Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 02)

Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa

مڈ ایگزام کا آج آخری پرچہ تھا ۔۔ وہ سب آج ریلکس ہوئے تھے ۔۔ یار شکر ہے کچھ تو سکون ہوا مجتبیٰ جو اس ایگزام سے چڑ چکا تھا آج قدرے پرسکون ہوا ۔۔۔

بس اب ہو گئے نا ۔۔ لاش ٹھکانے لگا دی ہے اب نہیں کوئی بات کرے گا ۔۔ اسرا اکتا چکی تھی ۔۔۔

ہاں چلو پھر ٹیور کا بتاؤ کیا کرنا ۔۔ حدیقہ بہت پر جوش تھی ۔۔۔

کونسا ٹیور ۔۔ انزل کو اکثر بات بتانا مناسب نہیں سمجھتے تھے وہ لوگ ۔۔۔

ارے بی بی ہم نے سوات جانے کا پلان بنایا ہے ۔۔اتنی گرمی میں وہ ہی صیح مقام ہے جہاں مزے کئے جا سکیں اب کہ حدیقہ نے اسے آگاہ کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کیا ۔۔۔

تم بھی چلو ۔۔ اس عرصے میں ماویٰ خاموش انزل کو دیکھ کہ بولا ۔۔

رہنے دہ یہ کیسے جائے گی اسکی ماما نہیں مانے گی اور یہ خود بھی کافی نیرو مائند ہے ۔۔ انزل کے جواب دینے سے پہلے حدیقہ بولی ۔۔۔۔

اچھا جی ۔۔ ماویٰ ابرو اچکائے استجائیہ انداز میں پوچھ رہا تھا ۔۔ ۔۔

مجھے دیر ہو رہی ہے گھر جانا ہے آج جلدی ۔۔ وہ کتابیں جلدی سے بیگ میں ڈالے وہاں سے جلد ہی سب کی نظروں سے اوجھل ہونا چاہتی تھی ۔۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتے وہاں سے جارہی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں آتی نمی بار بار پلکیں جھپکا کے پیچھے دھکیلتی ۔۔

مجھے کب تک تم یوں بے عزت کرتی رہو گی حدیقہ ۔۔۔۔ وہ آنکھیں صاف کرتی باہر سڑک پہ نکل چکی تھی اب اسے وین کا اس جھلستی گرمی میں انتظار کرنا تھا ۔

________________________________________

۔ گیٹ کہ باہر کھڑی بار بار کال بیل بجائے جا رہی تھی ۔۔۔ آگئے بھئ ۔۔

قسمت دروازہ کھولتی ساتھ ساتھ بولے جا رہی تھی ۔۔

آجاؤ اندر لال بھبھبو چہرہ ہو پڑا ہے روز گرمی میں آیا کرو خوبصورت ہو جاؤ گی ۔۔

ہٹو یہاں سے ۔۔ وہ غصے میں بولتی اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔

پانی لاؤں ۔۔ انزل کو مزید تنگ کرنے کے موڈ میں تھی ۔۔

نہیں باہر ابشاریں بہہ رہی ہیں ۔۔ وہاں پی آئی ہوں بلکہ نظاروں سے بھی محفوظ ہو آئ ہوں

توبہ ہے اتنی سڑی ہوئی کیوں ہو ۔۔۔

وہ اسے پانی دیتی پوچھ رہی تھی ۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔ بلکہ ہونا کیا ہے ۔سامنے سے امی کو آتے دیکھ آواز اونچی کر لی ۔۔

۔۔دوست سارے جا رہے ہیں سواات ۔۔ میرا ڈریم سٹی ۔۔۔

مگر میں جانتی ہوں اماں نے نہیں ماننا ۔۔ ہونہہ

ہاں اور ان دوست میں مرد بھی شامل ہوں گیں اماں اتنی ہی اونچی آواز میں بولی ۔۔

تو کیا ہوا اماں ۔۔ لڑکیاں بھی تو ہوں گیں ۔۔۔

ہاں مگر ان کے والدین اور کوئی سرپرست نہیں ہوگا ۔۔ انزل ایسے سیر و تفریح کی میں تو تمہیں اجازت نہیں دوں گی جہاں کھلم کھلم بے حیائی ہو ۔۔۔

