Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18

وجدان اسے پیلس لے جانے کہ بجائے فارم ہاوس لے آیا تھا ۔۔۔ کیوں کہ وہ دادو کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر تھا اسے تو خود نہیں پتا تھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہاں صرف ایک ملازم کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اکیلی کمرہ میں بیٹھی تھی جب وجدان چلتا ہوا کمرہ میں ایا۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان کو آتے دیکھ وہ آٹھنے لگی ۔۔۔۔
ارے بیٹھئے آپ اٹھیں نہیں ۔۔۔”
وہ۔ وجدان کہ کہنے پر دوبارہ بیٹھ گئ۔۔۔۔
وجدان سامنے رکھے کاوچ پہ جا بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے کھانا کھایا ؟
“جی ۔۔۔”
آپ کا نام کیا ہے ؟
“مریم زمان ۔۔۔۔”
ہاں تو مریم آپ اس رات سڑک پر کس سے بچ کر بھاگ رہیں تھیں ؟
مریم نے اس سوال پر خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
“دیکھیئے آپ مجھ پر یقین کر سکتی ہیں۔۔۔ بغیر کسی ڈر و خوف کے آپ مجھے ساری بات بتائیں۔۔۔۔۔۔۔”
وجدان نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے اطمینان سے کہا:
“میں میں نے قتل کیا ہے ۔۔۔۔”
مریم کی بات پر وجدان اسے بے یقینی سے دیکھے گیا :
وہ معصوم چہرہ کسی کا قتل بھی کرسکتا تھا ۔۔۔ اسے لگا جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کس کا قتل؟؟
“میرا باپ شرابی جواری ہے اس نے مجھے پیسوں کہ عوض سیٹھ کو بیچ دیا ۔۔۔ وہ پہلے تو کہنے لگا کہ میں تمھیں اپنی عزت بناوں گا لیکن پھر میری عزت تار تار کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ میری نسوانیت کی توہین تھی ۔۔۔۔ میں نے اس کے پیٹھ میں چھر گھونپا اور اس کہ دوستوں کو بھی مار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔”
جب کہ وجدان تو ایسے تھا جیسے ابھی بھی اسے یقین نہ آیا ہو۔۔۔۔
“اگر آپ مجھے پولیس کہ حوالے کرنا چاہتے ہیں تو کردیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مجھے عدالت پھانسی کا حکم سنائے گی ویسے بھی اس زندگی نے مجھے کون سی خوشیاں دی ہیں جسے جینے کی چاہت ہوگی۔۔۔۔”
وہ تلخی سے بھیگے رخسار صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ مر چکے ہیں ؟؟
“وجدان کی بات پر مریم کا ہاتھ وہیں ٹہر گیا :
“یہ میں نہیں جانتی ۔۔۔ مجھے کسی کا قتل کرنے کی غرض نہیں تھی مجھے بس اپنئ عصمت بچانی تھی جہاں بیٹیوں کے سربراہ خود انھیں سر بازار نیلام کریں وہاں کی بیٹیوں کو خود اپنے لئے آواز اٹھانی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔”
“آپ کی قرض دار ہوں آپ نے میرا علاج کروایا ۔۔۔ یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گی ۔۔۔۔۔
“ایک اور احسان میں آپ سے چاہتی ہوں آپ میرے بارے میں کسی کو مت بتایئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ نم انکھوں سے اس سے التجا کرنے لگی۔۔۔۔۔
میں آپ پر دوسرا احسان کرنا چاپتا ہوں ؟
وجدان کی بات پر اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا:
“میں آپ کو اپنی ہمسفری میں لانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔”
اب سکتہ میں آنے کی باری مریم کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“میں نے تو سنا تھا کہ صبح بیویاں اپنے شوہروں کو اٹھاتی ہیں یہاں تو الٹی ہی گنگہ بہہ رہی ہے ۔۔۔”
وہ اونچی آواز میں بولا مقصد اسے ہی سنانا تھا۔۔۔
لیکن ہنی پر خاطر خواہ اثر نہ ہوا وہ ہنوز اسی انداز میں سوتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے جگانے کیلئے قریب آیا اس سے پہلے ہی وہ کروٹ لے کر دوسری طرف منہ کرچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“حنا اگر تم دو منٹ میں نہیں اٹھیں تو انجام کی ذمہ دار خود ہوگی۔۔۔۔۔”
وہ واضح لفظوں میں بولا۔۔۔۔ جس پر وہ منہ بنا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔
آخر آپ میری صبح کی نیند کے دشمن کیوں بن بیٹھے ہیں ؟؟؟
وہ صحیح معنوں میں تپ کر بولی۔۔۔۔۔
“دوسری کوئی بات بعد میں پہلے ریڈی ہو فٹافٹ۔۔۔۔۔”
شرٹ کہ بٹن لگاتا ہوا وہ آئینہ کی طرف گیا :
“پہلے کہا جاتا ہے بس میٹرک کرلو اس کہ بعد تو پڑھائی حلوہ ہے ۔۔۔ پھر جب میڑک کرلو تو کہتے ہیں انٹر تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔۔۔ بس اس کھیل کھیل میں معصوم بچوں کو پھنسایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کی رونی صورت دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“صاف صاف کہو دل نہیں چارہا آج جانے کو ۔۔۔”
مکرم نے اس کی سوچ کو لفظوں کا رخ دیا۔۔۔۔۔
“ہاں یار ہبی بلکل دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔۔ اپ چلے جائیں میں کل چلی جاوں گی ۔۔۔۔۔۔”
ہنی کہہ کر کمبل میں گھس گئ جبکہ وہ اس کو سخت چتونوں سے گھورنے گیا ۔۔۔۔۔۔
کمبل درست کر کہ وہ جاتے ہوئے لائٹ بند کرگیا ۔۔۔۔
جب کہ وہ کھل کر مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے کی نیند لینے کے بعد وہ فریش ہو کر ڈائنگ ہال میں آئی تو خلاف معمول گھر سونا سونا لگا۔۔۔۔۔
اس کے بیٹھتے ہی خانسامہ گرما گرم پراٹھے اور ماملیٹ بنا کر لے آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیٹ بھر کر ناشتہ کیا ۔۔۔۔ اور ساتھ ہی منصور کو بھی دعوت دے ڈالی۔۔۔۔۔۔۔
“آپ ایک کام کریں گھر کہ تمام ملازمین کو لان میں بلوائیں ۔۔۔”
وہ منصور کو دیکھ کر بولی۔۔۔
کیوں بی بی جی ؟؟
“جو کہا ہے وہ کرو چلو جلدی حکم کی تعمیل کرو۔۔۔۔۔”
وہ دبنگ آواز میں کہہ کر چائے کا مگ لئے لان میں چلی آئی ۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں گھر کے تمام ملازمین گارڈ سمیت لان میں موجود تھے ۔۔۔۔
آپ کرکٹ کا سارا سامان لے کر آئیں ۔۔۔ وہ گارڈ کو دوسرا حکم دیتی ہوئی ٹیم بنانے لگی ۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب نے اپنی جگہ سنبھال لی ۔۔۔۔۔
حنا نے سختی سے کہا تھا کہ جو اس کی بات نہیں مانے گا وہ اپنے آپ کو نوکری سے فارغ سمجھے ۔۔۔ ایسے میں کسی نے دوبارہ اسے انکار نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔
حنا نے ہیلمٹ پہنے بیٹ ہوا میں اٹھائے ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنی پوزیشن سنبھالی۔۔۔۔۔۔۔
منصور بھی اسی جیسی تیاری کئے دوسری طرف بیٹ سنبھالے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
جبکہ خانسامہ کو اس نے امپائر بنایا تھا۔۔۔۔
تین بال میں ہی حنا میڈم آوٹ ہو گئیں ۔۔۔۔ اور اس کی جگہ دوسرے کھلاڑی نے لے لی۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے میں ہی حنا کی ٹیم نے سو رنز کا ٹارگٹ بنایا تھا ۔۔۔
وقت کتنا گزرا وہاں موجود کسی کو بھی اس بات کا خیال نہیں رہا ۔۔۔۔۔
مخالف سائیڈ کے کھلاڑی نے بیٹ سنبھالا۔۔۔۔۔۔
اور حنا کی پہلی بال پر گیٹ کیپر نے بال دور اچھالا۔۔۔۔ حنا بال پکڑنے کیلئے بھاگتی ہوئی سامنے سے آتے مکرم سے جا ٹکرائی۔۔۔۔۔
تصادم اتنا زور دار تھا کہ مکرم کے مضبوطی سے تھامنے پر بھی پاوں مڑ گیا ۔۔۔۔ بس پھر حنا کی چیخیں تھیں اور مکرم کا غصہ ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ان دنوں ورشہ نے اپنے اپ کو جتنی بار خوش قسمت جانا تھا یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔
خرم کی حسین سنگت میں وہ نکھرتی چلی گئ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کہ پل پل کا خیال رکھتا کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اور ورشہ بھی اسی بات کا دھیان رکھتی کہ اس کی کوئی بات خرم کو گراں نہ گزرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ لوگ مہنگے ترین ہوٹل میں بیٹھے لنچ کررہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہیمہ دہیمہ میوزک اور ڈانس کرتے کپل ماحول میں خواب ناکی پیدا کررہے تھے ورشہ کی نظریں انھیں پر تھیں جبکہ خرم نے اپنی شریک حیات کو انکھوں میں بسایا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ریڈ میکسی پہنے شال سے اپنے اپ کو کور کئے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ویٹر کھانا سرو کرنے لگا تو ورشہ سیدھی ہو بیٹھئ۔۔۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟؟
وہ اس کی نظروں سے گھبراہٹ کا شکار ہونے لگی۔۔۔
“اپنی مسز کو ۔۔۔ “
آپ کو کوئی اعتراض ہے؟؟
“ہاں جی یہ پبلک پلیس ہے کچھ تو خیال کریں ۔۔۔۔”
“وری یہ پاکستان نہیں ہے جہاں ان باتوں پر نکتہ چینی ہوگی اور میں تو صرف آپ کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھام کر گویا ہوا۔۔۔۔۔
“اچھا میں کچھ نہیں کہہ رہی آپ کھانا کھائیں۔۔۔۔”
ورشہ نے ہار مانتے ہوئے کہا : جس پر وہ مسکرا دیا۔۔۔۔۔
ورشہ میں اپنی مصروف ترین زندگی میں اپنے لئے بھی وقت نہیں نکال سکا تھا ۔۔۔ لیکن آپ کی موجودگی نے مجھے بتایا کہ زندگی میں رنگینیاں بھی ہوتی ہیں جن سے میں سالوں سے لاعلم تھا ۔۔۔۔ آپ کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ محبت ایک انوکھا اور حسین احساس ہے اگر یہ اپنی شریک حیات سے ہو۔۔۔۔ مجھے بولڈ قسم کی لڑکیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں ۔۔۔۔ آپ سے مل کر اندازہ ہوا کہ آپ وہی ہیں جو مجھے اپنا اسیر کرلیں گی ۔۔۔۔۔ پھر مجھے یقین ہوا کہ آپ مجھے سمجھیں گی ۔۔۔۔۔
لیکن شادی کی رات آپ کی انکھوں میں بے یقینی دیکھ کر میں مایوس ہوا تھا۔۔۔ مجھے اس رات ایسا لگا کہ میرا انتخاب درست نہیں ہے ۔۔۔۔
لیکن پھر مجھے یہ خیال بھی آیا کہ آپ کو تمام باتوں سے اگاہ کرنا چاہیئے اس وقت آپ ایک طرفہ نظریہ سے سوچ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
“آپ کو اعتماد دینا ضروری تھا ۔۔۔۔۔ عموماً ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے پارٹنر سے کو نہ ہی اعتماد دیتے ہیں اور نہ ہی انھیں سپیس دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر یقین رکھے اور ہماری باتوں کو پرکھے ، سمجھے ۔۔۔۔
جبکہ یہ چیزیں دونوں طرف ہوں تو رشتہ کی خوبصورتی باقی رہتی ہے ۔۔۔۔
آپ سامنے والوں سے یہ توقع رکھو کہ وہ ہم پر اعتماد کرے اور بدلہ میں ہم اس کو ہر بات کا پابند رکھیں تو یہاں جو چیز جنم لیتی ہے وہ سمجھوتا ہوتا ہے اور جہاں سمجھوتہ ہوتا ہے وہاں محبت نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور میں نہیں چاپتا کہ ہمارے رشتہ کہ درمیان سمجھوتا ہو ۔۔۔۔۔۔ “
“اس لئے آپ کو جو بھی بات دل میں کھٹکے وہ مجھے سے ضرور شئیر کیجیئے گا۔۔۔۔۔۔ “
خرم نے ورشہ کی آنکھ سے نکلنے والے آنسو کو اپنی ہتھیلی میں جذب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“شکریہ اتنا مان دینے کا ۔۔۔۔”
“شکریہ اتنی عزت دینے کا ۔۔۔”
“شکریہ مجھ سے محبت کرنے کا ۔۔۔”
“اور شکریہ ان سب باتوں کا جو آپ کو میرے قریب لے آئیں۔۔۔ “
“تھینکس فور ایوری تھنگ۔۔۔۔”
نم انکھوں سے کہتی ہوےئ گلدان میں سے پھول اٹھا کر خرم کی جانب کیا جس پر وہ اعزاز سے جھکتے ہوئے پھول لیے ۔۔
اور ورشہ کے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھے ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وجدان مریم کو اپنے ہمراہ لئے پیلس آیا ۔۔۔۔۔۔۔
اب منظر یہ تھا کہ بڑے سے ہال میں دادو اپنی عینک لگائے بڑے غور سے سامنے ڈری سہمی بیٹھی مریم کو دیکھ رہیں تھیں جب کہ وجدان دادو کہ ایکسپریشن دیکھ کر پہلو پہ پہلو بدل رہا تھا ۔۔۔۔
لڑکی یہاں دیکھو ؟؟
دادو کی کڑک آواز پر مریم نے سیدھا انھیں ہی دیکھا ۔۔۔۔۔
کیا تم اس رشتہ پر دل و جان سے راضی ہو ؟؟؟
“جی جی دادو ۔۔۔”
وہ گھبرا کر روانی میں بولی جس پر وجدان کے
لب مسکرا اٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو پھر دیر کس بات کی ہے باقاعدہ شادی ہوگی تمام فنکشن ہوں گے یہ میرا نالائق اکلوتا پوتا ہے جس کی میں ہر خوشی مناوں گی تم اگر چاہتی ہو تو تمہارے باپ کو بلوا لیا جائے گا ۔۔۔۔۔ “
دادو کی بات پر مریم روتے ہوئے ان کہ پیروں میں گر گئی جس پر دادو نے اسے شفیق بازووں میں چھپالیا۔۔۔۔۔۔
کہاں اس نے اتنے ہمدرد لوگ دیکھے تھے ۔۔۔ انکھ کھلئ تو سوتیلی ماں کے ظلم سہے رہی سہی کسر باپ نے پوری کردی تھی ۔۔۔ جب وہ مکمل طور پر مایوس ہوگئی تو قدرت نے اس زندگی کی نوید سنادی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“چوہدری تجھے نئی زندگی مبارک ہو یار ۔۔۔۔”
زئی جو اس کا دوست تھا اسے گلے لگائے مبار باد دی۔۔۔۔۔۔۔
تو بھی اب گھر بسانے کئ سوچ لے زئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کب تک یوں ہی ویلا زندگی گزارے گا۔۔۔۔۔ ؟؟؟
“کرلوں گا یار تیری بھابھی کی ابھی پڑھائی مکمل نہیں ہوئی ہے ۔۔۔۔۔”
“اچھا چل ٹھیک ہے ۔۔۔۔”
شادی کہ ہنگامے ختم ہوئے تو وجدان اپنی سیاست میں اور مریم گھریلو خانہ داری میں مصروف ہوگئیں۔۔۔
شادی کو ایک سال گزرا تو ان کہ یہاں خرم کی پیدائش ہوئی ۔۔۔۔۔۔
کچھ مہینوں میں دادو داغ معارفت دے گئیں ۔۔۔۔۔
الیکشن میں جیت کر وجدان نے شکیل سومرو کو شکست دی ۔۔۔۔۔۔
شکیل سومرو کا کہنا تھا وجدان نے دھاندلی سے جیت حاصل کی ہے جس پر دوبارہ الیکشن کروائے گئے ۔۔۔ وجدان کئ قسمت کا ستارہ اپنے عروج پر تھا جس کی وجہ سے عوام نے ایک بار پھر اسے چنا ۔۔۔۔۔ شکیل سومرو کی نفرت نے یہاں سے جنم لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر تو اس نے دوستانہ رکھا ہوا تھا لیکن دل میں نفرت کی جگہ بنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
خرم تین سال کا ہوا تو مریم کہ یہاں دوبارہ بیٹا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے مکرم رکھا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
مریم کے دل میں یہ خواہش تھی کہ ان کی بیٹی ہو جس میں وہ اپنا بچپنہ دیکھ سکیں ۔۔۔ لیکن وہ یہ خواہش زبان پر نہ لائیں کیوں کہ وہ اللہ کی دی ہوئئ نعمتوں کی ناشکری نہیں کرنا چاہتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وجدان اور مریم نے ان دونوں کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ہبی آپ کسی کو نہیں ڈانٹے گے جتنا ڈانٹنا ہے مجھے ڈانٹ لیں ۔۔۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے مکرم کو دیکھ کر بولی۔۔۔۔
سارے ملازم اب سر جھکائے مکرم کی عدالت میں کھڑے سزا کا انتطار کررہے تھے۔۔۔۔۔۔
تم نے اس لئے چھٹی کی تھی کہ تم گھر بیٹھ کر یہ تماشہ لگاو ؟؟؟
مکرم نے اسے سخت لہجہ میں ڈانٹا۔۔۔۔۔۔
“ہاں ۔۔۔ اگر میں نے ان بیچاروں کو تھوڑا سا ریلیکس ٹائم دے دیا تو کون سی قیامت آگئی۔۔۔ سارا سارا دن یہ لوگ ربورٹ کی طرح کام کاج میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ انسان نہیں ہیں ۔۔۔۔۔”
وہ کب سے لینڈ لائن نمبر کال کررہا تھا لیکن کسی نے بھی اٹھانے کی زحمت نہیں کی اوپر سے محترمہ کا موبائل بند جارہا تھا۔۔۔۔ حقیقتاً وہ پریشان ہو اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سارے کام بھاڑ میں ڈال کر پیلس پہنچا یہاں اکر دیکھا تو گیٹ کیپر بھی غائب اس پر وہ پریشان ہو اٹھا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن لان کا ماحول دیکھ کر اس کا پارہ ہائی ہوگیا ۔۔۔۔ اور وہ غصہ میں بھاگتی ہوئی حنا سے جا ٹکرایا۔۔۔۔۔۔۔
“ہو گیا ریلیکس جاو سب اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔۔۔”
۔اپنی جان کی خلاصی ہوتی دیکھ سب فوری طور پر وہاں سے غائب ہوئے تھے ۔۔۔۔
مکرم نے حنا کو اٹھایا اور کمرہ میں لے آیا ۔۔۔ صبیح پیشانی پر بل نمایاں تھے ۔۔۔
اس نے حنا کو بیڈ پر بٹھایا اور خانسامہ کو ہلدی کا دودھ لانے کی ہدایت دی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی کے متاثرہ پاوں پر ڈاکٹر کی دی ہوئی ٹیوب لگائی جو اسے تھوڑی دیر پہلے ہی چیک کرکے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
جب کہ حنا نے زبان تالو سے ہی لگائے رکھی کیوں کہ مکرم کے تاثرات خطر ناک حد تک پتھریلہ تھے۔۔۔۔۔۔۔
پہلے اسے پین کلر ٹیبلٹ کھلائی پھر دودھ کا گلاس پکڑا کر واش روم چلا گیا۔۔۔۔۔
“یہ تو بہت زیادہ ناراض ہوگئے اب کیا کروں ۔۔۔ کیسے مناوں مجھے تو منانا بھی نہیں آتا۔۔۔۔”
اس نے گھور کر ہلدی والے دودھ کے گلاس کو دیکھا جو اسے زہر سے کم نہ لگا تھا۔۔۔۔ اور ناک بند کر کہ ایک ہی سانس میں غٹک لیا۔۔۔۔۔۔۔
“افففف خدایا اس سے لاکھ درجے اچھا زہر ہوتا ہے ۔۔۔۔”
وہ برے برے منہ بنا کر خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ گئی۔۔۔۔۔۔۔
وہ شاور لے کر نکلا تو اب پیشانی پر بل غائب تھے ۔۔۔۔۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟؟
اس نے ہممت کر کہ مکرم سے کہا :
مکرم نے اس کی بات کو نظر انداز کیا اور بال بنانے لگا۔۔۔
بات بھی نہیں کریں گے ؟؟؟
وہ دوبارہ بولی ۔۔۔۔
جب کہ مکرم اس کو تیکھے چتونوں سے گھورنے لگا۔ جو زمانے بھر کی معصومیت سجائے انکھیں ٹپ ٹپائے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
“سو جاو ۔۔۔۔ “
سنجیدگی سے کہہ کر سائیڈ پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ اپنے سامنے رکھا۔۔۔۔۔
“اچھا ایم سوری ۔۔۔”
مکرم نے ذرا کی ذرا نظریں اٹھا کر اسے دیکھیں جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
تمہاری سوری سے وہ درد کم ہوجائے گا جو تم نے مجھے پہنچایا ہے ؟؟
مکرم نے شکایتی لہجہ میں کہا :
آپ کو۔ کہیں لگ گئی کیا ؟؟
مجھے بتائیں کہاں لگی ہے ۔؟؟
وہ بے صبری سے اس کے ہاتھ پاوں چھو کر دیکھنے لگی اور یہ بھی بھول گئی کہ اس کے پیر میں درد تھا۔۔۔۔۔
یہاں لگی ہے ۔۔۔۔ کم کرسکتی ہو درد ؟؟
دل کی جگہ پر انگلی رکھ کر کہا :
یہاں کیسے لگی ؟؟
وہ ابھی بھی اس کا مطلب نہیں سمجھ سکی تھی۔۔۔۔۔
کیوں اپنے آپ سے اتنی لاپرواہی برتتی ہو ؟؟
وہ اس کا بازو پکڑے سرخ آنکھوں سے گویا ہوا۔۔۔
اس نے اپنی پکڑ کو نرم ہی رکھا ۔۔۔ اسے یہ گوارہ نہیں تھا کہ وہ اسے اپنے کسی بھی عمل سے تکلیف دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کمال بھی محبتوں کا بخشا ہوا تھا ۔۔۔ ورنہ وہ غصہ میں آنے والا مرد تھا جو اپنے سامنے رکھی چیزوں کا حلیہ بدل دیتا تھا ۔۔۔ سارے ملازمین اس کے مزاج سے واقف تھے ۔۔۔۔۔۔ ہنی کہ بعد کی تبدیلی دیکھ کر خرم خود بھی حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے ؟؟
وہ اتنی معصومیت سے بولی تھی کہ مکرم کا غصہ لمحہ میں ہوا ہوگیا ۔۔۔۔ ۔۔۔
مکرم نے کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
حنا تو مکرم کی قربت پر پسینہ پسینہ ہوگئ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“وہ اپنا ہنی مون بنانے پیرس گیا ہوا ہے تمہارے لئے کام آسان ہے ۔۔۔۔ “
شکیل سومرو نے وائن کا سپ لیتے ہوئے موبائل دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا ۔۔۔۔۔
“انکار کا راستہ تمہارے پاس نہیں ہے ۔۔۔ اس صورت میں تم اپنی چھوٹی سے فیملی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ۔۔۔۔”
“ایک گھنٹہ کا وقت ہے تمہارے پاس خوب سوچ لو ۔۔۔۔ “
شکیل کال بند کر کہ مڑا تو کھڑکی کہ دوسرے سائیڈ اسے ہلکی سے روشنی نظر آئی ۔۔۔۔
یہ کھڑکھی پیچھے انیکسی کی جانب کھلتی جہاں بی اماں کہ بعد اب کوئی نہیں تھا ۔۔۔ وہ دبے قدموں سے اس طرف آیا لیکن پتوں کی سرسراہٹ کہ سوا وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔۔۔۔
“ہوسکتا ہے میرا وہم ہو ۔۔۔۔”
وہ سر جھٹک کر کمرہ سے نکل گیا ۔۔۔۔
وہ نگہت کو دیکھنے اس کے کمرہ میں آیا تو کمرہ خالی پڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
کہاں ہو تم ؟؟؟
کال ملا کر وہ لاونج میں آگیا ؛
میں بار میں ہوں ڈیڈی اپ کو کام تھا کیا ؟؟
“رات کے دس بج رہے ہیں گھر او نگی میں نے بھی ڈنر نہیں کیا ساتھ کریں گے ۔۔۔۔”
“اوہ ڈیڈی میں تو ڈنر کرچکی ہوں آپ کرلیں ۔۔۔۔۔ “
اور نگہت نے دوسری طرف سے لائن کاٹ دی ۔
سر آفندی صاحب آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ؟؟
ملازم نے آکر اسے زمان آفندی کہ آنے کی اطلاع دی ۔۔۔
“مہمان خانے میں بٹھاو اور کھانا بھی وہیں لگوادو۔۔۔۔”
“آج میں کسی کام کہ سسلسلے میں نہیں بلکہ ایک اہم بات کرنے تمہارے پاس آیا ہوں۔۔۔”
ہاں بولو زمان کیا بات ہے ؟؟؟
شکیل سومرو اور زمان آفندی سیاست کہ دور سے ہی اچھے دوست رہے ہیں شکیل کی شگر ملیز زمان کی محنت کا نتیجہ ہے ۔۔۔ پیسہ، جگہ شکیل کا اور محنت زمان آفندی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں زمان کافی حد تک شکیل کہ کالے دھندھوں سے بھی واقف تھا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس میں فائدہ زمان کا ہورہا تھا اس لئے منہ پہ قفل لگایا ہوا تھا۔۔۔۔
میں اپنے بیٹے زین کا۔ رشتہ نگہت سے کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔؟
یہ تمہارے اکیلے کا فیصلہ ہے ؟
شکیل نے اس کہ بیٹے کی رضا مندی جانی ۔۔۔
“ارے نہیں بھئی زین نے کل ہی مجھے بتایا اور ابھی نگہت زین کہ ہی ساتھ ہے ۔۔۔۔ “
“جب دونوں کی وابستگی ایک دوسرے کیلئے ہے تو میرا نہیں خیال تمھیں کوئی اعتراض ہوگا۔۔۔۔”
“لیکن نگہت نے مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا ابھی تک ۔۔۔”
“رہنے دو شکیل جب وہ خرم سے شادی کی بات کرنے گئی تھی تو کیا تم سے پوچھ کر گئی تھی۔۔۔۔ “
آفندی نے تلخ حقیقت اس کے سامنے رکھی ۔۔۔۔
“میں پھر بھی ابھی کوئی فیصلہ نہیں کروں گا ہوسکتا ہے نگہت کسی اور کو پسند کرتی ہو۔۔۔ میں تمھیں اس سے پوچھ کر ہی بتاوں گا۔۔ “
شکیل سومرو کی بات پر وہ تھوڑی دیر ہی وہاں بیٹھا اور بغیر کھائے پیئے چلا گیا ۔۔۔۔۔
“شکیل اپنی بیٹی کے مزاج سے بخوبی واقف تھا اسی لئے خود سے کوئی فیصلہ کر کے اپنے آپ کو بد نام نہیں کروا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی اس کی بیٹی نے میڈیا پر اس کا نام اچھالا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ارے وکیل صاحب آپ مجھے اطلاع ہی کردیتے میں اور ورشہ آپ کو خود رسیو کرتے ۔۔۔۔”
یہ وکیل واجد صاحب کہ زمانے سے ان کے ساتھ تھا اور خرم کو عزیز تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
وکیل صاحب اسے کے اخلاص کو دیکھ کر پسینہ صاف کرنے لگے ۔۔۔۔
“اصل میں مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی پرسنلی ۔۔۔۔”
وکیل صاحب کہ چہرہ پر گھبراہٹ کہ ساتھ کپکپاہٹ بھی تھی جسے ورشہ نے جانچ لیا تھا ۔۔۔۔
ورشہ معذرت کرکے وہاں سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔۔
تمھیں یاد ہے وجدان کی برسی پر جب تم نے نظیر زئی سے اس ایکسیڈینٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کیا کہا تھا؟؟؟
خرم نے وکیل کو عجیب نظروں سے دیکھا :
“میں جانتا ہوں جو تم سوچ رہے ہو اتنے سالوں بعد یہ بات کرنا بے وقوفی ہی ہے لیکن میں جب تک تمھیں حقیقت سے اگاہ نہیں کروں گا جب تک اسی طرح بے چین رہوں گا۔۔۔۔۔”
کیسی حقیقت آپ کھل کر بتائیں ؟؟؟
“یہ وہ رپورٹس ہیں جس میں واضح لکھا ہے کہ وجدان اور بھابھی کا مرڈر ہوا ہے ۔۔۔۔ جس کو ایک ایکسیڈینٹ کا نام دیا گیا ہے ۔۔۔۔”
وکیل کی بات پر خرم کو لگا اس ہوٹل کہ در و دیوار اس پر آگرے ہوں ۔۔۔۔ وہ خالی الذہنی کی کیفیت میں فائل کو دیکھے گیا ۔۔۔۔۔
“لیکن جو فائل مجھے نظیر صاحب نے دی تھی وہ تو کسی اور ڈاکٹر کی دی ہوئی رپورٹ تھیں۔۔۔۔”
“ایگزیٹلی آگے تم خود سمجھدار ہو ۔۔”
وکیل صاحب اٹھ کر وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔
ہاں نظیر صاحب کیا اپ کہ پاس بابا کی رپورٹس فائل موجود ہے ؟؟؟
فوراً سے بیشتر خرم نے نظیر صاحب کو کال ملائئ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اس میں سے ساری ڈیٹیل اپ مجھے میل کردیں۔۔۔”
“نہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔۔ جی ورشہ بھی ٹھیک ہے ۔۔۔”
نجانے کیوں وہ اس طرح سے نظیر صاحب سے بات نہیں کرسکا جس طرح بلاجھجھک کرلیتا تھا۔۔۔۔ شاید اس کے دل میں شک آچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وکیل صاحب کو گئے دوسرا گھنٹہ ہوچکا تھا لیکن خرم وہیں اسی جگہ بیٹھا رہا۔۔۔۔۔
“ندیم ڈاکٹر ذیشان سے میٹنگ رکھواو ۔۔۔۔”
خرم نے پاکستان میں موجود اپنے پرسنل اسسٹینٹ کو کال کر کے کہا :
وہ کمرہ میں آیا تو ورشہ سو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
دو انگلی کی مدد سے پیشانی رگڑی ۔۔۔۔ ہوٹل کہ ویٹر کو چائے لانے کا کہہ کر کسی اور کو کال ملانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
موندی موندی انکھیں کھول کر اس نے اپنے برابر میں دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ واش روم کا بند دروازہ دیکھ کر پھر منہ پر تھکیہ رکھ گیا ۔۔۔ حنا کے شیمپو کی بھینی بھینی خوشبو تھکیہ میں بس چکی تھی جو اب مکرم کو بھی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہر جگہ اپنے نشان ضرور چھوڑ کر جاتی ہے ۔۔۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کا ہنر رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ “
جب تھوڑی دیر میں بھی دروازہ ہنوز بند رہا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریش ہو کر وہ نیچے آیا تو میڈم خانسامہ سے گپے لگا رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔
خانسامہ نے مکرم کو آتے دیکھا تو کچن کا رخ کیا ۔۔۔
“تمھیں سکون نہیں ہے ابھی پاوں کا صحیح طریقہ سے درد بھی نہیں گیا ہوگا اور تم چل پھر رہی ہو ۔۔۔۔۔”
مکرم نے اس کو گہری نظروں سے دیکھا شاید وہ شاور لے چکی تھی ۔۔۔ بالوں کو کھلا چھوڑے شال کو اپنے کندھوں کہ گرد لپیٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
“وہ میں بور ہورہی تھی ۔۔۔۔۔ “
مکرم نے اس کہ چہرہ کو دیکھا جو سرخ ہونے لگا۔۔۔۔۔
ہنی یہاں دیکھو؟؟
مکرم کو اس کا شرمانہ گھبرانہ حیرت کے ساتھ مزہ بھی دے رہا تھا۔۔۔
اس نے نفی میں گردن ہلائی ۔۔۔۔
کیوں ؟؟
“آپ بہت برے ہیں ۔۔۔”
لابنی پلکوں کا اٹھنا گرنا مکرم کو سحر میں مبتلا کر گیا ۔۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے ؟؟
وہ کرسی گھسیٹ کر رو برو بیٹھا ۔۔۔۔۔
آپ کو نہیں پتا ؟
وہ سوال پہ سوال کرگئی کیوں کہ جواب دینے کی ہممت نہیں تھی۔۔۔
مکرم کا زندگی سے بھرپور قہقہہ ڈائنگ ہال میں گونجا ۔۔۔ جس پر ہنی نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا:
“میری باتونی بیوی مجھ سے شرما رہی ہے۔۔۔۔۔” واٹ آ انسیڈینٹ یار۔۔۔۔”
مکرم کا چہرہ احساس طمانیت سے جگمگا رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔
“آپ بہت خراب ہیں بات نہیں کریئے گا ۔۔ “
وہ غصہ سے بول کر جانے لگی تو مکرم نے اس کی کلائی تھامی ۔۔۔۔
“اچھا بابا نہیں کرتا تنگ لو بس ۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر سلینڈر کرتا ہوا بولا۔۔۔۔
اچھا یہ تو بتادو خراب کیوں ہوں ؟؟
وہ تقریباً اس کے کان میں گھسے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
“میر نہیں کریں نہ ۔۔۔۔”
وہ حیا سے لہجہ میں بولی جس پر مکرم نے اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی ۔۔۔۔
“میری جان ۔۔ جان عزیز نہیں کرتا تنگ ۔۔۔ لیکن اب تم زیادہ چلنا پھرنا مت پاوں ابھی ٹھیک نہیں ہوا ہے ۔۔۔۔”
وہ جذبات لٹاتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنا نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
کیوں کہ آج کہ دن اس نے اپنی زبان قابو میں ہی رکھنی تھی صرف مکرم کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *