Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa NovelR50595 Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 13)
Rate this Novel
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan (Episode 13)
Taab e Hijran Nidaram Ay Jaan by Ayesha Siddiqa
وہ وشمہ کو لیے بڑی سی براؤن رنگ کی چادر کو اوڑھے ہوئے تھی خود وشمہ بھی ویسی ہی کالی چادر میں تھی ۔۔ وہ دونوں گھٹنوں تک چھپی ہوئی تھی ۔۔۔
نیچے جاتے ہوئے ایک ملازم انہیں دیکھ چکا تھا ۔۔۔اور ماویٰ کو خبر دینے چلا گیا ۔۔وہ حویلی کو عبور کرتی سفید فرش کی راہداری پہ۔چلتی گیٹ تک۔پہنچ گئی تھی۔۔کسی کار میں بیٹھ کے جانے کا اتفاق نہ ہوا سوائےدو دفعہ اس لیے وہ وہاں سے پیدل ہی جانا چاہتی تھی ۔۔
گیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی خیرو انکے درمیان آچکا تھا ۔۔
بی بی جی آپ ۔۔ وہ ذرا ہچکچا تا دونوں کو دیکھتا ۔۔
ہاں ہٹو راستے سے ۔۔۔انزل اسے خاطر میں لائے بغیر وہاں سے جانا چاہتی تھی ۔۔
نہیں انزل بی بی آپ یہاں سے نہیں جا سکتی ۔۔ شاذل سائیں نے مجھے سخت تاکید کی ہے ۔۔۔۔۔
خیرو اپنے لہجے کو مودبانہ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا
اگر ہم نہیں جاسکتی تو یہ لے جائے وشمہ نے حل پیش کیا
ٹھیک ہے پھر تم بھی ہمارے ساتھ چلے جاؤ ۔۔
انزل نے اس بن بلائی آفت سے چڑ چکی تھی ۔۔
نہیں بی بی نہ آپ کہیں جا سکتی ہیں نہ میں لے کہ جا سکتا ہوں ۔۔معاف کیجئے گا بی بی مگر شاذل صاحب سخت تاکید کر کے گئے ہیں ۔۔
اوئے کون ہوتا ہے تو روکنے والا ۔۔ ماویٰ دور سے آتا خیرو کو ڈانٹ رہا تھا ۔۔ اگر یہ گندگی خود ادھر سے جانا چاہتی تو جانے دے ۔
۔۔۔ اس نے جان بوجھ کے سخت الفاظ استعمال کئے ۔۔
نہیں صاحب شاذل سائیں نے منع کیا ہے میں نہیں جانے دے سکتا۔۔۔خیرو اب دو مالک کے درمیاں پھنس چکا تھا
تم یہاں سے دفعان ہو جاؤ ماویٰ انزل بڑکی ۔۔
ہاں شوق سے پہلے تمہیں تو نکال دو ں ۔۔ وہ ہاتھ سے انزل کو پکڑے حویلی کے گیٹ سے باہر کر دیا ۔۔۔
یہاں لے کہ بھی میں آیا تھا ۔۔۔ باہر بھی میں ہی نکال رہا ہوں ۔۔۔ وہ اپنی طرف اشارہ کرتا فخر سے کہہ رہا تھا خیرو کی طرف مڑا جو تذ بذب کا شکار تھا۔۔
جب نوکر مالکوں کی بات نہ مانیں تو انہیں نکالا نہیں جاتا ۔۔۔
عبرتناک سزا دی جاتی ہے ۔۔۔ وہ سانپ کی طرح پھنکارا
ماویٰ جانتا تھا خیرو شاذل کا سب زیادہ وفادار ملازم ہے ۔۔ وہ اسے گھسیٹا اپنے ملازم کی طرف لے گیا ۔۔ جا کے کتوں کے پنجرے میں ڈال دو اسے۔۔
وہ ہاتھ جوڑتا معافی مانگتا مگر سب بے سود تھا۔۔
ماویٰ ایک تیر سے دو شکار کھیل چکا تھا ۔۔
وہ ایک شان بے نیازی فون ملاتا کان سے لگا گیا ۔۔
ہاں اچھا کام کیا تم نے ۔۔ وہی ایڈریس دیا تھا نا ۔۔
چلو ٹھیک ہے ۔۔ اسے یہی لگنا چاہیے کہ افنان نے کال کی ۔۔۔
وہ کہتا فون بند کر گیا ۔۔ اسکا فون دوبارہ سے رنگ ہوا ۔۔۔
جلملاتی سکرین پہ شبنم بیگم۔۔
کیا وہ نکل چکی ہیں ۔۔شبنم بیگم نے تصدیق چاہی ۔۔
ہاں ۔۔ تمہارے آدمی تیار ہیں ۔۔۔ماویٰ کو آج سب کچھ پرفیکٹ چاہیے تھا ۔۔
میں اس لڑکی کی دوبارہ شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔۔
اسے دبئی والے فارم ہاوس پہ ہونا چاہیے ہر صورت ۔۔۔
ماویٰ ابھی بھی بے یقین تھا ۔۔
فکر کیوں کرتے ہو ساری لڑکیاں
لڑکیاں ٹرک میں پہنچ چکی ہیں بس دو کی کمی ہیں اور انہیں میرے آدمی وہاں سے لے آئیں گیں وہ خود آئیں گیں اپنی بر بادی کی طرف ۔۔
شبنم کی تنی گردن مزید تن گئ۔۔۔
ماویٰ کے لیے آج جشن کا دن تھا ۔۔۔
انزل اور وشمہ وہاں سے نکلنا چاہتی تھی کسی بھی طرح اور یہی طریقہ سہی لگا انہیں وہ جلدی سے بس اسٹینڈ کی طرف جانے لگی















مکرم صاحب پریشان سے اپنے پلنگ پہ بیٹھے سامنے صغراں کرسی پہ براجمان ۔۔ آج حسب معمول چادر سر سے اتری ہوئی ۔۔ جسم پہ پہنے والے مہنگے لباس میں ملبوس تھی۔۔
ماویٰ دروازے پہ کھڑا ہاتھ میں ایک ایک شیشی پکڑے ہوئے اندر آیا۔۔
بابا یہ تو ویسے کی ویسی ہی ہے ۔۔ ویر جی اپنی دوائیں نہیں لے رہے ماویٰ فکر مندی سے بولا۔۔
سامنے صغراں نے مسکرا کہ اسے دیکھا۔۔
یہ منظر اس کے لیے نیا نہیں تھا ۔۔تنہائی میں صغراں ملازمہ نہیں ہوتی تھی۔۔
آجاؤ ماویٰ ادھر آ کہ بیٹھو ۔۔ مکرم نے اپنے اس بیٹے کو پاس بلایا۔۔۔
ہاں صاحب جی ۔۔ شاذل پاس کی مسجد کے امام کے ساتھ جب سے بیٹھنا شروع ہوا ہے تب سے اس نے اپنی دوائیں لینا بند کر دی ہیں مجھے فکر ہوتی ہے اگر وہ ٹھیک ہوگیا تو ہمارا پول کھل جائے گا ۔۔ اتنے سالوں کی محنت پہ پانی پھر جائےگا ۔۔
صغراں کے ماتھے پہ بل پڑ گئے۔۔
ماویٰ نا سمجھی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
بابا یہ کیا کہہ رہی ہیں
ماویٰ کو اب بھی سمجھ نہ آیا
میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں ماویٰ ۔۔
چوبیس سال پہلے ایک شخص معمولی سا مونچی ایک زمیندار کے گھر کام کرتا اسکی زمینوں کی دیکھ بھال کرتا اسکا مالک اس سے بہت خوش تھا ۔۔
اسکی ترقی ہوتی چلی گئی اور وہ مونچی زمیندار کے خاص آدمیوں میں ہوگیا ۔۔
ایک دن وہ زمیندار پریشان سا بیٹھا تھا تو اس مونچی نے پریشانی کی وجہ دریافت کی ۔۔ پتہ چلا اسکی اکلوتی بیٹی کا شوہر کار ایکسیڈنٹ میں مارا گیا ۔۔ ابھی اسکی بیٹی کی شادی کو ایک سال ہوا تھا اور ایک دو ماہ کا بچہ بھی ساتھ تھا۔۔
وہ مونچی دل کا بہت اچھا تھا ۔۔ اس نے اسکی بیٹی سے شادی کی خواہش ظاہر کی ۔۔ اسکا مالک بہت خوش ہوا ۔۔
خوش تو وہ مونچی بھی تھا۔۔ اسے اتنی ساری جائیداد مل جانی تھی ۔۔ مگر وہ لڑکی اسے جوتے کے نوک پہ رکھتی ۔۔ اپنی دولت کا بڑا زعم تھا ۔۔ دو سال تک اس نے اپنے باپ کا نجانے کیا پٹی پڑھائی کہ اس باپ نے اپنی ساری جائیداد اپنے نواسے کے نام لکھوا دی اور کہا کہ اگر وہ بچہ مر جائے گا تو جائیداد حکومت کو مل جائے گی ۔۔ یہ سب اسکی بیٹی کی چالاکی کی وجہ سے ہوا ۔۔
مگر ایک دن اسکا مالک مردہ حالت میں اپنے بستر پہ پایا گیا ۔۔ اسی دن سے اسکی بیٹی کے برے دن شروع ہوئے ۔۔۔ جائیداد اس مونچی کے حوالے ہوگئی مگر ۔۔۔اس کے مالک نے مرنے سے پہلے اپنی وصیت میں تبدیلی کروا لی تیس سال کی عمر میں اسکا نواسا اسکی ساری جائیداد کا مالک بن جائے گا ۔۔۔ اور اسکے سوتیلے باپ کو ایک چوانی بھی نہیں ملے گی ۔۔اور اسکی نگہداشت کے لیے اپنے ضاص خادم فلاح دین کو رکھا ساتھ ہی اسکی نسلوں کو تاکہ وہ لڑکے کی اچھی پرورش ہو سکے ۔۔
اور وہ لڑکا شاذل ہے۔۔۔
اور اسکی نگہداشت پہ مامور فلاح دین اور اسکا بیٹا افنان ہے
مگر اگر وہ لڑکا پاگل ہوجائے تو ساری جائیداد ہماری ہو سکتی ہے ۔۔ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے ۔۔ نہ ہی ہماری اولاد ہے۔۔۔ صغراں میری پہلی بیوی تھی ۔۔۔ مگر اسکی ماں فاطمہ سے شادی کے بعد صغراں کو ملازم بن کہ رہنا پڑا ۔۔اسکے بعد میں شادی کی اور تم ہوئے ۔۔ ماویٰ تم ہی میری اصل اولاد ہو ۔۔ شاذل کو پاگل ہونا پڑے گا ۔۔۔ یہ ہم نے ہی اسکو ایسی دوائیوں کا عادی بنایا ہے تاکہ وہ پاگل ہوجائے۔۔اب بتاؤ تمہیں باپ عزیز ہے ۔۔ یا وہ شاذل جسکا تم سے کوئی رشتہ نہیں ۔۔
مکرم سوالیہ نظروں سے ماویٰ کو دیکھنے لگے ۔۔
ماویٰ نے لمبی سانس لی۔۔ شاذل اسکے لیے اسکے دوست سے جھگڑا کیا تھا۔۔
شاذل کا اس سے برا رویہ
شاذل اسکا بھائی نہیں ہے
شاذل کا سب کچھ مل جائے گا
ہر گز نہیں ۔۔۔وہ اٹھ گیا ۔۔۔
مجھے کیا کرنا ہوگا بابا۔۔
شاباش بیٹا ۔۔ مجھے یہی امید تھی تم سے ۔۔۔
مجھے خبر ملی ہے کہ شاذل افنان کی بیوی پہ دل ہار گیا ہے ۔۔۔مہ پارہ نام۔کی لڑکی پہ۔۔تم نے بس کرنا یہ ہے۔۔ کہ ۔۔شیطان اپنا منصوبہ بنا چکا تھا















تمہیں یقین ہے یہی جگہ ہے ۔۔ وشمہ نے کہا بس ایک سنسان جگہ پہ رک گئی تھی ن۔ وہ دونوں اترتی ۔۔ وہاں کھڑی انتظار کرنے لگی۔۔ مگر بے سود وہاں کوئی نہیں آیا ۔۔
وشمہ اب پریشان۔ہونے لگی تھی کہیں کوئی اور مشکل۔میں تو نہیں پھنس رہیں ۔۔
مگر یہ دلدل ماویٰ نے بنایا تھا ان دونوں کو اس میں دھسنا ہی تھا دفتاً ایک کالے رنگ کی وین ان کے سامنے آرکی۔۔۔
کچھ غلط ہونے کے احساس نے وہاں سے بھاگنے کا الارم۔بجایا مگر اب دیر ہوچکی تھی ۔۔۔ ایک نقاب پوش وین سے نکلا گن پکڑے ان دونوں کو اندر بیٹھنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔
وہ چپ چاپ اس میں بیٹھ گئیں ایک دوسرے کی طرف دیکھتی روہانسی ہوچکی تھی ۔۔
کون ہو تم ۔۔۔تمہیں ماویٰ نے بھیجا ہے نا ۔۔۔ انزل پوچھ رہی۔تھی مگر وو سب جیسے صم بکم ہو چکے تھے ۔۔۔
وہ تین افراد تھے ایک گاڑی چلا رہا دو ان کے سامنے ریوالور رکھے بیٹھے تھے ۔۔
وہ دونوں خوفزدہ سی۔بیٹھی آگے قسمت کہ لکھے کو دیکھنے کے لیے بے چین