ہونہہ یونیورسٹی میں جیسے تو سب دینی تعلیم لینے آتے ہیں نا ۔۔۔ وہ منہ میں بڑبڑائ ۔۔۔

کیا ۔۔ اسکی اماں نے پوچھا کچھ نہیں ۔۔۔

ارے تم بہاولپور چلی جانا وہاں سکینہ کی شادی بھی تو ہے ۔۔

ہیں ۔۔۔۔۔ سکینہ کی شادی وہ اٹھ کہ اماں کہ پاس چلی گئی ۔۔ بچوں کے جیسے خوش ہوئی

ہاں ۔۔۔ پہلے یہ جاؤ کپڑے بدلو ۔۔ وہ اس وہاں سے منہ بنائے واپس چلی گئی ۔۔

آہ کہاں سوات اور کہاں اسکی کزن کی مڈل کلاس شادی ۔۔۔

حدیقہ شاید صحیح کہتی تھی وہ بھی اپنی اماں کی طرح پرانے خیالات کی ہوتی جا رہی ہے۔۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

راستے پہ چلتے چلتے وہ دونوں کافی دور نکل آئی تھیں جب یقین ہو گیا کہ کوئی بھی انکا پیچھا نہیں کر رہا تو وہ سست رفتاری سے چلنے لگی ۔۔ انزل کے ہونٹ خشک ہو چکے تھےپیاس کی شدت بڑھ رہی تھی صبح سے اب تک اس نے حلق سے کچھ بھی نہیں اتارا تھا ۔ اسکی ٹانگیں اب جواب دے چکی تھی

۔۔ وشمہ۔۔۔۔۔۔ وہ رہ نہ سکی

وشمہ رک گئی اسکی حالت ابتر تھی ۔۔ وشمہ ک اسکی حالت پہ ترس آیا اگر وہ اسکو پلان میں شامل نہ کرتی ۔۔ تو یہ یا تو مر جاتی یا وہ درندے اسے نوچ ڈالتے ۔۔ تھوڑی دور اسے ایک بینچ پہ لے آئی اسے بیٹھا دیا

یہ تکلیف بس آج کے دن کی ہے انزل تم اس کے بعد کوئی تکلیف نہیں سہو گی ۔

وشمہ اسے دلاسہ دے رہی تھی ۔۔ وہ آنکھیں موندے بینچ سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی ۔۔

کہاں جاؤ گی انزل۔ ۔۔ کوئ رشتے دار یا کوئی دوست ۔۔

یا کوئی ۔۔ یا کوئی ایسا جو تمہیں اپنا سکتا ہو ۔۔ ۔۔۔

جملہ کا آخر انزل کے دل میں تیر کی طرح لگا۔۔

ماویٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا اندر تک کڑوا ہوگیا ۔۔۔۔۔ درد میں ٹوٹا وجود اب نفرت کی آگ میں بھی جلنے لگا ۔۔ کیسے ایک انسان کی حرکت دوسرے کی زندگی کو تباہ کر جاتی ہے انزل سے بہتر کون جانتا تھا

جواب نہیں دیاتم نے ۔۔۔۔ وہ انزل کی کیفیت سے انجان وہ پاس لگے اسٹیند پول سے زنگ اکھیڑ رہی تھی ۔۔

نہیں کوئی نہیں۔۔۔۔ تم نے یہاں تک ساتھ دیا بہت شکریہ ۔۔ اب آگے میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گی ۔۔

بنا تاثر مظبوط لہجے میں کہا۔۔

اچھی بات ہے ۔۔ مگر میرا بھی کوئی نہیں ایک این جی او ہے دور کی خالہ کی ۔۔ سوچ رہی ہوں قسمت آزمائی کروں ۔۔ کیوں نا تم بھی ساتھ چلو۔۔اگر تمہاری کچھ کوالیفکیشن ہے تو ۔۔۔

وہ۔سمجھ گئی تھی اس لیے سنبھل کہ کہا ۔۔

انزل۔کو اپنے لہجے کی تلخی کا احساس ہوا

ہممم میرے بابا کے ایک دوست ہیں بہاولپور کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔۔۔۔

کچھ قرض دینا تھا انہوں نے

انہی کے پاس جاؤں گی بچپن میں دیکھا تھا انہیں مگر پھر کچھ جگھڑے کی بنیاد پہ پھر کبھی نہیں آئے۔۔۔۔ امید ہے اللّٰہ پاک کچھ بہتری کریں گیں ۔۔

تم میرے ساتھ چلو ۔۔ اگر رقم زیادہ ہوئی تو تم بھی وہیں رہ لینا نہیں تو میں بھی تمہارے ساتھ آجاؤ گی ۔۔ پلیز ۔۔

انزل اب اکیلے نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔

ٹھیک ہے۔۔

وشمہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔اتنے میں بس آچکی تھی وہ بس میں بیٹھ گئی ۔۔ صبح کی اذان گونجنے لگی انزل سیٹ سے ٹیک لگائے اذان کی آواز سے مسحور ہو گئی تھی ۔۔ آہستہ آہستہ اسکے سلگتے وجود کو سکون نصیب ہو رہا تھا اور وہ نیند کی آغوش میں چلی جا رہی تھی ۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

وہ مختلف بس بدلتے بلآخر منزل تک پہنچ ہی گئی ۔۔ وشمہ اسکے ساتھ اسکے گاؤں میں اتر چکی تھی آبادی شادرو نادر ہی تھی ۔۔ انزل یہ تو کافی بیک ورڈ ایریا ہے ۔۔

وشمہ نے دل میں آتے تمام خدشات کو دبائے انزل کو پھر یہاں سے دور لے جانا چاہا ۔۔۔

میرے پاس دوسرا راستہ نہیں ۔۔ مگر تم مجھے انکمفرٹییبل لگ رہی ہو ۔۔ اگر ۔۔ اگر تم چاہو تو واپس جا سکتی ہو مگر ایک دفعہ مجھے ملنے دو ان سے

وہ قدرے متانت سے بولی اتنے عرصے میں وشمہ۔کو انزل اور انزل کووشمہ کے علاوہ کوئی قابل بھروسہ نہیں لگ رہا تھا۔۔

ٹھیک ہے وہ نا چاہتے ہوئے بھی ساتھ چل دی ۔۔

آہستہ آہستہ گاؤں کا منظر واضح ہوا ایک طرف نہر درمیان میں آبادی آبادی کے دوسری طرف کھیت اور نہر کے پار ہریالی کچے پکے مکانات اور ان مکانات کے دور پرے جانکتی ایک خوبصورت وسیع رقبے پہ پھیلی حویلی اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی اپنے اندر بسنے والے باسیوں کے جاہ جلال اور ذوق کا بھرپور مظاہر تھی۔۔ ۔۔ وشمہ اور انزل مرعوب ہو چکی تھیں ۔۔

بس یہاں سے تھوڑی دور اور گھر آجائے۔گا ۔۔ انزل۔نے وشمہ۔کو اطلاع دی وشمہ نےے سر اثبات میں ہلایا وہ۔پیدل جا رہیں تھیں ۔۔

وہ آس پا س کے لوگوں سے اکرم علی کا پتہ پوچھتی جا رہی تھی ۔۔۔ اچھا کہیں کرمو تو نہیں وہ وڈیروں کا ملاازم ۔۔۔ کافی تک ودود کے بعد ایک بزرگ ان کو لئے ایک اجڑے ہوئے گھر کی طرف لے آیا ۔۔۔ بیٹا کافی سال ہوگئے یہاں سے چلے گئے وہ لوگ…

بزرگ انہیں کہانی سناتا اپنی ہی باتوں میں مگن تھا ۔۔

ایک دفعہ تصدیق کر لو اکرم علی اور بھی ہو سکتے ہیں وشمہ۔نے آہستہ سے اسے بولا بزرگ نے سن لیا ۔۔ہاں کر لو ۔۔ شاید میں ہی غلط جگہ لے آیا ہوں گا ۔۔

وہ لاہور میں رہتے تھے ۔۔

ہاں وہ اکرم ادھر آ کے بس گیا ۔۔ اسکی ایک بیٹی بھی تھی اور وہ پہلے تانگہ چلاتا تھا۔۔

انزل کو چپ لگ گئی بلکل وہی ۔۔ اکرم ایک ہی ایسا تھا یہاں وڈیروں کا ملازم اب یہاں سے گئے ہوئے سالوں ہو گئے بیٹی اور کچھ مدد چاہیے ہو تو ۔۔ نہیں بابا جی شکریہ وہ محض یہی کہہ سکی ۔۔

چلو شکر ہے اب تم میرے ساتھ چلو ۔۔

مجھے تو سارے راستے ہی بند ہوئے محسوس ہورہے ہیں ۔۔

انزل اب ناامید ہو چکی تھی ۔۔

ناامیدی اور مایوسی کفر ہے انزل ۔۔۔ چلو ایک دفعہ قسمت آزما لیتے ہیں ۔۔

لوگ ٹھیک کہتے ہیں ۔۔ یتیموں کا کوئی نہیں ہوتا ہم خود ہی اپنے باپ پوتے اپنی ماں بھی خود اور دوست ہیں ۔۔ معاشرے کا یہ بھیانک روپ دیکھ کہ وہ بہت نا امید ہو چکی تھی ۔۔۔

وشمہ کچھ کہنے لگی مگر چپ ہوگئی ۔۔

کبھی کبھی الفاظ کم پڑ جاتے ہیں دکھ کے آگے ۔۔۔

وہ راستے میں بات کرتی جا رہی تھیں ۔۔ ایک بی ایم ڈبلیو انکے پاس سے زناٹے سے گزری وشمہ کے بلکل قریب اور وہ اپنا بچاؤ کرتی دوسری طرف گر گئی ۔۔ ٹھیک ہو نا ۔۔ انزل اس اٹھنے میں مدد کرتی پوچھ رہی تھی ۔۔ کار سے نکلنے والا شخص انزل کو دیکھ چکا تھا۔۔ وہ اور اسکے مستعدی گاڑدز باہر نکلے تم ۔۔ وہ انزل کے قریب آ پہنچا ۔۔ کریم کلر کی شلوار قمیص پہنے وہ شخص آج ماڈرن نہیں لگ رہا تھا

تم یہاں کیسے آئی ؟۔۔۔

وہ غرایا ۔۔ ۔۔

ماویٰ۔۔ اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا وہ حیرت کی مورت بنے اسے دیکھ رہی تھی

ماضی ایک جھماکے سے اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا اور اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔

انزل ۔۔۔۔۔۔۔

وشمہ کی آواز نے اسے ہوش کی۔ دنیا میں واپس لے آئی وہ پیچھے ہٹ گئی ۔۔

میں نے کیا کہا تھا ۔۔ ۔۔شکل نہ دیکھانا اپنی تم ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ مگر تمہیں شاید سمجھ نہیں آئی ۔۔ ہیں نا ۔۔۔

وہ انگلی سے اسے تنبیہ کرتے بول رہا تھا ۔۔

محمد دین جا کہ صغراں کو بولو زنان خانے میں ایک جگہ بنائے کسی کو اس کی اوقات پہ لانا ہے ۔۔۔ وہ اپنے ملازم کو حکم دیتا انزل کی طرف بڑھا

وہ تذلیل یاد آگئی ۔۔ ۔۔۔

تمہارے باپ کامال ہوں کیا جو کہیں بھی لے جاؤ گے ۔۔۔ انزل دو قدم پیچھے ہٹی ۔۔ زندگی میری اجیرن ہو گئی دربدر کی میں ٹھوکریں کھا رہی ہوں ۔۔ اور تمہارا کیا گیا ماویٰ صاحب ؟

وہ بپھری شیرنی کی طرح بول رہی تھی ۔۔ ۔۔

تم چلو میرے ساتھ ۔۔ وہ اسکو اپنے ساتھ گھسیٹتا لے جا رہا تھا اور وہ مزہمت کر رہی تھی ۔۔انزل نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی غرض سے اسکے ہاتھ پہ زور سے کاٹا وہ درد سے بلبلا اٹھا وہ ۔۔ انزل وشمہ کا ہاتھ پکڑے وہاں سے بھاگنے لگی ۔۔ پیچھے سے اس کے گارڈ بھی بھاگے ۔۔ انزل کو چکر سے آنے لگے سر جھٹک کہ وہ آگے بڑھی مگر دو دن کی کمزوری حاوی ہوگئ اور وہ جھولتی نیچے گر گئی

آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا اور اسے اٹھائے اور وشمہ کو گاڑی میے ڈالتے گاڑدز اور گاؤں کی ٹوٹی سڑک پہ چلتی گاڑی ۔۔

انزل وشمہ اسکا چہرہ تھپا رہی تھی اسے آنکھیں کھلا رکھنے کا کہہ رہی تھی ۔۔ وشمہ بری طرح گھبرا چکی تھی ۔۔ کچھ منٹ کے فاصلے پہ وہ وسیع و عریض حویلی کے سامنے گاڑی رکی ۔۔ کسی محل کے جیسے دروازے کھلے اور گاڑی اندر بڑھی ۔۔ حویلی کہ وسط میں ایک سفید عمارت کسی محل کا منظر پیش کر رہی تھی وہ گاڑی سائیڈ پہ لگائے پیچھے کے طرف آیا گارڈ اپنے مالک کو یہ ظلم کرتے چپ چاپ دیکھتے پیچھے ہو چکے تھے۔۔اس نے انزل کو بازو سے پکڑا اور باہر نکالا

وہ نیم بےہوشی میں تھی جب اسے کوئی بازو سے پکڑے حویلی کے اندر گھسیٹا ہوا اندر کہ لے جا رہا تھا ۔۔ اس نے بند ہوتی آنکھوں سے دیکھا ۔۔ ماویٰ کے ساتھ وہ لڑکھڑا کے چل رہی تھی۔۔۔۔ اسکے بعد اسے نہیں یاد کیا ہوا دھیمی دھیمی سی آوازیں اور حویلی کی دہلیز پہ پڑی انزل ۔۔ دہلیز پہ ماویٰ بھی ٹھہر گیا اندر موجود مہمان کو دیکھ کہ جیسے اسے کسی نے بت بنا دیا ہو ۔۔۔ قسمت کیسے اپنا رنگ بدل لیتی ہے اب ماویٰ کو پتہ چلنا تھا۔۔۔۔وہ اب حا کم بننے جا رہی تھی اس دہیلز پہ انزل کا آنا ماویٰ کی زندگی میں تبدیلی لانے والا تھا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

مہ پارہ شام میں بیٹھی چنے کی دال چن رہی تھی کہ اسکی بچپن کی سہیلی ہاتھ میں ڈائجسٹ پکڑے اسے نئی اقساط پہ تبصرہ کرنے کے لئے آئی

ہائے یہ ناولز میں شوہر اپنی بیوی کے کتنے لاڈ اٹھاتے ہیں مہ پارہ ۔۔۔ مگر یہ حقیقت کی دنیا میں نہیں ہوتا ۔۔۔

اوپر چھت پہ چڑھنے والا افنان یہ سن کہ مسکرایا poor typical girls

کیوں نہیں ہوتا ۔۔ ہوتا ہے ۔۔ انزل کی آواز نے اسے کے قدم روک لئے دونوں گھر ایک مشترکہ دیوار کی جڑے تھے ۔۔ افنان آخری سیڑھی پہ بیٹھ گیا اسے مہ پارہ کے دلائل ہمیشہ پسند آتے تھے ۔۔

پتہ نہیں مگر شاید بیوی سے اتنا پیار مرد کو زن مرید کا لقب دلوا دیتا ہے ۔۔

ہر گز نہیں ہنزہ ۔۔ بیوی سے محبت کرنے اور اسکا لاڈ اٹھانے سے مرد کی مردانگی کم نہیں ہوتی بلکہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہے ۔۔ جانتی ہو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے جھگڑا کرتی ناراض ہوتی ۔۔ کون رسول خدا سے ناراض ہونے کی جرأت کر سکتا ہے ۔۔ مگر وہ تو پاک رسول کی بیوی تھیں وہ حق سے ناراض ہوتی ۔۔ اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ کا ہار گم ہوگیا تو سارے قافلے کو روک لیا اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ کا دل نہ لگے تو ان کے ساتھ پاک رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوڑ کا اہتمام کرتے ۔۔

ہنزہ بیوی سے محبت ہماری سنت میں ہے جانتی ہو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عورت کو کیا کہا ہے پسلی کی طرح ٹیڑھا ۔۔ اب بتاؤ ٹیڑھا کسے کہتے ہیں ۔۔۔

راہ سے بھٹک جانے والے کو ۔۔۔

نہیں ٹیڑھا کا مطلب سیدھا راستہ سے ذرا خم ولا ۔۔ ہم ایک سیدھ میں نہیں ہوتی ۔۔ ہم کمپلیکٹڈ ہوتی ہیں۔ ہم اللّٰہ کی پچیدہ مخلوق ہیں اور ہمارے ساتھ سلوک بھی سب سے مختلف ہونا چاہیے جیسے ایک بچے کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔

جانتی ہو قرآن میں ہمار لئے کیا حکم دیا ہے پردے کا ۔۔ہمیں خود کو ڈھنپ کے رکھنے کا ۔۔۔ اگر ہم نے بات نہ مانی تو ہمارے شوہر ہمیں پیار سے سمجھا سکتے ہیں نہیں تو ہمیں مار بھی سکتے ہیں میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اللّٰہ پاک نے ہمارے ساتھ اتنا سخت رویہ کیوں رکھا ۔۔ مگر پھر سمجھ میں آیا کہ اللّٰہ جی نے تو ہمیں کہیں بڑی اور سمجھدار کی طرح حکم دیا ہے اور کہیں بچوں والا سلوک کیا ہے اگر بچہ کوئی غلطی کر لے اسے پیار سے سمجھانا نہ مانے تو مارنا ۔۔۔ ہمارے ساتھ بھی تو وہی سلوک کیا ہے اللّٰہ جی ۔۔ وہ بھی ہمیں اتنے مان سے اتنے پیار سے رہنے کا حکم دیا ہے

تو یار ہمیں ان ناولز نے نہیں ہمیں ہماری بلاوجہ کی سوچ نے خراب کیا ہے ہاں کچھ ناول حد سے ذیادہ فینٹسی دکھا دیتے ہیں انکے تو میں بھی خلاف ہوں ۔۔وہ بنا رکے ایک سانس میں اپنے دلائل دے رہی تھی ۔۔۔۔

وہ مسکرا دیا ۔۔مہ پارہ ۔۔ افنان کو تم بنا قیمت ادا کئے خرید رہی ہو ۔۔۔ ماہ پارہ ۔۔ میں پور پور تم میں ڈوب رہا ہوں ۔۔ وہ کہتا نیچے واپس آرہا تھا ہوش سے بیگانہ اسکا پاؤں درمیان کی سیڑھی کو چھوڑے آگے بڑھ گیا نتیجا ایک زوردار آواز اور وہ نیچے گرا لہو لہان ہو رہا اسکا باپ اندر کمرے سے بھاگ کے آیا ۔۔۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

انزل شادی پہ گئ تو واقعی گھر والے ماحول ہنسی مزح شادی کی تقریب اور قسمت کی ہوتی ہنگامی منگنی نے اس ایک ہفتے کو چار چاند لگا دیے وہ ایک ہفتے بعد یونیورسٹی آرہی تھی ۔۔۔ شادی سے جانے سے پہلے اس نے اماں سے اجازت لے کر اپنی حسن کو نکھار لیا تھا ۔۔ تھوڑی بہت اسکن کئر کے بعد اب اس کی دبی سی رنگت واضح ہو چکی تھی ۔۔ کمان ابرو اسکے گول چہرے پہ سوٹ کر رہے تھے ۔۔ سامنے آتی اسرا کو ہاتھ ہلا کہ ہائے کہا ۔۔ پہلے تو اسرا اسے پہچانی نہیں بعد میں غور کرنے پہ وہ خوش گوار حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

واہ ایک ہفتے میں کیا رنگ روپ نکالا ہے ۔۔۔ ستائش کسے نہیں پسن ہوتی۔۔ وہ اسکی تعریف قبول کرتی مسکرا رہی تھی۔۔

حدیقہ کہاں ہے ۔۔ وہ ہمیشہ اسرا کو حدیقہ کا دم چھلا بنتے دیکھا تھا تو آج وہ اکیلی کیسے ۔۔۔

مت نام لو اسکا ۔۔۔ اسرا حد درجہ بیزار نظر آئی ۔۔

کیوں ۔۔۔ انزل پوری گھوم کہ اسکے سامنے آگئی ۔۔

یار ابھی موڈ نہیں بعد میں بتاؤ گی خراب کر دیا اور پتہ ہے ماویٰ کو بھی سٹرک آوٹ کروا دیا ہے ۔۔ پرنسپل آفس تک بات پہنچ گئی ۔۔۔ ماویٰ کو یونیورسٹی سے وارننگ ملی ہے ورنہ اسکا کرئیر اور کردار تباہ کرنے میں حدیقہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔

وہ بعد کا کہتی ابھی انزل کے چودہ طبق روشن کر گئی ۔۔۔وہ ہکا بکا وہاں کھڑی ۔۔ سمجھنے سے قاصر تھی اس کے بعد انزل کی حدیقہ سے بات نہ ہوئی مگر ماویٰ نا محسوس طریقے سے اس کے قریب آرہا تھا ۔۔ یہ اسکے لئے دوسری تبدیلی تھی ۔۔ یہ وقت تھا جب وہ بھی ماویٰ کے حسین خوابوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔ یہ محبت کا عروج آنے میں کم وقت لگا ۔۔۔۔ اور زوال میں بھی

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

حویلی کے اندر کا منظر دیکھ کہ ماویٰ رک گیا ۔۔ اسکی منگیتر اوراس کی ساس زنان خانے میں بیٹھے تھے ۔ ماویٰ کو ایسے کسی لڑکی کے ساتھ سلوک کرتا دیکھ کہ وہ دونوں حیران و پریشان تھی ۔۔۔

ماویٰ کچھ حد تک سنبھل چکا تھا ۔۔۔ یہ چور ہے ہمارے ڈیڑے سے چوری کرتی پکڑی گئی تھی ۔۔ اور مجھے ان مجرموں سے سخت نفرت ہے ۔۔۔

وہ بہت نارمل انداز میں اپنی اس حرکت کی صفائی دے رہا تھا ۔۔

مگر ماویٰ یہ لڑکی ہے اور تم اس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے ۔۔۔اسکی ساس بولی ۔۔

باہر کھڑی وشمہ اندر سب کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔

ظالم گھٹیا انسان وہ گاڑدز کے نرخے چالاکی سے بھاگتی اندر گئی ۔۔۔

جھوٹ بولتا ہے یہ شخص ۔۔۔

وشمہ اندر آتے ہی انزل کے لئے بڑھی جو بے سود پڑی تھی ۔۔

کیا بکواس ہے تم دفع ہو جاؤ ۔۔ ماویٰ اس کی طرف بڑھا ۔۔ ماویٰ رک جائیں ۔۔ اسکی منگیتر حنا نے چپ توڑی ۔۔

ہاں بتاؤ لڑکی ۔۔ اور وشمہ کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔

تمہاری وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں زندگی اجیرن کردی ہے تم نے ۔۔۔ اور تمہارا کیا گیا ماویٰ صاحب؟ انزل کے الفاظ اس نے ذہن میں دہرائے ۔۔۔

بولو لڑکی ۔۔ کیا کہنا چاہتی ہو اسکو خاموش پا کر حنا کی ماں بولی ۔۔

اب وہ ان سے کیا کہتی وہ تو انزل کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔۔ مگر اسے کوئی تو کہانی گھڑنی تھی یہاں سے نکلنے کے لئے ۔۔۔

کچھ سوچتے ہوئے اس نے بولنا شروع کیا ۔۔۔

یہ انزل ہے ۔۔ ماویٰ نے اسکوشادی کے کئ خواب دیکھا ئے تھے ۔۔ مگر اب جب انزل اس سے سوال کرنے آئی تو اسے مارتا پیٹتا یہاں تک لے آیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *