Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode

“میں چاہتی ہوں حج کی ادائگی سے پہلے اپنے دونوں بیٹوں کا نکاح کردوں ۔۔۔۔”
“یہ کام ہم واپس اکر بھی کرسکتے ہیں مجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ آپ اتنا اصرار کس وجہ سے کررہیں ہیں “
وجدان نے مریم کی بات پر انھیں دیکھا جو کافی دن سے ایک ہی بات کی رٹ لگائے بیٹھی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
“میں بہت سے خدشات کا شکار ہوں میں چاہتی ہوں ہمارے پیچھے کوئی تو ہو جو ہمارے شہزادوں کا خیال رکھے ۔۔۔ اور آج کل کے دور میں کوئی کسی کے بچوں کا خیال نہیں رکھتا ۔۔۔۔ اس لئے میں چاہتی ہوں ہم ابھی اپنے بیٹوں کو زئی بھائی کی سرپرستی میں دے دیں ۔۔۔۔۔ زندگی کا کیا بھروسہ ۔۔۔۔”
“میں تمہارا مطلب سمجھ گیا مریم ۔۔۔۔۔۔۔ تم فکر نہ کرو میں زئی سے بات کرتا ہوں ویسے بھی میں خود بھی ہوا کا بدلتا رخ محسوس کررہا ہوں ۔۔۔۔۔”
وجدان نے مریم کی بات کی تائید کی ۔۔۔۔۔ اور زئی سے بات کر کے انھیں لاہور بلوالیا۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن نظیر اپنی بیوی ، بچیوں کے ساتھ لاہور پہنچا تھا ۔۔۔۔۔
اسی دن اناًفاناً نکاح کا انتظام کروایا گیا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
مکرم شروع سے خرم کہ ساتھ رہا تھا اس کی ہر بات میر کیلئے اہمیت کی حامل تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب نے اپنی دلہن بنی دونوں بیٹیوں کو دیکھا ۔۔۔ یہ ان پر ظلم تھا اتنی چھوٹی عمر میں وہ ان کی مرضی کے بغیر ان کی زندگی کا فیصلہ کر گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی اپنے جگری یار کی بات ٹال نہ سکے تھے
دوسرے دن وجدان اور مریم ائیر پورٹ پر نجانے کتنی دیر تک اپنے بیٹوں کو سینے سے لگائے کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نصرین نے اگے بڑھ کر انھیں تسلی دی جس پر وہ نصرین کا ہاتھ تھام گئیں ۔۔۔
” یہ میری امانتیں ہیں آپ کے پاس ۔۔۔ آپ نے انہیں اپنے بیٹوں کی طرح رکھنا ہے۔۔۔”
مریم کہ نم ناکی سے کہنے پر نصرین نے انھیں یقین دلایا ۔۔۔۔
“ارے بھابھی آپ اللہ کے گھر جارہیں ہیں اس پر بھروسہ رکھیں جو وہ حفاظت کرتا ہے وہ تو ہم بھی نہیں کرسکتے اور کچھ دنوں کی ہی تو بات ہے پھر یہ آپ کے پاس ہوں گے ۔۔۔۔ “
نظیر نے مریم کو تسلی دی جس پر وہ بے ساختہ ان شاء اللہ کہہ اٹھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نظیر کے ساتھ تب تک کھڑے رہے جب تک ہوائی جہاز ان کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہوا۔۔۔۔۔۔
`~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~’
ڈرائیور نے اسے پیلس چھوڑا تو وہ دھندلائی آنکھوں سے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز آرہی تھی جس کا مطلب آج پھر کوئی میٹنگ ہورہی تھی ۔۔۔۔۔ وہ بوجھل قدموں سے اپنے کمرہ میں چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے کی میٹنگ کے بعد خرم اپنے کمرہ میں آیا تو اڑھے ترچھے انداز میں ورشہ اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔
یہ یہاں کب آئیں یہ تو کراچی گئیں ہوئیں تھیں ؟؟؟
وہ پہلے ہی پریشان تھا اوپر سے ورشہ کی یہ حالت اس کا دماغ ماووف کرنے لگی۔۔
وری !!!
جب وہ پکار پر بھی نہ ہلی تو خرم پاس گیا ۔۔۔۔ وہ شاید سو رہی تھی اس کا سر تھکیہ پر رکھ کر بلینکٹ برابر کیا ۔۔۔۔۔ گالوں پر ٹہری نمی بتارہی تھی کہ وہ روتے روتے سوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اپنی جان کو کیوں ہلکان کرتی ہیں ۔۔۔”
“اپ کو بخار ہے ۔۔”
وہ اس کا ماتھا چھونے کہ بعد گلے کا درجہ حرارت محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے فوری طور پر ڈاکٹر کو بلوایا۔۔۔۔
اتنی دیر میں وہ بھی جاگ چکی تھی ۔۔۔ ڈاکٹر اسے دوائیاں تجویز کر کے جاچکا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کو چھوڑنے کہ بعد وہ اندر آیا تو وہ اپنا منہ گھٹنوں میں دیئے سسک رہی تھی۔۔۔۔۔
“وری میری جان کیوں رو رہی ہو اپنی حالت دیکھو ۔۔۔”
وہ تفکر سے کہتا اس کہ قریب ہی بیٹھ گیا:
“آپ بتائیں بابا جان نے ایسا کیا کیا ہے جس کی وجہ سے آپ نے انھیں جیل میں بند کروا دیا ۔۔۔ مجھے سچ جاننا ہے “
وہ باقاعدہ اب ہچکیوں سے لرزنے لگی تھی۔۔۔۔
“کچھ نہیں کیا نظیر صاحب نے یہ لو پانی پیو ۔۔۔۔”
خرم کی بات پر وہ سرخ چہرہ لئے اسے دیکھے گئ۔۔۔۔۔
“ہاں پانی پیو پھر بتاتا ہوں ۔۔۔”
“وہ جیل میں نہیں ہے بلکہ وہ فارم ہاوس میں روپوش ہیں تاکہ شکیل کو یہ ہی لگے کہ وہ گرفتار ہوچکے ہیں اور وہ اپنی سازش کو کامیاب سمجھے ۔۔۔۔”
کیا مطلب بابا جان جیل میں نہیں ہیں آپ نے انھیں جیل نہیں بھجوایا ؟؟
وہ رونا بھول کر خرم کی بات کی تائید چاہنے لگی۔۔۔۔
“ہاں میری جان میں اپنے بابا جان کے بعد انھیں اپنا باپ مانتا ہوں ۔۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں انھیں ناحق ایک ایسے جرم کہ الزام میں پھنسا دوں جو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں ۔۔۔”
“وہ جو وکیل صاحب ہمیں پیرس میں ملنے آئے تھے انہوں نے نظیر صاحب پر مرڈر کا کیس ڈال کر شکیل کو بری الذمہ کیا تھا۔۔۔۔۔ جب کہ بابا کا قتل شکیل نے کروایا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ ہی جھوٹی رپورٹ ڈاکٹر سے بنوا کر نظیر صاحب تک پہنچائی تھی اور اس ڈاکٹر کو پاکستان سے باہر بھجوا دیا۔۔۔۔۔۔ تاکہ یہ لگے کے نظیر صاحب نے جھوٹی رپورٹس بنوا کر ہمیں دی ہیں ۔۔۔۔”
یہ بات آپ کو کس نے بتائی ؟؟؟
“ڈاکٹر ذیشان نے کیوں کہ اصل رپورٹ انہوں نے بنوائی تھی جس میں شکیل کہ فنگر پرنٹس بابا کہ جسم پر واضح تھے ۔۔۔ ظلم کی انتہا دیکھو وری کہ پہلے بابا جان اور ماما کو زرد و کوب کیا اور پھر ان کو گاڑی میں بٹھا کر اس گاڑی میں آگ لگوادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ورشہ اتنی بھانک موت پر لرز اٹھی اور اپنی منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکی دبائی۔۔۔۔۔۔۔
بعد میں جب میں سب کچھ جان چکا تو وکیل پھر میرے پاس آیا تھا۔۔۔۔
خرم میں نے اس دن تم سے جو بھی بات کی تھی وہ غلط تھی اور ایک فیصد بھی سچ شامل نہیں تھا اس میں ؟؟؟؟
آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں آپ تو بابا جان کے وفادار تھے ۔۔۔۔ ؟؟
خرم نے غصہ سے انھیں دیکھا۔۔۔
“میں اب بھی ہوں ان کا وفادار کیوں کہ مجھے پتا ہے تم وجدان کے بیٹے ہو سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرو گے اور حقیقت کو جاننے کی کوشش کرو گے ۔۔۔۔ “
“مجھے یہ بھی پتا تھا کہ تمہاری کال ٹریس کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
شکیل کو جب میں نے اس بات کی خبر دی کہ نظیر اریسٹ ہوچکا ہے تو وہ اپنی خوشی میں کال کاٹنا بھول گیا :
اور میں نے اس کی ساری باتیں سن لیں ۔۔۔۔
تمہارا جو پرانا ملازم تھا اس کا قتل خادم نے کیا تھا اور خادم کا قتل شکیل سومرو نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں پاگل ہوجاوں گی ان سازشوں سے ۔۔۔۔۔ “
“بس دیکھ لو میں نے بھی ان ہی سازشوں کے درمیان گزاری ہے ۔۔۔۔۔ لیکن کبھی اس سازش کا شکار نہیں بنا ۔۔۔ بابا جان ہمشہ مجھے کہتے تھے کہ جب تک کسی بات کو دونوں طرف سے نہ جانو اس کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کیے بغیر اس بات پر ایمان لانا نری بیوقوفی ہے ۔۔۔۔۔۔ “
“اسی مقولے پر عمل کر کے آپ نے مجھے کراچی بھجوا دیا ۔۔۔۔۔ آپ کو پتا تھا کہ امی مجھے واپس بھیج دیں گی ۔۔۔۔۔”
“بلکل یہی بات تھی وری اگر میں تمھیں زبردستی روکتا تو تم مجھ سے متنفر ہوجاتیں کیوں کہ اس وقت تم وہی دیکھ رہیں تھیں جو تمھیں دکھایا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“آپ بہت اچھے ہیں خرم مجھ ناقدری کو آپ ڈیزرو نہیں کرتے بار بار میں آپ کا اعتماد توڑ دیتی ہوں اور بارہا آپ مجھے اعتماد ، محبت سے سمیٹ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔”
“آنسو پھر لڑیوں کے مانند رخسار پر گرنے لگے۔۔۔۔
آئندہ اپنے آپ کو ناقدر نہیں کہیئے گا آپ ابھی نہیں جانتیں کہ آپ میرے لئے کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ خرم کی بات پر اس کے سینے میں منہ دیئے پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرم نے اسے احتیاط سے سمیٹ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~•~~~
حنا کو ہوش آیا تو وہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھنے لگی تو مکرم جو اسی کے قریب بیٹھا تھا اس کو اٹھنے میں مدد دینے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زندہ ہوں ؟؟؟
اس کی غیر متوقع بات پر مکرم نے اسے حیرت سے دیکھا :
اس نے تو سوچا تھا ڈر گئی ہو گی سہم گئی ہوگی لیکن وہ ایک بار پھر بھول گیا تھا کہ اس کی بیوی حنا تھی نڈر اور بہادر ۔۔۔۔۔
“بلکل ہنی تم زندہ ہو ۔۔۔۔”
وہ اس کا چہرہ تھامے بولا۔۔۔۔
اور ماتھے پہ نیل کو انگوٹھے سے چھوا۔۔۔۔۔۔
درد ہورہا ہے ؟؟؟
“زیادہ نہیں ہلکا سا ۔۔۔۔”
وہ نرمی سے بولی ۔۔۔۔
ویسے آپ کو پتا کیسے چلا کہ مجھے کس نے کڈنیپ کیا ہے ؟؟
وہ اپنی بات اتنے آرام سے کررہی تھی جیسے کسی اور کی کڈنیپنگ کی بات ہو۔۔۔۔۔
یہ بتاو تم نے اسے تھپڑ کیوں مارا تھا ؟
وہ سی سی ٹی وی میں سب کچھ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔
“وہ میرے ہاتھ سے موبائل چھین لے اور میں اسے پھول دوں ۔۔۔۔ “
“نہیں ہاتھ توڑ دیتیں اس کے “
“یہ بھی کر گزر تھی لیکن میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔۔۔۔ “
وہ افسوس سے بولی جیسے واقعی اس نے یہ ہی کرنا تھا۔۔۔۔۔۔
“جانتا ہوں ہنی ۔۔۔۔”
“لیکن آپ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ میں نے کیا کیا بولا اس میسنی نگہت کو اور اس چوہے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“واہ بھئی تمہارا تو جواب نہیں پانچ چھ گھنٹے میں تم نے ان کے نام بھی رکھ لئے ۔۔۔۔۔”
سنیں نہ میں نے کیا کہا ؟
وہ منہ بسور کر اسے مدعے پر لائی۔۔۔
“ہاں سناو سناو۔۔۔ “
پھر جوش میں وہ ساری رواداد اس کے گوش گوار کرگئی۔۔۔۔۔۔
نتیجے میں تمہارے اس نے یہ نشان دیا ہے ناں ؟
“ہاں ہبی بہت زور سے مارا تھا کمینہ نے یہ دیکھیں ۔۔۔۔”
وہ اس کو سرخ حصہ دکھاتے ہوئے بولی جس پر وہ اس کے گال دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
“تمھیں پتا ہے وہ اب کام کرنے کے بھی لائق نہیں رہا اور تو اور وہ اب خود سے کھا بھی نہیں سکے گا۔۔۔۔”
“یہ ہوئی نہ بات تالی ماریں اسی بات پر اب لگ رہا ہے آپ ہنی کے ہبی ہیں۔۔۔۔”
وہ فرضی کالر کھڑے کرتی فخریہ انداز میں بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا اجاو کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔۔”
خانسامہ کھانا لایا تو اس نے اپنے اور ہنی کہ درمیان ٹرے رکھتے ہوئے کہا :
اب وہ دونوں کھانے کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ماضی :-
“سر آپ کو ڈرگز اسمگ لنگ اور بے گناہ کے قتل میں گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ایس ایچ او نے شکیل کے فارم ہاوس پہنچ کر اسے گرفتار کرلیا۔۔۔
ایس ایچ او تم جھوٹے الزام میں مجھے ہتھکڑی لگوا کر بہت بڑی بھول کررہے ہو؟؟۔
شکیل نے تنتنے اور کروفر سے کہا :
کیوں کیا تمہارے دستخط پر۔ ٹرک کے ٹرک ڈرگس اور افیہم پاکستان میں نہیں لائی جاتیں ؟؟؟
شکیل نے کرنٹ کھا کر زمان کو دیکھا جو اسپیکٹر کہ پیچھے سے نمودار ہوا ۔۔۔۔۔۔
“زمان تم نے مجھے پھنسایا ہے ۔۔۔”
“نہ نہ شکیل وہ تو تم خود اپنے کالے دھندھوں کی وجہ سے پھنسے ہو اور جہاں تک بات رہی بتانے کی تو میں نے تو بس سچ کا ساتھ دیا ہے ۔۔۔۔۔”
وہ شکیل کہ کندھے پر ہاتھ کا دباو بڑھا گیا :
” چلو اگر تمھیں اس بات پہ اعتراض ہے کہ تم نے کوئی قتل نہیں کیا تو اس بات کا بھی ابھی پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔ “
کرم داد !!!
زمان کی بات پر وہ ایس ایچ او کے سامنے آیا۔۔۔۔۔
کیا تم انھیں جانتے ہو؟؟
ایس ایچ او کے سوال پر کرم داد نے نفرت بھری نگاہ سے اسے دیکھا:
“جی صاحب میں اس شخص کو بچپن سے جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہی وہ شخص ہے جس نے وجدان صاحب اور ان کی بیوی کا قتل خادم حسین سے کروایا تھا ۔۔۔۔ اور پھر بعد میں اس کو بھی مار دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہی وہ انسان ہے جس کے گھر میں میری ماں نے کئی سالوں تک ملازمت کی اور اس کے نتیجے میں اس۔ کی بیٹی نے ان سب نوکروں کے سامنے اسے جلادیا ۔۔۔ اس کی عمر کا لحاظ کئے بنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اور اسی نے نظیر صاحب پر الزام لگایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔”
“ایسے شخص کو چوراہے پر پھانسی دینی چاہیئے۔۔۔۔۔”
شکیل کو اب پھانسی کا پھندہ واضح نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسپیکٹر نگہت کو ڈھونڈو اور گرفتار کرلو۔۔۔۔۔ “
ایس ایچ او نے سب اسپیکٹر کو حکم دیا اور شکیل کو اپنے ساتھ لے گیا :
کسی ملازم نے اکر اس کو نہیں بچایا تھا ۔۔۔ کیوں کہ برائی اپنے انجام پر اکیلی سزا پاتی ہے ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
صاحب آپ سے کوئی ملنے آیا ہے ؟؟۔
ملازم نے اسے اکر بتایا جس پر اسے اندر بھیجنے کا کہا :
سر میں آپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ حنا میڈم کو نگہت نے کہاں رکھا ہے ؟؟؟؟
اس آدمی کی بات پر خرم نے چونکنا ہو کر اسے دیکھا ۔۔۔ اور گارڈ نے اسے گہرے میں لے لیا :
کون ہو تم ؟؟۔
خرم نے سپاٹ لہجے میں پوچھا :
“کرم داد شکیل سومرو کا پرانا ڈرائیور ماریہ بی کا بیٹا۔۔۔۔”
اس کے تعارف پر خرم پر حیرتوں کہ پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔۔۔۔۔
کیا چاہیتے ہو ؟؟؟
“انصاف اپنی ماں کا “
کیا ہوا ہے ماریہ بی کو ؟؟
خرم نے پریشانی سے پوچھا اسے وہ ملاقات یاد آگئی تھی جب وہ اسے نگہت کی سازش کا بتانے آئیں تھیں۔۔۔۔۔
“نگہت نے انھیں زندہ جلا دیا ۔۔۔۔۔۔”
کرم داد کی بات پر وہ سکتے میں اگیا۔۔۔۔
اور پھر کرم داد ہی انھیں ڈیرہ پر لے آیا جہاں ہنی کو خفیا طور پر رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ مکرم بھی اس کے ساتھ ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔
نگہت تو پہلی فرصت میں وہاں سے فرار ہوئی تھی لیکن حارث ان کے ہاتھ لگ گیا ۔۔۔ پھر جو اس کے ساتھ ہوا وہ زندگی پھر اسے بھولنے نہیں دے گا۔۔۔۔
وہ اسی کمرے میں آیا جہاں ہنی زمین پہ بے ہوش پڑی تھی ۔۔۔۔ مکرم نے بے تابانہ اس کے چہرہ کو چوما اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا جیسے اس کے جسم کا اعضاء اسے واپس مل گیا ہو اسے زندگی کی نوید سنادی گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کھڑا خرم اپنے میرو کا عشق دیکھ کر ہولے سے مسکرا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
“زین مجھے بچا لو وہ لوگ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے میں تم سے شادی کیلئے تیار ہوں۔۔۔۔”
وہ اسی بار میں آئی تھی اسے پتا تھا زین وہیں ہوگا ان دنوں وہ اس سے اتنی اٹیچ ہوچکی تھی کہ اس کی ہر بات کی خبر تھی۔۔۔۔
شادی !!!!
ہاہاہاہاہاہایایلہاہاہہہاہ
“میں اور تم سے شادی میں تم پر تھوکنا پسند نہ کروں کجا کہ شادی ۔۔۔”
وہ اسے استہزائیہ انداز میں جھٹکے سے دور ہٹاتا ہوا گویا ہوا۔۔۔۔۔
“تم کسی کا گھر بسانے کے قابل نہیں ہو تم وہ طوائف ہو جو اپنی نفس کی غلامی میں مردوں کا صرف دل بہلا سکتی ہے۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ “
“یہ ہے تمہاری حقیقت ۔۔۔۔”
بہت ناز ہے نہ تمھیں اس حسین چہرہ پر ؟؟؟۔
“مگر افسوس اسے دیکھ کر تم روز مرو گی روز تڑپو گی ۔۔۔ “
شراب کا گلاس اٹھا کر اس نے نگہت کہ منہ پہ مارا تھا۔۔ ۔ ۔۔
اس کی چیخ و پکار بار میں ہلچل مچا گئی تھی ۔۔۔۔ جب کہ ذین پیچھے کہ راستے سے بھاگ گیا ۔۔۔۔
گلاس کے ٹوٹے شیشہ نگہت کے چہرہ میں گھس گئے تھے ۔۔۔۔۔
اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گئی ۔۔۔۔ کسی نے اسے اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~•~~~~~~~~~
کرم داد ، زمان اور تمام نوکروں نے شکیل کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی۔۔۔ جس پر اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔۔۔۔۔
نگہت ہسپتال میں زیر علاج بستر مرگ پہ پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور حارث کو پندرہ سال کی سزا سنائی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل کی پراپرٹی ضبط کرلی گئی تھی ۔۔۔۔۔ اور شگر میلز زمان کو دے دی گئیں تھیں۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~
یہ چاروں لان میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ گپے ماررہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب بھی کراچی کو خیر آباد کہہ کر آبائی گھر شفٹ ہوچکے تھے ۔۔۔۔ لیکن کام کے سلسلے میں زیادہ تر لاہور میں قیام کرتے ۔۔۔ اور ہفتہ بعد نصرین سے ملنے چلے جاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم بھائی بتائیں نہ ؟؟
“دیکھیں میں آپ کی گڑیا ہوں نہ “
“اور میں آپ کا بھائی ہوں بھیو ۔۔۔ یہ مجھے ساری زندگی چھیڑتی رہے گی ۔۔۔۔۔”
وہ منہ بنا کر خرم سے بولا جس پر اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔
“واہ گڑیا تم نے تو کمال کردیا کوئی تو ہو جو اس کو قابو میں کرسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ میر کو چھیڑتے ہوئے بولا جس پر وہ منہ بنا کر وہاں سے کمرے میں چلا۔ آیا۔۔۔
“ہنی کیوں پیچھے پڑگئی ہو بیچارے کے ۔۔۔۔”
ورشہ نے اس کے دانت نکالنے پر اسے ڈپٹ دیا۔۔۔۔۔
جب کہ ہنی نے خرم کی طرف دیکھا جو پہلے ہی سلینڈر کر چکا تھا جس کا مطلب تھا یہ آپ دونوں کا معاملہ ہے ۔۔۔
“اچھا جاتی ہوں منانے اپنے ہبی کو ۔۔۔۔”
وہ بولتی وہاں سے واک آوٹ کرگئ۔ ۔۔۔۔
جبکہ ورشہ خرم کی جانب متوجہ ہوگئی جو اسے ہسپتال کی اوپننگ کی خوشخبری دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~•
وہ کمرے میں آئی تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔
جس۔ کا مطلب وہ بالکنی میں تھا۔۔۔۔
وہ دبے قدموں سے آئی اور اسے چونکاتی ہی کہ میر کی آواز پر منہ بنا گئی۔۔۔۔۔
اپنے موکل چھوڑے ہوئے ہیں آپ نے ؟؟؟
‘بات نہ کرو مجھ سے جاو اپنے خرم بھیا کہ پاس ۔۔۔”
وہ اسی کے انداز میں بولا۔۔۔۔ ۔
“آپ جیلس ہورہے ہیں ہاہاہاہاہاہ “
حنا زور سے ہنسی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس پر مکرم کا صحیح والا موڈ آف ہوگیا ۔۔۔۔۔
“اچھا یار ہبی مذاق تھا نہ ۔۔۔”
وہ اس کا منہ اپنی جانب کرتے ہوئے بولی جس پر مکرم نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔۔۔۔
اچھا اب بتادیں آپ نے کیا کیا تھا ؟؟؟
“بتاوں گا میری جان لیکن عمل کر کے ۔۔۔۔”
وہ اس کے خطر ناک ارادے سمجھتی بھاگتی اس سے پہلے ہی مکرم نے اسے اپنے شکنجے میں لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں کہتی ہوں نہ آپ برے ہیں تو صحیح کہتی ہوں ۔۔۔۔ “
وہ سرخ چہرہ کہ ساتھ شکایتی لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔۔۔
جس پر وہ کھل کر مسکرا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلیں میڈم کل پیپر ہے آپ کا ۔۔۔ “
وہ اس کی ناک دبا کر بولا ۔۔۔۔
“یہ پیپر کب جان چھوڑیں گے میری ۔۔۔ میں بتارہی ہوں یہ آخری بار ہے اس کے بعد میں نہیں جاوں گی یونی۔۔۔۔”
“نجانے وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو شادی کے بعد اپنی بیوی کو پڑھنے نہیں دیتے اور ایک آپ ہیں جو صبح صبح اٹھا دیتے ہیں چھٹی بھی نہیں کرنے دیتے ۔۔۔”
“ہاں میں برا ہی سہی ۔۔۔۔ آپ کو دیکھ لیا تھا چھٹی کروا کر اب مجھے مزید اچھا نہیں بننا۔۔۔۔”
وہ ناک سے مکھی اڑا کر گویا ہوا ۔۔۔۔
“لیکن میں آپ کو اچھا بنا کر چھوڑوں گی ۔۔۔ “
وہ جلدی سے بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا تمھیں ایک بتاوں؟
“بتائیں ہبی میں ہمہ تن گوش ہوں ۔۔۔۔”
وہ آنکھ مار کر بولی جس پر وہ اسے گھور کر رہ گیا اور وہ کھلھلا اٹھی۔۔۔۔
“ایک تاروں بھری رات تھی فلک پر چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔۔۔ میں اس چاند کو دیکھنے لگا ۔۔۔ اور اسی کی چاندنی میں گم ہوگیا ۔۔۔۔ پھر ایک دم اس چاند کی جگہ تمہارے روشن چہرہ نے لے لی ۔۔۔۔۔ بلا کی معصومیت پرکشش چہرہ چاند کی چمک کو مات دے رہا تھا ۔۔۔۔ اس وقت میرے دل سے نکلا تھا کہ حنا تم میری شب کی آرزو ہو جسے میں دن کے اجالے میں اپنے قریب بہت قریب دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اس وقت میرے فرشتوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔۔۔۔”
انکھوں میں ایک نیا جہان آباد کئے وہ حنا کو تکنے لگا ۔۔۔ جو اسے ہی دیکھے جارہی تھی معصومیت ہی معصومیت رقم تھی ۔۔۔ بڑی بڑی پلکیں ایک جگہ ٹہری ہوئی ۔۔۔۔۔۔
مکرم نے بے ساختہ نظروں کا زاویہ بدلا تھا کہ کہیں اسی کی نظر نہ لگ جائے۔۔۔۔۔۔
“مانی صحیح کہتی تھی آپ بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔”
وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں اپنا۔ دل کا حال بیان کررہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
مکرم نے اسے محبت لٹاتی نظروں سے دیکھا جس پر وہ جھینپ کر سر جھکا گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *