؟۔۔مگر ادھر ہنوز خاموشی
اس سے مزید نہیں رہا گیا وہ انزل کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
بہت عیاشی کر لی تم نے سالی ۔۔ اب باقاعدہ اسکو بالوں سے پکڑے اندر کی طرف لے جانے لگا ۔۔
چھوڑو مجھے تم گھٹیا انسان ۔۔۔ اس بات کی اسے تو قع نہیں تھی ۔۔ شاذل وہیں کھڑا یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا بنا کوئی تاثر کے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔۔
چلو وہ اسے گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا
شاذل ۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ وہ پیچھے مڑ کہ شاذل کو مدد طلب نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔۔
شاذل ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا
شاذل ۔۔۔ ۔۔ آنسوؤں میں بھیگی آواز سے اسے پکارا
۔۔
ماویٰ رک جاؤ۔۔ شاذل بالآخر بول پڑا ۔۔۔
کیا سمجھا ہوا ہے مجھے ۔۔۔ہاں بتاؤ پاگل سمجھا ہو ہے کیا ۔۔ وہ وہیں کھڑے شاذل پہ چلا رہا تھا ۔۔۔
شاذل نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ وہ ماتھے کومسلنے لگا اس کو جب بھی غصہ آتا سارا درد چن کہ ماتھے پہ جمع ہو جاتا تب اس سے کچھ بھی برداشت ہوتا ۔۔ اب بھی وہ اس درد سے نبرد آزما ہو رہا تھا ۔۔وہ یکدم کھڑا ہوا سیدھا چلتے ماویٰ کے پاس آیا
ماویٰ ڈر کے پیچھے ہٹ گیا
انزل کو چھوڑ دیا ۔۔۔شاذل نے اسکا چہرہ تپتایا۔۔۔ گویا اسکی بات ماننے پہ شاباشی دی ہو
ماویٰ کچھ نہیں کر سکا ۔۔ شاذل کو وہ جانتا تھا اگر وہ مارنے پہ آیا تو کچھ نہیں دیکھے گا ۔۔
وہ انزل جو لئے ایک ملازم کی طرف آیا ۔۔۔۔۔
ماویٰ دانت پیستا رہ گیا ۔۔ ایک دن میں تم سے تمہارا سب کچھ چھین لوں گا شاذل ۔۔ وہ سامنے پڑی میز کو ٹانگ مارتا غصے سے ہانپ رہا تھا۔۔
یہ سب اسلئے کیا۔۔۔۔ تاکہ تم جان سکو کہ اب یہ تمہارا مسئلہ نہیں رہا یہاں اگر تمہیں اپنی دسترس میں ہوتے ہوئے بھی کوئی بھی ہاتھ نہیں لگا رہا تو ۔۔ اس کی وجہ میں ہوں
تمیز سے بات کرنا سیکھ لو آسانی ہوگی تمہارے لئے ۔۔۔آواز کو دھیمے رکھتے ہوئے بارعب انداز میں بولا
ایک ملازم کو آواز دی ۔۔ بی بی کو حویلی تک پہنچا دو ۔۔
شام تک بتا دینا تم کہاں جانا چاہتی ہو ۔۔ میرے آدمی پہنچا دیں گیں ۔۔وہ کہتا جانے لگا۔۔
کیا تم مجھ سے شادی کرو گے ؟
وہ کسی نتیجے پہ پہنچتی اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔لہجہ ذرا محتاط۔۔۔
شاذل کے قدم جکڑ چکے تھے ۔۔ وہ اسکی طرف مڑ کے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
تم نے ٹھیک کہا باہر آفندی مجھے نہیں چھوڑے گا ۔۔اور حویلی میں ماویٰ۔۔
تو کیا گارنٹی ہے تمہارے محفوظ مقام پہ بھی میں محفوظ رہوں ۔۔ تو شاذل کیا تم مجھ سےشادی کرو گے ؟؟
شاذل ابھی بھی بے یقینی نظروں سے اسے ٹٹول رہا تھا ۔۔مگر وہاں الفاظ کی فقط سچائی نظر آئی۔۔
بولو ؟ انزل کو اسکی خاموشی سے ہمت ملی
وہ آنکھوں پہ گلاسز لگائے بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اسے انزل کوبچانا تو تھامگر کیوں اور کس لیے یی وہ نہیں جانتا تھا ۔۔انزل نے اسکی مشکل حل کردی ۔۔ وہ مہ پارہ جیسی تھی ۔۔ ایک یہی وجہ کی بنیاد پہ اس نے اپنوں کی بھی پرواہ نہ کی مگر انزل مہ پارہ نہیں تھی ۔۔
وہ سر جھٹک کہ وہاں سے چلا گیا
اسکا لہجہ اور رویہ سمجھ سے بلا تر تھا انزل خاموشی سے وہاں سے جانے لگی
وہ تھکے قدموں سے چلتی کمرے تک پہنچی تھی ۔۔
کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہونا ؟ وشمہ اسے دیکھتے ہی سوال کرنے لگی مگر انزل تھک چکی تھی
وہ صوفے نیم دراز ہوگئ ۔۔
انزل ۔۔۔ وشمہ نے پکارا۔
وشمہ جانتی ہو حضرت موسی کے دور میں جب فرعون کو اسکے کاہن نجومیوں نے اسکا انجام بتایا تھا۔۔
وشمہ کو وہ ٹھیک نہیں لگی ۔۔
تو اس نے قتل عام کا فیصلہ سنایا ہر لڑکے کو قتل کر دیا جائے ہر لڑکی کو چھوڑ دیا جائے ۔۔ صرف اپنے آپ کو بچانے کے لئے مگر قدرت کا کھیل دیکھو حضرت موسی نے اسی کے گھر پرورش پائی جوان ہوئے اور اسی کا تخت و تاج الٹ دیا ۔۔
وہ دھیمی آواز میں بول رہی تھی ۔۔
اور جانتی ہو دشمن کا گھر ہی سب سے صحیح پناہ گاہ ہوتی ہے اور مجھے اسی پناہ گاہ میں رہ کہ انکا قلع قمع کرنا ہے
انزل کیا کرنے جا رہی ہو؟؟ ۔۔
وشمہ کی چھٹی حس کسی انہونی ہونے کا اندیشہ ظاہر کر رہی تھی ۔۔
نکاح ۔۔ شاذل مکرم حیدر سے
اس نے پر سکون لہجے میں دھماکہ کیا
وشمہ سر پکڑے بیٹھ گئی یہ لڑکی اپنی جان کی دشمن بن چکی ہے















آپ بھی نماز پڑھ لیں وہ ججکتے ہوئے بولی ۔۔
اچھا پڑھ لوں گا اسکا کوئی موڈ نہیں تھا
کمرے کی کھڑکی سے ٹھنڈی ہو کے جھونکے اس صبح کے آنی والی سفیدی کا انتظار کر رہے تھے کمرہ کلیوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا کل کی لگی مسہری کے پھول نیم مرجھائے اور ابھی بھی ان میں خوشبو تھی ۔۔
وہ سفید چادر کے ہالے میں بیٹھی اور افنان اسکی گود میں سر رکھے اسکے ہاتھوں کی سے کھیل رہا تھا ۔۔
مہ پارہ کو بے اختیا ر بات یاد آئی ۔۔
کچھ بولو نا مہ پارہ پیارا سا ۔۔ جیسے تم ہمیشہ بولتی ہو۔۔۔ وہ لاڈ اور پیار سے کہہ رہا تھا۔۔
بولنا چاہتی ہوں مگر آپکی اجازت سے ۔۔
کیا ؟؟
مجھے ایک منظر یاد آگیا ۔۔
کونسا؟
جانتے ہیں جب ہمارے پیارے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس دنیا سے رحلت فرمانے لگے تھے ۔۔
تب انہوں سے صحابہ سے ملاقات کے بعد انہیں کمرے سے جانے کا کہا ۔۔۔
اور خود اپنی ناساز طبیعت کے زیر اثر ۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ کی گود میں سر رکھ لیا ۔سبحان اللہ ۔۔۔۔۔ یہ کتنی عزت اور شرف کی بات ہے وہ رسول خدا تھےمگر کتنا پیاری محبت تھی ۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ چھوٹی تھی نا وہ جانتے تھے ۔۔اسلئے انہیں چنا تاکہ انہیں زیادہ غم نہ ہو۔۔
ہم لڑکیاں اپنے شوہر سے محبت ان ناول سے نہیں سیکھنا چاہتی مگر دل میں ارمان ان ناول میں لکھے ہوتے ہیں مگر نہیں جانتی ایسی محبت تو رسول خدا ہماری امت کو بتا چکے ہیں
جانتے ہیں موت کے اس لمحے میں کتنا خوبصورت سفر کیا ۔۔آپ کی جان مبارک نکلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی محبوب کی گود سے اپنے محبوب تک کا سفر کیا ۔۔
وہ کانپنے لگی تھی ۔۔ افنان کا وجود اسکی بات کا اثر اپنے اندر تک سرائیت کر گیا وہ عزت و تکریم سے اٹھ بیٹھا ۔۔
مہ پارہ اپنی لے میں بولی جا رہی تھی ۔۔
دیکھیں وہ بیت اللّٰہ میے بھی تو جا سکتے ۔۔
اور وقت نزع سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دانتن کی طلب ہوئی جانتے ہیں مجھے اسی وجہ سے یہ انگریزی برش کی جگہ میرے رسول پاک کی سنت بہت پسند ہے ۔۔
اور پتہ ہے حضرت عائشہ رضی اللہ نے اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دی ۔۔۔ وہ کہیں کھوئی ہوئی۔۔
افنان کو شرمندگی محسوس ہوئی وہ ہمیشہ مہ پارہ کے دانتن کو استعمال کرنے کو جہالت کہتا
حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں کہ میں خوشنصیب ہوں رحلت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیٹ میں جو چیز گئی وہ میرا لعاب تھا ۔۔۔افنان دیکھو یار کتنا پیار تھا ان دونوں میں ۔۔۔
ہمیں ان کو آئیڈیل بنا لینا چاہیے ۔۔۔
میں ہمیشہ سوچتی عائشہ نام کی لڑکیاں کتنی خوش نصیب ہیں ۔۔۔انہیں اندازہ نہیں کہ رسول خدا یہ نام کتنی محبت سے پکارا کرتے تھے۔۔
میری ننھی عائشہ ۔۔ہائے میں قربان جاؤں ۔۔
مہ پارہ کے آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے ۔۔
افنان اسکے ہاتھ کو چوم کہ اپنی آنکھوں پہ لگاتا ۔۔
وہ ہوش میں آئی ۔۔ارے ایسا نہ کریں۔
افنان سرشار ہو چکا تھا ۔۔ مہ پارہ بس تم نہیں سمجھو گی وہ کہتا اپنی قضا ہوئی فجر کی نماز پڑھنے چلا گیا















آسمان پہ رات کا غبار کم ہو رہا تھا سورج کی نارنجی شعائیں سارےزمین کے اس حصے کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھی۔
بستر پہ نیم دراز اسکی آنکھیں کھل چکی تھی نیم وا آنکھوں پہ کل کا واقع اسکی آنکھوں کے سامنے کسی سائے کی طرح لہرایا۔۔
صبح کی نماز قضا ہو چکی تھی ۔۔ افسوس سے اٹھ بیٹھی ۔۔ سیدھے راستے پہ چلنا سب سے مشکل کام ہے انزل بی بی ۔۔ وہ بالوں کو باندھے کیچر لگاتی واشروم کی طرف چل دی ۔۔ آنکھیں رونے کے باعث سوجھ چکی تھی ۔۔۔۔
خود کو ایک نظر آئینے میں دیکھتی وہ نیچے آنے کے لئے تیار تھی سنجیدہ سا چہرہ لئے وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی ۔۔سامنے برآمد ہ اور برآمدہ کی داہنی طرف کچن اور کچن کے ساتھ میز پہ بیٹھی اسکی ماں ۔۔۔
آؤ انزل ۔اسے دیکھتے ہی بولی ۔۔ ادھر آؤ میرے پاس ۔۔ کل کا واقع قسمت بتا چکی تھی ۔۔ انزل حد درجہ حساس تھی یہ شاید انہیں لگتا تھا
وہ سامنے والی کرسی پہ آ بیٹھی۔۔
آج یونیورسٹی جانا ہے کیا ؟
نہ۔۔۔۔ ہاں جاؤں گی
کچھ یاد آنے پہ نہیں کہتی رک گئی ۔۔
چلو ٹھیک ہے ۔۔ اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پہ سوار نہ کیا کرو ۔۔ جاب تمہیں مل ہی جانی ۔۔ تمہارے چچا کونسا ہمیں گھر سےنکالے دے رہے ۔۔
وہ سر پہ پھیرتی انزل کو سمجھا رہی تھی۔۔
جی اس نے سر جھکا لیا ۔۔ اگر اسکی ماں کو پتہ چل جائے وہ کونسی قیامت سے گزری ہے تو اسکی ماں کبھی بھی اسے جانے نہیں دیتی ۔۔
مگر آج اسے بہت سے سوالوں کےجواب چاہیے تھے
_________________________________
افنان یونیورسٹی میں پرنسپل کے خلاف رپورٹ کرچکا تھا۔۔ ماویٰ ایک رات سے جیل میں تھا اور اسکے گھر سے وکیل بھی آچکا تھا مگر ٹھوس ثبوت ہونے اور افنان کے ڈی آئی جی سے تعلقات ہونے کی وجہ اے اسکی بیل نہیں ہو رہی تھی ۔۔
وہ اپنے آفس سے چیزیں اکٹھی کر رہے تھے ۔۔ یونیورسٹی اتھارٹی نے انہیں واپس اپنے عہدے پہ آنے کا کہا مگر اپنی اتنی ذلت کی وجہ سے وہ دوبارہ وہاں نہیں رہنا چاہتا تھا۔۔
وہ فائلز ایک بریف کیس میں رکھ رہا تھا انزل نے دروازہ ناک کر کے اندر آئی ۔۔
آؤ انزل اسے دیکھتے ہی کہا
تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے ۔۔ ماویٰ ابھی بھی خطرہ ہے تمہارے لیے ۔۔اسے دیکھتے ہی مصروف انداز میں بولے ۔۔
ماویٰ اور آپکا کیا تعلق ہے میری بہن مہ پارہ سے ؟
مہ پارہ کہاں ہے اب۔۔
ایک ہی سوال نے اسکے کام کرتے ہاتھ کو روک دیا ۔۔ حیرت کا شدید دھچکا ۔۔
تمہاری بہن؟
کیا میری شکل دیکھ کہ بھی آپکو شبہ ہے ؟
واقعی یہ مضحکہ خیز تھا ۔۔مہ پارہ اور اسکی شکل کا ایک جیسا ہوناافنان کوہمیشہ سے ایک اتفاق لگا تھا ۔۔۔
آپ کیا جانتے ہیں اس بارے میں ؟
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
افنان کرسی پہ آکہ بیٹھ گیا واقعی آج وہ اسے بہت سے سوالوں کا جواب دے گا
وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ بھاپ اڑاتی کافی پہ نظریں جمائے انزل بول رہی تھی ۔۔
اکرم علی میرے بابا کے اچھے دوست تھے سکھ دکھ کے ساتھی ۔۔ یہاں تک کہ بابا کی جاب چلے جانے پہ انہوں نے ہماری بہت مدد کی ۔ اماں اور بابا کی پسند کی شادی ہوئی تھی گھر والوں کو ناراض کر کے انہوں نے اپنی دنیا بسائی تھی
جب میں اور مہ پارہ ہوئے تب مہ پارہ بہت کمزور تھی اکرم علی اور انکی بیوی نے تب بھی بہت ساتھ دیا انکی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بابا نے مہ پارہ انکو دے دی ۔۔اماں اس بات سے بہت خائف تھیں مگر خاموش ہو گئ ۔۔۔
بابا مہ پارہ سے ملنے جاتے مگر اماں مجھے ملنے نہیں دیتی تھی ۔۔ جب میں گیارہ سال کی ہوئی بابا کا انتقال ہو چکا تھا ۔۔ اماں مہ پارہ کو لینے گئی مگر تب تک اسکا نکاح کر دیا گیا تھا ۔۔ اماں نے بہت کوشش کی کہ مہ پارہ انکے ساتھ آجائے ۔۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب پہلی اور آخری دفعہ مہ پارہ کو دیکھا تھا۔۔۔
وہ بنا رکے بول رہی تھی ۔۔
مگر اماں کو جب چچا کے گھر رہنا پڑا تب سمجھ میں آگیا کہ مہ پارہ کا بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتی
یہاں تک کہ وہ ہمیشہ مجھے کہتی ہیں کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو میں مہ پارہ کے ہاس جاؤں ۔۔
اس کہ بعد میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا مگر ماویٰ ۔۔ وہ کیا جانتا ہے مہ پارہ کے بارے میں ۔۔
افنان نے ایک گہری سانس بھری مہ پارہ میرے ہی نکاح میں آئی تھی ۔۔
تھی مطلب؟
وہ مر گئی ۔۔ سپاٹ لہجہ
ایک پل کے لئے وہ کچھ نہ بول سکی ۔۔۔کیا اسکے لیے درد محسوس کرے مگر اس نے تو کوئی انسیت نہ تھی مہ پارہ سے ایک اجنبی مگر قریبی رشتہ ۔۔
کیا ماویٰ نے ۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہوا یہ طبیعی موت تھی ۔۔ افنان بات کاٹ کے بولا ۔۔
آفس روم میں خاموشی چھا گئی تھی ۔۔















شاذل نے اسے بلا بھیجا وہ خود اپنے کمرے میں بیٹھا کسی کے ساتھ مصروف تھا اسکے جاتے ہی ملازم نے انزل کوپیغام دیا کچھ سوچتے ہوئے اس نے اسے اور وشمہ کو بلایا ۔۔
وشمہ نے انزل کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنا فیصلہ بدلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔
وہ اسکے کمرے تک آگئی دروازہ کھولا ہی تھا وہ سامنے مغلائی طرز کی کرسی پہ بیٹھا سامنے میز پہ ایش ٹرے میں رگڑ کے سلگتی سگریٹ کے انگارے کو بجھاتا سگریٹ میں ابھی بھی ہلکا سا دھواں اٹھ رہا تھا۔۔
کمرہ کافی کشادہ تھا انزل نے اس سے پہلے حویلی کا صرف اپنا کمرہ ہی دیکھا تھا مگر یہاں ہر کمرہ اپنے حسن اور تزئین و آرائش سے مختلف تھا۔۔
تو کیا سوچہ کہاں جانا چاہتی ہو ۔۔وہ وشمہ کی طرف متوجہ تھا۔۔
وشمہ یہاں سےچلی جائے گی ۔۔ شام تک اور میرا فیصلہ وہی ہے ۔۔
وشمہ کی بجائے انزل نے جواب دیا لہجہ حتمی ۔۔
مگر میں ایسا نہیں چاہتا ۔۔ شاذل نے ابرو اچکائے اس سے کہا ۔۔
تو تم میری مدد کیوں کررہے ہو؟
انزل کو اب ساری دنیا ہی مطلب کی لگتی تھی۔۔
وہ خاموش انزل کی اس ہمت پہ دیکھ رہا تھا جو نڈر اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔۔
صغراں اس نے ملازمہ کو بلایا ۔۔
باہر کھڑی صغراں کسی جن کیطرح نمودار ہوئی ۔۔
وشمہ بی بی کوباہر لے جاؤ حکم سنایا۔۔ انزل کے طوطے اڑ گئے اسے اس بات کا بالکل اندازہ نہ تھا۔۔
نہیں میں کیوں باہر جاؤں ۔۔ وشمہ اپنا بازو چھڑانے لگی ۔۔ مگر صغراں اسے کھینچ کہ باہر لے گی
اب کمرے میں وہ دونوں موجود تھے۔۔
وہ اٹھا سگریٹ سلگائی اور انزل کی طرف بڑھنے لگا انزل وہیں جم گئی ۔۔
وہ اسکے قریب پہنچا ۔۔
میرے ساتھ شادی کا مقصد۔۔ اس نے پوچھا
فقط اپنی حفاظت۔۔ انزل نے بمشکل آواز نکالی ۔۔
اور میں کیا واقعی تمہاری حفاظت کروں گا؟
ہاں مجھے یقین ہے اس نے پراعتماد لہجے میں کہا ۔۔
میں نے چار بے گناہ انسانوں کا قتل کیا ہے ۔۔
ایک سائکوپیتھ یہ لفظ زیادہ مناسب ہوگا میرے لیے ۔۔ کیا اب بھی مجھ سے شادی کرو گی؟؟ اسکے قریب آیا یہاں تک انزل دروازے تک پہنچ گئی
وہ اسے خوفزدہ کر رہا تھا
ہاں ۔۔ وہ اب بھی خود کو پر اعتماد ثابت کرنے میں لگی تھی۔۔
ٹھیک ہے وہ اسے پکڑے اپنے ساتھ لے گیا باہر وشمہ انزل کو صحیح سلامت دیکھ کہ سکھ کا سانس لیا ۔۔
وہ انزل کو لے گاڑی تک لے گیا ۔۔ مسجد کی طرف گاڑی ڈال لی آج زندگی کا نیا موڑ شروع ہونے والا تھا شاذل کے لئے ۔۔













کیا ؟ آپ ایسا نہیں کر سکتے مہ پارہ خفگی سے بیگ تیار کرتے افنان کو دیکھ رہی تھی
یار فائنل ایگزام ہیں تمہیں کیسے سمجھاؤں ۔۔وہ الجھ چکا تھا ۔۔ مہ پارہ کسی طور ماننے کو تیار نہ تھی ۔۔ شادی کے دسویں روز وہ پھر سے شہر جا رہا تھا گو کہ اس نے پہلے ہی بتا دیا ۔۔
مگرمہ پارہ کا دل کومنظور نہ تھا ۔۔
ٹھیک ہے جائیں آپ بالآخر ناراض ہوتی مہ پارہ باہرجانے لگی۔۔
افنان نے ہاتھ تھام کےاسے روک لیا
جانم ! یہ کوئی طریقہ تو نہیں شوہر سے ناراض ہونے کا میں وہاں صرف اس لیے جا رہا ہوں تاکہ وہاں کوئی جاب کر سکوں ایک دو کالج میں لیکچرار کے انٹرویو دینے ہیں ۔۔ اسکے بعد تم میں اماں ابا وہیں رہیں گیں ۔۔ اور ہمارے بچے بھی ۔۔
شرارت سے کہتا آہستہ اپنی طرف اسے کھینچ لیا ۔۔
مہ پارہ کے رخسار سرخ ہوئے پھر نظریں جھکا لیں ۔۔
اور اسکے حصار سے نکل گئ ۔۔
ایک ماہ کا مطلب ایک ماہ ۔۔ کہتے ہی وہ باہر چلی گئی ۔۔
افنان کچھ دیر میں وہاں سے چلا گیا ۔۔ مہ پارہ پورے گھر میں بولائی سی بولائی سی گھومتی رہی جب تک کہ اسکی دوست ہنزہ نہ آگئی ۔۔
جی کون ہیں آپ ؟
وہ خفگی سے ہنزہ کو اپنے کمرے کے دروازے پہ روکتی بولی ۔
آئے ہائے کیا کر دیاافنان بھائی نے ایسا کہ پہچانا نہیں جا رہا وہ اسکی ناراضگی کو بالائے طاق رکھے ڈھٹائی سے بولی ۔۔
سرخ ہوتی مہ پارہ اسکے سرپہ چیٹ لگاتی اندر لے آئی۔۔
کیوں نہیں آئی شادی میں ۔۔ اب وہ حقیقتا ناراض تھی۔۔
مجھے تو تمہاری شادی کی خبر تک نہ ہوئی اتنی بھی کیا جلدی تھی ادھر میری خالہ کی عیادت کرنے گئ ادھر تمہاری رخصتی اماں نے جب فون کر کے بتایا تب تک میں نہ آنے کی رہی تم نے تو مجھے اطلاع بھی نہیں دی غیروں کی طرح بلایا ۔۔
بستر پہ براجمان ہوتی ہنزہ اب اس سے شکوے کر رہی تھی۔۔
اچھا جی فون تو بہت کئے مگر خیر تم نے کونسا اپنی غلطی ماننی ۔۔
چل چھوڑ یہ بتا منہ دکھائی میں کیا ملا ۔
مہ پارہ کق تو جیسے سننے کے لیے کوئی چاہیے تھا ۔۔
پیار پیار اور بس پیار وہ بازو کھولتی بستر پہ لیٹ گئی ۔۔
ہاں اور وہ پیار نہ ےو دکھا سکتی ہے نا بتا سکتی ہے لہذا انسان بن کہ منہ دکھائی کا تحفہ دکھاؤ۔۔
ہنزہ اسکا سارا فسوں اڑائے ذو معنی الفاظ کا استعمال کرتی اسے تنگ کر رہی تھی ۔۔
ہنزہ ۔۔ وہ۔سیدھی ہو بیٹھی ۔۔
پھر اپنے پائنچے اوپر کرتی پاؤں میں خوبصورت باریک نازک سی پازیب دکھائی جس میں ایک ہی قطار میں باریک اور چمکدار ڈائمنڈ کی شکل کے نگ جڑے تھے۔۔
واہ کتنی پیاری پازیب ہے ۔۔
وہ تعریف کئے بنا نہ رہ سکی ۔۔
پازیب تو نہیں ہے ۔۔ مہ پارہ کو افنان یاد آگیا ۔۔
پازیب نہیں ہے یہ۔۔پازیب کو باندھتے وہ مصنوعی خفگی سے بولا
۔۔تو ؟؟
یہ میری محبت کی زنجیر ہے مہ پارہ ۔۔
تمہارے پاؤں پہ باندھی گئ زنجیر ۔تم کہیں نہ جا سکو اگر جاؤ بھی تو روک لی جاؤ تمہارے وجود پہ صرف میرا حق ہے مہ پارہ ۔۔ یہ زنجیر ساری زندگی تمہارے پاؤں میں رہے گی تمہیں میرا ہونے کا اعلان کرتی رہے گی ۔۔ وہ اس پازیب پہ اپنا ہاتھ رکھے مہ پارہ جو اپنا اسیر ہونے کا واضح حکم دے رہا تھا ۔۔
ہاں پازیب نہیں پائل ہے ۔۔ ہنزہ اپنی لے میں بولتی اسے ہوش میں لے آئی ۔۔ وہ بھی مسکرانے لگی ۔۔۔
اچھا چلو شام تک تیار رہنا اماں نے میلاد کروانا ہے اور تمہیں تو پتا ہے باجی لوگ کی شادی کہ بعد اکیلے سب کچھ کرنا کتنا مشکل ہے میں اکیلی معصوم سی جان ۔۔
وہ معصومیت کی مورت بنے اپنے ہٹے کٹے وجود پہ نظر ڈالے بول رہی تھی۔۔
مگر تائی اماں ۔۔ مہ پارہ ہچکچائی ابھی شادی کو دن کتنے ہوئے ہیں اماں اسے ڈانٹے گیں۔۔
لے لی ہے اجازت ان سے بھی بس بی بی اب کام چوروں کی طرح پڑی نہ رہو سسرال ہے اب یہ تمہارا وہ کسی سگھڑ عورت کی طرح اسے سنا رہی تھی ۔۔
اچھا اچھا آجاؤں گی ۔۔
مہ پارہ مسکرائے اسکے لیے چائے لینے چلی گئی ۔۔
ہنزہ پہ کل شام والا واقعہ طاری ہونے لگا
سائیں وہ کیسے آئے گی ۔۔
ممناتی ہنزہ اور سامنے کھڑا شاذل ۔۔
میں نہیں جانتا کیسے مگر تم اس ل کو لے آؤ گی ۔۔
حکمیہ لہجے میں کہتا ہنزہ کے صبر کا امتحان لے رہا تھا۔۔
دیکھو میں کچھ غلط نہیں کہہ رہا اسے دیکھ کہ چلا جاؤں گا ۔۔
شاذل اب لہجے کو نرم رکھے بول رہا تھا ۔۔
مگر سائیں ۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ۔۔ تم جانتی یو تمہارے باپ کہ اس باغ کو آگ لگانا دو منٹ کا کھیل ہے اب کہ دھمکی پہ آگیا ۔۔
نہیں سائیں وہ آجائے گی ۔۔وہ آئے ہنزہ منت پہ۔آگئی ۔۔
اور وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی ۔۔
مہ پارہ تم کو صحیح سلامت واپس لے آؤ گی میں ۔۔ وہ کہتی سر جھٹکے اسکی طرف دیکھتے پھیکی سی مسکرا رہی تھی
